Sunday, October 18, 2009

مہر معاف کرانا

0 comments



دودھ معاف کرانایا مہر معاف کرانا ہمارے یہاں ہندوستانی معاشرہ میں عام سی بات ہے۔ جہاں تک دودھ معاف کرانے کی بات ہے تو یہ ایک ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے پھر اسے معاف کرنا نہ کرنا کیسا؟ اور پھر یہ گمان کرنا کہ اگر ماں نے دودھ معاف نہ کیاتو قیامت کے دن بخشش نہیں ہوگی اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہاں، اگر اس سے مراد ماں کی ناراضگی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہ کسی جائز وجہ سے ہے تو دنیا وآخرت کے لئے خسارہ کی چیز ہوگی۔ اس وجہ سے یہاں پر صرف مہر معاف کرنے کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔
قرآن کریم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے:
'
'وَاٰتُوْا النِّسَاءَ صَدُقَاتِھِنَّ نِحْلَۃً'' (النسائ:٣)
''
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی دے دو''
کہہ کر عورتوں کو ان کا مہر دینے کی بات کہی ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے:
''
فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا مَرِیْئًا'' (النسائ:٣)
''
اگر وہ اپنی خوشی سے تمہیں اس میں سے کچھ دیں تو اسے شوق سے کھاؤ''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہر عورت کا حق اور اس کی ملکیت ہے، جس طرح مہر کی شکل میں ملی ہوئی رقم یا چیز کو وہ کسی دوسرے آدمی کو دینے کا اختیار رکھتی ہے اسی طرح اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اس رقم کو شوہر کو دے دے یا پھر رقم لینے سے پہلے اس کا کچھ حصہ یا پورا حصہ معاف کردے۔
اس آیت کریمہ میں عورتوں کی جانب سے مہر کی رقم معاف کرنے پر اس سے فائدہ اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے جب عورت اپنی خوشی سے مہر معاف کرے۔ اس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔
آج کل مہرکی معافی کا رواج کچھ اس قسم کا ہے کہ آدمی شادی کی دیگر غیر ضروری چیزوں پر لاکھوں خرچ کر دیتا ہے اس لئے کہ لوگ دیکھ کر واہ واہ کہیں مگر مہر دینے کی بات آتی ہے تو مہر دینے کے بجائے پہلی ہی رات بیوی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے کہ وہ مہر معاف کردے۔ بے چاری اس موقع پر شوہر نامدار کا مہر معاف نہ کرے تو کیا کرے؟ یہ تو ایک قسم کا دباؤ ہو گیا جو کہ ناجائز ہے۔ دباؤ کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ کوئی شخص مار یا دھمکی کے ذریعہ کسی کو ایسے کام پر مجبور کرے جو وہ نہ کرنا چاہتا ہو۔ دباؤ کی ایک شکل جو کہ ہمارے معاشرہ میں عام ہے، یہ بھی ہے کہ کسی شخص سے کسی بات کو ایسے موقع پر کہا جائے کہ وہ انکار نہ کر سکے۔ یہاں اسی قسم کا اکراہ (دباؤ) پایا جاتا ہے۔


مہر دینے کے باوجود بھی مہرکی معافی کی درخواست:
بات کچھ عجیب سی ہے کہ جب نکاح کے وقت ہی زیور یا کسی اور رقم پر مہر کی رقم طے کر دی گئی اور اس کو ادا بھی کر دیا گیا تو پھر معاف کرانے کا کیا مطلب؟ مگر شمالی ہند اور بعض دوسرے علاقوں میں مہر دے دیاگیا ہو یا نہ دیا گیاہو مہر معافی کی رسم ضرور ادا کی جاتی ہے۔ شوہر محترم مہر ادا کرنے کے باوجود بیوی سے درخواست کرتے ہیں کہ مہر معاف فرما دیں۔ مہر کی معافی کی پہلی صورت تو سمجھ میں آنے والی تھی مگر اس معافی کی رسم کو جہالت اور لاعلمی کے علاوہ اور کیا نام دیںگے؟
صرف عورتیں ہی کیوں معاف کریں:
مرد اپنی چالاکی سے بہت سارے ایسے راستے نکال لیتا ہے جو اس کے فائدے کے لئے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ اس کے لئے مذہب کا بھی جھوٹا سہارا لیتا ہے۔
اب مہر کی معافی کا مسئلہ ہی لیں۔ عورت سے معاف کرانے کی درخواست کرتا ہے مگر خلع کے موقع پر پوری کوشش ہوتی ہے کہ مہر ہی نہیں اس سے زیادہ کی رقم بھی مل جائے تو اچھا ہے۔
ایک موقع پر مہر کے تعلق ہی سے قرآن مجید نے مردوں اور عورتوں دونوں کو ایک دوسرے کو رخصت دینے پر ابھارا ہے:
''وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَافَرَضْتُمْ اِلَّا اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَ الَّذِی بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَاَنْ تَعْفُوْااَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ''۔ (البقرۃ:٢٣٧)
''اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دوکہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کر دیا ہو تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وہ خود معاف کردیں یا وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے تمہارا معاف کر دینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے''۔
یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ مردوں کو مخاطب کرکے خاص طور پر کہا گیاہے کہ اگر تم اپنا حصہ معاف کردو یعنی آدھے مہر کے بجائے مکمل مہر دے دو تو زیادہ بہتر ہے۔ اگر چہ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مخاطب مرد و عورت دونوں ہیں مگر راجح بات یہی ہے کہ اس حصہ کے مخاطب مرد ہیں۔
مرد کو اس بات پر خاص طور پر اس وجہ سے ابھارا گیا کیوں کہ مرد صاحب اختیار ہوتا ہے۔ روزی کمانے کی ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے لئے آدھے کے بجائے پورا مہر دینا عورت پر احسان ہوگا۔
مہر کے تعلق سے دوسری بے اعتدالیاں:
بات مہر کی چل رہی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مہر کے تعلق سے معاشرہ میں رائج چند بے اعتدالیوں کی طرف توجہ دلاتا چلوں:


مہر کو ادھار کرنا:
رسول اکرم ؐ اور صحابہئ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں عام اصول یہ تھا کہ نکاح کے وقت ہی جو بھی مہر مقرر ہوتا تھا ادا کر دیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک صحابی کے پاس کچھ نہ تھا تو آپ نے کہا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ملے تو وہی لے آؤ۔ جب انہوں نے کہا کہ یہ بھی نہیں ہے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہےں۔ اس پر آپ نے ان سورتوں کو یاد کرانے کو کہا اور اسی کو مہر قرار دیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جاؤ بعد میں جب تمہارے پاس ہوگا تو اسے مہر دے دینا۔ آپ جب کسی کے بارے میں سنتے کہ اس نے شادی کرلی ہے تو پوچھتے کہ مہر میں کیا دیا۔ آپ کی اس تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر فوری طور پر ادا کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ہمارے معاشرہ میں آج کل حالت یہ ہے کہ نکاح کے وقت ہی قاضی صاحب دریافت کرتے ہیں کہ مہر معجل (اسی وقت) یا مہر مؤجل (ادھار) میں سے کون سا مہر دینا ہے؟ ٹیبل کرسی پر لاکھوں خرچ کرنے کے بعد مہر مؤجل یعنی ادھار باندھ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور مہر ادا نہیں ہوتا ہے۔ بعض جگہ تو بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ساتھ میں رہتے ہوئے پوری زندگی گذار دیتے ہیں مگر مہر کی رقم ادھار ہی رہتی ہے۔ یہ شرعی حکم کا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبوی دور میں بھی ایک دو ایسے بھی واقعات سامنے آئے کہ مہر اسی وقت ادا نہ کر کے بعد میں ادا کیا گیا مگر ایسا کم ہی ہوا یا کسی مجبوری کے تحت ہوا۔ اس سے اس قدر تو معلوم ہوتا ہے کہ مہر کو ادھار کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کو عادت بنا لینا اور لڑکی والوں کا فوری طور پر مہر کے مطالبہ کے بجائے زیادہ سے زیادہ رقم پر مہر باندھنے پر اصرار کرنا اور وہ بھی یہ سوچ کر کہ یہ مہر کی رقم اگر کبھی طلاق کی نوبت آئی تو شوہر کو دینا ہوگاورنہ نہیں۔یہ ساری باتیں غیر مناسب ہےں۔مسلمانوں کے عمل کو دیکھ کر ایسالگتا ہے کہ مہر کی رقم ادا کرنے کا وقت نکاح کے بجائے طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے معاملوں میں لاپرواہی سے بچائے۔ آمین۔٭٭٭ 

