بدھ، 29 جولائی، 2009

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

0 comments
ہمارے یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہونے کے باوجود لوگوں میں رائج نہیں ہیں، لاعلمی کی وجہ سے یا لوگوں کو ایسا نہ کرتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے اسے خلاف سنت مان لیا جاتا ہے، ایسی ہی چیزوں میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہنا ہے، حالاں کہ اس کے تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
کنا نعرف انقضاء صلاۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بالتکبیر۔
 ( صحیح بخاری: کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلوۃ رقم ۸۴۱-۸۴۲، صحیح مسلم رقم ۵۸۳ )
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے ختم ہونے کی اطلاع تکبیر کے ذریعہ پاتے تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرنے کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز کے ختم ہونے کی اطلاع مل جاتی تھی، گویا کہ بلند آواز سے تکبیر کہنا نماز کے ختم ہونے کی علامت ہوا کرتی تھی۔ اس صریح حدیث کے باوجود بہت سے لوگ اس کی تاویل کرکے یا بے وزن دلیلوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد آواز سے تکبیر یا دوسرے اذکار کرنا صحیح نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل سطور میں مخالفین اور موافقین کی دلیلوں کا جائزہ لے کر بلند آواز سے تکبیر اور دوسرے اذکار کرنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔

مخالفین کے دلائل:

جو لوگ نماز ختم ہونے کے بعد بلند آواز سے ’’اللہ أکبر‘‘ کہنے کو مستحب نہیں سمجھتے وہ اس حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ:
۱۔            اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ بلند آواز سے تکبیر سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما  کو نماز کے ختم ہونے کا علم ہوتا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ میں جاتے ہوئے اور اس سے سر اٹھانے کے بعد جو تکبیر کہی جاتی ہے اس کے ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ اب نماز ختم ہوچکی ہے اس لیے کہ تکبیروں کی آواز آنی بند ہوگئی ہے، لہٰذا معنی ہوگا: 
’’کنت أعرف انقضاء الصلاۃ بإنقضاء التکبیرات۔‘‘
۲۔           بعض لوگ کہتے ہیں تکبیر سے مراد وہ تکبیر ہے جو فرض نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سکھلائی تھی کہ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ أکبر کہیں۔ مگر ایسی صورت میں اللہ أکبر کو ان دونوں سے پہلے کہنا لازم آئے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان تینوں میں سے کسی کو بھی پہلے کہا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۳۔           ذکر و اذکار اللہ تعالیٰ نے بلند آواز سے کرنے سے منع کیا  ہے:
 وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا o (بنی إسرائیل:۱۱۰)
’’نماز میں آواز بلند کرو اور نہ زیادہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان والا راستہ تلاش کرو۔‘‘
   اس آیت کریمہ کی روشنی میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ آواز کو بلند نہ کیا جائے اور جو آپ سے آواز بلند کرنا ثابت ہے وہ صرف تعلیم کے لیے تھا ، مستقل طور پر نہ تھا۔

موافقین کے دلائل:

مذکورہ بالا شبہات کا موافقین جواب دیتے ہیں کہ :
۱۔            جہاں تک پہلے شبہ کی بات ہے تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ روایت ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے:
أن رفع الصوت بالذکرحین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أنہ قال: قال ابن عباس: کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ۔ ( صحیح مسلم رقم ۵۸۳)
’’فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا معمول تھا۔ (ابن عباس کے غلام ابومعبد کہتے ہیں کہ) ابن عباس نے کہا: مجھے ان کے سلام پھیرنے کی اطلاع اسی (ذکر) کو سن کر ہوتی تھی۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت میں تکبیر کے بجائے ’’ذکر‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو تکبیر سے عام ہے مگر اس روایت سے یہ شبہ باطل ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رکوع و سجود میں جاتے وقت کہی جانے والی تکبیروں کا انقطاع ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ صراحۃً دلالت کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف آپ کا بلکہ صحابۂ کرام کا عام معمول تھا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر واذکار کرتے تھے۔ اس میں سرفہرست بلند آواز سے اللہ أکبر کہنا ہے، جیسا کہ پہلی روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
۲۔           جہاں تک دوسرے شبہ کی بات ہے کہ اس سے مراد وہ تکبیر و تحمید اور تسبیح ہے جو آپ نے مخصوص عدد کے ساتھ فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس وجہ سے کہ احادیث میں جو ترتیب آئی ہے وہ اس کے برخلاف تسبیح پھر تحمید اس کے بعد تکبیر ہے، اگر ان لوگوں کا دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ ترتیب کوئی ضروری نہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ انھیں بلند آواز سے شمار کرنا مستحب ہے حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔           تیسرا شبہ جو ظاہر کیا گیا ہے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ آیت کریمہ کے اندر جہاں آواز بلند کرنے کی ممانعت ہے وہیں آواز پست کرنے کی بھی ممانعت ہے، لہٰذا یہ دلیل نہیں بن سکتی اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن مقامات پر بلند آواز سے ذکر کرنا ثابت ہے اس سے یہ آیت منع نہیں کرتی چنانچہ حج کے لیے تلبیہ بلند آواز ہی سے کہا جاتا ہے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ ہاں، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حد سے زیادہ تیز آواز کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:
إربعوا علی أنفسکم فإنکم لاتدعون أصم و لا غائبا۔
 (صحیح بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر رقم ۲۹۹۲، صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب استحباب خفض الصوت بالذکررقم ۲۷۰۴)
’’اپنے نفسوں پر رحم کھائو اس لیے کہ تم جسے بلا رہے ہو وہ بہرا اور غائب نہیں ہے۔‘‘
لہٰذا تکبیر بلند آواز سے ضرور کہی جائے گی مگر معتدل آواز میں، نہ پست اور نہ زیادہ بلند۔
جو لوگ اسے بعض اوقات کے لیے خاص مانتے ہیں کہ ایسا آپ نے تعلیم کے لیے کیا تھا تو ان کا یہ موقف صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر ’’کان‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ یہ آپ کا اور صحابہ کا معمول تھا اور ابن عباس نے اس کو کسی خاص موقع کے ساتھ خاص کرکے نہیں بیان کیا بلکہ عمومیت کے ساتھ یہ بات کہی ہے، لہٰذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں ان کے دلیل میں وزن نہیں ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب:

صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
قال عمرو: فذکرت ذلک لأبی معبد فأنکرہ و قال: لم أحدثک بہذا، قال عمرو: و قد أخبرنیہ قبل ذلک۔
’’عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابومعبد سے کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اس حدیث کو تم سے نہیں بیان کیا، عمرو بن دینار کہتے ہیں: حالاں کہ انھوں نے ہی اس سے پہلے مجھے اس کی خبر دی تھی۔‘‘
لہٰذا یہ ’’من حدّث و نسی‘‘ کا معاملہ بنتا ہے۔ علماء اصول الحدیث کے نزدیک ایسی صورت میں جب کوئی محدث اپنی بیان کردہ حدیث کا انکار کرے تو اس حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے مگر اس میں راجح یہ ہے کہ اگر کسی ثقہ سے حدیث بیان کرنے کے بعد شیخ حدیث کا انکار کرتاہے، شک یا بھول جانے کی وجہ سے، تو ایسی صورت میں اس ثقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو قبول کیا جائے گا، ہاں، اگر محدث قطعی طور پر اس کا انکار کر رہا ہے اور روایت کرنے والے کو جھوٹا بتلا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک اس حدیث کی بات ہے تو عمر وبن دینار ثقہ، ثبت راوی ہیں لہٰذا ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ بخاری و مسلم جیسے جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کی تخریج کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ابومعبد کو بڑھاپے کی وجہ سے بھول واقع ہوگئی اور یہ نہ جان سکے کہ انھوں نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (۱)
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی کہے کہ ابومعبد یہ حدیث بھول گئے اور اس کا انکار کیا تو ہم کہیں گے: کیا ہوا؟ عمرو بن دینار أوثق الثقات (حد درجہ ثقہ) ہیں اور بھول چوک سے کوئی بھی آدمی پاک نہیں۔ ثقہ کی روایت سے حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (المحلی ۴؍۲۶۰) بہرحال روایت کی صحت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

