بدھ، 7 فروری، 2018

کیا قرآن کی نظر میں عورت مکار ہے؟

0 comments
عام طور پر لوگوں کے ذہن میں عورتوں کے تعلق سے یہ تصور ہوتا ہے کہ وہ فطری طور پر مکار ہوتی ہیں، عورتوں کی سرشت ہی میں مکر و دغا ہے لہٰذا وہ اس فن میں ماہر ہوتی ہیں۔ اگر اس فاسد خیال کی بنیاد صرف مشاہدے اور ذاتی تجربات ہوتے تو بہت زیادہ قباحت کی بات نہ ہوتی اس لیے کہ ہر شخص اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی روشنی میں کوئی رائے قائم کرنے میں آزاد ہے، مگر اس کی قباحت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اس کی نسبت مذہب اسلام کی طرف کی جائے اور قرآن و حدیث کے نصوص سے غلط استدلال کرکے یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ اسلام کی نظر میں عورتوں کی جنس مکار ہوتی ہے۔
عورتوں کے تعلق سے اسلام کا حکم واضح ہے اس لیے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف ان نصوص کو بیان کیا جائے گا جن کو بنیاد بنا کر عورت ذات کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے مکار و دغاباز وغیرہ جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔

آدم و حوا کے قصہ سے استدلال:

کہا جاتاہے کہ آدم علیہ السلام کو ورغلاکر شجر ممنوعہ کا پھل حوا علیہا السلام نے کھلایا تھا، جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا دونوں کو جنت سے نکال دیا، گویا کہ انسانی تاریخ میں انسان سے پہلی غلطی کی وجہ ایک عورت بنی اور جو کام ابلیس خود نہ کرسکا وہ ایک عورت ذات کے ذریعہ انجام دیا۔ اس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ عورت کا مکر و فریب شیطان کے مکر و فریب سے بڑھا ہوا ہے۔
کیا حواعلیہا السلام کے کہنے پر آدم علیہ السلام نے پھل کھایا تھا؟
 قرآن مجید میں آدم و حوا کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تفصیل کے ساتھ ایک سے زائد جگہوں پر بیان کیا ہے مگر کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں کہا ہے کہ حوا نے اس پھل کو پہلے کھایا یا آدم علیہ السلام سے کھانے کو کہا، سورۂ بقرہ میں اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے:
وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْہَا رَغْدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَo فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَ قُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍo فَتَلَقّٰیٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُo (البقرۃ:۳۵-۳۷)
’’اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھائو پیو، لیکن اس درخت کے قریب مت جانا، نہیں تو ظالموں میں سے ہوجائو گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جس عیش و آرام میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔ اور ہم نے حکم دیا کہ (جنت سے) نکل جائو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور سامان زندگی مقرر کردیا گیا ہے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے (اور ان کلمات کے ذریعہ سے معافی مانگی) تو (اللہ تعالیٰ) نے ان کا قصور معاف کردیا، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ اس درخت کے قریب جانے سے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے روکا تھا اور شیطان نے دونوں کو بہکایا تھا اس لیے کہ قرآن نے دونوں کے لیے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا ہے۔
ان دونوں کو شیطان نے کس طرح بہکایا اس کی وضاحت دوسری جگہ کی گئی ہے:
فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰٓـاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لَّا یَبْلٰیo فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰیo (طہ:۱۲۰-۱۲۱) 
’’شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا: اے آدم! کیا میں تم کو ایسا درخت نہ بتائوں جو ہمیشہ کی زندگی کا ثمر دے اور ایسی بادشاہت جو کبھی زائل نہ ہو، تو دونوںنے اس درخت کا پھل کھالیا جس کے نتیجہ میں ان کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے جسم پر جنت کے پتے چپکانے لگے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی اور بہک گئے۔‘‘
ایک اور جگہ پر ہے کہ شیطان نے ان سے کہا:
مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَoوَ قَاسَمَہُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَo فَدَلّٰہُمَا بِغُرُوْرٍ (الأعراف:۲۰-۲۲)
تمہارے رب نے تمھیں اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جائو یا ہمیشہ کی زندگی نہ پاجائو۔ (شیطان نے) ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں، خیر اس نے دھوکا دے کر ان دونوں کو (برائی کی طرف) کھینچ ہی لیا۔‘‘

شیطان کے بہکانے کی کیفیت:

قرآن مجید کی یہ خوبی ہے کہ واقعات بیان کرتے ہوئے سبھی اجزاء کو ایک ہی جگہ نہیں بیان کردیتا ہے بلکہ مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں واقعات کے صرف ضروری اجزاء کو بیان کرتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ طہ کی بہ نسبت سورۂ اعراف میں وسوسہ کی کیفیت نہیں بیان کی گئی ہے مگرلفظ ’’قاسمہما‘‘ سے جس با ت کی وضاحت ہوتی ہے وہ وسوسہ سے نہیں، اس لیے کہ شیطان کا وسوسہ اس طرح بھی ہوسکتاہے جس طرح دیگر اولاد آدم کے ساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بھی یہ کہہ سکتاہے کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا یا پھسلا دیا مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیطان نے مجھ سے قسم کھا کر کہا۔ لہٰذا یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیطان نے براہ راست دونوں سے قسم کھا کر یقین دلایا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں اور اس درخت کے پھل کو کھانے سے صرف اس لیے روکا گیا ہے کہ اس کو کھا کر تم دونوں فرشتے بن جائو گے اور تمھیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔ آدم اور حوا اس کے بہکاوے میں آگئے اور درخت کا پھل کھا لیا۔

اگر آدم وحوا کے واقعہ میں کسی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے تو وہ آدم ہیں نہ کہ حوا:

مذکورہ بالا آیات قرآنیہ میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اکثر جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا ہے اور اگر کسی جگہ واحد کا صیغہ استعمال بھی ہوا ہے تو وہ مذکر کا صیغہ ہے:
وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰیo (طہ: ۱۲۱) 
’’آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گئے۔‘‘
وَ لَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًاo (طہ :۱۱۵)
’’اور ہم نے پہلے آدم سے عہدلیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں کوئی عزم نہیں پایا۔‘‘
مذکورہ بالا آیتوں میں ’’معصیت‘‘ اور نسیان‘‘ کی نسبت اکیلے آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے اس لیے اگر اس واقعہ میں کوئی ایک فرد دوسرے کے مقابل میں زیادہ خطاوار ہو سکتاہے یا اسے زیادہ قصور وار ٹھہرایا جاسکتاہے تووہ بلاشبہ حوا کی ذات نہیں ہوسکتی بلکہ وہ آدم علیہ السلام کی ذات ہوگی۔ 

مرد برادری کی ہوشیاری:

یہ بات انتہائی تعجب کی ہے کہمذکورہ آیات کو دلیل بناکر کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے کہ آدم علیہ السلام نے پہلے شجر ممنوعہ کا پھل کھایا پھر حوا سے کھانے کو کہا اور چوں کہ مرد گھر کا نگراں ہوتا ہے اس لیے چار وناچار حوا کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانا پڑا اور اس کے نتیجے میں پوری مرد برادری کویہ طعنہ دیاجاتا کہ وہ عورت ذات کو اپنے ماتحت رکھ کر اپنی مرضی اس پر تھوپتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ مرد برادری نے عورتوں کے استحصال کے لیے نئے نئے بہانے تلاش کئے ہیں اور اگر کبھی ضرورت پڑی ہے تو اس کے لیے آسمانی کتابوں میں تحریف سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ چنانچہ اس تعلق سے تورات میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ اسی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فی الحقیقت سب سے بڑا کید تو مرد ہی کا کید ہے جو پہلے اسے اپنے کام جوئیوں کا آلہ بناتا ہے اور جب وہ بن جاتی ہے تو خود پاک بنتا اور ساری ناپاکیوں کا بوجھ اس معصوم کے سر ڈال دیتا ہے۔
دنیا میں کوئی عورت بری نہ ہوتی اگر مرد اسے برا بننے پرمجبور نہ کرتا۔ عورت کی برائی کتنی ہی سخت اور مکروہ صورت میں نمایاں ہوتی ہو، لیکن اگر جستجو کرو گے تو تہ میں ہمیشہ مرد ہی کا ہاتھ دکھائی دے گا اور اگر اس کا ہاتھ نظر نہ آئے تو ان برائیوں کا ہاتھ ضرور نظر آئے گا جو کسی نہ کسی شکل میں اس کی پیدا کی ہوتی ہیں۔‘‘ (۱)

چند بے سر وپا روایات:

قرآن مجید کی ان واضح آیات کے باوجود آدم اور حوا علیہما السلام سے متعلق بے شمار آثار و روایات تفسیر کی کتابوں میں آگئی ہیں جو قرآنی الفاظ سے ٹکراتی ہیں۔ ذیل میں چند احادیث کو بیان کیا جارہاہے:
’’سعید بن جبیر رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ جب آدم علیہ السلام نے درخت کا پھل کھا لیا تو ان سے پوچھا گیا کہ تم نے اس درخت کا پھل کیوں کھایا جس سے تمہیں روکا گیاتھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے حوا نے اسے کھانے کو کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا اس کے بدلہ میں انھیں یہ سزا دی جاتی ہے کہ وہ مشقت کے ساتھ حاملہ ہوں گی اور مشقت کے ساتھ جنم دیں گی۔ حوا نے اس وقت آہ و فغاں کی تو کہا گیا کہ تم پر اور تمہاری اولاد پر آہ و فغاں مقدر کردی گئی ہے۔‘‘ (۲)
اسی کی مانند ایک اور روایت ہے جسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اس صحیح بھی کہا ہے (۳) اور بیہقی نے ’’شعب الإیمان‘‘ میں درج کیا ہے:
’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آدم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے ابھارا کہ اس درخت کا پھل کھائو جس سے میں نے منع کیا تھا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار! حوا نے اسے میرے لیے خوشنما بنا دیا تھا۔‘‘ (۴)
اس طرح کے اوربھی بہت سے آثار ہیں جو تفسیر کی کتابوںمیں درج ہیں، ان میں شیطان کے جنت میں داخل ہونے کی کیفیت مذکور ہے، شاید ہی کوئی تفسیر کی کتاب ہو جو ان آثار سے خالی ہو جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں داخل ہوا اور وہاں جاکر آدم و حوا کو بہکایا۔ یہ سبھی اسرائیلی روایات ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ (۵) 

آدم وحوا کے واقعہ سے متعلق محققین علماء کی آرائ:

اب ہم ذیل میں مولانا آزاد ،مولانا مودودی ،مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی اور دوسرے محقق علماء  کی آراء پیش کرتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میںمذکورہ رائے قائم کرنے میں اکیلا ہوں یا یہ صرف میرے ذہن کی اپج ہے۔
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی قصص القرآن میں ان واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’سوال:توارۃ و انجیل (بائبل) میں اس قصہ سے متعلق جو واقعات مذکور ہیں مثلاًسانپ اور طائوس کا قصہ یا اس قسم کی اور باتیں جو قرآن عزیز اور صحیح روایاتِ حدیثی میں نہیں پائی جاتیں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج: یہ سب اسرائیلیات کہلاتی ہیں اور بے اصل ہیں، ان کی پشت پر نہ علم یقین اور علم صحیح (وحی الٰہی) کی سند ہے اور نہ عقل و تاریخ کی شہادت، اس لیے من گھڑت اور بے سروپا باتیں ہیں۔‘‘ (۶)
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی بے سروپا اسرائیلی روایات کو تفسیر کی کتابوں میں درج کرنے کی مضرت کو واضح کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
’’بعض مفسرین بھی ایسی روایات کے نقل میں سہل نگاری برتتے ہیں، جس سے بہت بڑا نقصان یہ پیدا ہوتاہے کہ عوام نہیں بلکہ خواص بھی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان روایات کو اسلامی روایات میں دخل ہے اور یہ بھی صحیح روایات کی طرح صحیح اور قابلِ قبول ہیں،اس لیے از بس ضروری ہے کہ تردید کے ارادہ سے علاوہ تفسیر قرآن میں ہرگز ان کو جگہ نہ دی جائے اور نہ صرف کتب تفسیر و حدیث بلکہ کتب سیرت کو بھی ان سے پاک رکھا جائے۔‘‘ (۷)
ابن جریر طبری رحمہ اللہ اس واقعہ سے متعلق اقوال صحابہ وتابعین کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ابلیس کے آدم و حوا کو بہکانے کی کیفیت کے سلسلے میں ہم نے صحابہ و تابعین کے جوآثار نقل کئے ہیں ان میں ہمارے نزدیک حق سے قریب بات وہ ہے جو کتاب اللہ کے موافق ہو۔‘‘ (۸)
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب اللہ کے موافق بات یہی ہے کہ مذکورہ معاملہ میں کسی ایک فرد کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ آدم علیہ السلام کے قصہ سے متعلق آثار کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اس تعلق سے سلف سے بہت زیادہ آثار مروی ہیں ان میں سے اکثر اسرائیلیات ہیں جو صرف اس لیے نقل کردیئے گئے ہیں تاکہ ان میں غور کیا جائے، ان میں سے اکثر کے احوال تو اللہ ہی بہتر جانتاہے، کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا جھوٹ ہونا قطعی طور پر ظاہر ہو اس طور پر کہ ہمارے پاس جو کتاب یعنی قرآن مجید موجود ہے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے، قرآن مجید میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ ہمیں پرانے زمانے کے واقعات کی جستجو سے بے نیاز کردیتے ہیں۔ اس لیے کہ گزشتہ کتابوں میں جو واقعات مذکور ہیں وہ تحریف اور کمی و بیشی سے خالی نہیں اور بہت ساری چیزیں تو گڑھ لی گئی ہیں، ان کے پاس پختہ کار حفاظ نہیں تھے جو غلو پسندوں کی تحریف اور باطل پرستوں کے انحراف کے اصلاح کرتے جس طرح کہ اس امت میں علما اور ائمہ ہوئے۔‘‘ (۹)
ابن کثیر رحمہ اللہ دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’(آدم علیہ السلام کے قصہ سے متعلق اقوال) کی نسبت ان صحابہ کی طرف سدی کی تفسیر میں مشہور ہے۔ اس کے اندر بہت زیادہ اسرائیلیات ہیں غالباً اس کے بعض حصے مدرج ہیں جو صحابۂ کرام کے کلام میں سے نہیں، یہ بات بھی ممکن ہے کہ انھوں نے انھیں قدیم کتابوں سے حاصل کیا ہو۔‘‘ (۱۰)
یہ قرآن مجید کا عورت ذات پر بہت بڑا احسان ہے کہ جس بے بنیاد بات کی نسبت اس کی طرف کرکے اسے ہدف ملامت بنایا جاتا تھا قرآن نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں اسے اس الزام سے بری کردیا۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان کرتے ہیں:
’’عام طور پر یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ شیطان نے پہلے حوا کو دام فریب میں گرفتار کیا اور پھر انھیں حضرت آدم کو پھانسنے کے لیے آلۂ کار بنایا قرآن اس کی تردید کرتا ہے، اس کا بیان یہ ہے کہ شیطان نے دونوں کو دھوکہ دیا اور دونوں اس سے دھوکہ کھاگئے۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن جن لوگوں کو معلوم ہے کہ حوا کے متعلق اس مشہور روایت نے دنیا میں عورت کے اخلاقی، قانونی اور معاشرتی مرتبے کو گرانے میں کتنا زبردست حصہ لیا ہے وہی قرآن کے اس بیان کی حقیقی قدر و قیمت سمجھ سکتے ہیں۔‘‘ (۱۱)
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ میں اس واقعہ کے بارے میںلکھتے ہیں:
’’تورات میں ہے کہ شجر ممنوعہ کے پھل کھانے کی ترغیب آدم کو حوا نے دی تھی اس لیے نافرمانی کا پہلا قدم جو انسان نے اٹھایا وہ عورت کا تھا۔ اسی بنا پر یہودیوں اور عیسائیوں میں یہ اعتقاد پیدا ہوگیا کہ عورت کی خلقت میں مرد سے زیادہ برائی اور نافرمانی ہے اور وہی مرد کو سیدھی راہ سے بھٹکانے والی ہے، لیکن قرآن نے اس قصے کی کہیں بھی تصدیق نہیں کی، بلکہ ہر جگہ اس معاملہ کو آدم اور حوا دونوں کی طرف منسوب کیا، انھیں جو حکم دیا گیا تھا وہ بھی یکساں طور پر دونوں کے لیے تھا: ’’وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور لغزش بھی ہوئی تو ایک ہی طرح پر دونوں سے ہوئی ’’فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ‘‘ شیطان نے دونوں کے قدم ڈگمگا دئیے اور دونوں کے نکلنے کا باعث ہوا، یعنی جو لغزش ہوئی اس میں یکساں طور پر دونوں کا حصہ تھا، یہ بات نہ تھی کہ کسی ایک پر دوسرے سے زیادہ ذمہ داری ہو۔‘‘ (۱۲)
مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس قسم کے سبھی اقوال جن میں حوا علیہا السلام کو زیادہ قصور وار ٹھہرایا گیا ہے، اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہیں، قرآن ان کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیلی روایات کی قسمیں:

اسرائیلی روایات سے مراد وہ روایات ہیں جو اہل کتاب (یہودی وعیسائی ) سے سن کر یا ان کی کتابیںپڑھ کر ہمارے محدثین یا مفسرین نے اپنی کتابوں میں درج کردیا ہے۔
 اسرائیلی روایات کی تین قسمیں علماء کرام نے کی ہیں:
۱۔ قرآن مجید کے موافق ۔
۲۔ قرآن مجید کے مخالف ۔
۳۔ اس بارے میں قرآن خاموش ہو یعنی نہ موافق ہو اور نہ مخالف میں۔ (۱۳)
پہلی اور آخری قسم کو بیان کیا جاسکتا ہے مگر دوسری قسم کی روایات کو بیان کرنا جائز نہیں۔ اگر انھیں بیان ہی کرنا ہو تو ان کی کمزوری کو واضح کردیا جائے تاکہ کوئی شخص قرآنی نصوص کے مخالف اسرائیلی روایات سے دھوکہ نہ کھائے۔ 
آدم علیہ السلام کے قصے میں جو اسرائیلی روایتیں ہمارے یہاں گردش کر رہی ہیں ان میں سے اکثر تیسری قسم سے ہیں اس لیے ان سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
 دراصل ہمارے یہاں کچھ ’’دانشور ‘‘قسم کے لوگ ہیں جو قرآن مجید میں وارد ہر قصہ کو اسرائیلی روایات کی چھلنی میں چھانتے ہیں اور اپنی دانست میں قرآنی قصوں میں جو کمی ہوتی ہے اسے ان اسرائیلی روایات سے پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس روش اور اس کے برے اثرات سے محفوظ رکھے۔ آمین

یوسف علیہ السلام کے قصہ سے استدلال:


عورتوں کے مکر و فریب میں ماہر ہونے پر یوسف علیہ السلام کے قصہ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، سورۂ یوسف میں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی جب یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈالتی ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتی ہے تو یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیتی ہے۔ یوسف علیہ السلام اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں، ایک تیسرا شخص یہ فیصلہ سناتاہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیص دیکھی جائے اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف علیہ السلام سچے ہیں اور اگر آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچی ہے۔ قمیص دیکھی گئی تو یوسف علیہ السلام کی بات سچی نکلی، اس موقع پر عزیز اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌo (یوسف:۲۸)
’’یہ سب تمہارا فریب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کے مکربہت بڑے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ ہے قرآن مجید کی وہ آیت جس سے یہ بے جا استدلال کیا جاتا ہے کہ مکر و فریب عورتو ںکا خاصہ ہے اور اس مسئلہ میں یہ قرآن کا مسلمہ اصول ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس آیت میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے وہ اس وقت اور اس شہر کی عورتوں کی نسبت سے ہے نہ کہ پوری دنیا کی عورتوں کے تعلق سے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ عزیز کا قول ہے۔واقعات و قصص بیان کرتے ہوئے قرآن بہت سارے لوگوں کے اقوال اور مکالمے بیان کرتا ہے۔کوئی ضروری نہیں کہ اسے قرآن کا حتمی فیصلہ مان لیا جائے۔
افسوس کہ ہمارے بہت سے مفسرین نے اسے قرآن کا مسلمہ اصول تسلیم کرلیا اور یہ مان لیا کہ قرآن کی رو سے پوری عورت ذات مکار ہوتی ہے، یہی نہیں بلکہ اس کا مکر بعض وجوہ سے شیطان سے بھی بڑھا ہوا ہے کیوں کہ شیطان کے مکر کے بارے میں کہا گیا ہے:
اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا (النسائ:۷۶)
’’بے شک شیطان کا مکر کمزور ہے۔‘‘
 جب کہ عورت کے مکر کے بارے میں کہا گیا ہے:
اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌo (یوسف:۲۸)
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کے مکربہت بڑے ہوتے ہیں۔‘‘
علامہ قرطبی نے اس مضمون کی ایک حدیث بھی اپنی تفسیر میں درج کی ہے:
قال مقاتل عن یحیی بن کثیر عن أبی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ إن کید النساء أعظم من کید الشیطان لأن اللہ تعالی یقول: إن کید الشیطان کان ضعیفا و قال: ان کیدکن عظیم۔ (۱۴)
’’مقاتل، یحییٰ سے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کا مکر شیطان کے مکر سے بڑھ کر ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان کا مکر کمزور ہے اور (عورتوں کے بارے میں) کہتا ہے: بے شک تم لوگوں کا مکر بڑا ہے۔‘‘
جہاں تک اس حدیث کی صحت کا تعلق ہے تو یہ انتہائی درجہ کی ضعیف ہے۔ اس کے راوی مقاتل بن سلیمان ہیں جن کے بارے میں سیوطی رحمہ اللہ نے خلیلی کی کتاب ’’الارشاد‘‘ کے حوالے سے لکھاہے: ’’مقاتل بن سلیمان کی تفسیر کی بابت اتنا ہی کہا جاسکتاہے کہ علماء نے مقاتل کو فی نفسہ ضعیف قرار دیا ہے ورنہ یوں تو انھوں نے بڑے بڑے تابعی اماموں کو پایا ہے۔ (۱۵)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’تقریب التہذیب‘‘ میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
کذبوہ و ہجروہ و رمی بالتجسیم
’’محدثین نے انھیں کذّاب گردانا ہے اور ان کی حدیثوں کو ترک کردیا ہے اور ان پر تجسیم (اللہ تعالیٰ کے لئے بندوں جیسا جسم رکھنے کا عقیدہ رکھنا)کا عقیدہ رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔‘‘ (۱۶)
معلوم ہوا کہ یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے، اس سے کسی بھی صورت میں عورت ذات کی اخلاقی پستی پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر یہ عزیز کا قول ہے اور قرآن کا مسلمہ اصول نہیں ہے تو پھر قرآن نے اس کو مطلق طور پر بیان کرکے کیوں چھوڑ دیا، اس کی تردید کیوں نہیں کی؟
دراصل یہ شبہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ عزیزکا قول جس موقع و محل کے مناسبت سے بیان ہوا اس سے کاٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ عزیزکا یہ قول اس وقت کے مصری ماحول میں عورتو ںکی اخلاقی پستی کی وضاحت کرتاہے۔ یہ بیان صرف اس وقت کے لیے اور وہاں کی عورتوں کے بارے میں تھا۔ جہاں تک اس وقت کے مصری معاشرہ کے اونچے گھرانے کی عورتوں کی اخلاقی پستی کا سوال ہے تو اس کے لیے قرآن نے جو تصویر کھینچی ہے وہی کافی ہے۔
آخر یہ بے حیائی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ عزیزکی بیوی اپنی سہیلیوں کی دعوت لیتی ہے انھیں یہ دکھانے کے لیے کہ وہ کس خوب رو نوجوان سے محبت کرتی ہے۔اور پھر حد یہ کہ وہ سہیلیاں بجائے اس کے کہ عزیز کی بیوی کو کچھ کہتیں اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتیں الٹا یوسف علیہ السلام کوہی برائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بوائے فرینڈ (Boy Friend)سے دوستوں کی ملاقات کرانے کا موجودہ کلچر کوئی نیا نہیں ہے۔
ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں اپنی تفصیلی نوٹ میں لکھتے ہیں:
’’کیا ممکن ہے کہ جس قرآن نے مردوں اور عورتوں کی اخلاقی مساوات اس درجہ ملحوظ رکھی ہو، اسی قرآن کا یہ فیصلہ ہو کہ عورتوں کی جنس مردوں کے مقابلے میں زیادہ بداخلاق ہے اور مرد بڑے پاک باز ہوتے ہیں مگر بدبخت عورتیں نفس پرست اور مکار ہیں؟ تفسیر قرآن کی تاریخ کی یہ کیسی بوالعجبی ہے کہ ایک مصری بت پرست کے قول کو اللہ کا فرمان سمجھ لیا گیا اور اس سے اس طرح استدلال کیا جارہا ہے گویا عورتوں کی جنسی پستی و بداخلاقی کے لیے کتاب اللہ کا قطعی فیصلہ موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر پاک بازی و عصمت کے لحاظ سے دونوں جنسوں میں تفریق ہی کرنی ہو تو ہر طرح کی نفس پرستیوں اور مکاریوں کی حیوانیت مرد کے حصے میں آئے گی اور ہر طرح کی پاکیوں اور عفتوں کی فرشتگی عورت کے لیے ثابت ہوگی۔ یہ مرد ہی ہے جس کی حیوانیت پر عورت کی فرشتگی شاق گزرتی ہے، وہ چاہتا ہے اسے بھی اپنی ہی طرح کا حیوان بنا دے، اس لیے اپنے ’’کید عظیم‘‘ کے سارے فتنے کام میں لاتا ہے اور برائیوں کی ایک ایک راہ سے اسے آشنا کرکے چھوڑتا ہے، پھر جب وہ اس کے پیچھے قدم اٹھا دیتی ہے تو اس سے گردن موڑ لیتاہے اور کہنے لگتا ہے: ’’اس کا کید تو سب سے بڑا کید اور اس کی برائی تو سب سے بڑی برائی ہے۔‘‘ (۱۷)
خاتمہ:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سورۂ یوسف کی مذکورہ آیت اور آدم وحوا کے قصہ سے عورتوں کی اخلاقی پستی اور مکر و فریب کا آلۂ کار ہونے پر جو استدلال کیا جاتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں، قرآن مجید اور صحیح احادیث میں کہیں بھی کوئی ایسی بات مذکور نہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ عورت ذات مردوں سے زیادہ دغاباز ہوتی ہے اور مکر و فریب اس کا خاصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے صحیح فہم سے نوازے۔ آمین

