جمعرات, جون 25, 2009

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو اس کی وفات کے بعد دیکھنا اور نہلانا

0 comments
ہم آواگون کے قائل نہیں کہ جس کی بنیاد پر یہ کہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ سات جنموں تک رہتا ہے مگر یہ ضرورمانتے ہیں کہ یہ رشتہ اتنا کمزور بھی نہیں ہوتا کہ ان میں سے کسی ایک کی وفات کے ساتھ ہی وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوجائیں۔ اب ان میں سے کسی ایک کا دوسرے کی طرف دیکھنا ناجائزاورحرام ہو جائے۔ آج ہم برصغیر ہندوپاک میں خصوصاً اوردیگر جگہوں پر عموماً پائی جانے والی اس جہالت پر گفتگو کریں گے جس کو لوگوں نے دین کے نام پر فروغ دے دیا ہے، وہ ہے بیوی کے مرنے کے بعد شوہر کو بیوی کا چہرہ دیکھنے سے منع کرنا ۔ جب جہالت کی یہ حالت ہو تو یہ کیسے سمجھا جاسکتا ہے کہ کوئی شوہر کو یہ اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو غسل دے۔ حالانکہ اس تعلق سے صریح احادیث موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شوہر بیوی کو اس کے انتقال کے بعد غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی عورت ایسی موجودہو جو اس کو غسل دے سکتی ہو۔ اسی طرح بیوی اگر چاہے تو شوہر کو غسل دے سکتی ہے اگرچہ کوئی آدمی نہلانے والا موجود ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
رجع الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من جنازة بالبقیع وانا اجد صداعاً فی راسی واقول واراساہ! فقال : بل انا وارساہ! ماضرک لومت قبلی فغلستک، وکفنتک، ثم صلیت علیک ودفنتک۔
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص کی صلاة جنازہ پڑھاکر میرے پاس آئے۔ اس وقت میرے سر میں زور کا درد ہورہا تھا جس کی وجہ سے میں کراہ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا : تمہیں کیا پریشانی ہے؟ اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاتیںمیں تمہیں اپنے ہاتھوں سے نہلاتا، خود کفن پہناتا، پھر تمہاری صلاة جنازہ پڑھ کر تمہیں دفناتا۔“
تخریج
اس حدیث کو ابن ماجہ نے کتاب الجنائز باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم رقم 6586، 1466،بیہقی نے کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 645 میں درج کیا ہے، اور اس کے علاوہ احمد نے اپنی مسند6:288 میں دارمی نے اپنی مسند1:37-38 میں، دارقطنی نے اپنی سنن 192 میں اورابن ہشام نے السیرة میں 4:643 نے میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ سبھوں نے اس حدیث کو محمد بن مسلمہ عن محمد بن اسحاق عن یعقوب بن عتبہ عن الزہری عن عبیداللہ بن عبداللہ عن عائشةکی سند سے بیان کیا ہے۔
حدیث کا درجہ
حدیث صحیح ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز وبدعہا میں کہتے ہیں کہ سند میں اگر چہ محمد بن اسحاق ہیں (جو کہ مدلس ہیں) اورعنعنہ کے ذریعہ روایت کررہے ہیں مگر چونکہ سیرة ابن ہشام میں تحدیث کی صراحت کردی گئی ہے۔ لہذا حدیث ثابت ہے۔ (دیکھیں:احکام الجنائزص50)
ہیثمی نے مجمع الزوائد میںکہا ہے: اسناد رجالہ ثقات رواہ البخاری من وجہ آخر مختصراً یعنی اس کے رجال ثقہ ہیں بخاری نے اسے ایک دوسرے طریق سے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
کیا شوہر اپنی بیوی کو مرنے کے بعد غسل دے سکتا ہے؟