خلاصۂ کلام:

نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ أکبر پڑھنے کے سلسلے میں فریقین کے دلائل بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد دوسرے اذکار مثلاً تین مرتبہ أستغفراللہ اور ایک مرتبہ أللہم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الإکرام وغیرہ پڑھے جائیں۔ (۲)
امام نووی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا حدیث ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث دلیل ہے بعض سلف کے لیے جو کہتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔‘‘
صاحب مرعاۃ المفاتیح شیخ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ما ذہب إلیہ بعض السلف و ابن حزم من المتأخرین من استحباب رفع الصوت بالتکبیر و الذکر أثر کل صلاۃ مکتوبۃ ہو القول الراجح عندی و إن لم یقل بہ الأئمۃ الأربعۃ و مقلدوہم، لأن حدیث ابن عباس باللفظین نص فی ذلک، ویدل علی ذلک ایضاً حدیث عبد اللہ بن الزبیر الاٰتی، والحق یدور مع الدلیل لامع الإدعاء أو الرجال۔ (مرعاۃ ۳؍۳۱۵)
’’اسلاف کرام میں سے بعض اور متأخرین میں سے ابن حزم رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر (دعا) بلند آواز سے کرنا مستحب ہے، یہی قول ہمارے نزدیک راجح ہے، اگرچہ ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اس لیے کہ عبداللہ بن عباس کی دونوں الفاظ کے ساتھ وارد حدیث اس معاملہ میں نص ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی آنے والی حدیث بھی یہی واضح کرتی ہے۔ (۳) حق دلیل کے تابع ہوتاہے محض دعووں اور شخصیتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ’’من حدیث و نسی‘‘ کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں: تدریب الراوی۔
۲۔           دیکھیں صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ رقم ۵۹۱۔
۳۔           صاحب مرعاۃ کا اشارہ صحیح مسلم کی اس حدیث کی طرف ہے:

   ’’عن عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ إذا سلم من صلاۃ یقول بصوتہ الأعلی: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیٔ قدیر… الحدیث۔ لیکن مسلم میں یہ روایت ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہلل بہن دبر کل صلاۃ مکتوبۃ‘‘ (مسلم ۵۹۴) کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ غالباً صاحب مشکوۃ نے بالمعنی روایت کیا ہے۔

جمعرات، 2 جولائی، 2009

جوتے پہن کر نماز ادا کرنے کا حکم

0 comments
موجودہ زمانہ میں مسجدیں فرش والی ہوگئی ہیں ان میں عمدہ قسم کی قالین یا چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں لہٰذا ان مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونے سے مسجد کا فرش گندہ ہوگا اس لیے جوتا پہن کر ان میں داخل ہونے کی با ت نہیں کہی جاسکتی مگر مساجد کے علاوہ کھلے میدان میں نماز ادا کرنے کی صورت میں جوتے چپل نکالنے کا خصوصی اہتمام کرنا اور اگر کوئی شخص جوتا پہن کر نماز ادا کرے تو اسے برا بھلا کہنا غلط ہے، سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے دریافت کیا:
أ کان رسول اللہ یصلی فی النعلین؟ قال:نعم۔
’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کی نماز ادا کرتے تھے؟ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں (آپ جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے)۔ (۱)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے لہٰذا بلا وجہ اندیشوں میں مبتلا ہونا کہ کہیں جوتوں میں گندگی نہ لگی ہو؟  جوتے پاک ہیں یا ناپاک، صحیح نہیں۔ سنن ابی دائود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا وطی أحدکم بنعلیہ الأذی فإن التراب لہ طہور۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۳۸۵)
’’کوئی شخص اگر اپنے جوتوں سے گندگی روند دے تو مٹی اسے پاک کر دے گی۔‘‘
لہٰذا زیادہ سے زیادہ احتیاط یہ ہے کہ نماز سے پہلے جوتوں کو دیکھ لیا جائے، ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد اس وسوسہ میںپڑنا کہ ناپاکی جوتے میں لگی ہے یا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے دوران نماز آپ نے اپنے جوتوں کو نکال کر اپنے بائیں جانب رکھ دیا صحابۂ کرام نے بھی آپ کو دیکھ کر ایسا ہی کیا، بعد میں آپ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے اپنے جوتوں کو نکال دیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کو جوتے نکالتے دیکھا تو خود بھی اپنے جوتے نکال دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے جوتے اس لیے نکال دیے کیوںکہ جبرئیل علیہ السلام نے آکر خبر دی کہ ان جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، چنانچہ میں نے جوتوں کو نکال دیا، اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لے اگر اس میں گندگی لگی ہو تو اسے رگڑ لے اور پھر ان کو پہن کر نماز  ادا کرے۔ (دیکھیں: صحیح سنن ابی داؤد رقم ۶۵۰)
مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علاوہ صحابۂ کرام بھی جوتے پہن کر نماز ادا کر رہے تھے، اور آپ نے جوتے اس وجہ سے نکالے تھے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی نہ کہ اس وجہ سے کہ جوتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اس لیے کہ خود آپ نے آخر میں یہ فرمایا کہ جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہو تو اسے صاف کرکے ان میں نماز ادا کی جائے۔ آپ نے صحابۂ کرام کو کچھ نہیں کہا کہ بغیر گندگی لگے جوتوں کو کیوں نکال دیا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس معاملہ میں شدت اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، جوتوں میں نماز پڑھنے والے ننگے پائوں نماز پڑھنے کو برا بھلا کہیں نہ بغیر جوتوں کے نماز پڑھنے والے جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو کچھ کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں:
رأیت رسول اللہ یصلی حافیأ و منتعلا۔
     (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۳)
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پائوں اورجوتے پہنے ہوئے دونوں طریقوں سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

جوتے پہن کر نماز جنازہ کی ادائیگی:

نماز جنازہ اگرچہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہے اس کے باوجود سہولت کی خاطر عام طور پر باہر کھلی جگہ میں ادا کی جاتی ہے۔ (۲) عموماً قبرستان کے کسی گوشہ میںاس کے لیے کوئی جگہ متعین کردی جاتی ہے جو مزاج شریعت کے مطابق نہیں۔ تقاضائے شریعت یہ ہے کہ نہ تو قبر پر نماز ادا کی جائے اور نہ قبر کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی جائے۔ نماز کوئی بھی ہو خواہ جنازہ کی ہو یا کوئی اور قبرستان سے بالکل علیحدہ پڑھی جائے۔ نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خواتین بھی اس نماز میں شریک ہو جائیں گی۔ بیضاء کے دونوں بیٹوں سہل اور سہیل رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی گئی۔  نماز جنازہ ایسی نماز ہے جس میں رکوع و سجدہ نہیں ہے اس وجہ سے اس نماز میں جوتے پہن کر نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ جنھیں شریعت کا علم نہیں ہے وہ اسے برا سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایسے شخص کے پاس سے نکل جاتے ہیں جو جوتے پہن کر نماز جنازہ ادا کر رہا ہو۔ یہ سراسر جہالت ہے، یہاں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر جوتے پہننے سے منع کیا جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا چاہئے:
خالفوا الیہود فإنہم لا یصلون فی نعالہم و لا حفافہم۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۲)
’’یہودیوں کی مخالفت کرو، وہ جوتا اور موزہ پہن کر نماز نہیں ادا کرتے (لہٰذا تم انھیں پہن کر نماز ادا کرو)۔‘‘
اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماء نے کہاہے کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا بغیر جوتا چپل پہنے نماز ادا کرنے سے کئی گنا افضل ہے۔ (شرح منیۃ المصلی لابراہیم الحلبی بحوالہ السنن و المبتدعات ص۴۶)
ابن قیم رحمہ اللہ نے إغاثۃ اللہفان (ص۱۶۹۰) میں لکھا ہے: 
’’ شکی مزاج لوگو ںکے دل جس پر مطمئن نہیں ہوتے ان میں سے ایک جوتے پہن کر نماز پڑھنا ہے حالاں کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت ہے، آپ نے اسے کیا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ کیا آدمی جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم۔‘‘ 
 ابن قیم مزید کہتے ہیں: ’’بعض لوگ جو وسوسوں میں مبتلا ہوتے ہیں اگر ان کے بغل میں کوئی جوتے پہن کر نماز جنازہ کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس طرح اس سے بدک کر اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ آگ کے انگاروں پر کھڑا ہو جس میں نماز نہیں ہوتی۔‘‘