حوالے:


۱۔ ترجمان القرآن ۲؍ ۷۷۹-۷۸۰
۲۔ تفسیر ابن جریر سورۂ طہ آیت ۱۲۰-۱۲۱
۳۔ جہاں تک حاکم کی تصحیح کا سوال ہے توحاکم اس معاملہ میں تساہل سے کام لینے میں مشہور ہیں، وہ اپنی کتاب المستدرک میں بہت ساری احادیث جمع کردیتے ہیں جو ان کے گمان کے مطابق بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق ہوتی ہیں، حالاں کہ وہ صحت کی شرائط پر پوری نہیں اترتیں۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں: ’’ولیتہ لم یصنف المستدرک فإنہ غض من فضائلہ بسوء تصرفہ۔ کاش کہ انھوں نے مستدرک نہ لکھی ہوتی اس لیے کہ اس میں ان کے بے جا تصرف نے ان کے مرتبہ کو گرا دیا۔‘‘ (تفصیل کے لیے دیکھیں تذکرۃ الحفاظ للامام الذہبی ۳؍۱۰۳۹)
۴۔ تفسیر ابن کثیر ۱؍۲۰۷
۵۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ابن جریر طبری ۱؍۵۲۵ تا ۵۲۸ اور الجامع لأحکام القرآن للقرطبی ۱؍۳۱۲-۳۱۹ ط: دارا لکاتب العربی
۶۔ قصص القرآن مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ۲؍۵۰
۷۔ حوالۂ سابق
۸۔ تفسیر ابن جریر طبری ۱؍۵۳۱
۹۔ بحوالہ ابن جریر طبری بتحقیق محمود محمد شاکر ۱؍۵۰۵
۱۰۔ تفسیر ابن کثیر ۱؍۷۷-۷۸
۱۱۔ تفہیم القرآن ۲ ؍۱۶
۱۲۔ ترجمان القرآن ۲ ؍۸۸۰-۸۸۱
۱۳۔ تفصیل کے لیے دیکھیں مقدمہ تفسیر ابن کثیر ص۵
۱۴۔ تفسیر قرطبی ۱؍۱۷۵
۱۵۔ الاتقان فی علوم القرآن ۲؍۱۸۹
۱۶۔ تقریب التہذیب 
۱۵۔ ترجمان القرآن۲؍۷۷۸-۷۷۹   
34

قصۂ یوسف کا تجزیاتی مطالعہ (کرداروں کے حوالے سے)