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اوپر گذرچکی ہے جس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ اگر میری زندگی میں تم مرگئیں تو میں تمہیں غسل دوںگا، یہ حدیث واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ لہذاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ شوہر بیوی کو غسل نہیں دے سکتا اس وجہ سے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے ان کی بات صحیح نہیں ۔ کچھ لوگ عورتوں کو اپنے شوہروں کو غسل دینے کی اجازت دیتے ہیں اور مردوں کو نہیں وہ بعض لوگ یہ فرق کرتے ہیں کہ نکاح دونوں صورتوں میں ٹوٹ جاتا ہے خواہ شوہر مرے یا بیوی مگر شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوی عدت میں ہوتی ہے اس وجہ سے وہ غسل دے سکتی ہے جب کہ بیوی کی موت کی صورت میں چونکہ شوہر کے لےے کوئی عدت نہیں ہوتی اس وجہ سے اس کے لئے بیوی اجنبی عورت کے مانند ہوگئی لہذا وہ غسل نہیں دے سکتا۔ (دیکھیں الفقہ علی المذاہب الاربعہ1:504) اس توجیہ کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ شرعی احکام کو پہیلی بنانے کے مترادف ہے۔ دین سہل اور آسان ہے اس میں اگر ایسا ہو تو ویسا ہوگا کہ ذریعہ پیچیدگی پیداکرنا کوئی مستحسن قدم نہیں قراردیا جاسکتا۔
صحابہ کرام کا عمل
عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ بالا حدیث کی تائید صحابہ  کرام کے عمل سے بھی ہوتی ہے ۔
فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ غسل دیں چنانچہ انہوں نے غسل دیا:
عن ام جعفر ان فاطمة بنت رسول اللہ قالت: یا اسماء اذا انا مت فاغسلینی انت وعلی بن ابی طالب فغسلہا علی واسماءرضی اللہ عنہما
(بیہقی کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 6452)
”ام جعفر بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء(جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) سے کہا کہ جب میں مرجاں تو تم اور علی مجھے غسل دینا چنانچہ علی اور اسماءنے انہیں غسل دیا۔ “
سنن بیہقی 6453کی روایت میں ہے کہ ام جعفر بنت محمد بن علی کہتی ہیں کہ مجھ سے اسماءبنت عمیس نے کہا کہ میں نے اور علی بن ابی طالب نے فاطمہ بنت رسول اللہ کو غسل دیا۔
یہ بات صحابہ کرام کے درمیان ہوئی مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہ کی، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ انہوں نے کسی غلط بات کی وصیت کی ہو اور اس وصیت کی تنفیذ بھی کرنے والے ایک اعلی درجہ کے صحابی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماداور تیسرے خلیفہ راشد علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ لہذا ضروری سی بات ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت کے بارے میں سنا ہوگا۔
کیا بیوی شوہر کو غسل دے سکتی ہے
جو علماءشوہر کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنی عورت کو مرنے کے بعد غسل دے ان میں سے بھی اکثر اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی شوہر کے مرنے کے بعد غسل دے سکتی۔ اس کی وجہ خواہ اپنے گمان کے مطابق یہ بتائیں کہ عورت کی حالت اس وقت عدت گزارنے والی کی ہوتی ہے لہذا اسکے لئے شوہر کو نہلانا جائز ہوگا یاکوئی اور وجہ بتائیں۔ اس تعلق سے بھی واضح احادیث ملتی ہیں چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:
لما ارادوا غسل النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالوا: واللہ ماندری، انجرد رسول اللہ ثیابہ کما نجرد موتانا، ام نغسلہ وعلیہ ثیابہ؟ فلما اختلفوا القی اللہ علیہم النوم، حتی مامنہم رجل الا وذقنہ فی صدرہ،ثم کلم مکلم من ناحیة البیت، لایدرون من ہو: ا ن اغسلوا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم وعلیہ ثیابہ ،فقاموا الی رسول اللہ فغسلوہ، وعلیہ قمیصہ یصبون الماءفوق القمیص ویدلکونہ بالقمیص دون ایدیہم وکانت عائشة تقول: لواستقبلت من امری مااستدبرت ماغسلہ الا نساءہ۔