پختہ فرش والی مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونا:

مذکورہ بالا احادیث کو فرش والی اور ان مساجد میں جوتے چپل پہن کر داخل ہونے کے جواز کے طور پر پیش کرنا جن میں چٹائیاں یا قالین بچھی ہوں جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ مساجد کے تقدس پر ان کی چٹائیوں کو فوقیت دینے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مساجد ہی کے تقدس کا خیال رکھنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد فرش والی نہ تھی چنانچہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے مسجد نبوی میں آتے جاتے تھے اور بعض دفعہ پیشاب بھی کردیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود مسجد دھوئی نہیں جاتی تھی۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسجد فرش والی نہ ہو۔ ہم خود اپنے بستروں پر جہاں ہمیں سونا ہوتا ہے جوتے چپل پہن کر نہیں جاتے اس لیے کہ اس پر ہمیں سونا ہوتا ہے، دوکانوں یا آفسوں میں چوں کہ سونا نہیں ہوتا، لوگ ان میں کھڑے ہو کر یا کرسیوں پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں اس لیے ان میں جوتے چپل پہن کر بھی داخل ہونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا اس پر مساجد کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ مساجد جن کے فرش پختہ نہ ہوں یا ان میں چٹائیاں نہ بچھی ہوں توان میں مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں جوتے چپل پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

خاتمہ:

جوتوں میں کوئی غلاظت نہ لگی ہو اس کے باوجود غیر فرش والی جگہ پر اس کے نکالنے پر اصرار کرنا صحیح نہیں، جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ و۲سلم کی سنت ہے لہٰذا اگر کبھی موقع ملے تو اس سنت پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چھوٹی بڑی سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔ صحیح بخاری کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ فی النعال، کتاب اللباس باب النعال السبتیۃ و غیرہا رقم ۳۸۶، ۵۸۵۰۔ صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب جواز الصلاۃ فی النعلین رقم ۵۵۵۔ سنن ترمذی أبواب الصلوۃ باب ما جاء فی الصلوۃ فی النعال رقم ۳۹۸۔
۲۔ مسجد میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کے باوجود بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے اس کی مخالفت کرتے ہیں، بعض مساجد کے باہر نماز جنازہ کے لیے الگ سے جگہ مخصوص کی جاتی ہے لوگ مسجد سے نماز ادا کرکے باہر آتے ہیں پھر اس مخصوص جگہ پر جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں یہ بے جا تکلف ہے اس کی وجہ سے ہی لوگوںمیں یہ غلط فہمی عام ہوئی ۔ صحیح مسلم (رقم ۹۷۳) کی روایت کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے لوگوں کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ اسی طرح عیدگاہ میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ عیدگاہ ہی میں پڑھی تھی۔ (دیکھیں: صحیح مسلم رقم ۹۵۱) 

جمعرات، 25 جون، 2009

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو اس کی وفات کے بعد دیکھنا اور نہلانا

0 comments
ہم آواگون کے قائل نہیں کہ جس کی بنیاد پر یہ کہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ سات جنموں تک رہتا ہے مگر یہ ضرورمانتے ہیں کہ یہ رشتہ اتنا کمزور بھی نہیں ہوتا کہ ان میں سے کسی ایک کی وفات کے ساتھ ہی وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوجائیں۔ اب ان میں سے کسی ایک کا دوسرے کی طرف دیکھنا ناجائزاورحرام ہو جائے۔ آج ہم برصغیر ہندوپاک میں خصوصاً اوردیگر جگہوں پر عموماً پائی جانے والی اس جہالت پر گفتگو کریں گے جس کو لوگوں نے دین کے نام پر فروغ دے دیا ہے، وہ ہے بیوی کے مرنے کے بعد شوہر کو بیوی کا چہرہ دیکھنے سے منع کرنا ۔ جب جہالت کی یہ حالت ہو تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ کوئی شوہر کو یہ اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو غسل دے۔ حالانکہ اس تعلق سے صریح احادیث موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شوہر بیوی کو اس کے انتقال کے بعد غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی عورت ایسی موجودہو جو اس کو غسل دے سکتی ہو۔ اسی طرح بیوی اگر چاہے تو شوہر کو غسل دے سکتی ہے اگرچہ کوئی آدمی نہلانے والا موجود ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
رجع الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من جنازة بالبقیع وانا اجد صداعاً فی راسی واقول واراساہ! فقال : بل انا وارساہ! ماضرک لومت قبلی فغلستک، وکفنتک، ثم صلیت علیک ودفنتک۔
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص کی صلاة جنازہ پڑھاکر میرے پاس آئے۔ اس وقت میرے سر میں زور کا درد ہورہا تھا جس کی وجہ سے میں کراہ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا : تمہیں کیا پریشانی ہے؟ اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاتیںمیں تمہیں اپنے ہاتھوں سے نہلاتا، خود کفن پہناتا، پھر تمہاری صلاة جنازہ پڑھ کر تمہیں دفناتا۔“
تخریج
اس حدیث کو ابن ماجہ نے کتاب الجنائز باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم رقم 6586، 1466،بیہقی نے کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 645 میں درج کیا ہے، اور اس کے علاوہ احمد نے اپنی مسند6:288 میں دارمی نے اپنی مسند1:37-38 میں، دارقطنی نے اپنی سنن 192 میں اورابن ہشام نے السیرة میں 4:643 نے میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ سبھوں نے اس حدیث کو محمد بن مسلمہ عن محمد بن اسحاق عن یعقوب بن عتبہ عن الزہری عن عبیداللہ بن عبداللہ عن عائشةکی سند سے بیان کیا ہے۔
حدیث کا درجہ
حدیث صحیح ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز وبدعہا میں کہتے ہیں کہ سند میں اگر چہ محمد بن اسحاق ہیں (جو کہ مدلس ہیں) اورعنعنہ کے ذریعہ روایت کررہے ہیں مگر چونکہ سیرة ابن ہشام میں تحدیث کی صراحت کردی گئی ہے۔ لہذا حدیث ثابت ہے۔ (دیکھیں:احکام الجنائزص50)
ہیثمی نے مجمع الزوائد میںکہا ہے: اسناد رجالہ ثقات رواہ البخاری من وجہ آخر مختصراً یعنی اس کے رجال ثقہ ہیں بخاری نے اسے ایک دوسرے طریق سے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
کیا شوہر اپنی بیوی کو مرنے کے بعد غسل دے سکتا ہے؟
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اوپر گذرچکی ہے جس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ اگر میری زندگی میں تم مرگئیں تو میں تمہیں غسل دوںگا، یہ حدیث واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ لہذاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شوہر بیوی کو غسل نہیں دے سکتا اس وجہ سے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے ان کی بات صحیح نہیں ۔ کچھ لوگ عورتوں کو اپنے شوہروں کو غسل دینے کی اجازت دیتے ہیں اور مردوں کو نہیں وہ بعض لوگ یہ فرق کرتے ہیں کہ نکاح دونوں صورتوں میں ٹوٹ جاتا ہے خواہ شوہر مرے یا بیوی مگر شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوی عدت میں ہوتی ہے اس وجہ سے وہ غسل دے سکتی ہے جب کہ بیوی کی موت کی صورت میں چونکہ شوہر کے لےے کوئی عدت نہیں ہوتی اس وجہ سے اس کے لئے بیوی اجنبی عورت کے مانند ہوگئی لہذا وہ غسل نہیں دے سکتا۔ (دیکھیں الفقہ علی المذاہب الاربعہ1:504) اس توجیہ کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ شرعی احکام کو پہیلی بنانے کے مترادف ہے۔ دین سہل اور آسان ہے اس میں اگر ایسا ہو تو ویسا ہوگا کہ ذریعہ پیچیدگی پیداکرنا کوئی مستحسن قدم نہیں قراردیا جاسکتا۔
صحابہ کرام کا عمل
عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی تائید صحابہ  کرام کے عمل سے بھی ہوتی ہے ۔
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ غسل دیں چنانچہ انہوں نے غسل دیا:
عن ام جعفر ان فاطمة بنت رسول اللہ قالت: یا اسماء اذا انا مت فاغسلینی انت وعلی بن ابی طالب فغسلہا علی واسماءرضی اللہ عنہما
(بیہقی کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 6452)
”ام جعفر بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء(جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) سے کہا کہ جب میں مرجاں تو تم اور علی مجھے غسل دینا چنانچہ علی اور اسماءنے انہیں غسل دیا۔ “
سنن بیہقی 6453کی روایت میں ہے کہ ام جعفر بنت محمد بن علی کہتی ہیں کہ مجھ سے اسماءبنت عمیس نے کہا کہ میں نے اور علی بن ابی طالب نے فاطمہ بنت رسول اللہ کو غسل دیا۔
یہ بات صحابہ کرام کے درمیان ہوئی مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ انہوں نے کسی غلط بات کی وصیت کی ہو اور اس وصیت کی تنفیذ بھی کرنے والے ایک اعلی درجہ کے صحابی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماداور تیسرے خلیفہ راشد علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ لہذا ضروری سی بات ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت کے بارے میں سنا ہوگا۔
کیا بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے
جو علماءشوہر کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی عورت کو مرنے کے بعد غسل دے ان میں سے بھی اکثر اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی شوہر کے مرنے کے بعد غسل دے سکتی۔ اس کی وجہ خواہ اپنے گمان کے مطابق یہ بتائیں کہ عورت کی حالت اس وقت عدت گزارنے والی کی ہوتی ہے لہذا اسکے لئے شوہر کو نہلانا جائز ہوگا یاکوئی اور وجہ بتائیں۔ اس تعلق سے بھی واضح احادیث ملتی ہیں چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:
لما ارادوا غسل النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالوا: واللہ ماندری، انجرد رسول اللہ ثیابہ کما نجرد موتانا، ام نغسلہ وعلیہ ثیابہ؟ فلما اختلفوا القی اللہ علیہم النوم، حتی مامنہم رجل الا وذقنہ فی صدرہ،ثم کلم مکلم من ناحیة البیت، لایدرون من ہو: ا ن اغسلوا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم وعلیہ ثیابہ ،فقاموا الی رسول اللہ فغسلوہ، وعلیہ قمیصہ یصبون الماءفوق القمیص ویدلکونہ بالقمیص دون ایدیہم وکانت عائشة تقول: لواستقبلت من امری مااستدبرت ماغسلہ الا نساءہ۔