سورج کرہن کی نماز کے مساءل

0 comments

گرہن چاہے چاند کا ہو یا سورج کا دونوں کو اکثر معاشرہ میں منحوس تصور کیا جاتا ہے مگر چونکہ سورج گرہن سے لوگ زیادہ متأثر ہوتے ہیں اس وجہ سے اس کے بارے میں توہمات کچھ زیادہ ہیں۔ اس موقع پر عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں، حاملہ عورتیں لوہے کا سامان خصوصاً دھار دار چیزوں کو ہاتھ لگانے سے بچتی ہیں تاکہ ان کے بچے پیدائشی نقص کے بغیر پیدا ہوں۔ عورتیں چونکہ زیادہ اندھ وشواسی (ضعیف الاعتقاد) ہوتی ہیں اس وجہ سے اس قسم کی چیزیں ان کے یہاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
زمانہ کافی ترقی کر گیا، انسان نے چاند پر کمندیں ڈال دیں۔ فضا کے اندر ہونے والی معمولی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے مگر عہد قدیم سے لوگوں کے ذہنوں پر مسلط یہ غلط قسم کے خیالات ختم نہ ہوسکے۔
ہمارے ملک ہندوستان میں ہمارے ہندو بھائی چونکہ مظاہر قدرت کی عبادت کرتے ہیں اس وجہ سے وہ لوگ سورج گرہن کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ سورج گرہن کے موقع پر نجومی کسی تباہی یا نقصان کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ اس مرتبہ ٢٢/ جولائی ٢٠٠٩ کو اس صدی کے سب سے بڑے سورج گرہن کے موقع پر ہندوستانی نجومیوں نے اہم سیاسی شخصیات کے قتل اور بڑے پیمانہ پر معاشرتی پریشانیوں کی پیشین گوئیاں کی تھیں۔
مذہب اسلام کا عالم انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اس ضعیف الاعتقادی کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی۔ مدینہ طیبہ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا اتفاق سے اسی دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی لوگ کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس موقع پر آپ نے دو رکعت صلاۃ پڑھائی اور ایک مختصر تقریر فرمائی:
إن الشمس والقمر لا ینکسفان لموت أحد من الناس، ولکنہما آیتان من اٰیات اﷲ فإذا رأیتموہا فقوموا فصلوا۔
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب الصلاۃ فی کسوف الشمس رقم ٩٩٤، صحیح مسلم کتاب الکسوف، باب صلاۃ الکسوف، رقم٩١١)
''چاند اور سورج گرہن(١) کسی کی موت کی وجہ سے نہیں ہوتا، یہ تو اﷲ کی دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن دیکھو تو صلاۃ کے لئے کھڑے ہوجاؤ''۔
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:
''سورج اور چاند گرہن اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلانے کے لئے کرتا ہے لہٰذا جب تم ایسے آثار دیکھو تو یاد الٰہی، دعا اور استغفار کی طرف رجوع کرو''۔
(صحیح بخاری الکسوف باب الذکر فی الکسوف رقم ١٠١٠ صحیح مسلم الکسوف باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف رقم ٩١٢)
مذکورہ بالا حدیثوں میں دو باتیں بتائی گئی ہیں:
(١) چاند یا سورج گرہن کا سبب کسی کی موت یا پیدائش نہیں بلکہ یہ اﷲ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا بندوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس طرح وہ ایک محدد وقت کے لئے سورج یا چاند کی روشنی کو روک سکتا ہے ہمیشہ کے لئے بھی اس کی روشنی ختم کرسکتا ہے۔
(٢) جب گرہن لگے تو ہمیں صلاۃ پڑھنا چاہئے اور اﷲ سے دعا و ذکر و اذکار کرنا چاہئے۔


صلاۃ کسوف کا طریقہ:
گذشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم گرہن کے موقع پر صلاۃ پڑھاتے تھے اس مخصوص صلاۃ کا طریقہ کیا ہے؟ اس کی تفصیل مندرجہ ذیل حدیث میں آئی ہوئی ہے:
''عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائی۔ آپ نے سورہئ بقرۃ کی مقدار کے قریب لمبا قیام کیا پھر لمبار رکوع کیا، پھر سر اٹھاکر پہلے قیام سے کم لمبا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر (قومہ کرکے) دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوکر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا پھر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا ، پھر دو سجدے کیے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیرا۔ اتنی دیر میں سورج روشن ہوچکا تھا۔ پھر خطبہ دیا''۔
(صحیح بخاری الکسوف باب صلاۃ الکسوف جماعۃ رقم ١٠٠٤، صحیح مسلم الکسوف باب ما عرض علی النبی فی صلاۃ الکسوف رقم ٩٠٧)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
(١) صلاۃ کسوف دو رکعت پڑھی جائے گی۔
(٢) ہر رکعت میں دو رکوع ہوںگے۔ پہلی دفعہ رکوع کرنے کے بعد پھر تلاوت کلام پاک پھر دوسرا رکوع ہوگا جس کے بعدمصلی سجدہ میں جائے گا۔ یہی طریقہ دوسری رکعت میں بھی ہوگا۔
(٣) پہلا قیام اور رکوع طویل ہوگا اس کے بعد کے قیام اور رکوع بتدریج مختصر ہوتے جائیںگے۔
(٤) حدیث میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ قیام اور رکوع دوسری صلاتوں کے مقابلہ میں طویل ہونگے مگر چونکہ سجدہ کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں ملتا ہے اس وجہ سے اس کی مقدار عام صلاۃ کی طرح ہوگی۔
(٥) مستحب یہ ہے کہ سنت رسول کے مطابق صلاۃ کے بعد وعظ و نصیحت کیا جائے۔
یہ ہے صلاۃ کسوف و خسوف کا طریقہ۔ یہ صلاۃ چونکہ سورج اور چاند گرہن کے ساتھ مشروط ہے اس وجہ سے اس صلاۃ سے عوام کا واسطہ کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اس کے بارے میں بہت کم جانکاری رکھتے ہیں۔ عدم واقفیت کی ایک بڑی وجہ صلاۃ کا طریقہ بھی ہے۔ صلاۃ کسوف دوسری صلوات کے برخلاف دو رکوع کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اس وجہ سے عام پڑھے لکھے لوگ بھی اس کے طریقہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔
صلاۃ کسوف کے تعلق سے چند اہم باتیں ہیں جن کا جاننا ضروری ہے:


ممنوع اوقات میں صلاۃ کسوف پڑھنا:
اگر گرہن ایسے وقت میں لگے جب صلاۃ پڑھنا منع ہے تب بھی صلاۃ کسوف کو اس وقت میں پڑھا جائے گا اگرچہ وہ سورج طلوع ہونے کا یا غروب ہونے کا وقت ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے صلاۃ کسوف ذوات الاسباب والی صلاتوں میں سے ہے۔ یعنی وہ صلاۃ جو کسی سبب سے مشروط ہو۔ چونکہ ہمیں اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ:
''فإذا رأیتموہا فقوموا فصلوا''
''جب تم چاند یا سورج گرہن دیکھو تو صلاۃ کے لئے اٹھ کھڑے ہو''۔
اس حکم میں صلاۃ کے وقت کی کوئی تحدید نہیں ہے اس وجہ سے اگر وہ طلوع یا غروب کا وقت ہو پھر بھی اسی وقت میں اس کو پڑھیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسری صلاۃ کو اس کے وقت سے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے مگر کسوف کی صلاۃ کو نہیں کیا جاسکتا۔
دوسرے رکوع کے لئے اٹھتے وقت سورہئ فاتحہ کی تلاوت:
صلاۃ کسوف میں ایک رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں اور وہ بھی قیام کی طرح طویل ہوتے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اور تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد سورہئ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں؟
اس سلسلے میں راجح بات یہ ہے کہ اس میں سورہئ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اس لئے کہ یہ نئی رکعت نہیں ہے بلکہ اسی رکعت کا تسلسل ہے۔


ماہرین فلکیات کی خبر پر اعتبار کرکے صلاۃ کسوف پڑھنا:
موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ برسوں پہلے سورج اور چاند گرہن کے بارے میں پیشیں گوئی کردی جائے۔ چنانچہ سورج یا چاند گرہن سے بہت پہلے اس کے بارے میں اطلاعات اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی علاقہ میں معمولی سے گرہن کی اطلاع ہو ا ور سورج یا چاند گرہن بدلی کی وجہ سے نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں صرف ماہرین فلکیات کی خبرکا اعتبار کرتے ہوئے گرہن کی صلاۃ پڑھی جائے گی یا نہیں؟
علماء کرام کی رائیں اس سلسلے میں اگرچہ مختلف ہیں مگر صحیح بات یہ ہے کہ ان کی خبر پر اعتبار کرتے ہوئے ہم صلاۃ کسوف ادا کریںگے۔ اس لئے کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سورج و چاند گرہن کی خبر غلط نہیں ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم بدلی کے چھٹنے کا انتظار کریںگے تو ہوسکتا ہے کہ وقت ہی نکل جائے اور ہم صلاۃ کے وقت کے نکل جانے کی وجہ سے صلاۃ کسوف نہ پڑھ سکیں۔         (دیکھیں زاد لممتع (٥/١٩٠)
البتہ جن علاقوں میں سورج گرہن نہ لگا ہو وہاں کے لوگ دوسرے علاقوں کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے یہاں گرہن کی صلاۃ نہیں پڑھیںگے۔


کیا پیشگی گرہن کی خبر دینا علم غیب ہے؟
چونکہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو ایک نظام کے تابع کیا ہے اسی نظام کی بنیاد پر ہی یہ اندازہ لگایاجاتا ہے کہ کب سورج یا چاند گرہن لگے گا۔لہذا اس کو غیب کا علم نہیں کہا جائے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے بہت سارے لوگ ایک میدان میںہو ںاور ایک شخص کسی اونچی عمارت پر کھڑا ہووہ ان لوگوں کو بتائے کہ فلاں شخص آرہا ہے میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ چوںکہ وہ اونچائی پر ہے اس وجہ سے اس کے لیے دیکھنے کا امکان زیادہ ہوگا۔جس طرح اوچائی پر کھڑا شخص نیچے موجود لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں عالم الغیب ہوں اسی طرح سائنسی آلات کی مدد سے سیاروں کی نقل وحرکت کا اندازہ لگا کر سورج یا چاند گرہن کی خبر دینے والے کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ عالم الغیب ہے۔


صلاۃ کسوف میں عورتوں کی شمولیت:
ہمارے یہاں بر صغیر ہندو پاک میں عورتوں کے تعلق سے افراط و تفریط عام ہے۔ ایک طرف بازاروں اور کالجوں میں اختلاط مردو زن کے ساتھ بے پردہ گھومنے کی آزادی ہے دوسری طرف شریعت نے انہیں جو آزادی فراہم کر رکھی ہے اس سے بھی انہیں محروم کردیا جاتا ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ طبقہ بھی جومخلوط تعلیم گاہوں میں اپنی بیٹیوں کو بڑے فخر سے بھیجتا ہے اپنی بہو بیٹیوں کومساجد میں صلاۃ ادا کرنے کے لئے بھیجنے میں تردد محسوس کرتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں پنج وقتہ صلوات کے علاوہ نفلی صلوات میں بھی باجماعت حاضر ہوا کرتی تھیں۔
''سیدہ اسماء رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ سورج گرہن کی صلاۃ میں آپ ؐنے اتنا لمبا قیام کیا کہ مجھے (عورتوں کی صف میں کھڑے کھڑے) کمزوری محسوس ہوئی۔ میں نے برابر میں اپنی مشک سے پانی لے کر سر پر ڈالنا شروع کردیا (پھر دوبارہ صلاۃ میں شامل ہوگئی)''
(صحیح مسلم الکسوف باب ماعرض علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی صلاۃ الکسوف رقم ٩٠٤)
اس حدیث سے جہاں عورتوں کے صلاۃ کسوف میں شامل ہونے کا پتہ چلتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم صلاۃ الکسوف بہت طویل پڑھایا کرتے تھے۔