©”جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انھوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے مردوں کی طرح ننگا کرکے نہلائیں؟ یا ہم آپ کو کپڑوں سمیت غسل دیں؟جب صحابہ کرام نے اختلاف کیا تواللہ تعالی نے ان پر نیند طاری کردی۔یہاں تک وہاں موجود تمام لوگوں کی ٹھوڑی ان کے سینوں سے لگ گئی۔ پھر ایک بات کرنے والے نے گھر کے ایک گوشہ سے کہا (لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے) نبی کریم کو کپڑوں سمیت غسل دو۔لوگ کھڑے ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا ۔آپ کے جسم پر قمیص تھی۔ لوگ قمیص کے اوپر ہی سے پانی ڈالتے اور قمیص ہی سے رگڑتے تھے بغیر ہاتھوں کو لگائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں:جو بات بعد میں معلوم ہوئی اگر پہلے معلوم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دیتا۔
(سنن ابی داود کتاب الجنائز باب فی سترالمیت عند غسلہ رقم 1341،ابن ماجہ کتاب الجنائز باب غسل الرجل امراة وغسل المرا ة زوجہا رقم 1464 ،صحیح ابن حبان کتاب الجنائز باب ذکر وصف القوم الذین غسلوارسول اللہ رقم 6627 اور 6413 و6457، حاکم نے مستدرک (3:59-60) میں اس کی تخریج کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔ علامہ البانی نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو حسن قراردیا ہے)
صاحب عون المعبود کہتے ہیں: ”گویا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کے بعد غور کیا اورانہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد آئی کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر تم میری زندگی میں وفات پاگئیں تو میں تمہیں غسل دوں گا کفن دوں گا پھر تمہاری صلاةجنازہ پڑھوں گا اور دفن کروں گا۔“(عون المعبود۸۵۱۴)
صحابہ کرام کے عمل سے بھی اس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ موطا امام مالک کی حدیث ہے کہ اسماءبنت عمیس جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں انہوںنے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوغسل دیا پھر باہر آئیں اور دریافت کیا کہ میں روزہ سے ہوں اورآج سخت سردی ہے کیا میرے اوپر غسل کرنا واجب ہے لوگوں نے کہا کہ نہیں۔
(موطا امام مالک کتاب الجنائز باب غسل ا لمیت، سنن بیہقی 6455کی روایت میں ہے کہ اسماءبنت عمیس نے کمزوری کی وجہ سے عبدالرحمان بن ابی بکر سے مدد لی تھی مگر بیہقی نے کہا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ )
حدیث کے الفاظ جیسا کہ ظاہر ہے، بتلارہے ہیں کہ یہ کام صحابہ کرام کی موجودگی میں ہواتھا لہذا انہیں اس کا ضرور علم ہواہوگا مگر ان میں سے کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ لہذا بیوی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مرنے کے بعد شوہر کو غسل دے۔
شوہر اور بیوی میں فرق؟
میت کو نہلانے میں اجازت دینے اور نہ دینے میں بیوی اور شوہر کافرق کرنا صحیح نہیں، اس فرق کی بنیاد ایک ظنی چیز پر ہے کہ مرنے کے بعد نکاح ٹوٹ جاتا ہے پھر یہ فرق کہ عورت چونکہ طلاق کے بعدعدت کے ایام گذارتی ہے لہذا اس کے لئے جس طرح عدت کے ایام میں اگر وہ طلاق رجعی ہو تو شوہر کے ساتھ رہنا جائز تھا اسی طرح اسی صورت میں بھی جائز ہے صحیح نہیں۔ اس لئے کہ طلاق رجعی میں شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت اس وجہ سے دی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ بیوی کابار بار سامنا ہونے کی وجہ سے شوہر رجوع کرے مگر کیا مرنے کے بعد بھی اس کا امکان ہے؟ ضروری سی بات ہے کہ نہیں۔ لہذا اس کی بنیاد پر یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے؟
کیا موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
ہمارے یہاں نکاح کو اتنا کمزور سمجھاجاتا ہے کہ وضو کی طرح بات بات پر نکاح کے ٹوٹنے کی بات کہی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ نکاح ٹوٹنا وضو سے بھی زیادہ آسان ہے، تو بے جانہ ہوگا چنانچہ جس کے ساتھ آدمی پوری زندگی گذارتا ہے اس کی موت کے ساتھ ہی اس کو اجنبی بنادیا جاتا ہے ۔کتنے اچنبھے کی بات ہے؟ ہم ذیل کے سطور میں ان اسباب کو بیان کریں گے جس کی وجہ سے شوہر کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو طلاق شدہ ماننا صحیح نہیں مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر غلط ہے:
۱۔اگر ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ موت سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ زوجین میں سے کسی کو بھی کسی کی میراث نہ ملے اس لئے کہ میراث اسی وجہ سے ملتی ہے کہ وہ بیوی یا شوہر ہے،جب یہ رشتہ ہی منقطع ہوگیا تو وراثت ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ خاص طور پر اس عورت کو بالکل ہی نہیں ملنا چاہیے جس کو دوطلاقیں ہوگئی ہوں اس وجہ سے کہ اس کے حق میں شوہر کی موت سے تیسری طلاق ہوجائے گی۔
لہذا یہ کہنا کہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے سراسر غلط بے بنیاد اور جہالت پر مبنی قول ہے۔
۲۔زوجین میں سے ہرایک کے دوسرے کو غسل دینے کی اجازت اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ رشتہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کا مقابلہ دوسرے کسی بھی رشتہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ شرمگاہ کا دیکھنا ان دونوں کے علاوہ کسی اورکے لئے جائز نہیں۔ جب دوسرے لوگ جن کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز نہیں تھا وہ غسل دے سکتے ہیں تو وہ شخص بدرجہ اولی غسل دے سکتا ہے جس کے لئے زندگی میں شرمگاہ دیکھنا جائز تھا۔
فتاوی لجنہ دائمہ کی رائے:
سعودی عرب کی فتاوی کمیٹی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا کوئی عورت اپنے شوہر کو اس کی موت کے بعد دیکھ سکتی ہے یا اس کے لئے دیکھنا حرام ہے اور کیا وہ اسے غسل دے سکتی ہے اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہو؟
اس کے جواب میں کمیٹی نے جواب دیا کہ :عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کو جب اس کا انتقال ہوگیا ہو دیکھے اور صحیح قول کے مطابق زوجین میں سے ہر کوئی دوسرے کو غسل دے سکتا ہے اگر چہ کوئی دوسرا موجود ہو۔ (فتاوی اللجنة الدائمة رقم الفتوی 2273)
خلاصہ کلام
خلاصہ کلام یہ کہ شوہر اپنی بیوی کی وفات کے بعد اسے دیکھ سکتا ہے اوراگر وہ چاہے تو نہلاسکتا ہے اسی طرح بیوی بھی شوہر کو دیکھ سکتی اور نہلاسکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ اس سے منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جب غسل دینے کی اجازت ہے تو دیکھنے کی اجازت بدرجہ اولی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں دینی امور میں اپنی طرف سے کوئی بات کہنے سے بچائے۔ آمین۔