©”جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انھوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے مردوں کی طرح ننگا کرکے نہلائیں؟ یا ہم آپ کو کپڑوں سمیت غسل دیں؟جب صحابہ کرام نے اختلاف کیا تواللہ تعالی نے ان پر نیند طاری کردی۔یہاں تک وہاں موجود تمام لوگوں کی ٹھوڑی ان کے سینوں سے لگ گئی۔ پھر ایک بات کرنے والے نے گھر کے ایک گوشہ سے کہا (لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے) نبی کریم کو کپڑوں سمیت غسل دو۔لوگ کھڑے ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا ۔آپ کے جسم پر قمیص تھی۔ لوگ قمیص کے اوپر ہی سے پانی ڈالتے اور قمیص ہی سے رگڑتے تھے بغیر ہاتھوں کو لگائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں:جو بات بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دیتا۔
(سنن ابی داود کتاب الجنائز باب فی سترالمیت عند غسلہ رقم 1341،ابن ماجہ کتاب الجنائز باب غسل الرجل امراة وغسل المرا ة زوجہا رقم 1464 ،صحیح ابن حبان کتاب الجنائز باب ذکر وصف القوم الذین غسلوارسول اللہ رقم 6627 اور 6413 و6457، حاکم نے مستدرک (3:59-60) میں اس کی تخریج کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔ علامہ البانی نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو حسن قراردیا ہے)
صاحب عون المعبود کہتے ہیں: ”گویا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کے بعد غور کیا اورانہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد آئی کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر تم میری زندگی میں وفات پاگئیں تو میں تمہیں غسل دوں گا کفن دوں گا پھر تمہاری صلاةجنازہ پڑھوں گا اور دفن کروں گا۔“(عون المعبود۸۵۱۴)
صحابہ کرام کے عمل سے بھی اس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ موطا امام مالک کی حدیث ہے کہ اسماءبنت عمیس جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں انہوںنے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوغسل دیا پھر باہر آئیں اور دریافت کیا کہ میں روزہ سے ہوں اورآج سخت سردی ہے کیا میرے اوپر غسل کرنا واجب ہے لوگوں نے کہا کہ نہیں۔
(موطا امام مالک کتاب الجنائز باب غسل ا لمیت، سنن بیہقی 6455کی روایت میں ہے کہ اسماءبنت عمیس نے کمزوری کی وجہ سے عبدالرحمان بن ابی بکر سے مدد لی تھی مگر بیہقی نے کہا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ )
حدیث کے الفاظ جیسا کہ ظاہر ہے، بتلارہے ہیں کہ یہ کام صحابہ کرام کی موجودگی میں ہواتھا لہذا انہیں اس کا ضرور علم ہواہوگا مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ لہذا بیوی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مرنے کے بعد شوہر کو غسل دے۔
شوہر اور بیوی میں فرق؟
میت کو نہلانے میں اجازت دینے اور نہ دینے میں بیوی اور شوہر کافرق کرنا صحیح نہیں، اس فرق کی بنیاد ایک ظنی چیز پر ہے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے پھر یہ فرق کہ عورت چونکہ طلاق کے بعدعدت کے ایام گذارتی ہے لہذا اس کے لئے جس طرح عدت کے ایام میں اگر وہ طلاق رجعی ہو تو شوہر کے ساتھ رہنا جائز تھا اسی طرح اسی صورت میں بھی جائز ہے صحیح نہیں۔ اس لئے کہ طلاق رجعی میں شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت اس وجہ سے دی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کابار بار سامنا ہونے کی وجہ سے شوہر رجوع کرے مگر کیا مرنے کے بعد بھی اس کا امکان ہے؟ ضروری سی بات ہے کہ نہیں۔ لہذا اس کی بنیاد پر یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے؟
کیا موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
ہمارے یہاں نکاح کو اتنا کمزور سمجھاجاتا ہے کہ وضو کی طرح بات بات پر نکاح کے ٹوٹنے کی بات کہی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ نکاح ٹوٹنا وضو سے بھی زیادہ آسان ہے، تو بے جانہ ہوگا چنانچہ جس کے ساتھ آدمی پوری زندگی گذارتا ہے اس کی موت کے ساتھ ہی اس کو اجنبی بنادیا جاتا ہے ۔کتنے اچنبھے کی بات ہے؟ ہم ذیل کے سطور میں ان اسباب کو بیان کریں گے جس کی وجہ سے شوہر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو طلاق شدہ ماننا صحیح نہیں مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر غلط ہے:
۱۔اگر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ زوجین میں سے کسی کو بھی کسی کی میراث نہ ملے اس لئے کہ میراث اسی وجہ سے ملتی ہے کہ وہ بیوی یا شوہر ہے،جب یہ رشتہ ہی منقطع ہوگیا تو وراثت ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ خاص طور پر اس عورت کو بالکل ہی نہیں ملنا چاہیے جس کو دوطلاقیں ہوگئی ہوں اس وجہ سے کہ اس کے حق میں شوہر کی موت سے تیسری طلاق ہوجائے گی۔
لہذا یہ کہنا کہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے سراسر غلط بے بنیاد اور جہالت پر مبنی قول ہے۔
۲۔زوجین میں سے ہرایک کے دوسرے کو غسل دینے کی اجازت اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ رشتہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ دوسرے کسی بھی رشتہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ شرمگاہ کا دیکھنا ان دونوں کے علاوہ کسی اورکے لئے جائز نہیں۔ جب دوسرے لوگ جن کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز نہیں تھا وہ غسل دے سکتے ہیں تو وہ شخص بدرجہ اولی غسل دے سکتا ہے جس کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز تھا۔
فتاوی لجنہ دائمہ کی رائے:
سعودی عرب کی فتاوی کمیٹی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا کوئی عورت اپنے شوہر کو اس کی موت کے بعد دیکھ سکتی ہے یا اس کے لئے دیکھنا حرام ہے اور کیا وہ اسے غسل دے سکتی ہے اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہو؟
اس کے جواب میں کمیٹی نے جواب دیا کہ :عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کو جب اس کا انتقال ہوگیا ہو دیکھے اور صحیح قول کے مطابق زوجین میں سے ہر کوئی دوسرے کو غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی دوسرا موجود ہو۔ (فتاوی اللجنة الدائمة رقم الفتوی 2273)
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ شوہر اپنی بیوی کی وفات کے بعد اسے دیکھ سکتا ہے اوراگر وہ چاہے تو نہلاسکتا ہے اسی طرح بیوی بھی شوہر کو دیکھ سکتی اور نہلاسکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ اس سے منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جب غسل دینے کی اجازت ہے تو دیکھنے کی اجازت بدرجہ اولی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں دینی امور میں اپنی طرف سے کوئی بات کہنے سے بچائے۔ آمین۔