صلاۃ کسوف کے لئے اذان اور اقامت:
صلاۃ کسوف کے لئے اذان اور اقامت نہیں دی جائے گی، البتہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے آواز لگائی جاسکتی ہے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپ نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا:
''إن الصلاۃ جامعۃ''
''صلاۃ کے لئے جمع ہوجاؤ۔''
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب النداء ب ''الصلاۃ جامعۃ'' فی الکسوف رقم ٩٩٨، صحیح مسلم کتاب الکسوف باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف۔ ٩١٠)
موجودہ زمانہ میں چونکہ سورج اور چاند گرہن کی اطلاع عام طور پر پہلے مل جایا کرتی ہے اس وجہ سے پمفلٹ ، اخبار اور دوسرے ذرائع سے بھی وقت اور جگہ کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔


صلاۃ کسوف مسجد یا کھلے میدان میں:
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام کے آثار سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ صلاۃ کسوف یا خسوف کے لئے آپ ؐ آبادی کے باہر نکلے ہوں جس طرح آپ صلاۃ استسقاء یا عیدین کے لئے نکلا کرتے تھے۔ لہٰذا گرہن کی صلاۃمسجد ہی میں پڑھی جائے گی۔ البتہ جو لوگ مسجد نہ آسکتے ہوں ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ گھر میں صلاۃ کسوف پڑھ لیں۔


صلاۃ کسوف فرض یا سنت؟
اس سلسلہ میں علماء کے مابین اختلاف ہے صلاۃ کسوف فرض ہے یا سنت، مگر راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے اس لئے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ خصوصی طور پر آپ نے اس کے لئے جماعت کا اہتمام فرمایا ہے۔ جہاں تک رہی بات کہ فرض صلوات صرف پانچ ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ دن و رات میں کل پانچ وقت کی صلاۃ فرض ہے۔ مگر وہ صلوات جو کسی سبب کی وجہ سے فرض ہوں تو اس سے اور اس حدیث میں کوئی تعارض نہیں لازم آتا (تفصیل کے لئے دیکھیں: الشرح الممتع ٥/٢)


صلاۃ کسوف میں تلاوت:
صلاۃ کسوف و خسوف میں تلاوت بلند آواز سے ہوگی چاہے دن کا وقت ہو یا رات کا، عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے:
جہر النبی فی صلاۃ الکسوف بقراء تہ۔
(صحیح بخاری ١٠١٦، صحیح مسلم ٩٠١ (٥)
''رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صلاۃ کسوف میں بلند آواز سے تلاوت کی''۔
تلاوت کے لئے کوئی سورت مخصوص نہیں ہے، خاص بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ سورۃ طویل ہو۔


رکوع میں کیا پڑھیں گے؟:
صلاۃ کسوف کے طویل رکوع میں وہی دعائیں پڑھی جائیںگی جو رکوع میں پڑھی جاتی ہیں۔ رکوع میں پڑھی جانے والی دعائیں یہ ہیں: ''سبحان ربی العظیم''، ''سبحانک اللہم بحمدک اللہم اغفرلی''، ''سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم'' ان میں سے سبھی دعائیں یا ان میں سے کوئی ایک تکرار کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اما الرکوع فعظموا فیہ الرب
''رکوع میں رب کی تعظیم بیان کرو''۔
(مسلم کتاب الصلاۃ باب النہی عن قراء ۃ القرآن فی الرکوع والسجدۃ) (٤٧٩)(٢٠٧)


صلاۃ کسوف کی قضا:
اگر کسی وجہ سے گرہن کا علم نہیں ہوسکا اور گرہن ختم ہونے کے بعد اس کا علم ہوا تو پھر ایسی صورت میں اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اس لئے کہ جس وجہ سے یہ صلاۃ مشروع ہوئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔
فرض صلاۃ کے وقت اگر صلاۃ کسوف کا وقت آجائے:
اگر ایسی نوبت آئے تو دو صورتیں ہیں ایک کہ فرض صلاۃ کا وقت تنگ ہے مثلاً مغرب اور عصر کا وقت ایسی صورت میں صلاۃ کسوف کو مختصر کرکے فرض صلاۃ ادا کریںگے۔ اور اگر عشاء کی طرح کوئی ایسی صلاۃ ہے جس میں کافی وقت ہوتا ہے تو اس میں صلاۃ کسوف پڑھ کر فرض صلاۃ پڑھیںگے۔
(دیکھیں:الشرح الممتع علی زاد المستقنع ٥/١٩٠)


خاتمہ:
یہ ہے گرہن کے موقع پر اسلامی احکام اور اس موقع پر آپ ؐ اور صحابہئ کرام کا عمل۔ آپ ؐ اس موقع پر نہایت خوفزدہ ہوجایا کرتے تھے۔ () مگر قرآن و حدیث اور آثار صحابہ سے قطعاً یہ ثبوت نہیں ملتا کہ عورتیں اور خاص طور پر حاملہ عورتیں اس دن کوئی خصوصی احتیاط برتیں گی۔ اگر یہ احتیاط طبی نقطہئ نظر سے ہو، تب بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ ماہرین نے سرے سے اس قسم کے خطرات سے انکار کیا ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے وہ یہ کہ سورج گرہن کے وقت چونکہ سورج کی شعائیں بالکل سیدھی پڑتی ہیں اس وجہ سے کھلی آنکھوں سے دیکھنے میں آنکھوں کی بینائی جانے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی اور طبی نقطہئ نظر سے سورج گرہن کا نہ تو رحم مادر میں پل رہے بچے پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ اس قسم کا کوئی دوسرا نقصان ہوتا ہے۔ جو لوگ ذاتی تجربہ کی باتیں کرتے ہیں وہ در اصل ان کا وہم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملہ میں صحیح اسلام کی پیروی کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔


حواشی:
١۔کسوف کا لفظ سورج گرہن کے لئے اور خسوف کا لفظ چاند گرہن کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر عموماً کسوف کا لفظ چاند اور سورج گرہن دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔٭٭٭


Tuesday, August 25, 2009

روزے کی حالت میں کھانا وغیرہ چکھنا

0 comments

روزے کی حالت میں جب کھانا چکھنے کی ضرورت پیش آئے تواس میں کوئي حرج والی بات نہيں ، جب تک روزہ دار کے پیٹ میں کچھ داخل نہ ہو روزہ کو کچھ نہيں ہوتا ، اس میں قھوہ وغیرہ چکھنا سب برابر ہيں ۔
لیکن اگر بغیر کسی ضرورت کے کوئي چيز چکھی جائے تو ایسا کرنا مکروہ تو ہے لیکن اس سے بھی روزہ باطل نہیں ہوتا ۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس سے تعلیقا روایت کی ہے کہ :
ہنڈیا یا کوئي چيز چکھنے میں کوئي حرج نہیں ۔
اورامام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
میں کھانا چکھنے سے اجتناب پسند کرتا ہوں ، لیکن اگر چکھ لیا جائے توکوئي نقصان نہیں اوراس میں کوئي حرج والی بات نہیں ہے ۔ ا ھـ
دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 4 / 359 ) ۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
بغیر کسی ضرورت کے کھانا چکھنا مکروہ ہے ، لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ مجموع الفتاوی الکبری ( 4 / 474 ) ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :
کیا کھانا چکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
توشيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
جب اسے نگلا نہ جائے توکھانا چکھنے سے روزہ نہيں ٹوٹتا ، لیکن بغیر کسی ضرورت کے ایسا نہیں کرنا چاہیے ، اور اس حالت میں اگرآپ کے پیٹ میں بغیر کسی قصد اورارادہ کے کوئي چيز داخل ہوجائے توروزہ باطل نہيں ہوگا ۔ ا ھـ
دیکھیں فتاوی الصیام صفحہ نمبر ( 356 ) ۔
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :
انسان کے لیے روزہ کی حالت میں بوقت ضرورت کھانا چکھنے میں کوئي حرج نہیں ، اگراس میں سے کوئي چيز عمدا نہ نگلی جائے تو روزہ صحیح ہو گا ۔ ا ھـ
دیکھیں : الفتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 332 ) ۔
منہ میں صرف ذائقہ یا پھر خوشبو رہنے سے روزہ پر کچھ اثر نہيں ہوتا ، جب تک کہ کوئي چيزجان بوجھ کر نگلی نہ جائے ۔
ابن سیرین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کےلیے تازہ مسواک کرنے میں کوئي حرج نہیں ، انہيں کہا گيا کہ تازہ مسواک کا تو ذائقہ ہوتا ہے ، وہ کہنے لگے : اورپانی کا بھی تو ذائقہ ہوتا ہے لیکن آپ اس کی کلی کرلیتے ہیں ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی الشرح الممتع میں کہتے ہیں :
کھانا مثلا کھجور ، روٹی ، اورشوربہ وغیرہ چکھنا مکروہ ہے ، لیکن بوقت ضرورت چکھنے میں کوئي حرج نہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ : ہوسکتا ہےکہ اس کھانے سے کوئي چيز بغیر کسی شعور کے پیٹ میں داخل ہوجائے ، اس لیے کھانا چکھنے میں روزے کو فاسد ہونے کے خدشہ کے پیش نظر بغیر ضرورت کے کچھ نہيں چکھنا چاہیے ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھانے کی اشتہاء زيادہ ہونے پر لذت حاصل کرنے کےلیے چکھے ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ قوت سے چوسے تو کچھ نہ کچھ اس کے پیٹ میں داخل ہوجائے ۔
اورضرورت اورحاجت سے مراد یہ ہے کہ : کھانا تیار کرنے والے نمک یا پھر اس کی مٹھاس وغیرہ دیکھنے کا محتاج ہو ۔ ا ھـ
دیکھیں : الشرح الممتع لابن ‏عثيمین ( 3 / 261 ) ۔
اس بنا پر ہم کہيں گے کہ : آپ روزہ کی حالت میں قھوہ چکھ سکتےہیں اس لیے کہ آپ کو اس کی ضرورت ہے ، لیکن آپ یہ احتیاط کریں کہ اس میں سے کوئي چيز حلق میں نہ داخل ہوجائے ۔
واللہ اعلم .
بشکریہ:
 الاسلام سوال وجواب