زیورات میں زکوٰة احکام ومسائل

0 comments

زیورات میں زکوٰة نکالی جائے یا نہ نکالی جائے؟

یہ ایک اہم موضوع ہے۔ عام طورپر اس مسئلہ میں اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ زیورات کو کپڑوں اور دوسری استعمال کی اشیاءپر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے قیاس کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیورات کی زکوٰة کے سلسلہ میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف رہا ہے۔ بعض اس میں مطلق زکوٰة کے قائل نہیں تھے اور بعض زکوٰة کے قائل تھے۔ آئندہ سطور میں زیورات میں زکوٰة کے مسئلہ کو تمام فریقوں کے دلائل اور راجح قول کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔

زیورات میں زکوٰة ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماءکرام کے پانچ اقوال ملتے ہیں:

۔ زیورات میں کوئی زکوٰة نہیں اگر اسے استعمال کے لئے رکھاگیا ہو، خواہ عورت اسے مسلسل استعمال کرتی ہویا خاص خاص مواقع پر استعمال میں لاتی ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایسے زیورات میں زکوٰة نہیں ہے ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ اگر زیور کو اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس کو بیچ کر ضرورت پوری کی جائے تو اس پر زکوٰة ہے جبکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اسی صورت میں زکوٰة فرض ہوگی جب اسے تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو۔
۔ زیور کے اندر صرف ایک سال زکوٰة ہے، یعنی اگر کسی شخص نے کسی زیور کی زکوٰة ایک مرتبہ نکال دی تو پھر آگے اس کو ہر سال اس میں زکوٰة دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔ زیور کی زکوٰة یہ ہے کہ اسے عاریتاً کسی کو استعمال کرنے کے لئے دے دیا جائے۔
۔ زیور کی یا تو زکوٰة نکالی جائے یا عاریتاً استعمال کرنے کے لئے دیا جائے۔
۔ زیور اگر نصاب تک پہنچ گیا ہے تو ہر سال اس کی زکوٰة دینا واجب ہے۔
مذکورہ بالا پانچوں اقوال میں راجح قول پانچواں ہے۔ یعنی زیور اگر چہ ذاتی استعمال کے لئے ہو اس کی زکوٰة دینا واجب ہے قرآن و سنت کے نصوص اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

قرآن مجید سے دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) (التوبة 34-35)
”جو لو گ سونااور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔ جس دن اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں،پہلوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ لو، اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔“
مذکورہ آیت میں ”کنز“ سے مراد وہ سونا اورچاندی ہے جس کی زکوٰة نہ نکالی گئی ہو۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جس سونے چاندی میں سے زکاة نکال دی گئی ہو اگر چہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو، کنز نہیں ہے اور اگرزکاة نہ نکالی گئی ہو تو وہ ”کنز“ ہے اگر چہ زمین کے اوپر ہی کیوں نہ ہو۔
(تفسیر ابن کثیر 2:462ط مکتبہ دار السلام ریاض)
مذکورہ آیت عام ہے اور ہر قسم کے سونے چاندی کو شامل ہے، اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کے اندر زیورات شامل نہیں ہیں تو اس کو چاہئے کہ دلیل پیش کرے۔

حدیث رسول سے دلیل:

عن زيد بن أسلم أن أبا صالح ذكوان أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم
: ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها في نار جهنم فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار
(صحیح مسلم :کتاب الزکاة باب اثم مانع الزکاة رقم987)
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر وہ سونے اور چاندی کا مالک جو اس سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی چادریں بنائی جائیںگی، انہیں آگ میں گرم کیاجائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوجائیںگی تو انھیں پھر گرم کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اس دن تک چلتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ سنا دیا جائے گا پھر اس کو اس کا راستہ جنت یا جہنم دکھا دیاجائے گا۔“
”مامن صاحب ذھب“ کے عموم میں ہر وہ شخص آجاتا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو، اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوںگے جن کے پاس نصاب کے برابر سونا یا چاندی نہ ہو۔ اسی طرح ”لایودی حقہا“ میں تمام حقوق شامل ہیں ان میں سر فہرست زکاة ہے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”الزکوٰة حق المال“زکاة مال کا حق ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ اس سے مرادزکاة ہے چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں: لايودی زکاتہ (صحیح مسلم کتاب الزکوٰة باب اثم مانع الزکوة رقم 987(26))
ایسی بات نہیں کہ ذخیرہ احادیث میں صرف وہی احادیث ہیں جن کے عموم سے زیورات میں زکوٰة ثابت ہوتی ہو۔ بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ زیورات میں زکوٰة دینے کی بات کہی گئی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها " أتعطين زكاة هذا ؟ " قالت لا قال " أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار ؟ " قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبي صلى الله عليه و سلم وقالت هما لله عزوجل ولرسوله . قال الشيخ الألباني : حسن
(سنن ابی داود کتاب الزکوٰة، باب زکوٰة الحلی رقم 1563، سنن الترمذی کتاب الزکوٰة باب ماجاءفی زکوٰة الحلی رقم 637 وقال: لا یصح فی ہذا الباب عن النبی شیئ، سنن نسائی رقم 2479، 2480 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الحلی۔امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، صحیح نہیں، اس لیے کہ اسی حدیث کو ابوداد اور نسائی نے صحیح سندوں سے بیان کیا ہے۔ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ ان سندوں تک نہ پہنچ سکے۔ (دیکھیں فتاویٰ اللجنة الدائمة رقم 1797 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الذہب المعد للاستعمال )
”ایک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اس کی زکوة دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا:نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں کنگنوں کے بدلہ میں آگ کے کنگن پہنائے۔ اس عورت نے کنگن کو نکالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“
سنن ابی داد کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن شداد بن الھاد بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرے دونوں ہاتھوںمیں چاندی کے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اس کو میں نے آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاة دیتی ہو؟ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، یا اللہ نے جو چاہا وہ جواب میں نے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ تمہیں جہنم میں داخل کرنے کے لیے کافی ہیں۔“
( سنن ابی داود کتاب الزکاة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم 1565، سنن الدارقطنی کتاب الزکاة، باب زکوٰة الحلی رقم ۴۳۹۱، حاکم نے اس حدیث کی تخریج اپنی مستدرک(1437) میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کا گنگن پہنے ہوئے تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا یہ بھی کنز ہے (جس کی طرف قرآن کریم کی آیت والذین یکنزون الذھب میں اشارہ کیا گیا ہے) آپ نے جواب دیا: ”جونصاب تک پہنچ جائے اور تم زکاة ادا کردو تو کنز نہیں ہے۔“
( سنن ابی داود کتاب الزکوٰة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم1564، سنن دار قطنی کتاب الزکوٰة باب ما ادی زکوٰتہ فلیس بکنز193، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع رقم 5582 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ حاکم نے کہاکہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔)
مذکورہ بالا نصوص سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سونے چاندی کے زیورات میں زکوة ہے۔ اس تعلق سے وارد آیات قرآنیہ اور احادیث و آثار واضح ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا۔
ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ زیورات کی زکاة کے سلسلے میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف پایا جاتارہا ہے۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کو قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اور جو دلیل کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہو اس کو لیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)النسا:59)
”اگر تم کسی مسئلہ میں اختلاف کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ سب سے عمدہ اور بہتر طریقہ ہے۔ “
لہٰذا یہاں پر بھی اسی اصول کے پیش نظر قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھ کر راجح مسلک کو واضح کیاجا رہاہے۔ اب آئندہ سطور میں زیورات میں زکاة کے منکرین کے دلائل اور ان کے شبہات کو بیان کرکے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی۔ ان شاءاللہ۔

ایک اشکال:

جو لوگ زیورات میں زکاة کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ جن احادیث میں وعید آئی ہوئی ہے وہ اس وقت کی ہوں جب زیورات پہننا ممنوع تھا۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ احادیث میں اس قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ :
۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات کے پہننے سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کی زکاة نہ دینے پر وعید سنائی۔ اگر زیورات پہننا ممنوع ہوتا تو آپ اس کو اتار دینے کا حکم فرما تے۔ جیسا کہ آپ نے اس صحابی کو جو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے نکال دینے کو کہا تھا۔
۲۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ پہلے زیورات پہننا ممنوع تھا بعد میں اس کی اجازت دی گئی تو اس کے لیے بھی تو دلیل چاہئے بغیر دلیل کے ہم یہ کیسے تسلیم کریں کہ اس مسئلہ میں فلاں حکم ناسخ اور فلاں منسوخ ہے۔
۳۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلے زیور ممنوع تھا تب بھی مذکورہ بالااحادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ان کی زکاةدے دی جائے تو ان کا پہننا جائز ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی زکاة کے واجب نہ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔
کیاعائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکاة کی قائل نہ تھیں؟
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاة نہیں ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جو مو طا امام مالک میں وارد ہے۔
پوری حدیث یوں ہے:
”عبد الرحمان بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کی کفالت کرتی تھیں۔ ان بچیوں کے پاس زیور تھے مگر وہ ان زیورات میں سے زکوة نہیں نکالتی تھیں“۔
(مو طا امام مالک رقم586، کتاب الزکوة باب مالازکاة فیہ من الحلی و التبر و العنبر)
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوة کی قائل نہ تھیں۔ مگر بات ایسی نہیں ہے خود ان ہی سے دار قطنی میں ایک حدیث آئی ہوئی ہے:
عن عمرو بن شعيب عن عروة عن عائشة : قالت لا بأس بلبس الحلي إذا أعطي زكاته (سنند دار قطنی کتاب الزکوة باب زکاة الحلی رقم 1938)
”زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کی زکاةادا کردی گئی ہو۔“
اس حدیث سے اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک زیورات میں زکاة نہیں ہے۔ جہاں تک رہی بات مو طا امام مالک کی اس حدیث کی جس میں یتیم بچیوں کے زیورات میں سے زکوة نہ نکالنے کی بات ان کی طرف منسوب کی گئی ہے تو علماءکرام نے اس کی توجیہ یوں کی ہے:
عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوٰة کی قائل تو تھیں مگر وہ مطلق طور پر یتیموں کے مال نکالنے کی قائل نہ تھیں۔
مگر مو طا امام مالک ہی کی ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال سے بھی زکاة نکالتی تھیں۔ چنانچہ عبد الرحمان بن قاسم ہی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
کانت عائشة تلینی انا و خالی یتیمین فی حجر ھا فکانت تخرج من اموالنا الزکوة۔ (مو طا امام مالک رقم 589، کتاب الزکوة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم منھا)
”عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی نگہداشت میں میری اور میرے ماموں کی پرورش کر رہی تھیں ہم دونوں یتیم تھے وہ ہمارے مالوں سے زکوة نکالتی تھیں۔ “
بعض لوگوںنے کہا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال میں زکاة کے وجوب کی قائل نہ تھیں۔ مصلحت کے مطابق کبھی زکاة نکال دیتی تھیں اور کبھی نہیں نکالتی تھیں۔ اگر کوئی شخص ان مذکورہ بالا باتوں کو نہ مانے تب بھی ہمیں زیورات میں زکاة کی بات ہی لینی ہوگی اس لیے کہ یہ قول ہے اورزکاة نہ نکالنا فعل ہے اور قاعدہ ہے کہ جب قول و فعل میں اختلاف ہو تو قول کو لیا جائے گا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کسی وجہ سے انھوں نے زکاة نہ نکالی ہو۔

کپڑوں پر قیاس

زیورات میں زکاة نہ دینے والوں کا سب سے اہم استدلال یہ ہے کہ جب ہم اپنے استعمال کے کپڑوں پرزکاة نہیں نکالتے، اور دوسری چیزوں مثلا گاڑیوں وغیرہ پربھی زکاة نہیں نکالتے تو صرف زیورات ہی میں زکاة کیوں نکالی جائے وہ بھی تو استعمال کی ایک چیز ہے۔
یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس وجہ سے کہ:
یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے اور نص کی موجودگی میں قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

