Thursday, June 25, 2009

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو اس کی وفات کے بعد دیکھنا اور نہلانا

0 comments


ہم آواگون کے قائل نہیں کہ جس کی بنیاد پر یہ کہیں کہ میاںبیوی کا رشتہ سات جنموں تک رہتا ہے مگر یہ ضرورمانتے ہیں کہ یہ رشتہ اتنا کمزور بھی نہیں ہوتا کہ ان میں سے کسی ایک کی وفات کے ساتھ ہی وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوگئے۔ اب ان میں سے کسی ایک کا دوسرے کی طرف دیکھنا ناجائزاورحرام ہے۔ آج ہم برصغیر ہندوپاک میں خصوصاً اوردیگر جگہوں پر عموماً پائی جانے والی اس جہالت پر گفتگو کریں گے جس کو لوگوں نے دین کے نام پر فروغ دے دیا ہے، وہ ہے بیوی کے مرنے کے بعد شوہر کو بیوی کا چہرہ دیکھنے سے منع کرنا ۔ جب جہالت کی یہ حالت ہو تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ کوئی شوہر کو یہ اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو غسل دے۔ حالانکہ اس تعلق سے صریح احادیث موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شوہر بیوی کو اس کے انتقال کے بعد غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی عورت موجودہو ۔ اسی طرح بیوی اگر چاہے تو شوہر کو غسل دے سکتی ہے اگرچہ کوئی آدمی نہلانے والا موجود ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

رجع الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من جنازة بالبقیع وانا اجد صداعاً فی راسی واقول واراساہ! فقال : بل انا وارساہ! ماضرک لومت قبلی فغلستک، وکفنتک، ثم صلیت علیک ودفنتک۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص کی صلاة جنازہ پڑھاکر میرے پاس آئے۔ اس وقت میرے سر میں زور کا درد ہورہا تھا جس کی وجہ سے میں کراہ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا : تمہیں کیا پریشانی ہے؟ اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاتیںمیں تمہیں اپنے ہاتھوں سے نہلاتا، خود کفن پہناتا، پھر تمہاری صلاة جنازہ پڑھ کر تمہیں دفناتا۔

تخریج

اس حدیث کو ابن ماجہ نے کتاب الجنائز باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم رقم 6586، 1466،بیہقی نے کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 645 میں درج کیا ہے، اور اس کے علاوہ احمد نے اپنی مسند6:288 میں دارمی نے اپنی مسند1:37-38 میں، دارقطنی نے اپنی سنن 192 میں اورابن ہشام نے السیرة میں 4:643 نے میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ سبھوں نے اس حدیث کو محمد بن مسلمہ عن محمد بن اسحاق عن یعقوب بن عتبہ عن الزہری عن عبیداللہ بن عبداللہ عن عائشةکی سند سے بیان کیا ہے۔

حدیث کا درجہ

حدیث صحیح ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز وبدعہا میں کہتے ہیں کہ سند میں اگر چہ محمد بن اسحاق ہیں (جو کہ مدلس ہیں) اورعنعنہ کے ذریعہ روایت کررہے ہیں مگر چونکہ سیرة ابن ہشام میں تحدیث کی صراحت کردی گئی ہے۔ لہذا حدیث ثابت ہے۔ (دیکھیں:احکام الجنائزص50)

ہیثمی نے مجمع الزوائد میںکہا ہے: اسناد رجالہ ثقات رواہ البخاری من وجہ آخر مختصراً یعنی اس کے رجال ثقہ ہیں بخاری نے اسے ایک دوسرے طریق سے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔

کیا شوہر اپنی بیوی کو مرنے کے بعد غسل دے سکتا ہے؟

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اوپر گذرچکی ہے جس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ اگر میری زندگی میں تم مرگئیں تو میں تمہیں غسل دوںگا، یہ حدیث واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ لہذاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شوہر بیوی کو غسل نہیں دے سکتا اس وجہ سے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے ان کی بات صحیح نہیں ۔ کچھ لوگ عورتوں کو اپنے شوہروں کو غسل دینے کی اجازت دیتے ہیں اور مردوں کو نہیں وہ بعض لوگ یہ فرق کرتے ہیں کہ نکاح دونوں صورتوں میں ٹوٹ جاتا ہے خواہ شوہر مرے یا بیوی مگر شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوی عدت میں ہوتی ہے اس وجہ سے وہ غسل دے سکتی ہے جب کہ بیوی کی موت کی صورت میں چونکہ شوہر کے لےے کوئی عدت نہیں ہوتی اس وجہ سے اس کے لئے بیوی اجنبی عورت کے مانند ہوگئی لہذا وہ غسل نہیں دے سکتا۔ (دیکھیں الفقہ علی المذاہب الا


¿ربعہ1:504) اس توجیہ کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ شرعی احکام کو پہیلی بنانے کے مترادف ہے۔ دین سہل اور آسان ہے اس میں اگر ایسا ہو تو ویسا ہوگا کہ ذریعہ پیچیدگی پیداکرنا کوئی مستحسن قدم نہیں قراردیا جاسکتا۔

صحابہ کرام کا عمل

عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی تائید صحابہ


¿ کرام کے عمل سے بھی ہوتی ہے ۔

فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ غسل دیں چنانچہ انہوں نے غسل دیا:

عن ام جعفر ان فاطمة بنت رسول اللہ قالت: یا اسماء اذا انا مت فاغسلینی انت وعلی بن ابی طالب فغسلہا علی واسماءرضی اللہ عنہما

(بیہقی کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 6452)

ام جعفر بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء(جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) سے کہا کہ جب میں مرجاں تو تم اور علی مجھے غسل دینا چنانچہ علی اور اسماءنے انہیں غسل دیا۔

سنن بیہقی 6453کی روایت میں ہے کہ ام جعفر بنت محمد بن علی کہتی ہیں کہ مجھ سے اسماءبنت عمیس نے کہا کہ میں نے اور علی بن ابی طالب نے فاطمہ بنت رسول اللہ کو غسل دیا۔

یہ بات صحابہ کرام کے درمیان ہوئی مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ انہوں نے کسی غلط بات کی وصیت کی ہو اور اس وصیت کی تنفیذ بھی کرنے والے ایک اعلی درجہ کے صحابی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماداور تیسرے خلیفہ راشد علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ لہذا ضروری سی بات ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت کے بارے میں سنا ہوگا۔

کیا بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے

جو علماءشوہر کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی عورت کو مرنے کے بعد غسل دے ان میں سے بھی اکثر اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی شوہر کے مرنے کے بعد غسل دے سکتی۔ اس کی وجہ خواہ اپنے گمان کے مطابق یہ بتائیں کہ عورت کی حالت اس وقت عدت گزارنے والی کی ہوتی ہے لہذا اسکے لئے شوہر کو نہلانا جائز ہوگا یاکوئی اور وجہ بتائیں۔ اس تعلق سے بھی واضح احادیث ملتی ہیں چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

لما ارادوا غسل النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالوا: واللہ ماندری، انجرد رسول اللہ ثیابہ کما نجرد موتانا، ام نغسلہ وعلیہ ثیابہ؟ فلما اختلفوا القی اللہ علیہم النوم، حتی مامنہم رجل الا وذقنہ فی صدرہ،ثم کلم مکلم من ناحیة البیت، لایدرون من ہو: ا


¿ن اغسلوا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم وعلیہ ثیابہ ،فقاموا الی رسول اللہ فغسلوہ، وعلیہ قمیصہ یصبون الماءفوق القمیص ویدلکونہ بالقمیص دون ایدیہم وکانت عائشة تقول: لواستقبلت من امری مااستدبرت ماغسلہ الا نساءہ۔


©جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انھوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے مردوں کی طرح ننگا کرکے نہلائیں؟ یا ہم آپ کو کپڑوں سمیت غسل دیں؟جب صحابہ کرام نے اختلاف کیا تواللہ تعالی نے ان پر نیند طاری کردی۔یہاں تک وہاں موجود تمام لوگوں کی ٹھوڑی ان کے سینوں سے لگ گئی۔ پھر ایک بات کرنے والے نے گھر کے ایک گوشہ سے کہا (لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے) نبی کریم کو کپڑوں سمیت غسل دو۔لوگ کھڑے ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا ۔آپ کے جسم پر قمیص تھی۔ لوگ قمیص کے اوپر ہی سے پانی ڈالتے اور قمیص ہی سے رگڑتے تھے بغیر ہاتھوں کو لگائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں:جو بات بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دیتا۔

(سنن ابی داود کتاب الجنائز باب فی سترالمیت عند غسلہ رقم 1341،ابن ماجہ کتاب الجنائز باب غسل الرجل امراة وغسل المرا


¿ة زوجہا رقم 1464 ،صحیح ابن حبان کتاب الجنائز باب ذکر وصف القوم الذین غسلوارسول اللہ رقم 6627 اور 6413 و6457، حاکم نے مستدرک (3:59-60) میں اس کی تخریج کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔ علامہ البانی نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو حسن قراردیا ہے)

صاحب عون المعبود کہتے ہیں: ”گویا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کے بعد غور کیا اورانہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد آئی کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر تم میری زندگی میں وفات پاگئیں تو میں تمہیں غسل دوں گا کفن دوں گا پھر تمہاری صلاةجنازہ پڑھوں گا اور دفن کروں گا۔“(عون المعبود۸۵۱۴)

صحابہ کرام کے عمل سے بھی اس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ موطا امام مالک کی حدیث ہے کہ اسماءبنت عمیس جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں انہوںنے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوغسل دیا پھر باہر آئیں اور دریافت کیا کہ میں روزہ سے ہوں اورآج سخت سردی ہے کیا میرے اوپر غسل کرنا واجب ہے لوگوں نے کہا کہ نہیں۔