0 comments


انسان شروع ہی سے قصے کہانیوں کا رسیا رہاہے۔ اس کی اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جہاں مصلحین نے اسے اپنے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنا اور نصیحت آمیز واقعات بیان کرکے لوگوں کو نیکی اور بھلائی پر آمادہ کرنے اور بزرگوں کے واقعات بیان کرکے انہی جیسا بنے کا جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لئے پیش کیا، دوسری طرف یسے لوگوں نے بھی اس میدان مین قدم رکھا جن کا کام صرف تفریح طبع کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس قسم کے لوگوں کی اکثریت زمانہ قدیم میں بھی تھی اور موجودہ زمانے میں بھی انہیں کا غلبہ ہے۔ یہ لوگ تفریح کی خاطر ادب کے نام پر بے ادبی کا جو ننگا ناچ  پیش کرتے ہیں اس سے ہر ذی علم واقف ہے۔
ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو اللہ تعالی نے جن مقاصد کے حصول کے لئے نازل فرمایا ہے اس ثانی الذکر ’ادبائ‘‘ کی روش بالکل ہی میل نہیں کھاتی، وہ قصہ برائے تفریح کے بجائے قصہ برائے اصلاح کا قائل ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کسی واقعہ کو ایک ہی جگہ تفصیل سے بیان کرنے کے بجائے مختلف جگہوں پر تھوڑا تھوڑا کرکے بیان کرتا ہے اور واقعات کے صرف انہیں پہلؤں کو لیتا ہے جو اس کے مقصد کو پورا کرتے ہوں۔ یوسف علیہ السلام کا قصہ اس حیثیت سے تمام قرآنی قصوں میں امتیازی مقام رکھتا ہے کہ اسے ایک ہی جگہ تفصیل کے ساتھ ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس قصہ کو ایسے دلنشین پیرائے میں بیان کیا ہے کہ واقعہ نگاری کی تاریخ میں ایک شاہکار بن گیا۔  قرآن نے نیکی اور بدی دونوں کرداروں کو پیش کرکے اپنے ماننے والوں کو نیک کاروں کی پیروی اور بدی کے کرداروں کے نقش قدم سے دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔
اس کہانی میں مرکزی کردار یوسف علیہ السلام کا ہے، پوری کہانی آپ کے گرد اس طرح گھومتی ہے کہ کہانی کا کوئی منظر بھی ایسا نہیں ہے جس میں آپ کی جھلک نہ نظر آتی ہو۔ آپ کے اندر دیانت، امانت، عفت، حق شناسی، حق گوئی، اور توازن ذہنی جیسی غیر معمولی صفات کوٹ کوٹ کر بھی ہوئی ہے۔ ’’غریبی جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب قسمت آپ کو دنیا کی سب سے متمدن سلطنت کے پایۂ تخت میں ایک بڑے رئیس کے یہاں لے آتی ہے۔ یہاں پہلے تو اس گھر کی بیگم ہی آپ پر فریفتہ ہوجاتی ہے ۔ آپ کے حسن کا چرچا سارے شہر میں پھیل جاتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں آپ پر فریفتہ ہوجاتی ہیں۔ اب ایک طرف آپ ہیں دوسری طرف سیکڑوں خوب صورت جال ہیں جو ہر جگہ آپ کو پھانسنے کے لیے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی تدبیریں آپ کی ضد کو ٹوڑنے اور آپ کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ جدھر بھی جاتے ہیں یہی دیکھتے ہیں کہ گناہ اپنی ساری خونمائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ دروازہ کھولے کھڑا ہے۔ کوئی فجور کے مواقع کی تلاش میں ہوتا ہے مگر یہاں خود مواقع آپ کی تلاش میں ہیں کہ جس وقت بھی آپ کے دل میں برائی کی طرف معمولی سا میلان بھی پیدا ہو وہ فوراً اپنے آپ کو اس سامنے پیش کردیں،ان حالات میں جس پامردی کے سا تھ آپ ان شیطانی ترغیبات کامقابلہ کرتے ہیں بذات خود قابل تعریف ہے۔ اس پر مزید یہ کہ کبھی آپ کے ذہن میں ذرہ برابر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ واہ رے میں، کیسی مضبوط ہے میری قوت ارادی کہ ایسی ایسی حسین اور جوان عورتیں میری گرویدہ ہیں مگر پھر بھی میرے قدم نہیں پھسلتے۔ بلکہ بشری کمزوریوں کا خیال کرکے کانپ جاتے ہیں اور اللہ سے یہ التجاء کرتے ہیں کہ اے رب، میں کمزور انسان ہوں، میرا اتنا بل بوتا کہاں کہ میں ان بے پناہ شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرسکوں تو مجھے سہار دے اور بچا، ڈرتا ہوں کہ میرے قدم پھسل نہ جائیں۔ (تفہیم القران جلد دوم ص ۳۹۸)
ایک اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ نے اپنے محسن کے احسان کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ خواہ عزیز مصر کی بیگم کی دعوت کو ٹھکرانے کا معاملہ ہو یا قیدخانہ سے نکلنے کا معامہ ہو۔ آپ نے یہ گوارہ نہ کیا کہ آپ کے کسی عمل سے آپ کے محسن عزیز مصر کو لوگوں کے سامنے رسوا ہونا پڑے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ عزیز مصر کی بیوی سے اس معاملہ کی حقیقت دریافت کرلو جس کی پاداش میں مجھے قید خانہ میں ڈالا گیا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ پر آپ نے جو الفاظ کہے وہ تھے’ان عورتوں سے دریافت کرو کہ ان کا کیا معاملہ ہے جو انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘  صبروضبط کا یہ عالم ہے کہ برسوں قید خانہ میں بغیر کسی گناہ کے پڑے رہنے کے بعد جب قید خانہ سے نکلنے کا شاہی فرمان آتا ہے تو آپ قید خانہ سے نکلنے میں کچھ بھی جلدی نہیں کرتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے معاملہ واضح ہوجائے کہ غلطی کس کی ہے۔ جرم کا کلنک پیشانی پر لیے ہوئے رہائی حاصل کرنے پر آپ نے قید خانہ ہی میں پڑے رہنے کو ترجیح دیا۔ یہ ایسا موقع ہے کہ اللہ کے حبیب محمد ﷺ نے فرمایا کہ ’اگر میں یوسف کی جگہ ہوتا تو داعی کی آواز پر لبیک کہہ دیتا۔‘‘
دراصل یوسف کا کردار ایک نبی کا کردار ہے۔ قرآن نے اس واقعہ کو جس انداز میں بیان کیا اس میں نبی کی عظمت کا خاص طور پر خیال رکھا ہے۔ قید خانہ سے رہائی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے، لیکن یہ احساس کہ قید خانہ سے باہر جانے کے بعد بھی ہوسکتا کہ کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات رہے کہ واقعی یوسف نے کچھ جرم کیا تھا۔ اگر ایسا ہواتو ان کی دعوت متاثر ہوتی جو کہ نبی کا اولین کا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے جیل سے نکلنے سے پہلے اپنی بے گناہی ثابت کی۔
نبی کا کام دعوت وتبلیغ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جیل کی چہار دیواری بھی آپ کو دین کی دعوت دینے سے نہیں روک سکی۔ جیسے ہی آپ کو موقع ملا، آپ نے جیل کے ساتھیوں کے سامنے دین کی دعوت پیش کردی۔ آپ کے کردار کا اعلیٰ نمونہ اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب آپ کے وہ بھائی جنہوں نے آپ کو قتل کرنے کے لیے کنویں میں پھینکا تھا اور اپنے گمان میں انہوں نے آپ کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا، آپ کے سامنے مجرم کی طرح کھڑے تھے۔ اس موقع پر آپ کے والدین بھی آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ نے دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے اور طعن وملامت کے تیر برسانے کے بجائے نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کردیا بلکہ خود ان کی طرف سے معذرت پیش کردی کہ ’شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی‘۔
اس کہانی کے اہم کردار برادران یوسف کابھی ہے ان کا کردار اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ انہیں کی وجہ سے کہانی کا پہلا موڑ آتا ہے اور آپ مصر کے بازار میں پہنچتے ہیں۔ گویا آپ کو عروج کے پہلے زینہ پر آپ کے بھائیوں نے پہنچایا۔ ان کا کردار یوسف کے کردار کے مقابل میں ہے۔ ان کے اندر جس قدر اچھائیاں ہیں اسی کے بقدر ان بھائیوں کے اندر برائیاں ہیں۔ یہ حسد وکینہ اور مکروفریب کا نمونہ ہیں۔ بڑے سے بڑا جھوٹ بولنے میں انہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ والدین کے ادب واحترم کا ذرا بھی پاس لحاظ نہیں۔ ان کے حسد کا یہ عالم ہے کہ والد محترم کی محبت کو یوسف کے طرف مائل دیکھ کر یوسف علیہ السلام سے حسد کرنے لگے اور آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے ایک کنویں میں پھینک آئے، مکروفریب اور کذب بیانی کی انتہا کرتے ہوئے اپنے والد کے پاس آکر کہتے ہیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ ثبوت کے طور پر یوسف کی قمیص کو خون میں لت پت کرکے لاتے ہیں۔ ان کی بہتان تراشی کا گھٹیا نمونہ دیکھنے کو اس وقت ملتا ہے جب یہ خود یوسف پر چوری کا الزام لگانے سے نہیں چوکتے۔ کتنی دلیری سے کہتے ہیں۔’ اگر اس (بن یامین) نے چوری کی ہے تو کوئی نئی بات نہیں، اس کے بھائی (یوسف) نے بھی چوری کی تھی۔‘انہیں والد کے ادب واحترام کا لحاظ نہیں۔ ان کے لخت جگر کو ان سے جدا کردیتے ہیں، پھرانہی کو برا بھلا کہتے ہیں کہ وہ یوسف کو کیوں برابر یاد کرتے ہیں۔ برادران یوسف اگرچہ اس کہانی میں ولن کے کردار میں ہیں لیکن قرآن نے سب کو ایک جیسا نہیں دکھایا ہے۔ ان میں بھی یوسف کا بڑا بھائی ان سب میں قدرے غنیمت تھا۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس کا ضمیر سوگیا تھا۔ جب یوسف علیہ السلام سے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے اپنے پاس روک  لیتے ہیں تو بڑے بھائی کا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ بن یامین کو چھوڑ کر والد محترم کو اپنی شکل دکھائے۔ چنانچہ وہ وہیں رک جاتا ہے۔ قرآن بڑے بھائی کے قول کو اس طرح نقل کرتا ہے۔
’’ان میں سے سب سے بڑے نے کہا ’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد وپیمان لے چکے ہیں؟ اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو کچھ تم کرچکے ہو وہ تمہیں معلوم ہے۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤنگا جب تک کہ والد محترم مجھے اجازت نہیں دے دیں۔ یاپھر اللہ ہی کوئی فیصلہ فرمادے۔ کیوں کہ وہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘
اس کہانی میں تیسرا اہم کردار عزیز مصر کی بیگم کا ہے۔ یہ کردار اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر یوسف علیہ السلام کے قصے کا تصور ہی نہیں۔ اسی عورت کی بدولت آپ کو قید خانہ کی ہوا کھانی پڑی اور برسوں آپ کو قید خانے میں رہنا پڑا، جو بعد میں چل کر مصر کے تخت پر پہنچنے کا سبب بنا۔
اس عورت کے کردار میں ایک انتہائی ضدی اور بے شرم عورت کی جھلک ملتی ہے۔ اس کی ذہنیت کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص پر دیوانہ ہوگئی جس کی پرورش وپرداخت کی ذمہ داری اس کے کندھے پر تھی، جو اس کے بیٹے کی طرح تھا۔ بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے بجائے یہ ثابت کرنے کوشش کرتی ہے کہ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کچھ کرتا جومیں نے کیا، اپنی سہلیوں کو دعوت پر بلا کران کے ہاتھ میں چاقو اور پھل پکڑادیتی ہے۔ جیسے ہی یہ ’معزز خواتین‘  یوسف علیہ السلام کو دیکھتی ہیں ان کے حسن کی تاب نہ لاکر اس قدر مبہوت ہوجاتی ہیں کہ بجائے پھل کے اپنے ہاتھوں کو کاٹ لیتی ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتی ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ اگر ہم بھی اس مقام پر ہوتے تو یہی کچھ کرتے۔ پھر بے شرمی کی انتہا کرتے ہوئے ان کے سامنے یہ اعلان کرتی ہے کہ اگر اس غلام نیمیری خواہشات نفس کی تکمیل نہ کی  تو میں اسے قید خانہ کی ہوا کھانے پر مجبور کردوں گی۔ اس نے جو کچھ کہا اس پر عمل بھی کیا۔ بیگم عزیز مصر کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کو برائیوں سے دور رکھنے والی چیز حیا ہے۔ اگر شرم وحیا ہی ختم ہوجائے تو وہ ہر قسم کی برائی کرسکتی ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی بدنام کرنے سے نہیں چوکتی۔
اس کہانی کا چوتھا اہم کردار یوسف علیہ السلام کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کا ہے۔ قرآن نے ان کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ ایک غیر معمولی انسان کی صورت ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو کمال درجے کا باوقار ہے۔ اتنی بڑی غم انگیز خبر سن کر بھی اپنے حوش وحواش نہیں کھوتا، اپنی فراست سے معاملہ کی تہ تک پہنچ جاتا ہے کہ ایک بناوٹی کہانی ہے۔ یہ سب کچھ ان حاسد بھائیوں نے کیا ہے۔ یہ سب جاننے کے باوجود کہ یوسف کو غائب کرنے والے یا دوسرے لفظوں میں جان سے مارنے والے یہی برادران یوسف ہیں ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرتے ہیں۔ انہیں مصر بھیجتے وقت جو نصیحت کرتے ہیں اس کے ایک ایک لفظ سے شفقت اور محبت ٹپکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کہتے ہیں:
’’میرے بیٹو! مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل مت ہونا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر کوئی مصیبت آجائے۔‘‘
اللہ پر بھروسہ کا یہ عالم ہے کہ یوسف کو جدا ہوئے ایک زمانہ ہوگیا لیکن اپنے بیٹوں کو یوسف کی تلاش میںبھیجتے ہیں۔
’’اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور اس کے بھائی (بن یامین ) کا پتہ لگاؤ۔ اس کی رحمت سے مایوس یہ ہو۔  اللہ کی رحمت سے کافر قوم ہی مایوس ہوتی ہے۔‘‘
معاملہ واضح ہوجانے، اور بیٹوں کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد جب بیٹے آپ سے معافی کی درخواست کرتے ہیں تو ایک شفیق باپ کی طرح سے ان کی درخواست قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ جلد ہی تمہارے
لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا۔ بے شک وہ بخشنے والا اور رحیم ہے۔‘‘
ان چاروں کرداروں کے علاوہ عزیز مصر کا کردار، عزیز مصر کی بیگم کی سہیلیوں کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ خاص طور پر عزیز مصر کا کردار ، جس نے یوسف علیہ السلام کی پرورش کا انتظام کیا۔ دیار غیر میں ایک شفیق باپ کا سایہ فراہم کیا۔ یہ سبھی کردار اس عظیم ہستی یوسف اور ان کے والد یعقوب علیہ السلام کی بدولت زندہ وجاوید ہوگیے۔
اس کہانی کی ایک اہم بات یہ ہے کہ کہانی میں فنی اعتدال ہے۔ کہانی کو دھیرے دھیرے کلائمکس پر لاکر ختم کردیا ہے۔ ایک بامقصد کہانی کی طرح اس کہانی میں آخر میں سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ بچھڑے ہوئے لوگ اپنوں سے مل جاتے ہیں۔ گنہگار اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ اور انہیں معاف بھی کردیا جاتا ہے۔  دراصل اس کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ نیکی اور بدی کے معرکہ میں فتح نیکی کو ملتی ہے۔ 