Wednesday, August 12, 2009

افطار میں جلدی کرنا

0 comments

صوم رکھنے والا اللہ کے حکم کی وجہ سے دن بھر کھانے پینے سے رکا رہتا ہے لہٰذا یہ طبعی امر ہے کہ اس کو افطار کے وقت کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ اسلام چونکہ اپنے ماننے والوں کو بے جا پریشانی میں ڈالنے کا قائل نہیں اس وجہ سے اس نے صوم رکھنے والوں کو سورج غروب ہوتے ہی افطار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے افطار میں جلدی کرنے پر دنیا و آخرت کی بھلائی کی ضمانت دی ہے۔آپ کا ارشاد ہے:
''لایزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر''
''لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔''
تخریج:
صحیح بخاری کتاب الصوم باب تعجیل الإفطار رقم: ١٨٥٦،صحیح مسلم کتاب الصوم باب فضل السحور و تأکید استحبابہ واستحباب تأخیرہ و تعجیل الفطر رقم: ١٠٩٨ میں نیز مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ما جاء فی تعجیل الفطر رقم: ٦٣٤ اور سنن الترمذی رقم: ٦٩٥ فی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار میں اس حدیث کی تخریج کی گئی ہے۔
افطار میں جلدی کرنے سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لایزال الدین ظاہراً ما عجل الناس الفطر لأن الیہود والنصاریٰ یؤخرون
(سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب فی تعجیل الفطر رقم: ٢٣٥٣،صحیح الجامع رقم:٧٦٨٩،مستدرک حاکم رقم:١٥٧٣فی کتاب الصوم)
''اس وقت تک دین غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، اس لئے کہ یہود و نصاریٰ افطار دیر سے کرتے ہیں۔''
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تنزلی و پسپائی سے ہر کوئی واقف ہے، ایسے موقع پر ہمیں قرآنی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ان اسباب کو تلاش کرنا چاہئے جو اس پسپائی کے لئے بیان کئے گئے ہیں انھیں اسباب میں سے ایک اہم سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم افطار کرنے میں تاخیر کو قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ چونکہ یہودونصاریٰ افطارمیں تاخیر کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی مخالفت کرتے ہوئے افطار کرنے میں جلدی کرو۔ گویا کہ یہود و نصاریٰ سے الگ شناخت بنانا ایک مسلمان کی امتیازی شان اور دنیا وا ۤخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
افطار میں جلدی کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا شیوہ تھا:
ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور ابو مسروق عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ہم نے عرض کیا: اے ام المومنین! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک شخص افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا افطار اور صلاۃ میں تاخیر کرتا ہے (ان دونوں میںبہتر کون ہے) تو آپ نے پوچھا، کون افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے کہا: عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل السحور، سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر، سنن الترمذی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار)
افطار کا وقت:
سورج غروب ہوتے ہی افطارکا وقت شروع ہوجاتا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
إذا أقبل اللیل ھھنا و أدبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم (صحیح البخاری کتاب الصوم باب الصوم فی السفر و الإفطار، صحیح مسلم کتاب الصوم باب بیان انقضاء الصوم و خروج النھار)
''جب رات یہاں(مشرق میں) آجائے اور دن یہاں سے (مغرب میں) چلا جائے اور
سورج غروب ہوجائے تو صوم افطار کرنے کا وقت آچکا ہے۔''
معلوم ہوا کہ افطار کے وقت میں اصل سورج کا غروب ہو نا ہے نہ کہ مغرب کی اذان، اس لئے اگر وقت ہو گیا ہو اور اذان نہ بھی ہوئی ہو تو افطارکیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
احتیاط کے نام پر افطار میں تاخیر کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جب سورج غروب ہوجائے تو افطار کرلیا جائے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے مگر افسوس کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی مخالفت کی جرأت کرتے ہوئے باقاعدہ اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ افطارمیں کم از دو منٹ کی تاخیر کرلی جائے ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مستحق تو نہیں ہو رہے ہیں:
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔(النور:٦٣)
''(نبی کریم ؐ) کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی فتنہ میں نہ پڑ جائیں یا انہیں دردناک عذاب نہ دبوچ لے۔''
موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے سورج کے طلوع وغروب کے وقت کے بارے میں یقینی طور پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں احتیاط کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی خلاف ورزی کرنا اور افطارمیں جلدی کرنے کے ثواب سے محروم رہنا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ دین کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے بڑھ کر احتیاط برتنے والا کون ہو سکتا ہے؟ لیکن آپ اور آپ کے اصحاب احتیاط کے نام پر کبھی تاخیر نہیں کرتے تھے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ لا علمی میں حدیث رسول کی مخالفت کرتا ہے اور ساتھ ہی سنت کے مطابق افطار میں جلدی کرنے والوں پر لعن طعن کرکے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے بعض لوگوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کا صوم توڑنے کی سازش کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی محبت پیوست کر دے۔ آمین۔