(موطا امام مالک کتاب الجنائز باب غسل ا لمیت، سنن بیہقی 6455کی روایت میں ہے کہ اسماءبنت عمیس نے کمزوری کی وجہ سے عبدالرحمان بن ابی بکر سے مدد لی تھی مگر بیہقی نے کہا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ )

حدیث کے الفاظ جیسا کہ ظاہر ہے، بتلارہے ہیں کہ یہ کام صحابہ کرام کی موجودگی میں ہواتھا لہذا انہیں اس کا ضرور علم ہواہوگا مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ لہذا بیوی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مرنے کے بعد شوہر کو غسل دے۔

شوہر اور بیوی میں فرق؟

میت کو نہلانے میں اجازت دینے اور نہ دینے میںبیوی اور شوہر کافرق کرنا صحیح نہیں، اس فرق کی بنیاد ایک ظنی چیز پر ہے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے پھر یہ فرق کہ عورت چونکہ طلاق کے بعدعدت کے ایام گذارتی ہے لہذا اس کے لئے جس طرح عدت کے ایام میں اگر وہ طلاق رجعی ہو تو شوہر کے ساتھ رہنا جائز تھا اسی طرح اسی صورت میں بھی جائز ہے صحیح نہیں۔ اس لئے کہ طلاق رجعی میں شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت اس وجہ سے دی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کابار بار سامنا ہونے کی وجہ سے شوہر رجوع کرے مگر کیا مرنے کے بعد بھی اس کا امکان ہے؟ ضروری سی بات ہے کہ نہیں۔ لہذا اس کی بنیاد پر یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے؟

کیا موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

ہمارے یہاں نکاح کو اتنا کمزور سمجھاجاتا ہے کہ وضو کی طرح بات بات پر نکاح کے ٹوٹنے کی بات کہی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ نکاح ٹوٹنا وضو سے بھی زیادہ آسان ہے، تو بے جانہ ہوگا چنانچہ جس کے ساتھ آدمی پوری زندگی گذارتا ہے اس کی موت کے ساتھ ہی اس کو اجنبی بنادیا جاتا ہے ۔کتنے اچنبھے کی بات ہے؟ ہم ذیل کے سطور میں ان اسباب کو بیان کریں گے جس کی وجہ سے شوہر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو طلاق شدہ ماننا صحیح نہیں مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر غلط ہے:

۱۔اگر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ زوجین میں سے کسی کو بھی کسی کی میراث نہ ملے اس لئے کہ میراث اسی وجہ سے ملتی ہے کہ وہ بیوی یا شوہر ہے،جب یہ رشتہ ہی منقطع ہوگیا تو وراثت ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ خاص طور پر اس عورت کو بالکل ہی نہیں ملنا چاہیے جس کو دوطلاقیں ہوگئی ہوں اس وجہ سے کہ اس کے حق میں شوہر کی موت سے تیسری طلاق ہوجائے گی۔

لہذا یہ کہنا کہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے سراسر غلط بے بنیاد اور جہالت پر مبنی قول ہے۔

۲۔زوجین میں سے ہرایک کے دوسرے کو غسل دینے کی اجازت اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ رشتہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ دوسرے کسی بھی رشتہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ شرمگاہ کا دیکھنا ان دونوں کے علاوہ کسی اورکے لئے جائز نہیں۔ جب دوسرے لوگ جن کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز نہیں تھا وہ غسل دے سکتے ہیں تو وہ شخص بدرجہ اولی غسل دے سکتا ہے جس کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز تھا۔

فتاوی لجنہ دائمہ کی رائے:

سعودی عرب کی فتاوی کمیٹی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا کوئی عورت اپنے شوہر کو اس کی موت کے بعد دیکھ سکتی ہے یا اس کے لئے دیکھنا حرام ہے اور کیا وہ اسے غسل دے سکتی ہے اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہو؟

اس کے جواب میں کمیٹی نے جواب دیا کہ :عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کو جب اس کا انتقال ہوگیا ہو دیکھے اور صحیح قول کے مطابق زوجین میں سے ہر کوئی دوسرے کو غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی دوسرا موجود ہو۔ (فتاوی اللجنة الدائمة رقم الفتوی 2273)

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ کہ شوہر اپنی بیوی کی وفات کے بعد اسے دیکھ سکتا ہے اوراگر وہ چاہے تو نہلاسکتا ہے اسی طرح بیوی بھی شوہر کو دیکھ سکتی اور نہلاسکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ اس سے منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جب غسل دینے کی اجازت ہے تو دیکھنے کی اجازت بدرجہ اولی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں دینی امور میں اپنی طرف سے کوئی بات کہنے سے بچائے۔ آمین۔

زیورات میں زکوٰة

0 comments

زیورات میں زکوٰة نکالی جائے یا نہ نکالی جائے؟

یہ ایک اہم موضوع ہے۔ عام طورپر اس مسئلہ میں اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ زیورات کو کپڑوں اور دوسری استعمال کی اشیاءپر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے قیاس کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیورات کی زکوٰة کے سلسلہ میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف رہا ہے۔ بعض اس میں مطلق زکوٰة کے قائل نہیں تھے اور بعض زکوٰة کے قائل تھے۔ آئندہ سطور میں زیورات میں زکوٰة کے مسئلہ کو تمام فریقوں کے دلائل اور راجح قول کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔

زیورات میں زکوٰة ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماءکرام کے پانچ اقوال ملتے ہیں:

۔ زیورات میں کوئی زکوٰة نہیں اگر اسے استعمال کے لئے رکھاگیا ہو، خواہ عورت اسے مسلسل استعمال کرتی ہویا خاص خاص مواقع پر استعمال میں لاتی ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایسے زیورات میں زکوٰة نہیں ہے ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ اگر زیور کو اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس کو بیچ کر ضرورت پوری کی جائے تو اس پر زکوٰة ہے جبکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اسی صورت میں زکوٰة فرض ہوگی جب اسے تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو۔

۔ زیور کے اندر صرف ایک سال زکوٰة ہے، یعنی اگر کسی شخص نے کسی زیور کی زکوٰة ایک مرتبہ نکال دی تو پھر آگے اس کو ہر سال اس میں زکوٰة دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔ زیور کی زکوٰة یہ ہے کہ اسے عاریتاً کسی کو استعمال کرنے کے لئے دے دیا جائے۔

۔ زیور کی یا تو زکوٰة نکالی جائے یا عاریتاً استعمال کرنے کے لئے دیا جائے۔

۔ زیور اگر نصاب تک پہنچ گیا ہے تو ہر سال اس کی زکوٰة دینا واجب ہے۔

مذکورہ بالا پانچوں اقوال میں راجح قول پانچواں ہے۔ یعنی زیور اگر چہ ذاتی استعمال کے لئے ہو اس کی زکوٰة دینا واجب ہے قرآن و سنت کے نصوص اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

قرآن مجید سے دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) (التوبة 34-35)

”جو لو گ سونااور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔ جس دن اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں،پہلوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ لو، اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔“

مذکورہ آیت میں ”کنز“ سے مراد وہ سونا اورچاندی ہے جس کی زکوٰة نہ نکالی گئی ہو۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جس سونے چاندی میں سے زکاة نکال دی گئی ہو اگر چہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو، کنز نہیں ہے اور اگرزکاة نہ نکالی گئی ہو تو وہ ”کنز“ ہے اگر چہ زمین کے اوپر ہی کیوں نہ ہو۔

(تفسیر ابن کثیر 2:462ط مکتبہ دار السلام ریاض)

مذکورہ آیت عام ہے اور ہر قسم کے سونے چاندی کو شامل ہے، اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کے اندر زیورات شامل نہیں ہیں تو اس کو چاہئے کہ دلیل پیش کرے۔

حدیث رسول سے دلیل:

عن زيد بن أسلم أن أبا صالح ذكوان أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

: ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها في نار جهنم فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار

(صحیح مسلم :کتاب الزکاة باب اثم مانع الزکاة رقم987)

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر وہ سونے اور چاندی کا مالک جو اس سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی چادریں بنائی جائیںگی، انہیں آگ میں گرم کیاجائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوجائیںگی تو انھیں پھر گرم کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اس دن تک چلتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ سنا دیا جائے گا پھر اس کو اس کا راستہ جنت یا جہنم دکھا دیاجائے گا۔“

”مامن صاحب ذھب“ کے عموم میں ہر وہ شخص آجاتا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو، اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوںگے جن کے پاس نصاب کے برابر سونا یا چاندی نہ ہو۔ اسی طرح ”لایو


¿دی حقہا“ میں تمام حقوق شامل ہیں ان میں سر فہرست زکاة ہے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”الزکوٰة حق المال“زکاة مال کا حق ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ اس سے مرادزکاة ہے چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں: لايودی زکاتہ (صحیح مسلم کتاب الزکوٰة باب اثم مانع الزکوة رقم 987(26))

ایسی بات نہیں کہ ذخیر


ہاحادیث میں صرف وہی احادیث ہیں جن کے عموم سے زیورات میں زکوٰة ثابت ہوتی ہو۔ بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ زیورات میں زکوٰة دینے کی بات کہی گئی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده

: أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها " أتعطين زكاة هذا ؟ " قالت لا قال " أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار ؟ " قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبي صلى الله عليه و سلم وقالت هما لله عزوجل ولرسوله .