قبر کے لئے کسی خاص جگہ کے تعین کی شرعی حیثیت

0 comments

قبر کے لئے کسی خاص جگہ کی تعیین

مرنے کے بعد کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے کی خواہش کرنا ایک عام بات ہے۔ بہت سے لوگ مرنے سے پہلے اس قسم کی وصیت کر جاتے ہیں کہ انہیں فلاں رشتہ دار یا فلاں شخص کے پہلو میں دفن کیا جائے یا فلاں شہر یا فلاں قبرستان میں دفن کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شرعی نصوص کی بنیاد پر اس کی کوئی اصل ہے؟ اور کیا کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے یا کسی خاص جگہ دفن ہونے کا فائدہ مردے کو ملتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی غلط آدمی کے پہلو میں دفن کر دیا جائے تو کیا اس کابرا اثر اس شخص پر پڑے گا؟
اس سلسلے میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے:
’’ادفنوا موتاکم وسط قوم صالحین فان المیت یتاذی بجار السوء کما یتأذی الحی بجار السوئ‘‘
’’اپنے مردوں کو نیک لوگوں کے بیچ میں دفن کرو۔ اس لئے کہ مردہ برے پڑوسی سے اسی طرح تکلیف محسوس کرتا ہے جس طرح زندہ شخص برے پڑوسی سے تکلیف محسوس کرتا ہے‘‘۔
اس حدیث کو ابو نعیم نے حلیۃ الأولیاء (۶؍۳۵۴) میں بروایت ابی ہریرہ بیان کیا ہے۔ مگر یہ حدیث موضوع ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ابن حبان نے کتاب المجروحین میں کہا ہے کہ یہ ایک باطل خبر ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے کلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألبانی رقم ۵۶۳ (۲؍۳۸) )
لہٰذا اس حدیث کی بنیاد پر یہ بات نہیں کہی جا سکتی ہے کہ مردوں کو غلط آدمیوں کے پہلو میں دفن کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ علماء کرام کی ایک جماعت نیک لوگوں کے پہلو میں دفن کرنے کو مستحب قرار دیتی ہے مگر ان کے پاس اس کے لئے کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ ہاں وہ لوگ کچھ احادیث سے استدلال کرتے ہیں جو اس مسئلہ میں صریح نہیں ہیں۔ انہی احادیث میں سے ایک حدیث  وہ ہے جس کو امام بخاری اور مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے:
’’أن موسیٰ علیہ السلام لما حضرتہ الوفاۃ سأل ربہ أن یدنیہ من الأرض المقدسۃ رمیۃ بحجر‘‘۔
 (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب من أحب الدفن فی الأرض المقدسۃ أو نحوھا رقم ۱۲۷۴، صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام رقم ۲۳۷۲)
’’موسیٰ علیہ السلام نے وفات کے وقت اپنے رب سے دعا کی کہ انہیں ارض مقدس (فلسطین) سے پتھر پھینکنے کی دوری تک قریب کردے‘‘۔
ابن بطال کہتے ہیں:
موسیٰ علیہ السلام کے ارض مقدس سے قریب کرنے کی دعا ارض مقدس میں انبیاء اور صالحین کے دفن ہونے کی وجہ سے اس مقام کی افضلیت کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا جس طرح زندگی میں ان کی صحبت مستحب تھی اسی طرح مرنے کے بعد بھی ان کے پڑوس میں رہنا مستحب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام فضیلت والی جگہوں پر جاتے ہیں اور وہاں قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور اصحاب قبر کے لئے دعا کرتے ہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’اس حدیث میں فضیلت والی جگہوں اور مقامات پر دفن ہونے کی فضیلت اور نیک لوگوں کے قبرستان سے قریب ہونے کی فضیلت ہے‘‘۔
یہ حدیث کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے کی فضیلت کے بارے میں صراحت کے ساتھ نہیں بتاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جن شہروں کو مبارک کہا گیا ہے ان میں دفن ہونے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کے لئے عنوان باندھا ہے:
’’باب من أحب الدفن فی الأرض المقدسۃ أو نحوھا‘‘
سلف صالحین کی ایک بڑی جماعت سے ثابت ہے کہ انہوں نے مرنے کے وقت اس قسم کی وصیت کی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کا شرف حاصل کرنے کے لئے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت لی تھی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں وہیں پر دفن کیا گیا تھا۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا جائے۔
اسی طرح غالب بن  جبریل نے امام بخاری رحمہ اللہ کے پہلو میں دفن کرنے کی وصیت کی تھی۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اس قسم کی وصیت کرتا ہے تو اس کو منع نہیں کیا جائے گا۔لیکن چونکہ شریعت میں اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس سے مردے کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اس وجہ سے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔
جو چیز قابل انکار ہے وہ عوام میں سے بعض لوگوں کا یہ عمل ہے کہ وہ کسی مخصوص بزرگ کے پہلو میں دفن کرنے کی وصیت کرتے ہیں کہ وہ بزرگ ان کی مدد کریں گے یا اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لئے سفارش کریںگے۔ یہ اسلام مخالف عقیدہ ہے۔
دہلی میں جو لوگ مہندیان کے قبرستان سے واقف ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ وہاں پر دفن ہونے کے لئے لوگ بڑی بڑی رقوم دے کر اپنی زندگی ہی میں قبر کے لئے زمین حاصل کرلیتے ہیں تاکہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی قبر سے قربت حاصل ہوجائے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ جیسے بزرگ کے قریب دفن ہونے کی وجہ سے ہمیں فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ عقیدہ دراصل وہی ہے جس کی بنیاد پر ہندو پاک میں قبریں عیدگاہ بنی ہوئی ہیں۔ لوگ ان قبروں کے پاس جا جا کر اپنے حق میں سفارش کراتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ جس طرح کسی زندہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اسی طرح مردے کو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔  مہندیان کے سلسلہ میں ایک اعجوبہ شیخ ابو الحسن علی ندوی کی طرف بھی منسوب ہے کہ وہ اندرا گاندھی کی لگائی ہوئی ایمرجنسی کے دور میں شاہ ولی اللہ کی قبر کے پاس مہندیان میں معتکف ہوگئے تھے۔ والعلم عند اللہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآئٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۔
                                                   (النحل:۲۰-۲۱)
’’جو لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی چیز کے پیدا کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کو خود پیدا کیا گیا ہے۔ وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں (دوبارہ) کب اٹھایا جائے گا‘‘
یہ آیت کریمہ صریح طور پر مردوں سے فریادرسی کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور بتلا رہی ہے کہ مردوں سے کسی بھی قسم کے فائدہ کی امید رکھنا غلط ہے۔
صاحب قبر کو اپنے پڑوسی قبر والے سے کسی نفع و نقصان کے نہ پہنچنے کی بات اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے:
’’عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ قال: إذا مات الإنسان انقطع  عنہ عملہ إلا من ثلاثۃ إلا من صدقۃ جاریۃ أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعولہ‘‘۔ (صحیح مسلم کتاب الوصیۃ باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ رقم ۱۲۳۱)
’’جب انسان کی موت ہوجاتی ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (۱) صدقہ جاریہ (۲) نفع بخش علم (۳) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے‘‘۔
مرنے کے بعد جو چیزیں کسی انسان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں ان کی فہرست نبی کریم ﷺ نے بتادی ہے۔ا ن میں صاحب قبر کے پڑوسی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ امید کرنا کہ کسی بزرگ کی قبر کے پاس قبر ہونے سے کسی قسم کا فائدہ حاصل ہوجائے گا صحیح نہیں ہے۔

اس قسم کی وصیت کا حکم:

اسلام نے وصیت پر عمل کرنے پر کافی زور دیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:
’’فَمَنْ بَدَّلَہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَا اِثْمُہُ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۱)
’’جو شخص وصیت میں سننے کے بعد تبدیلی کرے گا تو ا س کا گناہ اسی کے اوپر ہوگا جو تبدیلی کرے گا اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔
اس کے ساتھ ہمیں قرآن یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ ہر قسم کی وصیت کو نافذ کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی وصیت کے ذریعہ کسی کو نقصان پہنچانے کا مقصد ہو تو اس کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس میں ترمیم کر دینا ہی عین انصاف ہے۔
’’فَمَنْ خَافَ  مِنْ مُوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ (البقرۃ :۱۸۲)
’’جو شخص وصیت کرنے والے سے کسی کے اوپر ظلم یا گناہ کا خوف محسوس کرے اور اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردے تو کوئی حرج نہیں ہے اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔
ان دونوں آیات کی روشنی میں اس مسئلہ میں یہی بات کہی جائے گی کہ وصیت کرنے والے کی نیت اس سے اگر یہ ہو کہ کسی بزرگ کی قبر کے پاس دفن ہونے سے فائدہ حاصل ہوگا وہ بزرگ شفاعت کریںگے تو چونکہ یہ ایک شرکیہ عقیدہ ہونے کی وجہ سے گناہ کا کام ہے اس وجہ سے اس کی تنفیذ نہیں کی جائے گی اور اگر اس قسم کا عقیدہ نہیں ہے تو پھر ایسی صورت میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم

بغیر کسی عذر کے مسجد میں عید کی نماز اداکرنا

0 comments


بات وجوب یا عدم وجوب کی نہیں بلکہ صرف افضل اور غیرافضل کی ہے مگرچوں کہ ہماری اجتماعی غفلت کی وجہ سے عیدگاہ میں عیدین کی نماز کی افضلیت تو دور بعض لوگ اب یہ کہتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ مسجد جیسی بابرکت جگہ کو چھوڑ کر کھلے میدان میں عید کی نماز پڑھنا، اگر مسجد میں وسعت ہو تو غیرافضل ہے، اس وجہ سے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔
بعض لوگ جو کھلے میدان میں عید کی نماز کی افضلیت کے قائل نہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں عیدین کی نماز مسجد کی تنگی کی وجہ سے پڑھی تھی اس تعلق سے ایک ضعیف حدیث کا سہارا لیتے ہیں:
عن عثمان بن عبدالرحمن التیمی قال: مطرنا فی إمارۃ أبان بن عثمان علی المدینۃ مطرا شدیدا لیلۃ الفطر، فجمع الناس فی المسجد، فلم یخرج إلی المصلی الذی یصلی فیہ الفطر و الأضحی… ثم قام علی المنبر فقال: یٰـأیہا الناس إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یخرج بالناس إلی المصلی یصلی بہم لأنہ أرفق بہم و أوسع علیہم و أن المسجد کان لایسعہم، فإذا کان المطر فالمسجد أرفق۔
’’عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابان بن عثمان کے مدینہ میں گورنری کے زمانے میں ایک مرتبہ عید الفطر کے دن زبردست بارش ہوئی جس کی وجہ سے انھوں نے لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور عیدگاہ نہیں گئے جہاں وہ عیدین کی نماز پڑھتے تھے…  پھر انھوں نے منبرپر کھڑے ہو کر کہا: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عیدگاہ نماز عید کے لیے اس وجہ سے لے جاتے تھے کیوں کہ وہ ان کے لیے آرام دہ اور کشادہ تھی اور مسجد میں اتنی وسعت نہ تھی کہ وہ اس کے اندر نماز عید ادا کرتے۔ (ابان نے مزید کہا کہ) بارش کی وجہ سے مسجد ہی زیادہ بہتر ہے۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث کو بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ (۳؍۳۱۰) میں محمد بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن عن عثمان بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (۱)     لوگ عید کی نماز آبادی سے باہر پڑھا کرتے تھے الا یہ کہ بارش ہو ۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں نماز عید اس وجہ سے پڑھتے تھے کہ مسجد میں اتنی وسعت نہ تھی کہ سبھی نمازی آرام کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔
پہلا قول تو تسلیم شدہ ہے اس لیے یہاں اس پر بحث نہیں، یہاں پر صرف آخری توجیہ کی تردید مقصود ہے:
۱۔            اگر واقعی مسجد چھوٹی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح مسجد کو وسیع کریں تاکہ آبادی سے باہر جاکر عیدین کی نماز نہ پڑھنی پڑے، جیسا کہ خلفاء نے مسجد کی تنگی کو دیکھ کر اپنے اپنے عہد میں اس کو وسعت دی۔
۲۔           جمعہ کے دن مدینہ کے اطراف سے لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے آتے تھے۔ اس وقت مسجد تنگ نہ ہوتی تھی تو عید کے دن کیوں تنگ ہوتی؟ حالاں کہ عید اور جمعہ کے دن نمازیوں کی تعداد یکساں ہوتی تھی۔
بعض لوگ بہت ہی بھونڈی توجیہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ چوں کہ عیدین میں عورتیں بھی نماز کے لیے آتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو عیدگاہ آنے کو کہا ہے اور حائضہ چوں کہ مسجد میں نہیں جاسکتی اس وجہ سے مسجد کے علاوہ جگہ پر آپ نے عیدین کے لیے انتظام فرمایا۔
مگر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف تو یہ بات کہہ کر وہ ضمنی طور پر عیدگاہ میں عورتوں کے داخلہ کے جواز کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف انھیں عیدگاہ میں فتنہ کا خوف دلا کر روکتے ہیں۔ آخر یہ دو رخاپن کیوں؟ ظاہر ہے، بات اپنی بے عملیوں کو وجہِ جواز فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

حدیث سند کی اعتبار سے بھی ضعیف ہے:

اس کی روایت میں محمد بن عبدالعزیز  ہیں جن کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’منکر الحدیث‘‘ اور نسائی نے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔ امام شافعی نے ’’الأم‘‘ (۱؍۲۰۷) میں ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے مگر اس کی سند بھی حددرجہ ضعیف ہے اس لیے کہ اس میں ابراہیم بن محمد الاسلمی ہے جو بقول علامہ البانی رحمہ اللہ کذّاب ہے۔

یہ حدیث بھی ضعیف ہے:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن بارش ہونے لگی تو آپ نے مسجد میں نماز عید پڑھائی۔ (مستدرک حاکم ۱؍۲۹۵) اگرچہ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے موافقت کی ہے مگر چوں کہ اس کا دار و مدار عیسیٰ بن عبدالاعلی پر ہے جو کہ مجہول ہیں، اسی طرح ان کے شیخ عبید اللہ بھی مجہول الحال ہیں اس وجہ سے اگرچہ لوگوں میں یہ حدیث کافی مشہور ہے مگر ضعیف اور ناقابل قبول ہے۔
اگر بفرض محال صحیح مان بھی لیں تواس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صرف ایک مرتبہ مجبوری کی حالت میں مسجد میں نماز پڑھی تھی جو کہ عیدگاہ میں نماز پڑھنے کی افضلیت پر واضح ثبوت ہے۔ (مسئلہ سے متعلق احادیث اور دیگر پہلوئوں کی جانکاری کے لیے براہ کرم علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’صلاۃ العیدین فی المصلی‘‘ پڑھیں۔)

اتحاد یا افتراق:

اگر بعض غیور مسلمان کہیں پر سنت نبوی کے مطابق عیدگاہ میں عید کی نماز کا انتظام کرتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی مسجدوں کو ’’عیدگاہ‘‘ بنالینے والے اس کو افتراق سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ سنت نبوی کے مطابق عیدین کی ادائیگی کا موقع فراہم کرنا انتہائی اہم اور ثواب کا کام ہے۔

کتاب و سنت پر عمل کرنے کے یہی تقاضے ہیں؟

عید دلوں کو جوڑنے کے لیے آتی ہے مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمارے یہاں بعض احباب اسی کو افتراق کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ کھلے میدان میں عید کی نماز ادا کرنے کی ’سنت‘‘ انھیں پارک میں تو کھینچ لاتی ہے مگر دلوں کی دوری کو ختم نہیں کر پاتی نتیجہ یہ ہے کہ ایک مقام پر آمنے سامنے اہل حدیثوں اور غربا اہلحدیثوں کی جماعتیں قائم ہوتی ہیں ایک گروہ نماز ادا کرتا ہے اور دوسرا تماشا دیکھتا ہے۔ جن لوگوں نے یہ منظر نہ دیکھا ہو وہ عید کے موقع پر موری گیٹ (دہلی)میں آکر دیکھ سکتے ہیں۔ الٰہی! دونوں گروہوں کو سمجھ دے، ’’امرائ‘‘ ہوں یا ’’غرباء‘‘ دعوی تو دونوں کا عمل بالکتاب والسنۃ کا ہے۔ کم از کم یہ اس دعوے کی لاج رکھ لیں۔

خلاصۂ کلام:

مسجد نبوی جیسی بابرکت مسجد کو چھوڑ کر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عیدگاہ جاکر عیدین کی نماز ادا کرنا یہ بتلاتا ہے کہ عیدین کی نماز کھلے میدان میں پڑھنا ہی افضل ہے۔ یہی طریقہ آپ کے بعد بھی لوگوں نے برقرار رکھا جہاںتک مکہ کے لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے عیدین کی نماز مسجد حرام میں پڑھتے رہے ہیں تو اس کی وجہ دراصل مناسب جگہ کی عدم فراہمی ہے نہ کہ مسجد کی افضلیت۔
بڑھتی آبادی کے باوجود اگر شہروں میں ہم چاہیں تو پارکوں میں اس کا انتظام کرسکتے ہیں بلکہ دہلی جیسے شہروں میں باقاعدہ اس کا انتظام ہے ۔ لہٰذا جن لوگوں کے پاس اتنی وسعت ہو کہ ان مقامات پر عیدین کی نماز پڑھ سکیں تو انھیں ضرور آکر ان جگہوں پر یا جہاں بھی اس قسم کا انتظام ہو نماز عیدین پڑھنی چاہئے، بغیر کسی عذر کے سنت نبوی کی خلاف ورزی سے احتراز کرناچاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کا شیدائی بنائے۔ آمین          

دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا

0 comments


ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے سلسلے میں بے شمار احادیث و آثار وارد ہیں، خواہ نماز کے بعد دعا کرنا ہو یا کسی اور موقع پر دعا کرنا ہو ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ (۱) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ابھارا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ کو شرم آتی ہے کہ بندہ ہاتھ اٹھائے اور اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔ (۲) لہٰذا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہاتھ کو چہرے پر پھیر کر دعا ختم کی جائے یا چہرے پر ہاتھ پھیرا ہی نہ جائے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ایک بات ہم سبھی لوگوں کے لیے واضح ہونی چاہئے کہ شریعت اسلامیہ کے حقیقت میں دو مصدر ہیں قرآن مجید اور صحیح احادیث، جو ان دونوں سے ثابت نہ ہو وہ شریعت یا دین کاحصہ نہیں ہوسکتا خواہ اس پر کسی کا بھی عمل رہا ہو۔ اس بنیادی اصول کو سامنے رکھ کر جب ہم مذکورہ بالا مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کو دعا کے بعد چہرے پر ملنے کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا رفع یدیہ فی الدعاء لم یحطہما حتی یمسح بہما وجہہ۔ (۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انھیں بغیر چہرے پر پھیرے واپس نہیں کرتے تھے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ اس حدیث کو ہم حماد بن عیسی کے علاوہ نہیں پاتے اور وہ اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
جہاں تک حماد بن عیسیٰ کی بات ہے تو وہ ضعیف ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التقریب میں کہا ہے۔ ائمۂ جرح و تعدیل نے ان پر سخت قسم کی جرح کی ہے، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان جیسے راوی کی حدیث حددرجہ ضعیف ہوگی، ان کی حدیث صحیح تو بڑی بات حسن بھی نہیں ہوسکتی۔ حاکم رحمہ اللہ اگرچہ تساہل سے کام لیتے ہیں مگر اس کے باوجود المستدرک (۱؍۵۳۶) میں انھوں نے اس کی تخریج کرنے کے بعد اس کو صحیح نہیں قرار دیا ہے بلکہ خاموشی اختیار کی ہے۔ ذہبی نے بھی ان کی پیروی میں ایسا ہی کیا ہے۔ (الإرواء ۲؍۱۷۸) ابوزرعہ کہتے ہیں: ’’یہ منکر حدیث ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کی کوئی اصل ہی نہ ہو۔‘‘ (الضعیفۃ ۲؍۱۴۳)
اس حدیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں وہ سبھی احادیث بھی حد درجہ ضعیف ہیں اس لیے انھیں شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ذیل میں ان احادیث کو پیش کیا جارہا ہے:
۱۔            سنن أبی دائود میں وارد مرفوع حدیث:
فإذا فرغتم فامسحوا بہا وجوہکم۔ (۴)
’’ جب تم دعا سے فارغ ہو تو ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیر لیا کرو۔‘‘
امام ابودائود رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث ایک سے زائد سندوں سے محمد بن کعب کے طریق سے آئی ہوئی ہے مگر سبھی سندیں بے اصل ہیں۔ یہ طریق (جو میں نے ذکر کیا ہے) ان میں سب سے عمدہ ہے مگر یہ بھی ضعیف ہے۔‘‘
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس کی علت وہ آدمی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ ابن ماجہ وغیرہ نے اس کا نام صالح بن حسان لکھاہے… وہ حد درجہ ضعیف ہے۔ اس بنیاد پر یہ زیادتی منکر ہے، اب تک ہم اس کی شاہد نہیں پا سکے ہیں۔ یہی وجہ ہوگی کہ عز بن عبدالسلام نے کہا ہے: ’’لایمسح وجہہ إلا جاہل‘‘ چہرے پرجاہل ہی ہاتھ پھیرتا ہے۔‘‘ (الضعیفۃ ۲؍۱۴۶)
۲۔           سائب بن یزید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:
أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا دعا- فرفع یدیہ- مسح و جہہ بیدیہ۔ (۵)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تھے تو ہاتھ اٹھاتے اور ہاتھ کو چہرے پرپھیرتے۔‘‘
سنن أبی دائود کی اس حدیث کے اندر دو علتیں ہیں جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہیں:
(۱) حفص بن ہاشم مجہول ہیں۔  (التقریب رقم ۱۴۳۴)
(۲) ابن لہیعہ ضعیف ہیں۔ (دیکھیں: المیزان رقم ۴۵۳۵)
لہٰذا یہ حدیث بھی لائق اعتبار نہیں ہو سکتی۔

ایک شبہ کا ازالہ:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ضعیف حدیث سے استحباب ثابت ہوتا ہے لہٰذا ایسے امور جو ضعیف حدیث سے ثابت ہوتے ہیں انھیں مستحب امور میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
مگر اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ حرام اور فرض کی طرح مستحب بھی ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور نہ کرنے والے کو کوئی گناہ نہیں ملے گا، یہی فرق ہے فرض و واجب اور مستحب میں کہ فرض وواجب میں ترک کرنے والے کو گناہ ملے گا اور یہ مستحب میں نہیں ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ اس کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کو ہے کہ کسی کام کو ثواب والا کام قرار دے یا گناہ والا، ایک عام آدمی کے اختیار سے یہ بات باہر ہے کہ وہ ایسا کرے، جب کسی مسئلہ میں کوئی صحیح اور لائق اعتبار حدیث ہمارے پاس نہ ہو تو ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ اس پر عمل کریں اور اس سے ثواب کی امید رکھیں لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

خلاصۂ کلام:

دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنے کے بارے میں وارد احادیث اور ان کی حالت اوپر بیان کی جاچکی ہے، ان تمام احادیث کا مجموعہ بھی اس قابل نہیں ہوتا ہے کہ وہ ’’حسن‘‘ کے درجہ تک پہنچ سکے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم دعا کے وقت ہاتھ تواٹھائیں اس لیے کہ اس سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں مگر اس کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنے سے پرہیز کریں۔ بہت ممکن ہے کہ شروع میں یہ کچھ عجیب سالگے اس لیے کہ ہم ایسا ہی کرتے آئے ہیں مگر کچھ دنوں تک اگر اس پر توجہ دی جائے تو آسانی کے ساتھ اس عادت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے ثبوت میں اس قدر احادیث وارد ہیں کہ محدثین نے اس کو متواتر معنوی میں شمار کیا ہے۔ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی ایک کتاب ’’فض الوعاء فی أحادیث رفع الیدین فی الدعائ‘‘ میں ان احادیث کو جمع کر دیا ہے، جن میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب محمد شکور المیادینی کی تحقیق کے ساتھ اردن سے شائع ہو چکی ہے۔
   عام طور پر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بارے میں لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے، مگر اس باب میں وارد سبھی احادیث ضعیف نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ طبرانی کی ایک حدیث جس کو ہیثمی نے مجمع الزوائد (۱۰؍۱۶۹) میں بیان کیا ہے اس کی سند صحیح ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’عبداللہ بن زبیر نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ہاتھ بلند کئے ہوئے ہے، اپنی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی وہ دعا کر رہا ہے، جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘
   اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔
۲۔           صحیح سنن أبی داؤد  حدیث نمبر ۱۴۸۸، سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ۳۸۶۵
۳۔           سنن الترمذی فی الدعوات باب ما جاء رفع الأیدی عند الدعاء حدیث نمبر ۳۶۱۰
۴۔           ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۱۴۸۵
۵۔           ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۱۴۹۲، مسند أحمد ۴؍۲۲۱

فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا

0 comments


ہمارے یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہونے کے باوجود لوگوں میں رائج نہیں ہیں، لاعلمی کی وجہ سے یا لوگوں کو ایسا نہ کرتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے اسے خلاف سنت مان لیا جاتا ہے، ایسی ہی چیزوں میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہنا ہے، حالاں کہ اس کے تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
کنا نعرف انقضاء صلاۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بالتکبیر۔
 ( صحیح بخاری: کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلوۃ رقم ۸۴۱-۸۴۲، صحیح مسلم رقم ۵۸۳ )
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے ختم ہونے کی اطلاع تکبیر کے ذریعہ پاتے تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرنے کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز کے ختم ہونے کی اطلاع مل جاتی تھی، گویا کہ بلند آواز سے تکبیر کہنا نماز کے ختم ہونے کی علامت ہوا کرتی تھی۔ اس صریح حدیث کے باوجود بہت سے لوگ اس کی تاویل کرکے یا بے وزن دلیلوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد آواز سے تکبیر یا دوسرے اذکار کرنا صحیح نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل سطور میں مخالفین اور موافقین کی دلیلوں کا جائزہ لے کر بلند آواز سے تکبیر اور دوسرے اذکار کرنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔

مخالفین کے دلائل:

جو لوگ نماز ختم ہونے کے بعد بلند آواز سے ’’اللہ أکبر‘‘ کہنے کو مستحب نہیں سمجھتے وہ اس حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ:
۱۔            اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ بلند آواز سے تکبیر سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما  کو نماز کے ختم ہونے کا علم ہوتا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ میں جاتے ہوئے اور اس سے سر اٹھانے کے بعد جو تکبیر کہی جاتی ہے اس کے ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ اب نماز ختم ہوچکی ہے اس لیے کہ تکبیروں کی آواز آنی بند ہوگئی ہے، لہٰذا معنی ہوگا: 
’’کنت أعرف انقضاء الصلاۃ بإنقضاء التکبیرات۔‘‘
۲۔           بعض لوگ کہتے ہیں تکبیر سے مراد وہ تکبیر ہے جو فرض نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سکھلائی تھی کہ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ أکبر کہیں۔ مگر ایسی صورت میں اللہ أکبر کو ان دونوں سے پہلے کہنا لازم آئے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان تینوں میں سے کسی کو بھی پہلے کہا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۳۔           ذکر و اذکار اللہ تعالیٰ نے بلند آواز سے کرنے سے منع کیا  ہے:
 وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا o (بنی إسرائیل:۱۱۰)
’’نماز میں آواز بلند کرو اور نہ زیادہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان والا راستہ تلاش کرو۔‘‘
   اس آیت کریمہ کی روشنی میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ آواز کو بلند نہ کیا جائے اور جو آپ سے آواز بلند کرنا ثابت ہے وہ صرف تعلیم کے لیے تھا ، مستقل طور پر نہ تھا۔

موافقین کے دلائل:

مذکورہ بالا شبہات کا موافقین جواب دیتے ہیں کہ :
۱۔            جہاں تک پہلے شبہ کی بات ہے تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ روایت ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے:
أن رفع الصوت بالذکرحین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أنہ قال: قال ابن عباس: کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ۔ ( صحیح مسلم رقم ۵۸۳)
’’فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا معمول تھا۔ (ابن عباس کے غلام ابومعبد کہتے ہیں کہ) ابن عباس نے کہا: مجھے ان کے سلام پھیرنے کی اطلاع اسی (ذکر) کو سن کر ہوتی تھی۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت میں تکبیر کے بجائے ’’ذکر‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو تکبیر سے عام ہے مگر اس روایت سے یہ شبہ باطل ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رکوع و سجود میں جاتے وقت کہی جانے والی تکبیروں کا انقطاع ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ صراحۃً دلالت کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف آپ کا بلکہ صحابۂ کرام کا عام معمول تھا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر واذکار کرتے تھے۔ اس میں سرفہرست بلند آواز سے اللہ أکبر کہنا ہے، جیسا کہ پہلی روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
۲۔           جہاں تک دوسرے شبہ کی بات ہے کہ اس سے مراد وہ تکبیر و تحمید اور تسبیح ہے جو آپ نے مخصوص عدد کے ساتھ فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس وجہ سے کہ احادیث میں جو ترتیب آئی ہے وہ اس کے برخلاف تسبیح پھر تحمید اس کے بعد تکبیر ہے، اگر ان لوگوں کا دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ ترتیب کوئی ضروری نہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ انھیں بلند آواز سے شمار کرنا مستحب ہے حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔           تیسرا شبہ جو ظاہر کیا گیا ہے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ آیت کریمہ کے اندر جہاں آواز بلند کرنے کی ممانعت ہے وہیں آواز پست کرنے کی بھی ممانعت ہے، لہٰذا یہ دلیل نہیں بن سکتی اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن مقامات پر بلند آواز سے ذکر کرنا ثابت ہے اس سے یہ آیت منع نہیں کرتی چنانچہ حج کے لیے تلبیہ بلند آواز ہی سے کہا جاتا ہے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ ہاں، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حد سے زیادہ تیز آواز کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:
إربعوا علی أنفسکم فإنکم لاتدعون أصم و لا غائبا۔
 (صحیح بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر رقم ۲۹۹۲، صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب استحباب خفض الصوت بالذکررقم ۲۷۰۴)
’’اپنے نفسوں پر رحم کھائو اس لیے کہ تم جسے بلا رہے ہو وہ بہرا اور غائب نہیں ہے۔‘‘
لہٰذا تکبیر بلند آواز سے ضرور کہی جائے گی مگر معتدل آواز میں، نہ پست اور نہ زیادہ بلند۔
جو لوگ اسے بعض اوقات کے لیے خاص مانتے ہیں کہ ایسا آپ نے تعلیم کے لیے کیا تھا تو ان کا یہ موقف صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر ’’کان‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ یہ آپ کا اور صحابہ کا معمول تھا اور ابن عباس نے اس کو کسی خاص موقع کے ساتھ خاص کرکے نہیں بیان کیا بلکہ عمومیت کے ساتھ یہ بات کہی ہے، لہٰذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں ان کے دلیل میں وزن نہیں ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب:

صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
قال عمرو: فذکرت ذلک لأبی معبد فأنکرہ و قال: لم أحدثک بہذا، قال عمرو: و قد أخبرنیہ قبل ذلک۔
’’عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابومعبد سے کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اس حدیث کو تم سے نہیں بیان کیا، عمرو بن دینار کہتے ہیں: حالاں کہ انھوں نے ہی اس سے پہلے مجھے اس کی خبر دی تھی۔‘‘
لہٰذا یہ ’’من حدّث و نسی‘‘ کا معاملہ بنتا ہے۔ علماء اصول الحدیث کے نزدیک ایسی صورت میں جب کوئی محدث اپنی بیان کردہ حدیث کا انکار کرے تو اس حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے مگر اس میں راجح یہ ہے کہ اگر کسی ثقہ سے حدیث بیان کرنے کے بعد شیخ حدیث کا انکار کرتاہے، شک یا بھول جانے کی وجہ سے، تو ایسی صورت میں اس ثقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو قبول کیا جائے گا، ہاں، اگر محدث قطعی طور پر اس کا انکار کر رہا ہے اور روایت کرنے والے کو جھوٹا بتلا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک اس حدیث کی بات ہے تو عمر وبن دینار ثقہ، ثبت راوی ہیں لہٰذا ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ بخاری و مسلم جیسے جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کی تخریج کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ابومعبد کو بڑھاپے کی وجہ سے بھول واقع ہوگئی اور یہ نہ جان سکے کہ انھوں نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (۱)
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی کہے کہ ابومعبد یہ حدیث بھول گئے اور اس کا انکار کیا تو ہم کہیں گے: کیا ہوا؟ عمرو بن دینار أوثق الثقات (حد درجہ ثقہ) ہیں اور بھول چوک سے کوئی بھی آدمی پاک نہیں۔ ثقہ کی روایت سے حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (المحلی ۴؍۲۶۰) بہرحال روایت کی صحت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

خلاصۂ کلام:

نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ أکبر پڑھنے کے سلسلے میں فریقین کے دلائل بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد دوسرے اذکار مثلاً تین مرتبہ أستغفراللہ اور ایک مرتبہ أللہم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الإکرام وغیرہ پڑھے جائیں۔ (۲)
امام نووی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا حدیث ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث دلیل ہے بعض سلف کے لیے جو کہتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔‘‘
صاحب مرعاۃ المفاتیح شیخ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ما ذہب إلیہ بعض السلف و ابن حزم من المتأخرین من استحباب رفع الصوت بالتکبیر و الذکر أثر کل صلاۃ مکتوبۃ ہو القول الراجح عندی و إن لم یقل بہ الأئمۃ الأربعۃ و مقلدوہم، لأن حدیث ابن عباس باللفظین نص فی ذلک، ویدل علی ذلک ایضاً حدیث عبد اللہ بن الزبیر الاٰتی، والحق یدور مع الدلیل لامع الإدعاء أو الرجال۔ (مرعاۃ ۳؍۳۱۵)
’’اسلاف کرام میں سے بعض اور متأخرین میں سے ابن حزم رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر (دعا) بلند آواز سے کرنا مستحب ہے، یہی قول ہمارے نزدیک راجح ہے، اگرچہ ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اس لیے کہ عبداللہ بن عباس کی دونوں الفاظ کے ساتھ وارد حدیث اس معاملہ میں نص ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی آنے والی حدیث بھی یہی واضح کرتی ہے۔ (۳) حق دلیل کے تابع ہوتاہے محض دعووں اور شخصیتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ’’من حدیث و نسی‘‘ کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں: تدریب الراوی۔
۲۔           دیکھیں صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ رقم ۵۹۱۔
۳۔           صاحب مرعاۃ کا اشارہ صحیح مسلم کی اس حدیث کی طرف ہے:
   ’’عن عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ إذا سلم من صلاۃ یقول بصوتہ الأعلی: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیٔ قدیر… الحدیث۔ لیکن مسلم میں یہ روایت ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہلل بہن دبر کل صلاۃ مکتوبۃ‘‘ (مسلم ۵۹۴) کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ غالباً صاحب مشکوۃ نے بالمعنی روایت کیا ہے۔

نماز استخارہ کے احکام ومسائل

0 comments


کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے آدمی اندیشوں کا شکار رہتا ہے، وہ کامیابی سے ہم کنار ہوگا یا اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں جس سے وہ اس کے بارے میں یقینی طور پر معلومات حاصل کرسکے۔ اس کے باوجود مستقبل میں جھانکنے کی چاہت اسے مختلف طریقے آزمانے پر مجبور کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے لوگ مختلف طریقے آزماتے آرہے ہیں ان میںسے دو طریقے کافی مشہور ہیں جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں رائج ہیں۔ ایک فال نکالنا دوسرا کاہنوں کے پاس جانا، اسلام نے ان دونوں سے منع کردیا اور ایسے موقع پر جب کوئی فیصلہ کرنا ہو یا کسی کام کو کرنے کا ارادہ ہو تو استخارہ (خیر طلبی) کی نماز کی طرف رہنمائی کی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یعلمنا الاستخارۃ فی الأمور کما یعلمنا السورۃ من القراٰن، یقول: إذا ہم أحدکم بالأمر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم لیقل: اللہم إنی أستخیرک بعلمک و أستقدرک بقدرتک و أسئلک من فضلک العظیم فإنک تقدر و لا أقدر و تعلم و لا أعلم و أنت علام الغیوب، اللہم إن کنت تعلم أن ہذا الأمر خیر لی فی دینی و معاشی و عاقبۃ أمری -أو قال: عاجل أمری و اٰجلہ- فاقدرہ لی و یسرہ لی ثم بارک لی فیہ و إن کنت تعلم أن ہذا الأمر شر لی فی دینی و معاشی و عابقۃ أمری - أو قال: فی عاجل أمری و اٰجلہ- فاصرفہ عنی و اصرفنی عنہ و اقدر لی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ۔ قال: و یسمی حاجتہ۔
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورۃ سکھاتے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھو: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے طاقت مانگتا ہوں۔ اور تیرے فضل کا طلب گار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے میں کچھ نہیں جانتا، تو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کے لیے استخارہ کیا جارہا ہے) میرے دین، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے- یا آپ نے یہ فرمایا: میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ خیر ہے- تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین و دنیا اور کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے- یاآپ نے فرمایا: میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے برا ہے- تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے پھیر دے۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کردے۔ آپ نے کہا کہ پھر اس کام کا نام لے (جس کے لیے استخارہ کر رہا ہے)‘‘