٭٭

Saturday, August 8, 2009

یزید نام رکھنا (2

0 comments
(دوسری اور آخری قسط)
قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ ٥٠ھ ھجری میں بسر بن ارطاۃ کی قیادت میں ہوا۔ یہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں پر جب سخت حالات پڑے تو مدد کے لئے معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید رحمہ اﷲ کی قیادت میں کمک بھیجی۔ اس موقع پر یزید کی قیادت میں ابو ایوب انصاری، ابن عباس اور ابن عمر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
اس حدیث سے جہاں یزید کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ روم پر لشکر کشی کرنے والے پہلے لشکر کی قیادت کر رہے تھے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک اور صالح انسان تھے اس لئے کہ اگر وہ اس کیرکٹر کے ہوتے جو بعض لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں تو ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی ان کی قیادت میں ہرگز جہاد کرنے پر راضی نہ ہوتے۔
اس موقع پر ایک اوربات قابل غور ہے، وہ یہ کہ امیر معاویہ نے لشکر کی قیادت پہلے پہل یزید کے ہاتھ میں نہ دی۔ اگر انہیں واقعی یزید کو آگے بڑھانا ہوتا تو وہ ضرور ایسا کرتے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس غزوہ کی شہرت حدیث رسول کی وجہ سے مشہور و معروف تھی ہر کوئی یہ خواہش کرتا تھا کہ اس جنگ میں شریک ہوکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت کا حق دار ہوجائے۔
کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیںکہ ''قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کے لئے نبی ؐ کی بشارت کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جن کے اندر مغفرت کی اہلیت ہے۔ چونکہ یزید کافر ومرتد ہو کر مرا تھا اس وجہ سے وہ اس بشارت کا حقدار نہیں''۔
جہاں تک یزید کے کافر و مرتد ہونے کی بات ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ نواسہئ رسول حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قتل یزید نے خود کرایا تب بھی یزید کو کافر یا مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لئے کہ نبی کے علاوہ کسی کے قتل پر کسی کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ واقعی کافر ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا یہ قول خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم ٥٧٥٢) لہٰذا بغیر سوچے سمجھے صرف سنی سنائی باتوں میں آکر کسی کو کافر کہنے سے بچنا چاہئے۔
جہاں تک رہی یزید کو اس بشارت سے الگ کرنے کی بات تو حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت یا گروہ کے بارے میں مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل اللہ کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی جا رہی ہے کہ اس شخص یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی۔ جن صحابہئ کرام کو آپ ؐ نے جنت کی بشارت دی ان کے ساتھ ''ایمان پر موت'' کی شرط نہیں لگائی۔ اسی طرح قسطنطنیہ کے فوجی بیڑے کے بارے میں بھی کوئی شرط نہیں لگائی۔ لہٰذا ہم اپنی طرف سے کوئی شرط کیوں کر لگا سکتے ہیں؟
یزید کی خلافت:
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اپنے آخری ایام میں اس بات کی فکر ہوئی کہ اگر موت سے پہلے خلیفہ کی تعیین نہ کی گئی تو امت ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار ہوجائے گی۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حسین بن علی، ابن زبیر، ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ عنہم کے علاوہ کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ان لوگوں کا اعتراض یزید پر نہیں تھا بلکہ اس تجویز پر اعتراض تھا کہ خلیفہ باپ کے بعد بیٹا بنے۔ تفصیل کے لئے (دیکھیں: تاریخ الإسلام للإمام الذہبی ٣/١٨٦، تاریخ طبری ٥/٣٠٣، تاریخ الخلفاء ص ٢١٣)
تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ یزید کو خلیفہ بنانے پر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لعن طعن کرتے ہیں وہ خود بھی موروثیت کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ وراثتاً بارہ امام تک کی بات کرتے ہیں۔ آخر یہ نا انصافی امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے صاحبزادے یزید رحمہ اﷲکے ساتھ ہی کیوں؟
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ صحابیِ رسول تھے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی تربیت ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا خود رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تربیت کے بارے میں شک کرنا ہے۔ خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے یزید کی خلافت کے بارے میں یہ کلمات ہیں:
أللہم إن کنت إنما عہدت لیزید لما رأیت بن فضلہ، فبلغہ ما أمکث وأعنہ، وإن کانت إنما حملنی حب الوالد لولدہ، وأنہ لیس لما صنعت بہ أہلا فأقبضہ قبل أن یبلغ ذلک۔ (تاریخ الإسلام للذہبی۔ عہد معاویۃ بن أبی سفیان ص ١٦٩)
''اے اﷲ اگر میں نے یزید کو ولی عہد اس کے فضل کی وجہ سے بنایا ہو تو اس کو میری امیدوں کو علمی جامہ پہنانے والا بنا اور اس کام میں تو اس کی مدد کر، اور اگر مجھے اس نام پر ابھارنے والی چیز ایک باپ کے اندر بیٹے کی محبت ہے تو اس کومقصد تک پہنچنے سے پہلے اٹھالے''۔
ابن خلدون کہتے ہیں:
''امیر معاویہ نے یزید کو ولی عہد اختلاف سے بچنے کے لئے بنایا اس لئے کہ بنو امیہ اپنے علاوہ کسی اور کو حاکم ماننے پر راضی نہ ہوتے۔ اگر آپ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلیفہ بناتے تو وہ لوگ اختلاف کرتے''۔ (مقدمہ ابن خلدون٢٠٦)
ابن العربی العواصم من القواصم میں صحابہ کرام میں سے ایک جلیل القدر صحابی کا قول نقل کرتے ہیں:
وہ کہتے ہیں:
''ہم ایک صحابی کے پاس جب یزید بن معاویہ خلیفہ بنا دئے گئے تو گئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یزید امت محمدیہ کا بہترین شخص نہیں نہ ا ن میں سب سے زیادہ فقہ کا علم رکھنے والا نہ شرف کے لحاظ سے ان میں زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں مگر اﷲ کی قسم امت محمدیہ متحد ہو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ افتراق کا شکار ہو۔ '' (العواصم من القواصم ص:٢٣١)
یزید کے بارے میں معتدل رائے:
یزید کے بارے میں امت میں عام طور پر غلو سے کام لیا جاتا ہے، مخالفین ان کی مخالفت میں غلو کرتے ہیں، اور مؤیدین ان کی حمایت میں غلو کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اہل سنت والجماعت کی معتدل رائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے پیش کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
''لوگ یزید بن معاویہ کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہو
ـئے ہیں۔ دو غلو کرنے والے ہیں اور ایک معتدل فرقہ ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر اور منافق تھے۔ انہوں نے اﷲ کے رسول کے نواسے کو قتل کرانے کی کوشش کی ان سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے قتلِ حسین کے ذریعہ اپنے دادا عتبہ اور ان کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کا انتقام لیا جن کو صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب وغیرہ نے غزوہئ بدر اور بعد کی جنگوں میں قتل کیا۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ بدری کینہ تھا اور جاہلی انتقام۔ ایسی بات کہنا شیعہ روافض کے لیے آسان ہے اس وجہ سے کہ وہ ابو بکر، عمر اور عثمان جیسے صحابہ کرام کو کافر بتاتے ہیں تو ان کے لئے یزید کو کافر کہنا زیادہ آسان ہے۔
دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہ ایک نیک انسان، عادل امام اور صحابہ کرام میں سے تھے۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اٹھایا اوربرکت کی دعا کی۔ ان میں سے بعض تو یزید بن معاویہ کو ابو بکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں اور بعض تو انہیں نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ غلو پسندوں اور گمراہ کرنے والوں کے اقوال ہیں۔
تیسرا قول یزید کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھے۔ جس طرح ان سے بھلائی کے کام ہوئے اسی طرح سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ ان کی ولادت عثمان غنی کی خلافت میںہوئی۔ وہ کافر نہیں تھے البتہ ان کی وجہ سے حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور جو کچھ اہل حرۃ کے ساتھ کیا گیاوہ نہ تو صحابی تھے نہ ہی ولی تھے۔ یہ عام اہل علم و عقل اور اہل سنت والجماعت کا قول ہے۔'' (دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٤٨٢-٤٨١/٤)
ابن صلاح سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا حکم دینے والا اور قتل کی طرف پیش قدمی کرنے والا عبید اﷲ بن زیاد تھا جو کہ اس وقت عراق کا گورنر تھا۔ حدیث میں ہے کہ مومن پر لعنت بھیجنا اس سے جنگ کرنا ہے۔ (فتح الباری ١٠/٤٧٩) حسین رضی اﷲ کا قاتل اس قتل سے کافر نہیں ہوگیا۔ بلکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ہاں، اگر کوئی کسی نبی کو قتل کرے تو وہ کافر ہوگا۔ (قید الشرید ص٥٩-٦٠)
جہاں تک یزید پر لعنت بھیجنے کی بات ہے تو شریعت میں جب کسی جاندار پر لعنت بھیجنے سے منع کیا گیا ہے تو کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
یزید کے بارے میں محمد بن الحنفیہ کی شہادت کافی ہے۔ یہ اہل بیت میں سے ہیں اس لئے ان کی شہادت کا دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ اعتبار ہوگا۔
ابن کثیر روایت کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مطیع جو کہ عبداﷲ بن زبیر کے داعی تھے وہ اور ان کے اصحاب مدینہ سے محمد بن الحنفیہ کے پاس گئے ۔انہوں نے محمد بن الحنفیہ کو یزید سے جدا کرنا چاہا۔ محمد بن الحنفیہ نے انکار کردیا۔ ابن مطیع نے کہا: یزید تو شراب پیتا ہے، صلاۃ چھوڑتا ہے، کتاب اﷲ کے حکم کی خلافت ورزی کرتا ہے۔ محمد بن الحنفیہ نے کہا: میں نے ان کے اندروہ باتیں نہیں دیکھیں جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ میں ان کے پاس گیا ان کے یہاں قیام کیا میں نے انہیں صلاۃ کی پابندی کرتے دیکھا۔ بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ فقہ کے بارے میں دریافت کرتے، سنت کا التزام کرتے دیکھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب وہ دکھاوے کے لئے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخر وہ کیوں مجھ سے ڈرنے لگے یا مجھ سے کس چیز کی امید کرنے لگے کہ میرے لئے خشوع و خضوع کی نمائش کرنے لگے؟ تم لوگ جو یزید پر شراب نوشی کے بارے میں کہہ رہے ہو اس کے بارے میں بتاتاہوں۔ اگر تم لوگوں نے ان کو شراب پیتے دیکھا تو تم ان کے شریک ہوئے۔ اگر تم لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا تو تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا کہ تم کوجس چیز کا علم نہیں اس کے بارے میں خبردو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ ہمارے یہاں حق ہے اگرچہ ہم نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے گواہی دینے والے کے لئے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تمہارے معاملہ میں مجھے مداخلت نہیں کرنی ہے۔
(البدایۃوالنہایۃ ٨/٢٣٣تاریخ الاسلام حوادث ٨٠-٦١ص٢٧٤محمد الشیبانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیں مواقف المعارضۃ من خلافۃ یزید بن معاویہ ص ٣٨٤)
یزید بن معاویہ کے بارے میں من گھڑت روایت:
احادیث گھڑنے والوں نے عبادات و معاملات کے بارے میں احادیث گھڑنے کے علاوہ تاریخی واقعات کے بارے میں اپنی طرف سے جھوٹی احادیث گھڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردی ہیں۔ ابو حنیفہ اور امام شافعی کی فضیلت اور مذمت میں حدیث گھڑنے والوں نے جو حدیثیں گھڑی ہیں وہ مشہور و معروف ہیں۔
انہی گھڑی ہوئی حدیثوں میں سے ایک حدیث یہ ہے:
عن أبی عبیدۃ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لایزال امر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔ (البدایۃ والنہایۃ ٨/٢٥٣)
''ہماری امت کا معاملہ انصاف پر قائم رہے گا یہاں تک کہ بنی امیہ کا ایک آدمی اس کا ایک حصہ ڈھا دے گا اس کا نام یزید ہوگا۔ ''
پھرابن کثیر نے ابن عساکر کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت مکحول اور ابوثعلبہ کے درمیان منقطع ہے۔
یہ روایت عقل کے لحاظ سے بھی موضوع و من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ مذکورہ روایت ابو عبیدہ بن جراح (پیدائش ٢٨ھ) کے علاوہ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یزید دس سال کے تھے۔ اس عمر تک ان کے ساتھ رہے علمی استفادہ بھی کیا۔ سوال یہ ہے کہ ابو درداء نے معاویہ سے کہہ کر یزید کا نام کیوں نہیں بدلوا دیا اور اس حدیث کی بنیاد پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ اس لڑکے کو خلافت مت سونپنا کیوں کہ یہ معتوب ہے؟
یزید کے تعلقات اہل بیت سے:
اہل بیت سے یزید کے تعلقات حسین رضی اﷲ عنہ کے خروج کے بعد بھی اچھے رہے۔ ان کے تعلقات علی بن حسین، عبد اﷲ بن عباس اور محمد بن حنفیہ سے آخر تک اچھے رہے، جہاں تک عبد اﷲ بن جعفر کی بات ہے تو ان کے یزید سے دوستانہ مراسم تھے۔ یزید ان کی کسی فرمائش کو رد نہیں کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن جعفر کہا کرتے تھے: کیا تم مجھے یزید کے بارے میں اچھی رائے رکھنے پر برا بھلا کہتے ہو؟ (قید الشرید فی أخبار یزید ص ٣٥)
کیا یزید ظالم تھے؟
عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یزید ایک ظالم بادشاہ تھا حسین رضی اللہ عنہ نے رعایا کو یزید کے ظلم و جور سے نجات دلانے کے لئے ان کے خلاف جنگ کی۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کے خروج اور یزید کی تخت نشینی کے درمیان کے چھ ماہ کے عرصہ میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی ہے کہ پورے عالم اسلام میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ اللہ کی مخلوق تلملا اٹھی تھی۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے صوبوں میں خلیفہ کی جانشینی کے جواز اور عدم جواز پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ صرف کوفی سبائی شرارت پر تلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ کیا جا رہا تھا۔
اگر واقعی حسین رضی اللہ عنہ رعایا کو یزید کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اٹھے ہوتے تو وہ ملت اسلامیہ میں اعلان کرکے ایک بڑے لشکر کے ساتھ اٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے۔ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی بات ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے:
''وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ'' (البقرۃ: ١٩٥)
''اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو''
دشمن کے مقابلہ کے لئے ہتھیار تیار کرنے کو کہا گیا ہے:
''وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃِ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ'' (انفال:٦٠)
''(دشمن) کے مقابلہ کے لئے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلات جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو''
کیا حسین رضی اللہ عنہ اتنے ناعاقبت اندیش تھے کہ ان کو نتیجہ کا علم نہیں تھا؟ کہ اس سے ظالم کا ظلم اور بڑھ جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ ظالم سے رعایا کو نجات دلانے کی ذمہ داری صرف حسین رضی اللہ عنہ پر ہی نہ تھی دوسرے لوگ بھی اس کے مکلف تھے؟ آخر وہ کیوں نہیں سامنے آئے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ آپ کوفیوں کی سازش کا شکار ہو گئے تھے جنہوں نے آپ کو خطوط لکھ کر خلافت کے لئے دعوت دی اور جب حسین رضی اللہ عنہ نے حقیقتِ حال جاننے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا تو انہیں دھوکہ سے قتل کرا دیا۔ ابتداء میں آپ کوفیوں کی دعوت پر گھر سے نکلے تھے مگر جب راستے میں مسلم کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اہل خاندان کے دباؤ میں خون کا بدلہ لینے کے لئے نکلے۔ اس کے بعد جو کچھ بھی پیش آیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
جس طرح ہندؤں کے یہاں مہابھارت کو حق و باطل کی لڑائی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر ان قصوں پر یقین کیا جائے تو یہ سراسر سیاسی نوعیت کی جنگ تھی۔ وہی حال واقعہ کربلا کا بھی ہے۔ یہ جنگ بھی سیاسی نوعیت کی تھی۔
جہاں تک رہی بات کربلا کے موقع پر اہل بیت پر ہوئے مظالم کی داستانوں کی تو ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ آخر ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ صرف مسلم بن عقیل کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور اہل بیت اٹھ کھڑے ہوئے مگر کربلا میں اہل بیت کو پیاسا رکھا گیا پیاسے بچوں کے حلق پر تیر برسائے گئے، مقتولین کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا۔ سروں کو نیزہ پر اٹھا کر بازاروں میں گھمایا گیا۔ اہل بیت کی عورتوں کی چادریں چھین کر نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا۔ اس پر صحابہ کرام خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چھ مہینہ بعد علی بن حسین زین العابدین مدینہ گئے۔ لازما انہوں نے اہل بیت کے ساتھ ہوئے ان مظالم کی داستان بیان کی ہوگی مگر اس پر اہل مدینہ خصوصاً ہاشمی گھرانے کے افراد خاموش رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
صحابہئ کرام کا عمل یہ بتاتا ہے کی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ان کے یہاں یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔
نام رکھنے کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت:
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سب سے زیادہ عبد اﷲ اور عبد الرحمان کے نام کو پسند کرتے تھے۔ (دیکھیں سنن ابی داؤد ٤/٢٨٧ رقم ٤٩،٤٩ حدیث صحیح ہے) در اصل عبد اﷲ میں اﷲ کے ذاتی نام کی طرف بندہ منسوب ہوتا ہے اور عبد الرحمان میں بندہ اﷲ کے صفاتی نام رحمان کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لہٰذا عبد کی اضافت اﷲ کے ذاتی یا صفاتی نام کی طرف کی جائے، کسی اور کی طرف نہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرا نام رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) مت رکھو۔ (سنن أبی داؤد ٤/٢٩١ رقم ٤٩٦٥)حدیث صحیح ہے علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
اﷲ کے رسول نے چند ناموں سے منع بھی فرمایا ہے چنانچہ افلح اور یسار جیسے نام رکھنے سے منع فرمایا اسکی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس سے لوگ خواہ مخواہ تشویش میں مبتلا ہوںگے (دیکھیں سنن أبی داؤد ٤/٢٩٠، رقم ٤٩٥٨)
آپ کا یہ بھی طریقہ تھا کہ کسی کا غلط نام دیکھتے تو اس کو بدل کر بہتر نام رکھ دیتے۔
نام رکھنے میں چند چیزوں کی رعایت ہونی چاہئے:
(١) نام سے شرک کی بو نہ آئے۔
(٢) تکبر کا اظہار نہ ہو۔
(٣) صاحب نام کی تذلیل نہ ہوتی ہو۔
مذکورہ بالا چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور علماء کرام کے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وہ حدیث جس میں انبیاء کرام کے نام پر نام رکھنے کی بات کہی گئی ہے اگرچہ ضعیف ہے مگر چونکہ رسول اکرم ؐنے خود اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اس سے دیگر انبیاء کے نام پر نام رکھنے کی اجازت کی بات سمجھ میں آتی ہے۔
صحابہئ کرام کے نام پر نام رکھنا ان سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔ جس پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابھارا ہے (من أحبہم فبحبی أحبہم)
ہم گذشتہ سطور میں بیان کرچکے ہیں کہ صحابہئ کرام میں یزید نام رکھنے والے صحابہ کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ان کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کا نام اگر یزید رکھتے ہیں تو غلط بات نہ ہوگی۔ جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد کے لوگوں نے بغیر کسی جھجک کے اس نام کو رکھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کردیا جائے۔ صحابہئ کرام کے بعد تابعین میں سے ایک شخص کے یزید نام ہونے کی وجہ سے جس کے اوپر حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کرانے کا الزام ہے، یہ نام ہمیشہ کے لئے مکروہ یا ناجائز نہیں ہوگیا۔ اگر یہ بات صحیح بھی ہوجائے کہ یزید رحمہ اﷲنے حسین رضی اﷲ عنہ کا قتل کرایا ہے تب بھی ہم اس کی وجہ سے اس نام کے رکھنے کو مکروہ نہیں قرار دے سکتے۔
خاتمہ:
اس پورے مضمون کا مقصد اس باطل خیال کی تردید کرنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد امت نے متفقہ طور پر اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ ضمنی ہیں۔ یزید بن معاویہ کے بارے میں مخالفین و مؤیدین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں بے جا الزام تراشی سے بچائے۔ آمین۔ ٭٭٭