زیورات میں زکوٰة احکام ومسائل

0 comments

زیورات میں زکوٰة نکالی جائے یا نہ نکالی جائے؟

یہ ایک اہم موضوع ہے۔ عام طورپر اس مسئلہ میں اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ زیورات کو کپڑوں اور دوسری استعمال کی اشیاءپر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے قیاس کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیورات کی زکوٰة کے سلسلہ میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف رہا ہے۔ بعض اس میں مطلق زکوٰة کے قائل نہیں تھے اور بعض زکوٰة کے قائل تھے۔ آئندہ سطور میں زیورات میں زکوٰة کے مسئلہ کو تمام فریقوں کے دلائل اور راجح قول کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔

زیورات میں زکوٰة ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماءکرام کے پانچ اقوال ملتے ہیں:

۔ زیورات میں کوئی زکوٰة نہیں اگر اسے استعمال کے لئے رکھاگیا ہو، خواہ عورت اسے مسلسل استعمال کرتی ہویا خاص خاص مواقع پر استعمال میں لاتی ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایسے زیورات میں زکوٰة نہیں ہے ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ اگر زیور کو اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس کو بیچ کر ضرورت پوری کی جائے تو اس پر زکوٰة ہے جبکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اسی صورت میں زکوٰة فرض ہوگی جب اسے تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو۔
۔ زیور کے اندر صرف ایک سال زکوٰة ہے، یعنی اگر کسی شخص نے کسی زیور کی زکوٰة ایک مرتبہ نکال دی تو پھر آگے اس کو ہر سال اس میں زکوٰة دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔ زیور کی زکوٰة یہ ہے کہ اسے عاریتاً کسی کو استعمال کرنے کے لئے دے دیا جائے۔
۔ زیور کی یا تو زکوٰة نکالی جائے یا عاریتاً استعمال کرنے کے لئے دیا جائے۔
۔ زیور اگر نصاب تک پہنچ گیا ہے تو ہر سال اس کی زکوٰة دینا واجب ہے۔
مذکورہ بالا پانچوں اقوال میں راجح قول پانچواں ہے۔ یعنی زیور اگر چہ ذاتی استعمال کے لئے ہو اس کی زکوٰة دینا واجب ہے قرآن و سنت کے نصوص اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

قرآن مجید سے دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) (التوبة 34-35)
”جو لو گ سونااور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔ جس دن اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں،پہلوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ لو، اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔“
مذکورہ آیت میں ”کنز“ سے مراد وہ سونا اورچاندی ہے جس کی زکوٰة نہ نکالی گئی ہو۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جس سونے چاندی میں سے زکاة نکال دی گئی ہو اگر چہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو، کنز نہیں ہے اور اگرزکاة نہ نکالی گئی ہو تو وہ ”کنز“ ہے اگر چہ زمین کے اوپر ہی کیوں نہ ہو۔
(تفسیر ابن کثیر 2:462ط مکتبہ دار السلام ریاض)
مذکورہ آیت عام ہے اور ہر قسم کے سونے چاندی کو شامل ہے، اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کے اندر زیورات شامل نہیں ہیں تو اس کو چاہئے کہ دلیل پیش کرے۔

حدیث رسول سے دلیل:

عن زيد بن أسلم أن أبا صالح ذكوان أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم
: ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها في نار جهنم فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار
(صحیح مسلم :کتاب الزکاة باب اثم مانع الزکاة رقم987)
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر وہ سونے اور چاندی کا مالک جو اس سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی چادریں بنائی جائیںگی، انہیں آگ میں گرم کیاجائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوجائیںگی تو انھیں پھر گرم کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اس دن تک چلتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ سنا دیا جائے گا پھر اس کو اس کا راستہ جنت یا جہنم دکھا دیاجائے گا۔“
”مامن صاحب ذھب“ کے عموم میں ہر وہ شخص آجاتا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو، اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوںگے جن کے پاس نصاب کے برابر سونا یا چاندی نہ ہو۔ اسی طرح ”لایودی حقہا“ میں تمام حقوق شامل ہیں ان میں سر فہرست زکاة ہے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”الزکوٰة حق المال“زکاة مال کا حق ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ اس سے مرادزکاة ہے چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں: لايودی زکاتہ (صحیح مسلم کتاب الزکوٰة باب اثم مانع الزکوة رقم 987(26))
ایسی بات نہیں کہ ذخیرہ احادیث میں صرف وہی احادیث ہیں جن کے عموم سے زیورات میں زکوٰة ثابت ہوتی ہو۔ بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ زیورات میں زکوٰة دینے کی بات کہی گئی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها " أتعطين زكاة هذا ؟ " قالت لا قال " أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار ؟ " قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبي صلى الله عليه و سلم وقالت هما لله عزوجل ولرسوله . قال الشيخ الألباني : حسن
(سنن ابی داود کتاب الزکوٰة، باب زکوٰة الحلی رقم 1563، سنن الترمذی کتاب الزکوٰة باب ماجاءفی زکوٰة الحلی رقم 637 وقال: لا یصح فی ہذا الباب عن النبی شیئ، سنن نسائی رقم 2479، 2480 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الحلی۔امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، صحیح نہیں، اس لیے کہ اسی حدیث کو ابوداد اور نسائی نے صحیح سندوں سے بیان کیا ہے۔ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ ان سندوں تک نہ پہنچ سکے۔ (دیکھیں فتاویٰ اللجنة الدائمة رقم 1797 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الذہب المعد للاستعمال )
”ایک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اس کی زکوة دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا:نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں کنگنوں کے بدلہ میں آگ کے کنگن پہنائے۔ اس عورت نے کنگن کو نکالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“
سنن ابی داد کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن شداد بن الھاد بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرے دونوں ہاتھوںمیں چاندی کے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اس کو میں نے آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاة دیتی ہو؟ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، یا اللہ نے جو چاہا وہ جواب میں نے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ تمہیں جہنم میں داخل کرنے کے لیے کافی ہیں۔“
( سنن ابی داود کتاب الزکاة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم 1565، سنن الدارقطنی کتاب الزکاة، باب زکوٰة الحلی رقم ۴۳۹۱، حاکم نے اس حدیث کی تخریج اپنی مستدرک(1437) میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کا گنگن پہنے ہوئے تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا یہ بھی کنز ہے (جس کی طرف قرآن کریم کی آیت والذین یکنزون الذھب میں اشارہ کیا گیا ہے) آپ نے جواب دیا: ”جونصاب تک پہنچ جائے اور تم زکاة ادا کردو تو کنز نہیں ہے۔“
( سنن ابی داود کتاب الزکوٰة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم1564، سنن دار قطنی کتاب الزکوٰة باب ما ادی زکوٰتہ فلیس بکنز193، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع رقم 5582 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ حاکم نے کہاکہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔)
مذکورہ بالا نصوص سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سونے چاندی کے زیورات میں زکوة ہے۔ اس تعلق سے وارد آیات قرآنیہ اور احادیث و آثار واضح ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا۔
ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ زیورات کی زکاة کے سلسلے میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف پایا جاتارہا ہے۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کو قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اور جو دلیل کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہو اس کو لیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)النسا:59)
”اگر تم کسی مسئلہ میں اختلاف کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ سب سے عمدہ اور بہتر طریقہ ہے۔ “
لہٰذا یہاں پر بھی اسی اصول کے پیش نظر قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھ کر راجح مسلک کو واضح کیاجا رہاہے۔ اب آئندہ سطور میں زیورات میں زکاة کے منکرین کے دلائل اور ان کے شبہات کو بیان کرکے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی۔ ان شاءاللہ۔