قال الشيخ الألباني : حسن

(سنن ابی داود کتاب الزکوٰة، باب زکوٰة الحلی رقم 1563، سنن الترمذی کتاب الزکوٰة باب ماجاءفی زکوٰة الحلی رقم 637 وقال: لا یصح فی ہذا الباب عن النبی شیئ، سنن نسائی رقم 2479، 2480 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الحلی۔امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، صحیح نہیں، اس لیے کہ اسی حدیث کو ابوداد اور نسائی نے صحیح سندوں سے بیان کیا ہے۔ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ ان سندوں تک نہ پہنچ سکے۔ (دیکھیں فتاویٰ اللجنة الدائمة رقم 1797 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الذہب المعد للاستعمال )

”ایک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اس کی زکوة دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا:نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں کنگنوں کے بدلہ میں آگ کے کنگن پہنائے۔ اس عورت نے کنگن کو نکالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“

سنن ابی داد کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن شداد بن الھاد بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرے دونوں ہاتھوںمیں چاندی کے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اس کو میں نے آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاة دیتی ہو؟ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، یا اللہ نے جو چاہا وہ جواب میں نے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ تمہیں جہنم میں داخل کرنے کے لیے کافی ہےں۔“

( سنن ا


¿بی داو
¿د کتاب الزکاة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم 1565، سنن الدارقطنی کتاب الزکاة، باب زکوٰة الحلی رقم ۴۳۹۱، حاکم نے اس حدیث کی تخریج اپنی مستدرک(1437) میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔)

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کا گنگن پہنے ہوئے تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا یہ بھی کنز ہے (جس کی طرف قرآن کریم کی آیت والذین یکنزون الذھب میں اشارہ کیا گیا ہے) آپ نے جواب دیا: ”جونصاب تک پہنچ جائے اور تم زکاة ادا کردو تو کنز نہیں ہے۔“

( سنن ا


¿بی داو
¿د کتاب الزکوٰة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم1564، سنن دار قطنی کتاب الزکوٰة باب ما ا
¿دی زکوٰتہ فلیس بکنز193، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع رقم 5582 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ حاکم نے کہاکہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔)

مذکورہ بالا نصوص سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سونے چاندی کے زیورات میں زکوة ہے۔ اس تعلق سے وارد آیات قرآنیہ اور احادیث و آثار واضح ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا۔

ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ زیورات کی زکاة کے سلسلے میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف پایا جاتارہا ہے۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کو قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اور جو دلیل کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہو اس کو لیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)النسا:59)

”اگر تم کسی مسئلہ میں اختلاف کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ سب سے عمدہ اور بہتر طریقہ ہے۔ “

لہٰذا یہاں پر بھی اسی اصول کے پیش نظر قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھ کر راجح مسلک کو واضح کیاجا رہاہے۔ اب آئندہ سطور میں زیورات میں زکاة کے منکرین کے دلائل اور ان کے شبہات کو بیان کرکے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی۔ ان شاءاللہ۔

ایک اشکال:

جو لوگ زیورات میں زکاة کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ جن احادیث میں وعید آئی ہوئی ہے وہ اس وقت کی ہوں جب زیورات پہننا ممنوع تھا۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ احادیث میں اس قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ :

۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات کے پہننے سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کی زکاة نہ دینے پر وعید سنائی۔ اگر زیورات پہننا ممنوع ہوتا تو آپ اس کو اتار دینے کا حکم فرما تے۔ جیسا کہ آپ نے اس صحابی کو جو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے نکال دینے کو کہا تھا۔

۲۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ پہلے زیورات پہننا ممنوع تھا بعد میں اس کی اجازت دی گئی تو اس کے لیے بھی تو دلیل چاہئے بغیر دلیل کے ہم یہ کیسے تسلیم کریں کہ اس مسئلہ میں فلاں حکم ناسخ اور فلاں منسوخ ہے۔

۳۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلے زیور ممنوع تھا تب بھی مذکورہ بالااحادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ان کی زکاةدے دی جائے تو ان کا پہننا جائز ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی زکاة کے واجب نہ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔

کیاعائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکاة کی قائل نہ تھیں؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاة نہیں ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جو مو


¿طا امام مالک میں وارد ہے۔

پوری حدیث یوں ہے:

”عبد الرحمان بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کی کفالت کرتی تھیں۔ ان بچیوں کے پاس زیور تھے مگر وہ ان زیورات میں سے زکوة نہیں نکالتی تھیں“۔

(مو


¿طا
Êمام مالک رقم586، کتاب الزکوة باب مالازکاة فیہ من الحلی و التبر و العنبر)

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوة کی قائل نہ تھیں۔ مگر بات ایسی نہیں ہے خود ان ہی سے دار قطنی میں ایک حدیث آئی ہوئی ہے:

عن عمرو بن شعيب عن عروة عن عائشة : قالت لا بأس بلبس الحلي إذا أعطي زكاته (سنند دار قطنی کتاب الزکوة باب زکاة الحلی رقم 1938)

”زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کی زکاةادا کردی گئی ہو۔“

اس حدیث سے اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک زیورات میں زکاة نہیں ہے۔ جہاں تک رہی بات مو


¿طا امام مالک کی اس حدیث کی جس میں یتیم بچیوں کے زیورات میں سے زکوة نہ نکالنے کی بات ان کی طرف منسوب کی گئی ہے تو علماءکرام نے اس کی توجیہ یوں کی ہے:

عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوٰة کی قائل تو تھیں مگر وہ مطلق طور پر یتیموں کے مال نکالنے کی قائل نہ تھیں۔

مگر مو


¿طا امام مالک ہی کی ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال سے بھی زکاة نکالتی تھیں۔ چنانچہ عبد الرحمان بن قاسم ہی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

کانت عائشة تلینی انا و خالی یتیمین فی حجر ھا فکانت تخرج من اموالنا الزکوة۔ (مو


¿طا
Êمام مالک رقم 589، کتاب الزکوة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم منھا)

”عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی نگہداشت میں میری اور میرے ماموں کی پرورش کر رہی تھیں ہم دونوں یتیم تھے وہ ہمارے مالوں سے زکوة نکالتی تھیں۔ “

بعض لوگوںنے کہا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال میں زکاة کے وجوب کی قائل نہ تھیں۔ مصلحت کے مطابق کبھی زکاة نکال دیتی تھیں اور کبھی نہیں نکالتی تھیں۔ اگر کوئی شخص ان مذکورہ بالا باتوں کو نہ مانے تب بھی ہمیں زیورات میں زکاة کی بات ہی لینی ہوگی اس لیے کہ یہ قول ہے اورزکاة نہ نکالنا فعل ہے اور قاعدہ ہے کہ جب قول و فعل میں اختلاف ہو تو قول کو لیا جائے گا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کسی وجہ سے انھوں نے زکاة نہ نکالی ہو۔

کپڑوں پر قیاس

زیورات میں زکاة نہ دینے والوں کا سب سے اہم استدلال یہ ہے کہ جب ہم اپنے استعمال کے کپڑوں پرزکاة نہیں نکالتے، اور دوسری چیزوں مثلا گاڑیوں وغیرہ پربھی زکاة نہیں نکالتے تو صرف زیورات ہی میں زکاة کیوں نکالی جائے وہ بھی تو استعمال کی ایک چیز ہے۔

یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس وجہ سے کہ:

یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے اور نص کی موجودگی میں قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

ضعیف حدیث سے استدلال

اس مسئلہ میں ایک ضعیف حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ حدیث ہے:” لیس فی الحلی زکوة“: یعنی زیورات میں زکاة نہیں۔ اس حدیث کو دارقطنی نے مرفوعا بیان کیا ہے اور بیہقی نے کتاب التحقیق (1:696) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

یہ حدیث سراسر باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیں تو ہر قسم کے زیورات میں زکاة کی نفی ہوجائے گی اور اس کے قائل وہ بھی نہیں ہیں جو اس حدیث سے زیورات میں عد م زکاة پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث متن کے لحاظ سے غلط ہوئی۔

جہاں تک سند کی بات ہے تو اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب مجہول ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیہقی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے:

انہ باطل لا اصل لہ، و انما یروی عن جابر من مقولہ و عافیة بن ایوب مجہول ، فمن احتج بہ مرفوعامعزرا بذنبہ (دیکھیں: ارواءالغلیل 3:294)

”یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث جابر سے موقوفا روایت کی جاتی ہے، سند میں عافیہ بن ایوب مجہول ہیں۔ جس شخص نے بھی مرفوع سمجھ کر اس سے حجت پکڑی وہ اپنے گناہ کی وجہ سے ملامت زدہ ہوگا۔“

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی دو اور علتوں کو بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ عافیہ سے روایت کرنے والے ابراہیم بن ایوب ہیں ان کو ابو العرب نے ’الضعفائ“ میں ذکر کیا ہے اور ان کے بارے میں ابو طاہر المقدسی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور ابو حاتم نے کہا ہے: ’لاا


¿عرفہ‘ (میں انہیں نہیں جانتا)۔

دوسری علت یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (4:27) میں یہ حدیث موقوفا جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔علامہ البانی کہتے ہیں کہ یہ موقوف سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حدیث کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔

(دیکھیں:ارواءالغلیل3:295)

کیا زیور صرف ایک بار نکالی جائے گی:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زیور جو کہ استعمال کے لیے رکھا گیا ہو اس میں صرف ایک مرتبہ ہی زکاة نکالنا کافی ہوگا یعنی اگر کوئی شخص کسی زیور کی زکاة اگر ایک سال نکال دیتا ہے تو آنے والے سالوں میں اس کی زکاة نکالنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

یہ بات اگر اس وجہ سے کہی جاتی ہو کہ احادیث میں جہاں زیورکی زکاة کی بات کہی گئی ہے وہاں پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس کی زکاة ہر سال نکالی جائے تو یہ بات صرف زیور پر ہی نہیں نافذ ہوتی بلکہ تمام اموال میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہاں پر بھی وعید کی احادیث مطلق آئی ہوئی ہےں۔

اور اگر یہ بات اس وجہ سے کہی جاتی ہے کہ تجارت کے مال میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے اور زیور جو کہ صرف استعمال کے لیے ہوتا ہے اس میں زیادتی و کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس میں زندگی میں ایک مرتبہ زکاة نکال دینا کافی ہوگا تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہرسال اگر تجارتی اموال میں زکاة لی جاتی ہے تو کیا اس وجہ سے لی جاتی ہے کہ اس میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟

صحیح بات- واللہ اعلم- یہ ہے کہ یہ ایک توقیفی امر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے زکاة دینے کو کہا ہے لہٰذا ہم کو زکاة دینا ہے۔ اسی طرح ہم زیورات میں زکوة کے بارے میں بھی کہیںگے۔ جب سال مکمل ہوجائے تو اس وقت موجود زیورات کی قیمت کا اندازہ لگا کر زکاة نکال دی جائے اگر وہ زیور نصاب پر پورا اتر تا ہو۔ زکاة نکالنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مال کے اندر بڑھوتری ہوتی ہو اس کی دلیل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس کو امام مالک نے اپنی کتاب مو


¿طا میں درج کیا ہے: اتجروا فی اموال الیتامی لا تاکلھا الصدقة (موطا کتاب الزکوٰة باب زکاة ا
¿موال الیتامی و التجارة لہم فیھا) ”یتیموں کے مال میں تجارت کرو تاکہ صدقہ اسے کھا نہ لے“۔

ضروری سی بات ہے کہ یتیم کا مال اگر تجارت کے لیے نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے اندر اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زکاة کی وجہ سے اس کے ختم ہوجانے کا خدشہ بیان کرنا یہ بتلاتا ہے کہ زکاة کے لیے مال کا کمی و بیشی والا ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیور کے ختم ہونے کا اندیشہ:

یہ شبہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ زیورجو استعمال کے لیے ہو اس میں چونکہ اضافہ کا امکان نہیں ہوتا اس لیے اگر ہر سال اس میں سے زکاة نکالی جائے تووہ ختم ہوجائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ شبہ غلط ہے شریعت نے ہر چیز کا ایک نصاب مقرر کر دیا ہے۔زیور خواہ سونے کی شکل میں ہو یا چاندی کی شکل میں ، اگر مقررہ نصاب سے کم ہوجائے گا تو خود بخود زکاة کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا۔

ہاں، اگر کوئی شخص زیور کی زکاة اس کی قیمت کا اندازہ لگا کر روپیوں کی شکل میں دیتا ہے تو ایسی صورت میں زیور اپنی شکل میں باقی رہتا ہے۔ اس وجہ سے اس پر زکاة واجب ہوتی رہے گی۔ اس صورت میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا زیور ختم ہوجائے گا اس وجہ سے کہ زیور تو اپنی شکل میں موجود ہے۔

اگر زیور کی زکاة شوہر ادا کردے:

زیور جس کی ملکیت میں ہے اسی کے ذمہ اس کے زکاة کی ادائیگی بھی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے کر ادا کر دیتا ہے تو یہ زکاة ادا ہو جائے گی۔

یہیں پر ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر گھر میں کئی عورتیں ہوں اور ہر ایک کے پاس اتنی مقدار میں زیور ہے جو نصاب تک نہیں پہنچتا تو ایسا نہیں کیاجائے گا کہ سبھی عورتوں کے زیورات کو ملا کر ان میں سے زکاة نکالی جائے۔ اگر چہ وہ سبھی عورتیں ایک ہی شخص کی زوجیت میں ہوں۔

کیا عورت زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے؟

ہمارے معاشرہ میں عورتوں کی ملکیت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ عورتوں کی آزادی کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے پاس رکھا سرمایہ خواہ نقدی کی شکل میں ہویاجائداد کی شکل میں ، شوہر اپنی ملکیت سمجھ کر خرچ کرتا ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ عورت مالدار ہو اور شوہر غریب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ مگر قرون اولیٰ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بیویاں مالدار ہوں اور شوہر غریب۔ چنانچہ دو صحابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دریافت کیاکہ کیا ہم اپنے غریب شوہروں پر زکاة کی رقم خرچ کر سکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں تم خرچ کر سکتی ہو۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گنے اجر کی بشارت دی، صدقہ کا اجر اور قرابت داری کا اجر۔ (دیکھیں: صحیح بخاری کتاب الزکوٰة، باب الزکوٰة علی الزوج و الایتام فی الحجر، صحیح مسلم: کتاب الزکوة، باب فضل النفقة علی الاقربین و الاولاد)

اس سلسلہ میں یہ قاعدہ ہے کہ زکاة کی رقم ہر اس شخص پر خرچ کی جاسکتی ہے جس کی کفالت کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی۔ شوہر بیوی کا کفیل ہے مگر بیوی شوہر کی کفیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بیوی اپنی زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اتنا غریب ہوکہ بیوی کے زیورات کی زکاة ادا کرنے میں اسے کافی مشقت اٹھانی پڑتی ہو اور پیسے جٹا کروہ اسے ادا کرتا ہو تو بیوی چاہے تو وہ زکوٰہ کی رقم اسی شوہر کو دے سکتی ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

زیور کا نصاب:

بات چونکہ زیور کے زکاة کی ہو رہی ہے اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر اس کا نصاب بیان کر دیا جائے۔ زیور اگر سونے کا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نصاب 20 دینار ہے۔ 20 دینار موجودہ پیمانہ کے مطابق تقریباً 85 گرام ہوتا ہے۔ اور اگر چاندی کا زیور ہے تو اس کا نصاب ۰۰۲ درہم ہے جس کا وزن موجودہ دور کے پیمانے کے مطابق تقریباً 595گرام ہوتا ہے۔ جب سونااور چاندی اس مقدار کو پہنچ جائے تو اس کا چالیسواں حصہ زکاة میں نکالا جائے گا۔

خلاصہ کلام:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱۔ زیورات میں زکاة ہے۔

۲۔ یہ زکاة جب تک زیورات کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہے دینی ہوگی صرف ایک مرتبہ زکاة دینا کافی نہیں۔

۳۔ اگر شوہر غریب ہے تو عورت زکاة کی رقم اس پر خرچ کر سکتی ہے اس وجہ سے کہ بیوی کے اوپر شوہر کے نفقہ کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی ہے۔

بچوں کی صف

0 comments

عام طور پر بچوں کی صف کے بارے میں یہ تصور ہے کہ بڑوں کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی پہلے بڑے لوگوں کی صف ہوگی، پھر بچوں کی اور اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی، لیکن اس مسئلہ میں یہ ضروری سمجھ لینا کہ بچوں کی صف ہر حال میں الگ ہوگی اور اگر کوئی بچہ کسی صف میں شامل  ہو گیا تو اس کی وجہ سے صف ٹوٹ جائے گی غلط ہے۔ ہماری مسجدوں میں عموما اور رمضان کے مہینہ میں خصوصا دیکھا گیا ہے کہ لوگ بلاوجہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی صف اچھوتوں کی طرح مسجد کے ایک کونے میں لگاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے اور صف کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہو لیکن آنے والے نمازیوں کے لیے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بچوں کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کا جو حل ہم لوگوں نے خود سے تلاش کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کو ایک گوشہ مل جاتا ہے جہاں وہ دل کھول کر شور مچاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نبوی طریقہ اپنایا جائے کہ نماز کھڑی ہونے کے وقت سب سے پہلے بڑوں کی صف پھر بچوں کی صف اور سب سے آخر میں عورتوں کی صف بندی ہو تو پھر پچوں کے شور مچانے کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوجائے۔ 
اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث واضح دلیل ہے۔ 
"عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان جدتہ ملیکة دعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لطعام صنعتہ، فاکل منہ ثم قال: قوموا فاصلی لکم، قال انس بن مالک: فقمت لی حصیر لنا قد اسود من طول مالبث فنضحتہ بمائ، فقام علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و صففت انا و الیتیم و راءہ و العجوز من وراءنا، فصلی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رکعتین ثم انصرف۔"
ترجمہ: ”انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جو انھوں نے آپ کے لئے بنایا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھانا تناول فرمایا، اس کے بعد آپ نے کہا کہ کھڑے ہو میں تم لوگوںکو صلاة پڑھادوں ۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لایا جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاﺅ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میںاور یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بوڑھی (دادی) ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی اس کے بعد آپ واپس ہوگئے۔“
”صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب جواز الجماعة فی النافلة“ رقم 266(658)
شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یتیم کا لفظ بتلاتا ہے کہ وہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیںپہنچے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مسند احمد کی حدیث میں اس کی بھی صراحت ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی۔ (دیکھیں مرعاة المفاتیح429)
ظاہر سی بات ہے کہ اگر بچے کی صف کا اعتبار نہ کیا جائے تو گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام کی حیثیت سے اکیلے کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے بھی ایک ہی مصلی ہو ا جو کہ صف بندی کے اصول کے خلاف ہے۔ صف بندی کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دو مصلی ہوں تو امام کے دائیں طرف مصلی کھڑا ہوگا، اور اگر تین ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا اور مصلی پیچھے کھڑے ہوںگے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ بچے کی صف میںموجودگی کا اعتبار نہ ہوگا اس کا وجوداور عدم وجود برابر ہے تو گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک مقتدی کو کھڑا کیا جس طرح کہ عورت کو آپ نے اکیلے کھڑا کیا۔

ضعیف حدیث سے استدلال:

عام طور پر بچوں کی صف کے لئے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
عن ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہ قال:الا احدثکم بصلاة النبی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ قال: فاقام الصلاة فصف الرجال، وصف خلفہم الغلمان ثم صلی بہم فنذکر صلاتہ۔
(سنن ابی داود: کتاب الصلاة باب مقام الصبیان من الصف، مسند احمد 5:341، 342،342، 344، سنن بیہقی 3:47)
”ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة نہ بتاﺅں (پھرابو مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاة قائم کرنے کا حکم دیا، مردوں نے صف بندی کی، ان کے پیچھے بچوں نے صف بندی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو صلاة پڑھائی (پھرابو مالک نے آپ کی صلاة کا مفصل بیان کیا)“
مگر یہ حدیث ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ مشکوٰة المصابیح کی تحقیق میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ایک راوی شہر بن حوشب ہیں سوءحفظ کی وجہ سے ان کی تضعیف کی گئی ہے۔ (تحقیق مشکوٰة المصابیح للا ¿لبانی رقم الحدیث (1115)(10))
صاحب مرعاة المفاتیح اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے بڑوں کی صف پہلے ہوگی، پھر بچوں کی صف ہوگی، اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی۔
مگر آخر میں اس حدیث کا درجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سبھی سندوں میں شہر بن حوشب ہیں اور ان پر کلام کیا گیا ہے۔(مرعاة المفاتیح4:43)
لہٰذا اس حدیث پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی دونوں سندیں (مسند احمد اورسنن ابی داود) ضعیف ہیں۔ اس کے اندر شہر ہیں۔ مردوں کے پیچھے عورتوں کی الگ صف کے بارے میں صحیح احادیث ہیں مگر بچوںکو بڑوں سے پیچھے کرنے کے بارے میں اس کے علاوہ میں کوئی اور حدیث نہ پا سکا، اور اس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ لہٰذا میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا اگر صف میںگنجائش ہو تو بڑے بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یتیم کا انس رضی اللہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاة پڑھنا اس کی دلیل ہے۔
(تمام المنة فی التعلیق علی فقہ السنة ص:284)
صاحب مرعاة المفاتیح شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے علامہ سبکی رحمہ اللہ کا قول اس حدیث پر نقل کیا ہے کہ یہ بات (کہ بچوںکی صف بڑوں کے بعد ہو)اس وقت ہے جب وہ دو یا دو سے زائد ہوں ورنہ اگر ایک ہی بچہ ہے تو وہ صف میں بڑوں کے ساتھ شامل ہوکر صلاة پڑھے گا۔ (مرعاة المفاتیح4:43)
علامہ سبکی کا قول اپنی جگہ پر اس معنی میں درست ہے کہ اگر ایک ہی بچہ ہو تو اس کو صف کے اندر کھڑ اکیا جائے گا اکیلے نہیں۔ مگر ایک سے زائد ہوں تو ان کو صف میں شامل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ صحیح بات اس سلسلہ میں یہی ہے کہ ان کو بھی صف کے اندر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ا ¿ولو النہی (اصحاب خرد) والی حدیث کے عموم سے صف کی ترتیب اگر ہو اور بڑوں کو پہلے رکھا جائے تو بہتر ہے۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بچوں کی صف بڑوں سے پیچھے ہو یہ ضروری نہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس پر بے جاسختی کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حدیث نبوی: لیلنی منکم اولو الاحلام و النہی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونھم (صحیح مسلم: کتاب الصلاة باب تسویة الصفوف و اقامتھا) ( تم لوگوں میں سے عقل و خرد والے لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں) کی وجہ سے صف بندی کے وقت موجود مصلیان اسی ترتیب پر کھڑے ہوںگے۔ اگر علم و معرفت میںکوئی کم عمر کاشخصبڑھا ہوا ہو تب اس کو بڑی عمر والے پر فوقیت دی جائے گی۔ حدیث کا یہی تقاضا ہے۔
بعض مساجد میں دیکھا جا تاہے کہ بچوں کو صف بندی کے وقت ہی مسجد کے کونے میں اچھوتوں کی مانند کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس کے لئے خواہ کوئی بھی توجیہ بیان کی جائے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑوں سے دور ہونے کی وجہ سے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شور مچا کر دوسروں کی صلاة بھی خراب کرتے ہیں۔
ہم آخر میں سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کے دو فتوے اس تعلق سے درج کرتے ہیں۔ امید کہ اس سے زیر غور مسئلہ اوربھی واضح ہو جائے گا۔
”سنت یہ ہے کہ بچے جب سات سال یا اس سے زائد عمر کے ہوجائیں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں جس طرح کہ بالغ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہی مصلی ہے تو وہ امام کے دائیں کھڑا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ابو طلحہ کے گھر صلاة پڑھائی۔ انس اور یتیم کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ام سلیم کو ان دونوں کے پیچھے کھڑا کیا اور آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے انس کو صلاة پڑھائی تو انہیں اپنے دائیں جانب کر لیا۔ اور ابن عباس کو صلاة پڑھائی انہیں اپنے دائیں کرلیا“۔و باللہ التوفیق
(فتاوی اللجنة الدائمة السوال الثالث من الفتوی رقم 1954)
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بچہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہے تو کیا اس کی صف شمار ہوگی، کمیٹی نے جواب دیا ہے:
”اگر بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو اس کی جماعت منعقد ہوگی اور صف بھی ۔“
(فتاوی اللجنةالدائمة السول الثانی من الفتوی رقم 3987)
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے یہ پوچھا گیا کہ اگر بچے پہلے آگئے ہوں تو ان کو پیچھے کرنا کیسا ہے؟
شیخ نے اس نے جواب میں کہا: ایسا کرنا جائزنہیں اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کسی آدمی کو اٹھا کر مجلس میں اس کی جگہ پر بیٹھا جائے، ہاں، اگر ان بچوںکی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو ان اولیاء(گارجین)سے کہہ کر ان کو مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے“ (مجموع فتاوی ورسائل للعثیمین 13:39 رقم 404)
گویا کہ شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بچہ پہلے آکر اگلی صف میںکھڑا ہو گیا ہے تو بعد میں آنے والا اس کے بعد کھڑا ہو گا اس کو اس کی جگہ سے ہٹاکر صف نہیں لگائے گا۔
عام طور پر ہماری مساجد میں اس کے خلاف ہوتا ہے ہر کوئی بچے کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ خود کھڑا ہوجاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی کو اگلی صف میں کھڑا ہونا ہے تو اسے پہلے مسجد میں آنا چاہیے پہلے سے موجود مصلیوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی خواہ وہ ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

Wednesday, June 24, 2009

کیا حادثہ کربلا کے بعد مسلمانوں نے اپنے بچوں کا یزید نام رکھنا چھوڑدیا؟

3 comments



تاریخ کی مظلوم شخصیات کی اگر فہرست بنائی جائے تو ان میں یزید بن معاویہ رحمہ اﷲ کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ حسین رضی اﷲ عنہ کو قتل کرانے کی سازش سے لے کر اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے والے شیعوں کی بات چھوڑیئے، اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کے زمرہ میں شامل کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد نے بھی ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ شیعوں کے ذریعہ پھیلائی گئی بدگمانیوں سے متاثر ہوکر یہ لوگ بھی حقیقت کی تلاش کئے بغیر ان کی آواز سے آواز ملانے لگے۔ اس تاریخی ظلم کے خلاف جب بھی آواز اٹھائی گئی تو ان دونوں گروہوں کی طرف سے زبردستی اسے دبانے کی کوشش کی گئی۔ بنو امیہ اور خصوصاً یزید اور ان کے والد معاویہ رضی اﷲ کی خدمات کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا پھر انہیں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ بنو امیہ کی تاریخ پر ایک دبیز پردہ پڑ گیا جس سے حقیقت کی تلاش ایک مشکل امر بن کر رہ گئی۔
یزید دشمنی ہی کا نتیجہ ہے یا لا علمی کی دین کہ امت کے ایک بڑے طبقہ نے یہ سمجھ لیا کہ یزید چونکہ شرابی، جواری اور نعوذ باﷲ زانی تھا، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اﷲ کے رسول کے نواسے حسین بن علی رضی اﷲ کا قاتل تھا اس وجہ سے واقعہ کربلا کے بعد امت نے اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑدیا۔ یہ بات اس قدر مشہور ہوئی کہ بر صغیر ہندوپاک میں شاید ہی کوئی یزید نام رکھنے کی ہمت کرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو جس کی پرورش شیعیت کی گود میں ہوئی،نے یزید کو اسلامی تاریخ کا”راون“ بناکر پیش کیا۔ بدی کی علامت کے طورپریزید کا نام جڑنے کی وجہ سے اس سے مشتق بہت سے الفاظ اردو ادب میں چلے آئے۔ کسی بھی چیز کی مذمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس میں ”یزیدی“ کالاحقہ لگا دیا جائے مثلاً یزیدی دسترخوان، یزیدی فوج وغیرہ۔ مولانا محمد علی جوہر اس سلسلہ میں دھوکہ کھا گئے اور کہہ بیٹھے:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ایسے میں ”یزید“ نام رکھنے کی توقع کرنا فضول ہے۔ کون ہوگا جو اپنے بچے کو زندگی بھر لعنت و ملامت کی زد میں دیکھنا پسند کرے؟
کیا واقعی امت نے واقعہ کربلا کے بعد یزید نام رکھنا چھوڑ دیا؟
عوام میں یہ بات مشہور ہے اوربعض علماءبھی اسی شہرت سے مرعوب ہوکر اس قسم کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت کیا ہے کبھی شاید ہی کسی نے اس کی طرف توجہ دی ہو۔ آیئے ہم اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید رحمہ اﷲ کی ولادت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں۵۲ھ میں ہوئی۔ (تاریخ الرسل والملوک الجزءالاول سنة خمس وعشرین)
آپ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد ۰۶ھ میں خلیفہ مقرر ہوئے اس کے ایک سال بعد واقعہ کربلا پیش آیا جس میں اہل بیت کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی ان میں حسین بن علی رضی اﷲ عنہ بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے تین سال بعد یزید رحمہ اﷲ کا انتقال ہوجاتا ہے۔اس تاریخی ترتیب کی رو سے ضروری ہوتا ہے کہ ہمیں تاریخ کے اوراق میں کم از کم مشہور ترین ہستیوں میں کوئی نام یزید کا نہ ملے جو ۱۶ھ کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ خاص طور پر شروع کے سو سالوں کے اندر یعنی ۰۶ھ سے لے کر ۰۶۱ھ کے درمیان کے عرصہ میں اس وجہ سے کہ اس وقت تک حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے زخم ہرے تھے۔ نفرت کی وجہ جتنی قریب ہوتی ہے نفرت اسی اعتبار سے شدید ہوتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ہم نے جب ”یزید“ نام کے ان اشخاص کی تلاش کی جو واقعہ کربلا کے بعد پیدا ہوئے تو حیرت انگیز طور پر ہمارے سامنے ناموں کی ایک بڑی فہرست جمع ہوگئی۔ یہ نام ان ائمہ و محدثین کے ہیں جن کا علم ومعرفت میں ایک بڑا مقام ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ان سے روایتیں کی گئی ہیں اس لئے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں ”یزید“ نام رکھنے کی ”ممانعت“ کا علم نہ تھا یا یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہ تھا۔ یزید رحمہ اﷲ تابعی تھے لہٰذا تبع تابعین اور ان کے بعد کے ادوار کے علماءکرام اور محدثین عظام میں یزید نام رکھنے والوں کی ایک مختصر فہرست نیچے درج کی جاتی ہے۔