Wednesday, July 29, 2009

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

0 comments

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں چار امور پر بحث کرنی ہوگی:

١۔ دعا کے لیے مطلق طور پر ہاتھ اٹھانا۔

٢۔ بغیر کسی وقت کی تعیین کے کسی خاص موقع پرامام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھاکر اجتماعی طور پر دعا کرنا جس میں امام کی دعا پر مقتدی آمین کہیں۔

٣۔ فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ اٹھائے انفرادی طور پر دعا کرنا۔

٤۔ فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی طور پر دعا کرنا جس میں مقتدی امام کی دعا پر آمین کہیں۔

اول الذکر تین امور پر بحث کئے بغیر فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت کی وضاحت مشکل ہے، اس لیے مختصر طور پر ان کی وضاحت کی جارہی ہے۔

دعا کے لیے مطلق طور پر ہاتھ اٹھانا:

دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ سے کوئی دعا کی فرمائش کرتا یا کسی موقع پر آپ دعا کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے سلسلے میں بے شمار احادیث وارد ہیں۔ ان کی کثرت کودیکھتے ہوئے محدثین نے اسے حدیث متواتر میں شمار کیا ہے، لہٰذا دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا باعث ثواب ہے، یہی نہیں بلکہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے سے قبولیت کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں، چنانچہ سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے:

إن ربکم حیی کریم یستحیٖ من عبدہ إذا رفع یدیہ إلیہ أن یردہما صفرا۔(١)

''تمھارا رب زندہ اور کریم ہے بندہ جب اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اللہ کو شرم آتی ہے۔''

طبرانی الکبیر کی روایت میں ہے:

ما رفع قوم أکفہم إلی اللہ عزوجل، یسألونہ شیأا إلا کان حقا علی اللہ أن یضع فی أیدیہم الذی یسألون۔ (٢)

''کوئی بھی قوم کچھ مانگنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ہاتھ بلند کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق بن جاتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں وہ چیز رکھ دے جس کے لیے وہ سوال کر رہے ہیں۔''

مذکورہ بالا احادیث بغیر کسی وقت اور جگہ کی تعیین کے ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے کو مستحب قرار دیتی ہےں، لہٰذا ہمیں اسے اپنانا چاہئے۔

جہاں تک انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے کہ آپ ؐ استسقاء کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے (٣) تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کسی اور موقع پر ہاتھ اٹھاتے ہی نہ تھے بلکہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ جس کیفیت کے ساتھ صلاۃ استسقاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے وہ کیفیت کسی اور وقت نہ ہوتی تھی، چنانچہ آپ استسقاء کے وقت ہاتھ اس قدر بلند فرماتے تھے کہ بغل کی سفیدی نظر آجاتی تھی، عام طریقے سے ہٹ کر ہاتھ کی ہتھیلی چہرے کی طرف نہ کرکے ہاتھ کا ظاہری حصہ سامنے کرتے تھے، یہ حالت عام حالتوں میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے وقت نہ ہوتی تھی۔ حدیث انس بن مالک میں اسی کیفیت کا انکار ہے۔(٤)

عام حالات میں امام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا:

استسقاء کی دعا کے وقت صحیح بخاری کی ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام سبھی نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی:

عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: أتی رجل أعرابی من أہل البدو إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ فقال یا رسول اللہ! ہلکت الماشیۃ ہلک العیال ہلک الناس فرفع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدیہ یدعو و رفع الناس أیدیہم معہ یدعون۔ قال: فما خرجنا من المسجد حتی مطرنا۔(٥)

''انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جمعہ کے دن )ایک اعرابی رسول اللہ ؐ کے پاس آیا او رکہا: اے اللہ کے رسول! چوپائے، اہل و عیال اور لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ اللہ کے رسول ؐ نے اپنے دونوںہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھایا، لوگو ںنے بھی اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے، راوی حدیث کہتے ہیں کہ ہم مسجد سے نکلے بھی نہ تھے کہ بارش ہونے لگی۔''

اس حدیث میں اجتماعی طور پر آپ کا اور صحابہئ کرام کا پانی طلب کرنے کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح اور بھی مواقع ہیں جہاںآپ نے اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہے۔ ان تمام حدیثوں کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ بغیر کسی وقت کی تعیین کے اگر کوئی اجتماعی مصلحت ہو تو مشترکہ طور پر دعا کی جاسکتی ہے جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور آپ کے ساتھ صحابہئ کرام نے بھی ہاتھوں کو اٹھاکر دعا میں شرکت کی۔

فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ اٹھائے انفرادی طور پر دعا کرنا:

فرض صلاۃ کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ فرض صلاۃ کے بعد کا وقت ان اوقات میں سے ہے جن میں دعا کی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