ایک اشکال:

جو لوگ زیورات میں زکاة کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ جن احادیث میں وعید آئی ہوئی ہے وہ اس وقت کی ہوں جب زیورات پہننا ممنوع تھا۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ احادیث میں اس قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ :
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات کے پہننے سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کی زکاة نہ دینے پر وعید سنائی۔ اگر زیورات پہننا ممنوع ہوتا تو آپ اس کو اتار دینے کا حکم فرما تے۔ جیسا کہ آپ نے اس صحابی کو جو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے نکال دینے کو کہا تھا۔
۲۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ پہلے زیورات پہننا ممنوع تھا بعد میں اس کی اجازت دی گئی تو اس کے لیے بھی تو دلیل چاہئے بغیر دلیل کے ہم یہ کیسے تسلیم کریں کہ اس مسئلہ میں فلاں حکم ناسخ اور فلاں منسوخ ہے۔
۳۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلے زیور ممنوع تھا تب بھی مذکورہ بالااحادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ان کی زکاةدے دی جائے تو ان کا پہننا جائز ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی زکاة کے واجب نہ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔
کیاعائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکاة کی قائل نہ تھیں؟
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاة نہیں ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جو مو طا امام مالک میں وارد ہے۔
پوری حدیث یوں ہے:
”عبد الرحمان بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کی کفالت کرتی تھیں۔ ان بچیوں کے پاس زیور تھے مگر وہ ان زیورات میں سے زکوة نہیں نکالتی تھیں“۔
(مو طا امام مالک رقم586، کتاب الزکوة باب مالازکاة فیہ من الحلی و التبر و العنبر)
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوة کی قائل نہ تھیں۔ مگر بات ایسی نہیں ہے خود ان ہی سے دار قطنی میں ایک حدیث آئی ہوئی ہے:
عن عمرو بن شعيب عن عروة عن عائشة : قالت لا بأس بلبس الحلي إذا أعطي زكاته (سنند دار قطنی کتاب الزکوة باب زکاة الحلی رقم 1938)
”زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کی زکاةادا کردی گئی ہو۔“
اس حدیث سے اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک زیورات میں زکاة نہیں ہے۔ جہاں تک رہی بات مو طا امام مالک کی اس حدیث کی جس میں یتیم بچیوں کے زیورات میں سے زکوة نہ نکالنے کی بات ان کی طرف منسوب کی گئی ہے تو علماءکرام نے اس کی توجیہ یوں کی ہے:
عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوٰة کی قائل تو تھیں مگر وہ مطلق طور پر یتیموں کے مال نکالنے کی قائل نہ تھیں۔
مگر مو طا امام مالک ہی کی ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال سے بھی زکاة نکالتی تھیں۔ چنانچہ عبد الرحمان بن قاسم ہی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
کانت عائشة تلینی انا و خالی یتیمین فی حجر ھا فکانت تخرج من اموالنا الزکوة۔ (مو طا امام مالک رقم 589، کتاب الزکوة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم منھا)
”عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی نگہداشت میں میری اور میرے ماموں کی پرورش کر رہی تھیں ہم دونوں یتیم تھے وہ ہمارے مالوں سے زکوة نکالتی تھیں۔ “
بعض لوگوںنے کہا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال میں زکاة کے وجوب کی قائل نہ تھیں۔ مصلحت کے مطابق کبھی زکاة نکال دیتی تھیں اور کبھی نہیں نکالتی تھیں۔ اگر کوئی شخص ان مذکورہ بالا باتوں کو نہ مانے تب بھی ہمیں زیورات میں زکاة کی بات ہی لینی ہوگی اس لیے کہ یہ قول ہے اورزکاة نہ نکالنا فعل ہے اور قاعدہ ہے کہ جب قول و فعل میں اختلاف ہو تو قول کو لیا جائے گا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کسی وجہ سے انھوں نے زکاة نہ نکالی ہو۔

کپڑوں پر قیاس

زیورات میں زکاة نہ دینے والوں کا سب سے اہم استدلال یہ ہے کہ جب ہم اپنے استعمال کے کپڑوں پرزکاة نہیں نکالتے، اور دوسری چیزوں مثلا گاڑیوں وغیرہ پربھی زکاة نہیں نکالتے تو صرف زیورات ہی میں زکاة کیوں نکالی جائے وہ بھی تو استعمال کی ایک چیز ہے۔
یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس وجہ سے کہ:
یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے اور نص کی موجودگی میں قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

ضعیف حدیث سے استدلال

اس مسئلہ میں ایک ضعیف حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ حدیث ہے:” لیس فی الحلی زکوة“: یعنی زیورات میں زکاة نہیں۔ اس حدیث کو دارقطنی نے مرفوعا بیان کیا ہے اور بیہقی نے کتاب التحقیق (1:696) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
یہ حدیث سراسر باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیں تو ہر قسم کے زیورات میں زکاة کی نفی ہوجائے گی اور اس کے قائل وہ بھی نہیں ہیں جو اس حدیث سے زیورات میں عد م زکاة پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث متن کے لحاظ سے غلط ہوئی۔
جہاں تک سند کی بات ہے تو اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب مجہول ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیہقی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے:
انہ باطل لا اصل لہ، و انما یروی عن جابر من مقولہ و عافیة بن ایوب مجہول ، فمن احتج بہ مرفوعامعزرا بذنبہ (دیکھیں: ارواءالغلیل 3:294)
”یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث جابر سے موقوفا روایت کی جاتی ہے، سند میں عافیہ بن ایوب مجہول ہیں۔ جس شخص نے بھی مرفوع سمجھ کر اس سے حجت پکڑی وہ اپنے گناہ کی وجہ سے ملامت زدہ ہوگا۔“
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی دو اور علتوں کو بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ عافیہ سے روایت کرنے والے ابراہیم بن ایوب ہیں ان کو ابو العرب نے ’الضعفائ“ میں ذکر کیا ہے اور ان کے بارے میں ابو طاہر المقدسی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور ابو حاتم نے کہا ہے: ’لاا عرفہ‘ (میں انہیں نہیں جانتا)۔
دوسری علت یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (4:27) میں یہ حدیث موقوفا جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔علامہ البانی کہتے ہیں کہ یہ موقوف سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حدیث کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
(دیکھیں:ارواءالغلیل3:295)