علماء و محدثین جن کے نام یزید تھے:

۱- یزید بن ابراہیم التستری:
کبار تبع تابعین میں سے ہیں۔ ان کی وفات ۷۶۱ھ میں ہوئی ان سے بخاری، مسلم، ابودا

¶د، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔
۲- یزید بن حیان المنبطی البلخی مولی بکر بن وائل:
کبار تبع تابعین میں سے ہیں ان سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ ابن حجر کے یہاں ان کا مرتبہ صدوق ہے اور بخاری نے کہا ہے کہ ان کے یہاں غلطیاں بہت زیادہ ہیں۔
۳- یزید بن خالد بن یزید بن عبد اﷲ بن موہب الہمدانی:
دسویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا درجہ ہے۔ وفات ۲۳۲ھ یا اس کے بعد ہوئی۔ روایتیں ابو داود، نسائی، ابن ماجہ میں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ ، عابد اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
۵- یزید بن زریع العیشی:
پیدائش ۱۰۱ھ میں ہوئی۔ اوساط تبع تابعین میں سے ہیں ۲۸۱ھ میں بصرہ میں وفات پائی ان کی روایتیں بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ ، ثبت اور ذہبی نے حافظہ قرار دیا ہے۔
۶- یزید بن السمط الصنعانی الفقیہ:
نویں طبقہ سے جو صغار تبع تابعین کا ہے، تعلق رکھتے ہیں۔ ۰۶۱ھ کے بعد وفات پائی۔ ان کی روایتیں ابن ماجہ، نسائی اور مراسیل ابو داود میں ہیں۔ حافظ نے کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں اورحاکم نے ان کو ضعیف کہہ کر غلطی کی ہے۔ ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
۷-یزید بن سنان بن یزید القرشی الاموی:
ان کی پیدائش ۸۷۱ھ کی ہے گیارہواں طبقہ جو کہ تبع تابعین کے بعد والے طبقہ کے درمیانی لوگوں کاہے ، سے تعلق رکھتے ہیں۔ ۹۶۲ھ میں مصر میں وفات پائی۔ ان کی روایتیں نسائی میں ملتی ہیں۔ ابن حجر اور ذہبی نے ثقہ کہا ہے۔
۸- یزید بن عبد اﷲ بن رزیق القرشی:
دسویں طبقہ کے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کے لوگوں کا طبقہ کا ہے۔ ان کی روایتیں نسائی میں ہیں حافظ نے مقبول اور ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے۔
۹- یزید بن عبد اﷲ بن یزید:
نویں طبقہ کے ہیں جو صغار تبع تابعین کا طبقہ ہے۔ ان کی روایتیں ابن ماجہ میں ہیں۔ حافظ ابن حجر نے مقبول اور ذہبی نے ابن حبان کے حوالے سے ثقہ کہا ہے۔
۰۱- یزید بن عبد ربہ الزبیدی ابو الفضل الحمصی الموذن:
جرجسی کے نام سے معروف ہیں پیدائش ۸۶۱ھ میں ہوئی دسویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا طبقہ ہے۔ وفات ۴۲۲ھ میں ہوئی۔ مسلم، ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ میں ان کی روایتیں ہیں۔ حافظ نے ثقہ اور ذہبی نے حافظ کہا ہے۔
۱۱-یزید بن عطاءبن یزید الیشکری:
ساتویں طبقہ کے ہیں جو کبار تبع تابعین کا ہے۔ وفات ۷۷۱ھ میں ہوئی بخاری نے خلق افعال العبادمیں اور ابو داود نے سنن میں روایت کی ہے۔ ابن حجر نے لین الحدیث اور ذہبی نے ابن عدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ لین الحدیث ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہیں۔
۲۱- یزید بن قبیس بن سلیمان السیلحی:
تبع تابعین کے بعد کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابو داود میں ان کی روایت ہے۔ ابن حجر اور ذہبی کے یہاں ثقہ ہیں۔
۳۱- یزید بن محمد بن عبد الصمد:
پیدائش ۸۹۱ھ میں ہوئی تبع تابعین کے بعد کے طبقہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ۷۷۲ھ میں دمشق میں انتقال ہوا۔ ابوداود اور نسائی نے ان سے روایتیں لی ہیں۔ حافظ کے یہاں صدوق اور ذہبی کے یہاں ثقہ اور حافظ ہیں۔
۴۱- یزید بن محمد بن فضیل الجزری:
گیارہویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو تبع تابعین کے بعد کا طبقہ ہے۔
۵۱- یزید بن مغلس بن عبد اﷲ بن یزید الباہلی:
صغار تبع تابعین سے ان کا تعلق ہے۔
۶۱- یزید بن مہران الاسدی:
تبع تابعین کے بعد سے ان کا تعلق ہے۔ ۹۲۲ھ میں وفات پائی ان کی روایت نسائی میں ہے۔
۷۱- یزید بن ہارون بن زاذی:
پیدائش ۷۱۱ھ یا ۸۱۱ھ میں ہوئی صغار تبع تابعین میں سے ہیں۔ ۶۰۲ھ میں وفات پائی۔ کتب ستہ میں ان سے روایتیں ہیں۔ ابن حجر نے ثقہ، عابد اور متقن کہا ہے۔ ابن مدینی نے کہا ہے کہ ان سے زیادہ حافظ کا پختہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔
۸۱-یزید بن ابی یزید الضبعی:
پیدائش ۰۰۱ھ میں ہوئی۔ ۰۳۱ھ میں وفات ہوئی۔ کتب ستہ میں ان سے روایتیں ہیں۔ حافظ ابن حجر نے ثقہ اور عابد کہا ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں: تہذیب الکمال للمزی، تہذیب التہذیب للحافظ ابن حجر رحمہ اﷲ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم اور میزان الاعتدال للامام الذہبی)

یہ نام علماءمحدثین کے ہیں جن کو حافظ ابن حجر اور حافظ ذہبی وغیرہم نے ذکر کیا ہے۔ اختصار کی وجہ سے بہت سارے نام یہاں پر درج نہیں کئے جاسکے ہیں۔ ان عظیم شخصیات کے یزید نام رکھنے سے ایک بات واضح ہے کہ اس زمانہ میں یزید نام رکھنا برا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ ان لوگوں کے یہاں یہ ایک پسندیدہ نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت سے نام ایسے ہیں کہ دادا یا والد کا نام یزید ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کا نام یزید رکھا۔
نام رکھنے کے تعلق سے ایک بات بہت واضح ہونی چاہیےکہ آدمی صرف انہی کا نام رکھتا ہے جن سے ان کو محبت ہوتی ہے یا کم از کم ان سے نفرت نہیں ہوتی ہے۔اگر یزید سے ان لوگوں کو نفرت ہوتی تو اپنے چہیتے بیٹوں کا نام وہ ہر گز یزید نہ رکھتے۔

یزیدنام کے صحابہ کرام

اگر ہم کچھ وقت کے لئے یہ مان لیں کہ یزید نام اس وجہ سے نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ معاویہ بن سفیان کے بیٹے کانام تھا جن کے اوپر یہ الزام رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کروایا تو آخر صحابہکرام میں بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا نام یزید تھاتو پھر صحابہ کرام کی محبت میں یزید نام کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ذیل میں ہم ان صحابہ کرام کے نام درج کر رہے ہیں:
۱- یزید بن اسود السوائی الخزاعی: یہ قریش کے حلیف اور جابر کے والدہیں۔
۲- یزید بن ثابت الضحاک الانصاری: یہ زید بن ثابت کے بھائی ہیں اور ان سے عمر میں بڑے تھے۔
۳- یزید بن سعید بن تمامہ بن الاسود
۴- یزید بن ابو سفیان: معاویہ بن ابو سفیان کے بھائی۔
۵- یزید بن سلمہ بن یزید بن مشجعہ بن الجعفی
۶- یزید بن شیبان الازدی
۷- یزید بن عامر بن الاسود بن حبیب بن سواءة
یاد رہے کہ یزید نام کے صحابہ کرام کی ایک لمبی فہرست ہے یہاں پر سبھی نام درج کرنا مناسب ہے اور نہ ممکن مزید معلومات کے لئے الاصابہ اور اسد الغابہ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔

قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کی فضیلت

قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ ٥٠ھ ھجری میں بسر بن ارطاۃ کی قیادت میں ہوا۔ یہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں پر جب سخت حالات پڑے تو مدد کے لئے معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید رحمہ اﷲ کی قیادت میں کمک بھیجی۔ اس موقع پر یزید کی قیادت میں ابو ایوب انصاری، ابن عباس اور ابن عمر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
اس حدیث سے جہاں یزید کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ روم پر لشکر کشی کرنے والے پہلے لشکر کی قیادت کر رہے تھے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک اور صالح انسان تھے اس لئے کہ اگر وہ اس کیرکٹر کے ہوتے جو بعض لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں تو ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی ان کی قیادت میں ہرگز جہاد کرنے پر راضی نہ ہوتے۔
اس موقع پر ایک اوربات قابل غور ہے، وہ یہ کہ امیر معاویہ نے لشکر کی قیادت پہلے پہل یزید کے ہاتھ میں نہ دی۔ اگر انہیں واقعی یزید کو آگے بڑھانا ہوتا تو وہ ضرور ایسا کرتے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس غزوہ کی شہرت حدیث رسول کی وجہ سے مشہور و معروف تھی ہر کوئی یہ خواہش کرتا تھا کہ اس جنگ میں شریک ہوکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت کا حق دار ہوجائے۔
کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیںکہ ''قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جن کے اندر مغفرت کی اہلیت ہے۔ چونکہ یزید کافر ومرتد ہو کر مرا تھا اس وجہ سے وہ اس بشارت کا حقدار نہیں''۔
جہاں تک یزید کے کافر و مرتد ہونے کی بات ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ نواسہئ رسول حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قتل یزید نے خود کرایا تب بھی یزید کو کافر یا مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لئے کہ نبی کے علاوہ کسی کے قتل پر کسی کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ واقعی کافر ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا یہ قول خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم ٥٧٥٢)
لہٰذا بغیر سوچے سمجھے صرف سنی سنائی باتوں میں آکر کسی کو کافر کہنے سے بچنا چاہئے۔
جہاں تک رہی یزید کو اس بشارت سے الگ کرنے کی بات تو حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت یا گروہ کے بارے میں مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل اللہ کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی جا رہی ہے کہ اس شخص یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی۔ جن صحابہئ کرام کو آپ ؐ نے جنت کی بشارت دی ان کے ساتھ ''ایمان پر موت'' کی شرط نہیں لگائی۔ اسی طرح قسطنطنیہ کے فوجی بیڑے کے بارے میں بھی کوئی شرط نہیں لگائی۔ لہٰذا ہم اپنی طرف سے کوئی شرط کیوں کر لگا سکتے ہیں؟
یزید کی خلافت:
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اپنے آخری ایام میں اس بات کی فکر ہوئی کہ اگر موت سے پہلے خلیفہ کی تعیین نہ کی گئی تو امت ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار ہوجائے گی۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حسین بن علی، ابن زبیر، ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ عنہم کے علاوہ کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ان لوگوں کا اعتراض یزید پر نہیں تھا بلکہ اس تجویز پر اعتراض تھا کہ خلیفہ باپ کے بعد بیٹا بنے۔ تفصیل کے لئے (دیکھیں: تاریخ الإسلام للإمام الذہبی ٣/١٨٦، تاریخ طبری ٥/٣٠٣، تاریخ الخلفاء ص ٢١٣)
تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ یزید کو خلیفہ بنانے پر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لعن طعن کرتے ہیں وہ خود بھی موروثیت کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ وراثتاً بارہ امام تک کی بات کرتے ہیں۔ آخر یہ نا انصافی امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے صاحبزادے یزید رحمہ اﷲکے ساتھ ہی کیوں؟
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ صحابیِ رسول تھے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی تربیت ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا خود رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تربیت کے بارے میں شک کرنا ہے۔ خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے یزید کی خلافت کے بارے میں یہ کلمات ہیں:
أللہم إن کنت إنما عہدت لیزید لما رأیت بن فضلہ، فبلغہ ما أمکث وأعنہ، وإن کانت إنما حملنی حب الوالد لولدہ، وأنہ لیس لما صنعت بہ أہلا فأقبضہ قبل أن یبلغ ذلک۔ (تاریخ الإسلام للذہبی۔ عہد معاویۃ بن أبی سفیان ص ١٦٩)
''اے اﷲ اگر میں نے یزید کو ولی عہد اس کے فضل کی وجہ سے بنایا ہو تو اس کو میری امیدوں کو علمی جامہ پہنانے والا بنا اور اس کام میں تو اس کی مدد کر، اور اگر مجھے اس نام پر ابھارنے والی چیز ایک باپ کے اندر بیٹے کی محبت ہے تو اس کومقصد تک پہنچنے سے پہلے اٹھالے''۔
ابن خلدون کہتے ہیں:
''امیر معاویہ نے یزید کو ولی عہد اختلاف سے بچنے کے لئے بنایا اس لئے کہ بنو امیہ اپنے علاوہ کسی اور کو حاکم ماننے پر راضی نہ ہوتے۔ اگر آپ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلیفہ بناتے تو وہ لوگ اختلاف کرتے''۔ (مقدمہ ابن خلدون٢٠٦)
ابن العربی العواصم من القواصم میں صحابہ کرام میں سے ایک جلیل القدر صحابی کا قول نقل کرتے ہیں:
وہ کہتے ہیں:
''ہم ایک صحابی کے پاس جب یزید بن معاویہ خلیفہ بنا دئے گئے تو گئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یزید امت محمدیہ کا بہترین شخص نہیں نہ ا ن میں سب سے زیادہ فقہ کا علم رکھنے والا نہ شرف کے لحاظ سے ان میں زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں مگر اﷲ کی قسم امت محمدیہ متحد ہو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ افتراق کا شکار ہو۔ '' (العواصم من القواصم ص:٢٣١)
یزید کے بارے میں معتدل رائے:
یزید کے بارے میں امت میں عام طور پر غلو سے کام لیا جاتا ہے، مخالفین ان کی مخالفت میں غلو کرتے ہیں، اور مؤیدین ان کی حمایت میں غلو کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اہل سنت والجماعت کی معتدل رائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے پیش کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
''لوگ یزید بن معاویہ کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہو
ـئے ہیں۔ دو غلو کرنے والے ہیں اور ایک معتدل فرقہ ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر اور منافق تھے۔ انہوں نے اﷲ کے رسول کے نواسے کو قتل کرانے کی کوشش کی ان سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے قتلِ حسین کے ذریعہ اپنے دادا عتبہ اور ان کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کا انتقام لیا جن کو صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب وغیرہ نے غزوہئ بدر اور بعد کی جنگوں میں قتل کیا۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ بدری کینہ تھا اور جاہلی انتقام۔ ایسی بات کہنا شیعہ روافض کے لیے آسان ہے اس وجہ سے کہ وہ ابو بکر، عمر اور عثمان جیسے صحابہ کرام کو کافر بتاتے ہیں تو ان کے لئے یزید کو کافر کہنا زیادہ آسان ہے۔
دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہ ایک نیک انسان، عادل امام اور صحابہ کرام میں سے تھے۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اٹھایا اوربرکت کی دعا کی۔ ان میں سے بعض تو یزید بن معاویہ کو ابو بکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں اور بعض تو انہیں نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ غلو پسندوں اور گمراہ کرنے والوں کے اقوال ہیں۔
تیسرا قول یزید کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھے۔ جس طرح ان سے بھلائی کے کام ہوئے اسی طرح سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ ان کی ولادت عثمان غنی کی خلافت میںہوئی۔ وہ کافر نہیں تھے البتہ ان کی وجہ سے حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور جو کچھ اہل حرۃ کے ساتھ کیا گیاوہ نہ تو صحابی تھے نہ ہی ولی تھے۔ یہ عام اہل علم و عقل اور اہل سنت والجماعت کا قول ہے۔'' (دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٤٨٢-٤٨١/٤)
ابن صلاح سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا حکم دینے والا اور قتل کی طرف پیش قدمی کرنے والا عبید اﷲ بن زیاد تھا جو کہ اس وقت عراق کا گورنر تھا۔ حدیث میں ہے کہ مومن پر لعنت بھیجنا اس سے جنگ کرنا ہے۔ (فتح الباری ١٠/٤٧٩) حسین رضی اﷲ کا قاتل اس قتل سے کافر نہیں ہوگیا۔ بلکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ہاں، اگر کوئی کسی نبی کو قتل کرے تو وہ کافر ہوگا۔ (قید الشرید ص٥٩-٦٠)
جہاں تک یزید پر لعنت بھیجنے کی بات ہے تو شریعت میں جب کسی جاندار پر لعنت بھیجنے سے منع کیا گیا ہے تو کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
یزید کے بارے میں محمد بن الحنفیہ کی شہادت کافی ہے۔ یہ اہل بیت میں سے ہیں اس لئے ان کی شہادت کا دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ اعتبار ہوگا۔
ابن کثیر روایت کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مطیع جو کہ عبداﷲ بن زبیر کے داعی تھے وہ اور ان کے اصحاب مدینہ سے محمد بن الحنفیہ کے پاس گئے ۔انہوں نے محمد بن الحنفیہ کو یزید سے جدا کرنا چاہا۔ محمد بن الحنفیہ نے انکار کردیا۔ ابن مطیع نے کہا: یزید تو شراب پیتا ہے، صلاۃ چھوڑتا ہے، کتاب اﷲ کے حکم کی خلافت ورزی کرتا ہے۔ محمد بن الحنفیہ نے کہا: میں نے ان کے اندروہ باتیں نہیں دیکھیں جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ میں ان کے پاس گیا ان کے یہاں قیام کیا میں نے انہیں صلاۃ کی پابندی کرتے دیکھا۔ بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ فقہ کے بارے میں دریافت کرتے، سنت کا التزام کرتے دیکھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب وہ دکھاوے کے لئے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخر وہ کیوں مجھ سے ڈرنے لگے یا مجھ سے کس چیز کی امید کرنے لگے کہ میرے لئے خشوع و خضوع کی نمائش کرنے لگے؟ تم لوگ جو یزید پر شراب نوشی کے بارے میں کہہ رہے ہو اس کے بارے میں بتاتاہوں۔ اگر تم لوگوں نے ان کو شراب پیتے دیکھا تو تم ان کے شریک ہوئے۔ اگر تم لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا تو تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا کہ تم کوجس چیز کا علم نہیں اس کے بارے میں خبردو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ ہمارے یہاں حق ہے اگرچہ ہم نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے گواہی دینے والے کے لئے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تمہارے معاملہ میں مجھے مداخلت نہیں کرنی ہے۔