عن أبی أمامۃ رضی اللہ عنہ قال: قیل: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أی الدعاء أ سمع؟ قال: جوف اللیل الآخر و دبر الصلوات المکتوبات۔(٦)

''ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:رات کے آخری حصہ میں اور فرض صلاۃ کے بعد کی گئی دعائیں۔''

اس حدیث میں ''دبر الصلوات'' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس سے سلام پھیرنے سے پہلے صلاۃ کا آخری حصہ، یا صلاۃ کے بعد کا حصہ مراد لیا جاسکتا ہے۔ دراصل ''دبر'' لغت میں کسی چیز کے آخری حصہ کو کہتے ہیں، صلاۃ کا آخری حصہ تشہد ہوا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سلام پھیرنے سے پہلے کا حصہ مراد لیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کے کئی وجوہات بیان فرمائے ہیں:

١۔ صلاۃ کے اندر آدمی اللہ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت اللہ سے کوئی چیز طلب کرنا زیادہ مناسب ہے بنسبت اس کے کہ آدمی اللہ سے سرگوشی ختم کرنے کے بعد اس سے سوال کرے، لہٰذا بندے کو اللہ سے جو کچھ بھی مانگنا ہو وہ صلاۃ ختم کرنے سے پہلے مانگے۔(٧)

٢۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں تشہد کا ذکر ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ''ثم لیتخیر من الدعاء أعحبہ إلیہ'' (٨) یعنی پھر مصلی اپنی مرضی کے مطابق جو دعا چاہے پڑھے۔ اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری ازواج مطہرات سے آپ کی رات کی صلوات میں جو دعائیں وارد ہیں وہ سلام کے پہلے ہی کی ہیں۔ (٩)

٣۔ پوری صلاۃ دعا ہے اور مسلمانوںمیں اس تعلق سے کوئی اختلاف نہیں کہ صلاۃ کے اندر دعا کی جائے گی۔ چنانچہ دعاء استفتاح، رکوع و سجود میں، رکوع و سجود سے سر اٹھاتے وقت اور تشہد میں اللہ کے رسول ؐ سے دعائیں منقول ہیں۔ صلاۃ خواہ فرض ہو یا نفل ہر ایک میں آپ یہ دعائیں پڑھتے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ سے ایک مرتبہ کہا کہ آپ ہمیں کوئی دعا سکھا دیں، جس سے ہم صلاۃ میں دعا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ''اللہم إنی ظلمت نفسی ظلما کثیرا۔۔۔۔۔۔ الحدیث'' سکھایا۔ (١٠)

لہٰذا جب پوری صلاۃ ہی دعا ہے تو دعا کے بعد فوراً دعا کو مشروع نہیں قرار دیا جاسکتا۔

٤۔ صلاۃ کے بعد جس دعا کا ذکر ملتا ہے اس سے مراد ماثور اذکار ہیں چنانچہ آپ ؐ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے پھر تین مرتبہ استغفر اللہ پڑھتے اور اس کے بعد اللہم أنت السلام و منک السلام۔۔۔۔۔۔ الحدیث پڑھتے اس کے بعد اور دوسرے اذکار جن کا احادیث میں ذکر ملتا ہے انھیں پڑھتے تھے۔ آپ نے صحابہئ کرام کو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ اور ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ صلاۃ کے بعد یہی اذکار کرنا دعا مانگنے سے زیادہ مستحب ہے۔ (١١)

جو لوگ کہتے ہیں کہ ''دبر الصلوات'' سے مراد سلام پھیرنے کے بعد والا حصہ ہے وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ میں سلام پھیرنے سے پہلے پڑھی جانے والی دعاؤں کے علاوہ کے بارے میں بھی ''دبر الصلاۃ'' کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جو اذکار بتلائے تھے وہ، اور تسبیحات کا ورد یہ سبھی صلاۃ کے بعد کی دعا ئیں ہیں۔ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں، لہٰذا ''دبر الصلاۃ'' کا لفظ سلام سے پہلے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور بعد کے لیے بھی۔ اس لیے اسے کسی ایک معنی کے لیے خاص کرنا صحیح نہیں۔ اس امر کا اعتراف خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے۔ (١٢)

جہاں تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کا سوال ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صلاۃ کے بعد دعا نہ کی جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلام پھیرنے سے پہلے مصلی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے اللہ سے طلب کرسکتا ہے۔ (١٣)

یہی بات اللہ سے سرگوشی کے وقت اس سے کچھ سوال کرنا بہرحال بہتر ہے مگر اس سے بعد میں دعا مانگنے کی نفی نہیں ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ صلاۃ کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنے کے مخالف نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خواہ امام ہو یا مقتدی اگر انفرادی طور پر سلام پھیرنے کے بعد دعا کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (١٤)

ضعیف احادیث سے استدلال:

سلام پھیرنے کے بعد دعا کرنے اور خاص طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بارے میں کچھ ضعیف احادیث وارد ہوئی ہیں، عام طور پر جواز کے قائلین انھیں احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ درج ذیل سطور میں ان احادیث کو بیان کرنے کے بعد ان کی استنادی کیفیت بھی مختصر طور پر بیان کی جارہی ہے یاد رہے کہ میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ نے انھیں ضعیف احادیث کی بنیاد پر فرض صلاۃ کے بعداجتماعی دعا کو مستحب قرار دیا ہے:

عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ؐ رفع یدیہ بعد ما سلم و ہو مستقبل القبلۃ فقال: اللہم خلص الولید بن الولید و عیاش بن أبی ربیعۃ و سلمۃ بن ہشام و ضعفۃ المسلمین الذین لا یستطیعون حیلۃ و لا یہتدون سبیلا من أیدی الکفار۔(١٥)

''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے سلام پھیرنے کے بعد قبلہ رخ بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ! ولید بن ولید، عیاش بن ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور کمزور مسلمانوں کونجات دے جو کسی حیلہ کی طاقت نہیں رکھتے اور کفارکے ہاتھ سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔ ''

یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی سندمیں علی بن زید ہیں جن کو حافظ ابن حجر نے ''التقریب'' میں ضعیف کہا ہے۔(١٦)

عن أنس عن النبی ؐ أنہ قال: ما من أحد بسط کفیہ فی دبر کل صلاۃ ثم یقول: اللہم إلٰہی و إلٰہ إبراہیم و إسحق و یعقوب وإلٰہ جبریل و میکائیل وإسرافیل، أسئلک أن تستجیب دعوتی فإنی مضطر و تعصمنی فی دینی فإنی مبتلی و تنالنی برحمتک فإنی مذنب و تنفی عنی الفقر فإنی متمسکن إلا کان حقا علی اللہ عزوجل أن لا یرد یدیہ خائبتین۔ (١٧)

''انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ ہر صلاۃ کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے: اللہم الٰہی و إلٰہ إبراہیم۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو نامراد نہیں پھیرتا۔''

یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی روایت میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن ہیں جن کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے متہم گردانا ہے۔ (١٨)

لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہے اور اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔

عن الأسود بن عامر عن أبیہ قال: صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف و رفع یدیہ و دعا۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔ (١٩)

''اسود بن عامر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی صلاۃ پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو قبلہ رخ سے مڑے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا فرمائی۔''

مذکورہ بالا احادیث جو سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ وہ سبھی ضعیف ہیں اس وجہ سے ان سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی۔

ہاں، اس تعلق سے ایک حدیث ہے جس کو ہیثمی نے ''مجمع الزوائد'' میں طبرانی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے وہ روایت قابل اعتبار ہے، روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن محمد بن یحیی الأسلمی قال: رأیت عبداللہ بن الزبیر و رأی رجلا رافعا یدیہ یدعو قبل أن یفرغ من صلاتہ فلما فرغ منہا قال: إن رسول اللہ ؐ لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ۔(٢٠)

''محمد بن یحییٰ الاسلمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے دونوں ہاتھوں کواٹھائے ہوئے ہے۔ وہ صلاۃ سے فارغ ہونے سے پہلے ہی دعا کر رہا ہے، جب وہ صلاۃ سے فارغ ہواتو ابن زبیر نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو نہیں بلند کرتے تھے۔''

معلوم ہوا کہ آپ ؐ صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھاتے تھے۔ لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا ثبوت ملتاہے اس وجہ سے انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چند باتو ں کی رعایت کی جائے:

١۔ اسے مستقل عادت نہ بنا لیا جائے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام سے یہ ثابت نہیں کہ وہ ایسا ہر صلاۃ کے بعد کیا کرتے تھے۔

٢۔ اس دعا کی وجہ سے ان مسنون اذکار کا ترک نہ لازم آتا ہو جو آپ ؐسے ثابت ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے وہ مسنون اذکار کر لئے جائیں اس کے بعد دعا کی جائے۔ اس موقع پر ہاتھ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں، چوں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مستحب ہے اس لیے ہاتھ اٹھانا زیادہ اچھا ہے۔ (٢١)

فرض صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا:

صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی دونوں کا اجتماعی طور پر دعا کرنا صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت نہیں۔ اگر آپ ؐ اور صحابہئ کرام کے زمانہ میں لوگ سلام کے بعد اس قسم کی اجتماعی دعا کا اہتمام کرتے ہوتے جس طرح آج کل ہو رہا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ احادیث کی کتابیں اس تعلق سے خاموش نہ ہوتیں۔

رہا شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کا فتوی کہ صلاۃ کے بعداجتماعی دعا مستحب ہے تو چوں کہ انھوں نے کوئی صحیح حدیث اس کے ثبوت کے لیے پیش نہیں کی ہے اس وجہ سے وہ ناقابل التفات ہے۔ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی بیان کردہ حدیثوں کے ضعف کی طرف خود اشارہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

''اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز کے بعدہاتھ اٹھا کر دعاکرنا درست ہے، اس حدیث کے راویوں میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبدالرحمن متکلم فیہ ہے جیسا کہ میزان الاعتدال وغیرہ میں مذکور ہے لیکن اس کا متکلم فیہ ہونا ثبوت جواز و استحباب کے منافی نہیں کیوں کہ ضعیف حدیث سے جو موضوع نہ ہو استحباب و جواز ثابت ہوتا ہے۔ '' (٢٢)