تخریج:

اس حدیث کو امام بخاری (رقم ۱۱۶۶، ۶۳۸۲، ۷۳۹۰) امام ترمذی (رقم ۴۸۰) ابودائود (رقم ۳۶۸) امام ابن ماجہ (۱۳۷۹) نسائی کتاب النکاح (رقم ۳۲۵۳) امام احمد (۳؍۲۴۴ رقم الحدیث ۱۴۷۶، ۱۴۷۶۱) نیز امام حاکم نے المستدرک (۱؍۳۲۰) میں بروایت عبدالرحمن بن أبی الموال عن محمد بن المنکدر عن جابر بن عبداللہ بیان کیا ہے، الفاظ بخاری کے ہیں۔

درجۂ حدیث:

حدیث صحیح ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اسے حسن صحیح غریب کہا ہے اورکہا ہے کہ اس حدیث کو عبدالرحمن کے علاوہ ہم نہیں پاتے۔
ابن عدی نے عبدالرحمن بن ابی الموال کا تذکرہ الکامل فی ضعفاء الرجال (۴؍۳۰۷ رقم الترجمۃ ۱۱۳۴) میں کیا ہے اور ان کے تعلق سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:
سألت أحمد بن حنبل عن عبدالرحمن بن أبی الموال، قال: عبدالرحمن لا بأس بہ، قال: کان محبوسا فی المطبق حین ہزم ہٰؤلائ، یروی حدیثا لإبن المنکدر عن جابر عن النبی  صلی اللہ علیہ وسلم   فی الاستخارہ لیس یرویہ أحد غیرہ و ہو منکر، قلت: ہو منکر؟ قال: نعم، لیس یرویہ غیرہ، لا بأس بہ، و أہل المدینۃ إذا کان حدیث غلط یقولون: ابن المنکدر عن جابر و أہل البصرۃ یقولون: ثابت عن أنس، یحملون علیہما۔
’’ابن عدی کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمن بن ابی الموال کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا: ان میں کوئی حرج نہیں(لا بأٔس بہ)  جب ان لوگوں کو شکست ہوئی تو انھیں مطبق میں قید کردیا گیا۔ یہ ابن المنکدر کی بروایت جابر ایک مرفوع حدیث استخارہ کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں جسے  ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں بیان کیا۔ وہ حدیث منکر ہے، میں نے کہا: وہ منکر ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، وہ منکر ہے، اسے ان کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے۔ان میں کوئی قباحت نہیں، اہل مدینہ جب کوئی غلط حدیث ہوتی ہے تو کہتے ہیں: ابن المنکدر عن جابر بصرہ والے کہتے ہیں: ثابت عن أنس ، وہ انھیں دونوں پر محمول کرتے ہیں۔‘‘ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایسا وہ لوگ مذاق کے طور پر کہا کرتے تھے، خاص طور پر ان دونوں کا نام لینے کی وجہ ان کی شہرت اور کثرت سے وارد روایات ہیں ورنہ ثابت اور عبدالرحمن دونوں ثقہ ہیں۔ دیکھیں: الفتح۱۱؍۱۵۳)
جہاں تک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا اس حدیث کو منکر کہنا ہے تو اس کی انھوں نے کوئی وجہ نہیں بیان کی ہے سوائے اس کے کہ عبدالرحمن اس کی روایت میں اکیلے ہیں اور خود احمد بن حنبل نے انھیں ’’لابأس بہ‘‘ کہا ہے۔ ان کے علاوہ ابن معین نے ’’صالح‘‘ ترمذی اور نسائی نے ’’ثقۃ‘‘ اور ابوزرعہ نے ’’لا بأس بہ صدوق‘‘ کہا ہے۔ (دیکھیں: تہذیب التہذیب ۲؍۵۵۸)
احمد بن حنبل کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں منکر عام محدثین کی اصطلاح سے مختلف ہے۔ راوی اگر روایت کرنے میں جملہ احباب سے منفرد ہو تو وہ امام احمدرحمہ اللہ کے یہاں منکر ہے، لہٰذا یہ ان پر جرح نہیں ہے۔
(دیکھیں: الجرح و التعدیل لدکتور اقبال احمد ص۲۳۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حدیث صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے تین مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ جابر بن عبداللہ کے علاوہ اس کی روایت ابن مسعود، ابوایوب، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کی ہے، لیکن نماز کاتذکرہ جابر بن عبداللہ کی مذکورہ حدیث اور ابوایوب کی حدیث جسے طبرانی نے بیان کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے، کے علاوہ کسی اور روایت میں نہیں ہے، فرق یہ ہے کہ ابوایوب کی روایت میں مطلق نماز کا ذکر ہے رکعات کی تعیین نہیں جب کہ جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں دو رکعتوں کی تعیین ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری ۱۱؍۱۵۳)
پرانے زمانے میں کسی کام کو کرنے سے پہلے اس تعلق سے تذبذب کو دور کرنے کے لیے دو طریقے رائج تھے:

۱۔ فال نکالنا:

اس کا طریقہ یہ ہوتاتھاکہ وہ تین قسم کے تیر رکھتے تھے ایک پر لکھا ہوتا تھا ’’کرو‘‘ دوسرے پر ’’نہ کرو‘‘ اور تیسرا خالی ہوتا۔ اگر ’’کرو‘‘ والا تیر نکلتا تو اس کام کو کرتے جس کے لیے انھوں نے فال نکالا ہے۔ ’’نہ کرو‘‘ والا تیر نکلنے پر اسے نہیں کرتے اور خالی والا نکلتا تو پھر سے فال نکالتے۔ قرآن نے اس طریقہ کو ’’فِسق‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور اس کو حرام کی فہرست میں شمار کیا ہے:
وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ (المائدۃ:۳)
’’(اور یہ بھی حرام ہے کہ) تم تیروں کے ذریعہ فال نکال کر قسمت کا حال معلوم کرو یہ سب بدترین گناہ ہیں۔‘‘

۲۔ کاہنو ں سے رجوع:

جس طرح آج کل غیر مسلم کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے پنڈت کے پاس جاکر معلوم کرتے ہیں کہ یہ کام شُبھ رہے گا یا نہیں، اسی طرح پہلے زمانے میں لوگ کاہنوں کے پاس جاکر ان سے معلوم کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا:
من أتی کاہنا أو عرافا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد (صحیح الجامع رقم ۵۹۳۹)
’’جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور جو کچھ وہ بیان کرے اس کو سچ مان لے تو اس نے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت کو جھٹلا دیا۔‘‘
افسوس کہ یہ طریقے اب بھی بعض کم علم مسلمانوں میں رائج ہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بچیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نعم البدل استخارہ کی شکل میں دیا ہے اس کو اپنائیں۔
استخارہ کا مطلب ہوتا ہے خیر طلب کرنا، استخارہ کے ذریعہ بندہ معاملہ کو اللہ کے علم اور قدرت پر چھوڑ دیتا ہے، وہ اللہ پر توکل کرکے رضا بالقضا اور ثابت قدمی کی دعا کرتاہے کہ معاملہ میری خواہش کے خلاف ہی کیو ںنہ ہو میرا دل اس پر راضی ہوجائے۔

استخارہ کا طریقہ:

کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے آدمی کو چاہئے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے جس طرح عام نماز ادا کی جاتی ہے۔ سلام پھیرنے کے بعد مذکورہ بالا دعا کو پڑھے اس کے آخر میں اپنی ضرورت ذکر کرے۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ جس پر دل مطمئن کردے اس کو انجام دے۔
معاملہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا استخارہ کرنا مستحب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس معاملہ کو ہم چھوٹا سمجھتے ہیں وہ کسی بڑے معاملہ کی شکل اختیار کرلے۔ یاد رہے کہ استخارہ ان چیزوں کے بارے میں نہیں ہے جو شریعت میں حرام ہیں، مثلاً شراب کی تجارت کے لیے استخارہ، اس لیے کہ یہ تو ہرحال میں منع ہے، اسی طرح جو چیزیں فرائض میں داخل ہیں ان میں بھی استخارہ نہیں، مثلاً نماز کے لیے استخارہ، اس لیے کہ یہ تو ہمیں ہر حال میں ادا کرنی ہے۔

استخارہ کا غیر اسلامی طریقہ:

ٹیلی ویژن کی بڑھتی مقبولیت سے ہمارا اسلامی معاشرہ بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، جہاں عریاں چینلوں کی بہتات ہوئی ہے وہیں کچھ چینل اسلام کے نام سے بھی کھل گئے ہیں۔ افسوس کہ ان میں اکثر اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کے نام پر غیر اسلامی افکار پھیلا رہے ہیں۔ ایک نام نہاد اسلامی چینل پر استخارہ کا پروگرام پیش کیا جاتا ہے جس میں ناظرین پروگرام میں شامل عالم سے اپنے مسائل کے بارے میں استخارہ کی درخواست کرتے ہیں اور وہ انھیں بتاتا ہے کہ تم فلاں کام کرو فلاں کام نہ کرو۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پروگرام کافی مقبول ہو رہا ہے، لوگ مختلف ممالک سے فون کرکے استخارہ کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ طریقہ سراسر غیر اسلامی ہے، غیرمسلموں کی نقالی اور پرانے زمانے کی کہانت سے مشابہ ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ معاملہ پیش ہو وہ خود استخارہ کرے، ہاں، دوسروں سے مشورہ ضرور طلب کرسکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ (دیکھیں: اٰل عمران: ۱۵۹)

خواب کا انتظار:

استخارہ کے تعلق سے عوام میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ استخارہ کے فوراً بعد سو جایا جائے، خواب میں صحیح معاملے کی نشان دہی کی جائے گی، خواب نظر نہ آئے تو سمجھا جاتا ہے کہ استخارہ کامیاب نہیں رہا، یہ کم علمی کی دلیل ہے، استخارہ کی حدیث میں اس کا ہلکا بھی اشارہ نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ استخارہ کی دعا میں بندہ اپنی عاجزی اور کم علمی کا اظہار کرکے اللہ سے درخواست کرتاہے کہ صحیح معاملے کی طرف اس کی رہنمائی کرے، چنانچہ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ اس کا دل جس پر مطمئن کردے اسے انجام دے۔ خواب کا انتظار کرنا فضول ہے۔ یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ استخارہ کے بعد دل کسی ایک معاملہ پر مکمل طور پر جم جائے، لہٰذا اگر یہ نوبت آئے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ استخارہ کامیاب نہیں رہا۔

خلاصۂ کلام:

اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، خوشی کا موقع ہو یا غم کا، یہاں تک کہ کسی کام کا ارادہ کرناہو تو اس کے بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرکے اس سے رہنمائی طلب کرنی چاہئے، اس کے لیے استخارہ مشروع قرار دیا گیا ہے،  لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے ہر اہم کام کو شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خیر کی توفیق دے۔