(البدایۃوالنہایۃ ٨/٢٣٣تاریخ الاسلام حوادث ٨٠-٦١ص٢٧٤محمد الشیبانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیں مواقف المعارضۃ من خلافۃ یزید بن معاویہ ص ٣٨٤)
یزید بن معاویہ کے بارے میں من گھڑت روایت:
احادیث گھڑنے والوں نے عبادات و معاملات کے بارے میں احادیث گھڑنے کے علاوہ تاریخی واقعات کے بارے میں اپنی طرف سے جھوٹی احادیث گھڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردی ہیں۔ ابو حنیفہ اور امام شافعی کی فضیلت اور مذمت میں حدیث گھڑنے والوں نے جو حدیثیں گھڑی ہیں وہ مشہور و معروف ہیں۔
انہی گھڑی ہوئی حدیثوں میں سے ایک حدیث یہ ہے:
عن أبی عبیدۃ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لایزال امر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔ (البدایۃ والنہایۃ ٨/٢٥٣)
''ہماری امت کا معاملہ انصاف پر قائم رہے گا یہاں تک کہ بنی امیہ کا ایک آدمی اس کا ایک حصہ ڈھا دے گا اس کا نام یزید ہوگا۔ ''
پھرابن کثیر نے ابن عساکر کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت مکحول اور ابوثعلبہ کے درمیان منقطع ہے۔
یہ روایت عقل کے لحاظ سے بھی موضوع و من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ مذکورہ روایت ابو عبیدہ بن جراح (پیدائش ٢٨ھ) کے علاوہ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یزید دس سال کے تھے۔ اس عمر تک ان کے ساتھ رہے علمی استفادہ بھی کیا۔ سوال یہ ہے کہ ابو درداء نے معاویہ سے کہہ کر یزید کا نام کیوں نہیں بدلوا دیا اور اس حدیث کی بنیاد پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ اس لڑکے کو خلافت مت سونپنا کیوں کہ یہ معتوب ہے؟
یزید کے تعلقات اہل بیت سے:
اہل بیت سے یزید کے تعلقات حسین رضی اﷲ عنہ کے خروج کے بعد بھی اچھے رہے۔ ان کے تعلقات علی بن حسین، عبد اﷲ بن عباس اور محمد بن حنفیہ سے آخر تک اچھے رہے، جہاں تک عبد اﷲ بن جعفر کی بات ہے تو ان کے یزید سے دوستانہ مراسم تھے۔ یزید ان کی کسی فرمائش کو رد نہیں کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن جعفر کہا کرتے تھے: کیا تم مجھے یزید کے بارے میں اچھی رائے رکھنے پر برا بھلا کہتے ہو؟ (قید الشرید فی أخبار یزید ص ٣٥)
کیا یزید ظالم تھے؟
عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یزید ایک ظالم بادشاہ تھا حسین رضی اللہ عنہ نے رعایا کو یزید کے ظلم و جور سے نجات دلانے کے لئے ان کے خلاف جنگ کی۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کے خروج اور یزید کی تخت نشینی کے درمیان کے چھ ماہ کے عرصہ میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی ہے کہ پورے عالم اسلام میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ اللہ کی مخلوق تلملا اٹھی تھی۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے صوبوں میں خلیفہ کی جانشینی کے جواز اور عدم جواز پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ صرف کوفی سبائی شرارت پر تلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ کیا جا رہا تھا۔
اگر واقعی حسین رضی اللہ عنہ رعایا کو یزید کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اٹھے ہوتے تو وہ ملت اسلامیہ میں اعلان کرکے ایک بڑے لشکر کے ساتھ اٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے۔ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی بات ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے:
''وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ'' (البقرۃ: ١٩٥)
''اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو''
دشمن کے مقابلہ کے لئے ہتھیار تیار کرنے کو کہا گیا ہے:
''وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃِ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ'' (انفال:٦٠)
''(دشمن) کے مقابلہ کے لئے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلات جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو''
کیا حسین رضی اللہ عنہ اتنے ناعاقبت اندیش تھے کہ ان کو نتیجہ کا علم نہیں تھا؟ کہ اس سے ظالم کا ظلم اور بڑھ جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ ظالم سے رعایا کو نجات دلانے کی ذمہ داری صرف حسین رضی اللہ عنہ پر ہی نہ تھی دوسرے لوگ بھی اس کے مکلف تھے؟ آخر وہ کیوں نہیں سامنے آئے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ آپ کوفیوں کی سازش کا شکار ہو گئے تھے جنہوں نے آپ کو خطوط لکھ کر خلافت کے لئے دعوت دی اور جب حسین رضی اللہ عنہ نے حقیقتِ حال جاننے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا تو انہیں دھوکہ سے قتل کرا دیا۔ ابتداء میں آپ کوفیوں کی دعوت پر گھر سے نکلے تھے مگر جب راستے میں مسلم کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اہل خاندان کے دباؤ میں خون کا بدلہ لینے کے لئے نکلے۔ اس کے بعد جو کچھ بھی پیش آیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
جس طرح ہندؤں کے یہاں مہابھارت کو حق و باطل کی لڑائی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر ان قصوں پر یقین کیا جائے تو یہ سراسر سیاسی نوعیت کی جنگ تھی۔ وہی حال واقعہ کربلا کا بھی ہے۔ یہ جنگ بھی سیاسی نوعیت کی تھی۔
جہاں تک رہی بات کربلا کے موقع پر اہل بیت پر ہوئے مظالم کی داستانوں کی تو ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ آخر ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ صرف مسلم بن عقیل کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور اہل بیت اٹھ کھڑے ہوئے مگر کربلا میں اہل بیت کو پیاسا رکھا گیا پیاسے بچوں کے حلق پر تیر برسائے گئے، مقتولین کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا۔ سروں کو نیزہ پر اٹھا کر بازاروں میں گھمایا گیا۔ اہل بیت کی عورتوں کی چادریں چھین کر نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا۔ اس پر صحابہ کرام خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چھ مہینہ بعد علی بن حسین زین العابدین مدینہ گئے۔ لازما انہوں نے اہل بیت کے ساتھ ہوئے ان مظالم کی داستان بیان کی ہوگی مگر اس پر اہل مدینہ خصوصاً ہاشمی گھرانے کے افراد خاموش رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
صحابہئ کرام کا عمل یہ بتاتا ہے کی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ان کے یہاں یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔
نام رکھنے کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت:
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سب سے زیادہ عبد اﷲ اور عبد الرحمان کے نام کو پسند کرتے تھے۔ (دیکھیں سنن ابی داؤد ٤/٢٨٧ رقم ٤٩،٤٩ حدیث صحیح ہے) در اصل عبد اﷲ میں اﷲ کے ذاتی نام کی طرف بندہ منسوب ہوتا ہے اور عبد الرحمان میں بندہ اﷲ کے صفاتی نام رحمان کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لہٰذا عبد کی اضافت اﷲ کے ذاتی یا صفاتی نام کی طرف کی جائے، کسی اور کی طرف نہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرا نام رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) مت رکھو۔ (سنن أبی داؤد ٤/٢٩١ رقم ٤٩٦٥)حدیث صحیح ہے علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
اﷲ کے رسول نے چند ناموں سے منع بھی فرمایا ہے چنانچہ افلح اور یسار جیسے نام رکھنے سے منع فرمایا اسکی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس سے لوگ خواہ مخواہ تشویش میں مبتلا ہوںگے (دیکھیں سنن أبی داؤد ٤/٢٩٠، رقم ٤٩٥٨)
آپ کا یہ بھی طریقہ تھا کہ کسی کا غلط نام دیکھتے تو اس کو بدل کر بہتر نام رکھ دیتے۔
نام رکھنے میں چند چیزوں کی رعایت ہونی چاہئے:
(١) نام سے شرک کی بو نہ آئے۔
(٢) تکبر کا اظہار نہ ہو۔
(٣) صاحب نام کی تذلیل نہ ہوتی ہو۔
مذکورہ بالا چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور علماء کرام کے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وہ حدیث جس میں انبیاء کرام کے نام پر نام رکھنے کی بات کہی گئی ہے اگرچہ ضعیف ہے مگر چونکہ رسول اکرم ؐنے خود اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اس سے دیگر انبیاء کے نام پر نام رکھنے کی اجازت کی بات سمجھ میں آتی ہے۔
صحابہئ کرام کے نام پر نام رکھنا ان سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔ جس پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابھارا ہے (من أحبہم فبحبی أحبہم)
ہم گذشتہ سطور میں بیان کرچکے ہیں کہ صحابہئ کرام میں یزید نام رکھنے والے صحابہ کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ان کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کا نام اگر یزید رکھتے ہیں تو غلط بات نہ ہوگی۔ جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد کے لوگوں نے بغیر کسی جھجک کے اس نام کو رکھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کردیا جائے۔ صحابہئ کرام کے بعد تابعین میں سے ایک شخص کے یزید نام ہونے کی وجہ سے جس کے اوپر حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کرانے کا الزام ہے، یہ نام ہمیشہ کے لئے مکروہ یا ناجائز نہیں ہوگیا۔ اگر یہ بات صحیح بھی ہوجائے کہ یزید رحمہ اﷲنے حسین رضی اﷲ عنہ کا قتل کرایا ہے تب بھی ہم اس کی وجہ سے اس نام کے رکھنے کو مکروہ نہیں قرار دے سکتے۔
خاتمہ:
اس پورے مضمون کا مقصد اس باطل خیال کی تردید کرنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد امت نے متفقہ طور پر اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ ضمنی ہیں۔ یزید بن معاویہ کے بارے میں مخالفین و مؤیدین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں بے جا الزام تراشی سے بچائے۔ آمین۔ ٭٭٭