مذکورہ بالا قول میاں صاحب نے حدیث انس کے بارے میں کہا ہے جس کا تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔

یہاں پر دو باتیں قابل ملاحظہ ہیں:

١۔ ضعیف حدیث سے استحباب اور جوازکا ثبوت۔ حالاں کہ علماء اصول حدیث کا راجح مسلک یہ ہے کہ حدیثِ ضعیف حجت نہیں اور جب اس کا حجت ہونا ہی صحیح نہیں تو اس سے استحباب یا جواز کیوں کر ثابت ہوسکتاہے۔ اس لیے کہ استحباب کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور یہ حق اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کو نہیں پہنچتا کہ کسی عمل کے کرنے پر ثواب کی ضمانت دے۔

٢۔ مذکورہ بالا حدیث اور اس کے علاوہ دوسری احادیث جن کو میاں صاحب نے ذکر کیا ہے ان میں کہیں بھی اجتماعی طور پر دعا کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا بفرض محال اگر ان پر عمل بھی کیا جائے تووہ انفرادی دعا کے لیے ثبوت بن سکتی ہیں اجتماعی دعا کے لیے نہیں۔ (٢٣)

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کے بارے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی کا ایک ساتھ دعاکرنا بدعت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔'' (٢٤)

اس مسئلہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے ہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو احادیث کی کتابوں میں ضرور اس کا تذکرہ ملتا اس کا تذکرہ نہ ہونایہ ثابت کرتاہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔

لہٰذا جو لوگ اجتماعی دعا نہ کرنے والوں کو لعن طعن کرتے ہیں انھیں اپنے روےے میں تبدیلی لانی چاہئے کہ کہیں وہ لوگوں کو سنت رسول پر عمل کرنے سے تو نہیں روک رہے ہیں اور بدعت پر آمادہ کرنے کے لیے سختی کر رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بات اور ذہن نشین ہونی چاہئے کہ جو لوگ اس اجتماعی دعا کی مخالفت کرتے ہیں وہ اگرچہ یہ کہتے ہیں کہ اس اجتماعی دعا کی وجہ سے وہ مسنون اذکار چھوٹ جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ لوگ ان اذکار کو نہیں پڑھتے، سلام کے بعد فوراً اٹھ جاتے ہیں، یا خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ اس رویہ کو بھی اگر مستقل طور پر عادت بنا لیا جائے تو لائق مذمت اور ایک برائی سے بچ کر دوسری برائی میں قدم رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملہ میں غلو سے بچائے۔ (آمین)

اگر کوئی ایسا خاص موقع آئے کہ سارے مصلیوں کی مجموعی ضرورت ہو تو اجتماعی طور پر دعا کی جاسکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خاص موقع پر اگرچہ ثابت نہیں مگر جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ بارش کی ضرورت کے لیے جو کہ تمام حاضرین کی ضرورت تھی آپ نے اجتماعی دعا فرمائی اور اس کے لیے آپ نے خطبہئ جمعہ بیچ میں روک دیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ آئے کہ جس کے شکار سبھی مصلی ہوں اور وہ دعا کی فرمائش کریں تو امام صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کرا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی کے مطابق عبادتوں کو انجام دینے کی توفیق بخشے۔ آمین ٭٭٭

حواشی:

١۔ صحیح سنن أبی داؤد رقم ١٤٨٨، سنن ابن ماجہ رقم ٣٨٦٥

٢۔ المعجم الکبیر للطبرانی ١/٣١٢ رقم ٦١٤٢ قال الہیثمی فی ''المجمع'' رجالہ رجال الصحیح ١٠/١٦٩

٣۔ صحیح بخاری: کتاب الاستسقاء باب رفع الإمام یدہ فی الاستسقائ

٤۔ دیکھیں: فتح الباری ٢/٣٣٠ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی

٥۔ صحیح بخاری کتاب الاستسقاء باب رفع الناس أیدیہم مع الإمام فی الاستسقائ

٦۔ سنن ترمذی کتاب الدعوات ٢/٢٦٣ و قال حدیث حسن، وقال الألبانی رحمہ اللہ: رجالہ ثقات لکن فیہ عنعنۃ ابن جریج و کان مدلسا، انظر مشکاۃ المصابیح ١/٣٠٥ رقم الحدیث ٩٦٨، صحیح سنن الترمذی ٣/٤٤٢ رقم الحدیث ٣٤٩٩ میں علامہ البانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

٧۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ٢٢/٥١٩

٨۔ صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشہد، ولیس بواجب، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب التشہد فی الصلاۃ رقم ٤٠٢

٩۔ دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٢٢/٤٩٦

١٠۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٤٩٧

١١۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمہ ٢٢/٥١٤

١٢۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥٠٠

١٣۔ حدیث کا مذکورہ بالا حصہ اس باب میں بالکل واضح ہے کہ تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے مصلی اپنی دنیا وآخرت کی بھلائی کے لیے کوئی بھی دعا کرسکتاہے لہٰذا ان لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا جو کہتے ہیں کہ صلاۃ میں صرف وہی دعائیں کی جاسکتی ہیں جو قرآن یا حدیث میں مذکور ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی دعا نہیں کی جاسکتی۔ (دیکھیں فتح الباری٢/٢٥٦، نووی ٤/١١٧)

١٤۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥٠٠

١٥۔ تفسیر ابن کثیر ١/٥٤٣

١٦۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث سے پہلے بخاری کے حوالہ سے اسی معنی کی ایک حدیث نقل کی ہے مگر اس کے اندر سلام کے بعد کا نہیں بلکہ رکوع کے بعد اور سجدہ سے پہلے اس دعا کا تذکرہ ہے، حالاں کہ یہ حدیث بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔ (دیکھیں: ابن کثیر ١/٥٤٣) اس کے معاً بعد جو حدیث ابن کثیر نے ظہر کے بعد آپ کے اس دعا کو پڑھنے کے بارے میں ذکر کی ہے اس کے اندر بھی علی بن زید ہیں اس وجہ سے اس کا بھی اعتبار نہ ہوگا، لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ وہ رکوع کے بعد کا واقعہ ہے۔

١٧۔ عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی بحوالہ فتاوی نذیریہ ١/٥٦

١٨۔ دیکھیں: المیزان رقم الترجمہ ٥١١٢

١٩۔ مصنف ابن ابی شیبیہ بحوالہ فتاوی نذیریہ ١/٥٦٥

حافظ ابن حجر نے التقریب رقم ٥٠٣ میں اسود بن عامر کے ترجمہ میں انھیں الطبقۃ التاسعۃ میں شمار کرایا ہے۔ الطبقۃ التاسعۃ کی تشریح مقدمہ میں حافظ نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد الطبقۃ الصغری من اتباع التابعین ہیں (التقریب ص١٥) ان کی وفات ٢٠٨ھ میں ہوئی ہے۔

لہٰذا یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ انھوںنے کسی صحابی کا زمانہ نہیں پایا۔ اسود کے والد عامر جن سے اسود نے یہ حدیث روایت کی ہے وہ تابعی ہوں گے یا تبع تابعی لہٰذا ان کا یہ کہنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی کسی بھی صورت میں درست نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا کہ سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عامر کے درمیان کم از کم ایک راوی محذوف ہے، لہٰذا یہ روایت مرسل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسود بن عامر کے ترجمہ میں کسی نے بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنے والد سے کوئی حدیث روایت کی ہے، لہٰذا ان کا اپنے والد سے روایت کرنا بھی مشکوک ہے۔ (تہذیب الکمال ٣/٢٢٦ رقم ٥٠٣، تاریخ بغداد ٧/٣٤-٣٥ رقم ٣٤٩٧)

فتاوی نذیریہ میں تین دفعہ اس حدیث کا ذکر ہے اور ہر جگہ مصنف ابن ابی شیبہ کا حوالہ دیا گیا ہے مگر یہ روایت تلاش کرنے کے باوجود بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں نہ مل سکی۔

٢٠۔ مجمع الزوائد ١٠/١٦٩

٢١۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (١/٢٥٨) میں لکھا ہے کہ صلاۃ کے بعد مسنون اذکار اور تسبیح و تہلیل وغیرہ کرنے کے بعد مصلی کو چاہئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام بھی بھیجے اور اس کے بعد جو دعا چاہے مانگے، اس طرح دعا صلاۃ کے بعد نہ شمار ہو کر حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ سلام شمار ہوگی اور فضالہ بن عبید کی حدیث کے مطابق جس میں ہے کہ ''جب کوئی صلاۃ ادا کرے تو شروع میں اللہ کی حمد و ثنا پھر نبی کریم ؐ پر صلاۃ و سلام بھیجے پھر جو چاہے دعا کرے۔'' اس وقت دعا کرنا مستحب ہے۔

حدیث صحیح ہے۔ ترمذی (٣٤٧٥) نے اسے روایت کرنے کے بعد اسے صحیح کہا ہے۔ نیز حاکم (١/٢١٨) نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اس کے علاوہ ابوداؤد (١٤٨١) اور نسائی ٣/٤٤) نے بھی اس کی روایت کی ہے۔

١٢۔ فتاوی نذیریہ ١/٥٦٤

٢٣۔ فتاوی نذیریہ کے محشی جناب مولانا ابوسعید محمد شرف الدین صاحب نے حاشیہ (١/٥٦٧) میں ایک حدیث سلام کے بعد دعا کرنے کے ثبوت کے لیے پیش کی ہے: ''عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ؐ: إذا صلیتم الصبح فافزعوا إلی الدعاء و باکروا فی طلب الحوائج، اللہم بارک لأمتی فی بکورہا۔'' اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ''اس حدیث کو علی متقی نے کنز العمال جلد ١ ص١٧٥ میں صحیح مسلم اور ابوداؤد، نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔''

مگر مذکورہ حدیث ان کتابوں میں نہیں مل سکی اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الجامع (١/٢٠١، رقم ٦٧٢) میں ذکر کیا ہے اور اس کو ''ضعیف جدا'' قرار دیا ہے اور حوالہ کے طور پر خطیب کی تاریخ بغداد اور ابن عساکر کا حوالہ دیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی حجت نہیں بن سکتی ہے۔

٢١۔ فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥١٩

٭٭٭