کیا زیور صرف ایک بار نکالی جائے گی:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زیور جو کہ استعمال کے لیے رکھا گیا ہو اس میں صرف ایک مرتبہ ہی زکاة نکالنا کافی ہوگا یعنی اگر کوئی شخص کسی زیور کی زکاة اگر ایک سال نکال دیتا ہے تو آنے والے سالوں میں اس کی زکاة نکالنے کی ضرورت نہ ہوگی۔
یہ بات اگر اس وجہ سے کہی جاتی ہو کہ احادیث میں جہاں زیورکی زکاة کی بات کہی گئی ہے وہاں پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس کی زکاة ہر سال نکالی جائے تو یہ بات صرف زیور پر ہی نہیں نافذ ہوتی بلکہ تمام اموال میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہاں پر بھی وعید کی احادیث مطلق آئی ہوئی ہیں۔
اور اگر یہ بات اس وجہ سے کہی جاتی ہے کہ تجارت کے مال میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے اور زیور جو کہ صرف استعمال کے لیے ہوتا ہے اس میں زیادتی و کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس میں زندگی میں ایک مرتبہ زکاة نکال دینا کافی ہوگا تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہرسال اگر تجارتی اموال میں زکاة لی جاتی ہے تو کیا اس وجہ سے لی جاتی ہے کہ اس میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟
صحیح بات- واللہ اعلم- یہ ہے کہ یہ ایک توقیفی امر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے زکاة دینے کو کہا ہے لہٰذا ہم کو زکاة دینا ہے۔ اسی طرح ہم زیورات میں زکوة کے بارے میں بھی کہیںگے۔ جب سال مکمل ہوجائے تو اس وقت موجود زیورات کی قیمت کا اندازہ لگا کر زکاة نکال دی جائے اگر وہ زیور نصاب پر پورا اتر تا ہو۔ زکاة نکالنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مال کے اندر بڑھوتری ہوتی ہو اس کی دلیل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس کو امام مالک نے اپنی کتاب موطا میں درج کیا ہے: اتجروا فی اموال الیتامی لا تاکلھا الصدقة (موطا کتاب الزکوٰة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم فیھا) ”یتیموں کے مال میں تجارت کرو تاکہ صدقہ اسے کھا نہ لے“۔
ضروری سی بات ہے کہ یتیم کا مال اگر تجارت کے لیے نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے اندر اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زکاة کی وجہ سے اس کے ختم ہوجانے کا خدشہ بیان کرنا یہ بتلاتا ہے کہ زکاة کے لیے مال کا کمی و بیشی والا ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیور کے ختم ہونے کا اندیشہ:

یہ شبہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ زیورجو استعمال کے لیے ہو اس میں چونکہ اضافہ کا امکان نہیں ہوتا اس لیے اگر ہر سال اس میں سے زکاة نکالی جائے تووہ ختم ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ شبہ غلط ہے شریعت نے ہر چیز کا ایک نصاب مقرر کر دیا ہے۔زیور خواہ سونے کی شکل میں ہو یا چاندی کی شکل میں ، اگر مقررہ نصاب سے کم ہوجائے گا تو خود بخود زکاة کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا۔
ہاں، اگر کوئی شخص زیور کی زکاة اس کی قیمت کا اندازہ لگا کر روپیوں کی شکل میں دیتا ہے تو ایسی صورت میں زیور اپنی شکل میں باقی رہتا ہے۔ اس وجہ سے اس پر زکاة واجب ہوتی رہے گی۔ اس صورت میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا زیور ختم ہوجائے گا اس وجہ سے کہ زیور تو اپنی شکل میں موجود ہے۔

اگر زیور کی زکاة شوہر ادا کردے:

زیور جس کی ملکیت میں ہے اسی کے ذمہ اس کے زکاة کی ادائیگی بھی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے کر ادا کر دیتا ہے تو یہ زکاة ادا ہو جائے گی۔
یہیں پر ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر گھر میں کئی عورتیں ہوں اور ہر ایک کے پاس اتنی مقدار میں زیور ہے جو نصاب تک نہیں پہنچتا تو ایسا نہیں کیاجائے گا کہ سبھی عورتوں کے زیورات کو ملا کر ان میں سے زکاة نکالی جائے۔ اگر چہ وہ سبھی عورتیں ایک ہی شخص کی زوجیت میں ہوں۔

کیا عورت زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے؟

ہمارے معاشرہ میں عورتوں کی ملکیت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ عورتوں کی آزادی کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے پاس رکھا سرمایہ خواہ نقدی کی شکل میں ہویاجائداد کی شکل میں ، شوہر اپنی ملکیت سمجھ کر خرچ کرتا ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ عورت مالدار ہو اور شوہر غریب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ مگر قرون اولیٰ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بیویاں مالدار ہوں اور شوہر غریب۔ چنانچہ دو صحابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دریافت کیاکہ کیا ہم اپنے غریب شوہروں پر زکاة کی رقم خرچ کر سکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں تم خرچ کر سکتی ہو۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گنے اجر کی بشارت دی، صدقہ کا اجر اور قرابت داری کا اجر۔ (دیکھیں: صحیح بخاری کتاب الزکوٰة، باب الزکوٰة علی الزوج و الایتام فی الحجر، صحیح مسلم: کتاب الزکوة، باب فضل النفقة علی الاقربین و الاولاد)
اس سلسلہ میں یہ قاعدہ ہے کہ زکاة کی رقم ہر اس شخص پر خرچ کی جاسکتی ہے جس کی کفالت کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی۔ شوہر بیوی کا کفیل ہے مگر بیوی شوہر کی کفیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بیوی اپنی زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اتنا غریب ہوکہ بیوی کے زیورات کی زکاة ادا کرنے میں اسے کافی مشقت اٹھانی پڑتی ہو اور پیسے جٹا کروہ اسے ادا کرتا ہو تو بیوی چاہے تو وہ زکوٰہ کی رقم اسی شوہر کو دے سکتی ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

زیور کا نصاب:

بات چونکہ زیور کے زکاة کی ہو رہی ہے اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر اس کا نصاب بیان کر دیا جائے۔ زیور اگر سونے کا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نصاب 20 دینار ہے۔ 20 دینار موجودہ پیمانہ کے مطابق تقریباً 85 گرام ہوتا ہے۔ اور اگر چاندی کا زیور ہے تو اس کا نصاب ۰۰۲ درہم ہے جس کا وزن موجودہ دور کے پیمانے کے مطابق تقریباً 595گرام ہوتا ہے۔ جب سونااور چاندی اس مقدار کو پہنچ جائے تو اس کا چالیسواں حصہ زکاة میں نکالا جائے گا۔

خلاصہ کلام:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱۔ زیورات میں زکاة ہے۔
۲۔ یہ زکاة جب تک زیورات کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہے دینی ہوگی صرف ایک مرتبہ زکاة دینا کافی نہیں۔
۳۔ اگر شوہر غریب ہے تو عورت زکاة کی رقم اس پر خرچ کر سکتی ہے اس وجہ سے کہ بیوی کے اوپر شوہر کے نفقہ کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی ہے۔


بچوں کی صف بندی کا طریقہ

0 comments
عام طور پر بچوں کی صف کے بارے میں یہ تصور ہے کہ بڑوں کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی پہلے بڑے لوگوں کی صف ہوگی، پھر بچوں کی اور اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی، لیکن اس مسئلہ میں یہ ضروری سمجھ لینا کہ بچوں کی صف ہر حال میں الگ ہوگی اور اگر کوئی بچہ کسی صف میں شامل  ہو گیا تو اس کی وجہ سے صف ٹوٹ جائے گی غلط ہے۔ ہماری مسجدوں میں عموما اور رمضان کے مہینہ میں خصوصا دیکھا گیا ہے کہ لوگ بلاوجہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی صف اچھوتوں کی طرح مسجد کے ایک کونے میں لگاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے اور صف کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہو لیکن آنے والے نمازیوں کے لیے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بچوں کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کا جو حل ہم لوگوں نے خود سے تلاش کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کو ایک گوشہ مل جاتا ہے جہاں وہ دل کھول کر شور مچاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نبوی طریقہ اپنایا جائے کہ نماز کھڑی ہونے کے وقت سب سے پہلے بڑوں کی صف پھر بچوں کی صف اور سب سے آخر میں عورتوں کی صف بندی ہو تو پھر پچوں کے شور مچانے کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوجائے۔ 
اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث واضح دلیل ہے۔ 
"عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان جدتہ ملیکة دعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لطعام صنعتہ، فاکل منہ ثم قال: قوموا فاصلی لکم، قال انس بن مالک: فقمت لی حصیر لنا قد اسود من طول مالبث فنضحتہ بمائ، فقام علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و صففت انا و الیتیم و راءہ و العجوز من وراءنا، فصلی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رکعتین ثم انصرف۔"
ترجمہ: ”انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جو انھوں نے آپ کے لئے بنایا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھانا تناول فرمایا، اس کے بعد آپ نے کہا کہ کھڑے ہو میں تم لوگوںکو صلاة پڑھادوں ۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لایا جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میںاور یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بوڑھی (دادی) ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی اس کے بعد آپ واپس ہوگئے۔
صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب جواز الجماعة فی النافلة“ رقم 266(658)
شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یتیم کا لفظ بتلاتا ہے کہ وہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیںپہنچے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مسند احمد کی حدیث میں اس کی بھی صراحت ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی۔ (دیکھیں مرعاة المفاتیح429)
ظاہر سی بات ہے کہ اگر بچے کی صف کا اعتبار نہ کیا جائے تو گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام کی حیثیت سے اکیلے کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے بھی ایک ہی مصلی ہو ا جو کہ صف بندی کے اصول کے خلاف ہے۔ صف بندی کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دو مصلی ہوں تو امام کے دائیں طرف مصلی کھڑا ہوگا، اور اگر تین ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا اور مصلی پیچھے کھڑے ہوںگے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ بچے کی صف میںموجودگی کا اعتبار نہ ہوگا اس کا وجوداور عدم وجود برابر ہے تو گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک مقتدی کو کھڑا کیا جس طرح کہ عورت کو آپ نے اکیلے کھڑا کیا۔

ضعیف حدیث سے استدلال:

عام طور پر بچوں کی صف کے لئے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
عن ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہ قال:الا احدثکم بصلاة النبی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ قال: فاقام الصلاة فصف الرجال، وصف خلفہم الغلمان ثم صلی بہم فنذکر صلاتہ۔
(سنن ابی داود: کتاب الصلاة باب مقام الصبیان من الصف، مسند احمد 5:341، 342،342، 344، سنن بیہقی 3:47)
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة نہ بتاں (پھرابو مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاة قائم کرنے کا حکم دیا، مردوں نے صف بندی کی، ان کے پیچھے بچوں نے صف بندی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو صلاة پڑھائی (پھرابو مالک نے آپ کی صلاة کا مفصل بیان کیا)“
مگر یہ حدیث ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ مشکوٰة المصابیح کی تحقیق میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ایک راوی شہر بن حوشب ہیں سوءحفظ کی وجہ سے ان کی تضعیف کی گئی ہے۔ (تحقیق مشکوٰة المصابیح للا ¿لبانی رقم الحدیث (1115)(10))
صاحب مرعاة المفاتیح اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے بڑوں کی صف پہلے ہوگی، پھر بچوں کی صف ہوگی، اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی۔
مگر آخر میں اس حدیث کا درجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سبھی سندوں میں شہر بن حوشب ہیں اور ان پر کلام کیا گیا ہے۔(مرعاة المفاتیح4:43)
لہٰذا اس حدیث پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی دونوں سندیں (مسند احمد اورسنن ابی داود) ضعیف ہیں۔ اس کے اندر شہر ہیں۔ مردوں کے پیچھے عورتوں کی الگ صف کے بارے میں صحیح احادیث ہیں مگر بچوںکو بڑوں سے پیچھے کرنے کے بارے میں اس کے علاوہ میں کوئی اور حدیث نہ پا سکا، اور اس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ لہٰذا میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا اگر صف میںگنجائش ہو تو بڑے بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یتیم کا انس رضی اللہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاة پڑھنا اس کی دلیل ہے۔
(تمام المنة فی التعلیق علی فقہ السنة ص:284)
صاحب مرعاة المفاتیح شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے علامہ سبکی رحمہ اللہ کا قول اس حدیث پر نقل کیا ہے کہ یہ بات (کہ بچوںکی صف بڑوں کے بعد ہو)اس وقت ہے جب وہ دو یا دو سے زائد ہوں ورنہ اگر ایک ہی بچہ ہے تو وہ صف میں بڑوں کے ساتھ شامل ہوکر صلاة پڑھے گا۔ (مرعاة المفاتیح4:43)
علامہ سبکی کا قول اپنی جگہ پر اس معنی میں درست ہے کہ اگر ایک ہی بچہ ہو تو اس کو صف کے اندر کھڑ اکیا جائے گا اکیلے نہیں۔ مگر ایک سے زائد ہوں تو ان کو صف میں شامل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ صحیح بات اس سلسلہ میں یہی ہے کہ ان کو بھی صف کے اندر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ا ¿ولو النہی (اصحاب خرد) والی حدیث کے عموم سے صف کی ترتیب اگر ہو اور بڑوں کو پہلے رکھا جائے تو بہتر ہے۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بچوں کی صف بڑوں سے پیچھے ہو یہ ضروری نہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس پر بے جاسختی کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حدیث نبوی: لیلنی منکم اولو الاحلام و النہی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونھم (صحیح مسلم: کتاب الصلاة باب تسویة الصفوف و اقامتھا) ( تم لوگوں میں سے عقل و خرد والے لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں) کی وجہ سے صف بندی کے وقت موجود مصلیان اسی ترتیب پر کھڑے ہوںگے۔ اگر علم و معرفت میںکوئی کم عمر کاشخصبڑھا ہوا ہو تب اس کو بڑی عمر والے پر فوقیت دی جائے گی۔ حدیث کا یہی تقاضا ہے۔
بعض مساجد میں دیکھا جا تاہے کہ بچوں کو صف بندی کے وقت ہی مسجد کے کونے میں اچھوتوں کی مانند کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس کے لئے خواہ کوئی بھی توجیہ بیان کی جائے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑوں سے دور ہونے کی وجہ سے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شور مچا کر دوسروں کی صلاة بھی خراب کرتے ہیں۔
ہم آخر میں سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کے دو فتوے اس تعلق سے درج کرتے ہیں۔ امید کہ اس سے زیر غور مسئلہ اوربھی واضح ہو جائے گا۔
سنت یہ ہے کہ بچے جب سات سال یا اس سے زائد عمر کے ہوجائیں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں جس طرح کہ بالغ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہی مصلی ہے تو وہ امام کے دائیں کھڑا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ابو طلحہ کے گھر صلاة پڑھائی۔ انس اور یتیم کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ام سلیم کو ان دونوں کے پیچھے کھڑا کیا اور آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے انس کو صلاة پڑھائی تو انہیں اپنے دائیں جانب کر لیا۔ اور ابن عباس کو صلاة پڑھائی انہیں اپنے دائیں کرلیا“۔و باللہ التوفیق
(فتاوی اللجنة الدائمة السوال الثالث من الفتوی رقم 1954)
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بچہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہے تو کیا اس کی صف شمار ہوگی، کمیٹی نے جواب دیا ہے:
اگر بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو اس کی جماعت منعقد ہوگی اور صف بھی ۔
(فتاوی اللجنةالدائمة السول الثانی من الفتوی رقم 3987)
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے یہ پوچھا گیا کہ اگر بچے پہلے آگئے ہوں تو ان کو پیچھے کرنا کیسا ہے؟
شیخ نے اس نے جواب میں کہا: ایسا کرنا جائزنہیں اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کسی آدمی کو اٹھا کر مجلس میں اس کی جگہ پر بیٹھا جائے، ہاں، اگر ان بچوںکی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو ان اولیاء(گارجین)سے کہہ کر ان کو مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے“ (مجموع فتاوی ورسائل للعثیمین 13:39 رقم 404)
گویا کہ شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بچہ پہلے آکر اگلی صف میں کھڑا ہو گیا ہے تو بعد میں آنے والا اس کے بعد کھڑا ہو گا اس کو اس کی جگہ سے ہٹاکر صف نہیں لگائے گا۔

عام طور پر ہماری مساجد میں اس کے خلاف ہوتا ہے ہر کوئی بچے کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ خود کھڑا ہوجاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی کو اگلی صف میں کھڑا ہونا ہے تو اسے پہلے مسجد میں آنا چاہیے پہلے سے موجود مصلیوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی خواہ وہ ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