ضعیف حدیث سے استدلال

اس مسئلہ میں ایک ضعیف حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ حدیث ہے:” لیس فی الحلی زکوة“: یعنی زیورات میں زکاة نہیں۔ اس حدیث کو دارقطنی نے مرفوعا بیان کیا ہے اور بیہقی نے کتاب التحقیق (1:696) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
یہ حدیث سراسر باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیں تو ہر قسم کے زیورات میں زکاة کی نفی ہوجائے گی اور اس کے قائل وہ بھی نہیں ہیں جو اس حدیث سے زیورات میں عد م زکاة پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث متن کے لحاظ سے غلط ہوئی۔
جہاں تک سند کی بات ہے تو اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب مجہول ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیہقی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے:
انہ باطل لا اصل لہ، و انما یروی عن جابر من مقولہ و عافیة بن ایوب مجہول ، فمن احتج بہ مرفوعامعزرا بذنبہ (دیکھیں: ارواءالغلیل 3:294)
”یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث جابر سے موقوفا روایت کی جاتی ہے، سند میں عافیہ بن ایوب مجہول ہیں۔ جس شخص نے بھی مرفوع سمجھ کر اس سے حجت پکڑی وہ اپنے گناہ کی وجہ سے ملامت زدہ ہوگا۔“
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی دو اور علتوں کو بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ عافیہ سے روایت کرنے والے ابراہیم بن ایوب ہیں ان کو ابو العرب نے ’الضعفائ“ میں ذکر کیا ہے اور ان کے بارے میں ابو طاہر المقدسی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور ابو حاتم نے کہا ہے: ’لاا عرفہ‘ (میں انہیں نہیں جانتا)۔
دوسری علت یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (4:27) میں یہ حدیث موقوفا جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔علامہ البانی کہتے ہیں کہ یہ موقوف سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حدیث کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
(دیکھیں:ارواءالغلیل3:295)

کیا زیور صرف ایک بار نکالی جائے گی:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زیور جو کہ استعمال کے لیے رکھا گیا ہو اس میں صرف ایک مرتبہ ہی زکاة نکالنا کافی ہوگا یعنی اگر کوئی شخص کسی زیور کی زکاة اگر ایک سال نکال دیتا ہے تو آنے والے سالوں میں اس کی زکاة نکالنے کی ضرورت نہ ہوگی۔
یہ بات اگر اس وجہ سے کہی جاتی ہو کہ احادیث میں جہاں زیورکی زکاة کی بات کہی گئی ہے وہاں پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس کی زکاة ہر سال نکالی جائے تو یہ بات صرف زیور پر ہی نہیں نافذ ہوتی بلکہ تمام اموال میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہاں پر بھی وعید کی احادیث مطلق آئی ہوئی ہیں۔
اور اگر یہ بات اس وجہ سے کہی جاتی ہے کہ تجارت کے مال میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے اور زیور جو کہ صرف استعمال کے لیے ہوتا ہے اس میں زیادتی و کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس میں زندگی میں ایک مرتبہ زکاة نکال دینا کافی ہوگا تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہرسال اگر تجارتی اموال میں زکاة لی جاتی ہے تو کیا اس وجہ سے لی جاتی ہے کہ اس میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟
صحیح بات- واللہ اعلم- یہ ہے کہ یہ ایک توقیفی امر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے زکاة دینے کو کہا ہے لہٰذا ہم کو زکاة دینا ہے۔ اسی طرح ہم زیورات میں زکوة کے بارے میں بھی کہیںگے۔ جب سال مکمل ہوجائے تو اس وقت موجود زیورات کی قیمت کا اندازہ لگا کر زکاة نکال دی جائے اگر وہ زیور نصاب پر پورا اتر تا ہو۔ زکاة نکالنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مال کے اندر بڑھوتری ہوتی ہو اس کی دلیل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس کو امام مالک نے اپنی کتاب موطا میں درج کیا ہے: اتجروا فی اموال الیتامی لا تاکلھا الصدقة (موطا کتاب الزکوٰة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم فیھا) ”یتیموں کے مال میں تجارت کرو تاکہ صدقہ اسے کھا نہ لے“۔
ضروری سی بات ہے کہ یتیم کا مال اگر تجارت کے لیے نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے اندر اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زکاة کی وجہ سے اس کے ختم ہوجانے کا خدشہ بیان کرنا یہ بتلاتا ہے کہ زکاة کے لیے مال کا کمی و بیشی والا ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیور کے ختم ہونے کا اندیشہ:

یہ شبہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ زیورجو استعمال کے لیے ہو اس میں چونکہ اضافہ کا امکان نہیں ہوتا اس لیے اگر ہر سال اس میں سے زکاة نکالی جائے تووہ ختم ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ شبہ غلط ہے شریعت نے ہر چیز کا ایک نصاب مقرر کر دیا ہے۔زیور خواہ سونے کی شکل میں ہو یا چاندی کی شکل میں ، اگر مقررہ نصاب سے کم ہوجائے گا تو خود بخود زکاة کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا۔
ہاں، اگر کوئی شخص زیور کی زکاة اس کی قیمت کا اندازہ لگا کر روپیوں کی شکل میں دیتا ہے تو ایسی صورت میں زیور اپنی شکل میں باقی رہتا ہے۔ اس وجہ سے اس پر زکاة واجب ہوتی رہے گی۔ اس صورت میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا زیور ختم ہوجائے گا اس وجہ سے کہ زیور تو اپنی شکل میں موجود ہے۔

اگر زیور کی زکاة شوہر ادا کردے:

زیور جس کی ملکیت میں ہے اسی کے ذمہ اس کے زکاة کی ادائیگی بھی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے کر ادا کر دیتا ہے تو یہ زکاة ادا ہو جائے گی۔
یہیں پر ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر گھر میں کئی عورتیں ہوں اور ہر ایک کے پاس اتنی مقدار میں زیور ہے جو نصاب تک نہیں پہنچتا تو ایسا نہیں کیاجائے گا کہ سبھی عورتوں کے زیورات کو ملا کر ان میں سے زکاة نکالی جائے۔ اگر چہ وہ سبھی عورتیں ایک ہی شخص کی زوجیت میں ہوں۔

کیا عورت زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے؟

ہمارے معاشرہ میں عورتوں کی ملکیت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ عورتوں کی آزادی کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے پاس رکھا سرمایہ خواہ نقدی کی شکل میں ہویاجائداد کی شکل میں ، شوہر اپنی ملکیت سمجھ کر خرچ کرتا ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ عورت مالدار ہو اور شوہر غریب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ مگر قرون اولیٰ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بیویاں مالدار ہوں اور شوہر غریب۔ چنانچہ دو صحابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دریافت کیاکہ کیا ہم اپنے غریب شوہروں پر زکاة کی رقم خرچ کر سکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں تم خرچ کر سکتی ہو۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گنے اجر کی بشارت دی، صدقہ کا اجر اور قرابت داری کا اجر۔ (دیکھیں: صحیح بخاری کتاب الزکوٰة، باب الزکوٰة علی الزوج و الایتام فی الحجر، صحیح مسلم: کتاب الزکوة، باب فضل النفقة علی الاقربین و الاولاد)
اس سلسلہ میں یہ قاعدہ ہے کہ زکاة کی رقم ہر اس شخص پر خرچ کی جاسکتی ہے جس کی کفالت کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی۔ شوہر بیوی کا کفیل ہے مگر بیوی شوہر کی کفیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بیوی اپنی زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اتنا غریب ہوکہ بیوی کے زیورات کی زکاة ادا کرنے میں اسے کافی مشقت اٹھانی پڑتی ہو اور پیسے جٹا کروہ اسے ادا کرتا ہو تو بیوی چاہے تو وہ زکوٰہ کی رقم اسی شوہر کو دے سکتی ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

زیور کا نصاب:

بات چونکہ زیور کے زکاة کی ہو رہی ہے اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر اس کا نصاب بیان کر دیا جائے۔ زیور اگر سونے کا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نصاب 20 دینار ہے۔ 20 دینار موجودہ پیمانہ کے مطابق تقریباً 85 گرام ہوتا ہے۔ اور اگر چاندی کا زیور ہے تو اس کا نصاب ۰۰۲ درہم ہے جس کا وزن موجودہ دور کے پیمانے کے مطابق تقریباً 595گرام ہوتا ہے۔ جب سونااور چاندی اس مقدار کو پہنچ جائے تو اس کا چالیسواں حصہ زکاة میں نکالا جائے گا۔

خلاصہ کلام:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱۔ زیورات میں زکاة ہے۔
۲۔ یہ زکاة جب تک زیورات کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہے دینی ہوگی صرف ایک مرتبہ زکاة دینا کافی نہیں۔
۳۔ اگر شوہر غریب ہے تو عورت زکاة کی رقم اس پر خرچ کر سکتی ہے اس وجہ سے کہ بیوی کے اوپر شوہر کے نفقہ کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی ہے۔


بچوں کی صف بندی کا طریقہ

0 comments
عام طور پر بچوں کی صف کے بارے میں یہ تصور ہے کہ بڑوں کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی پہلے بڑے لوگوں کی صف ہوگی، پھر بچوں کی اور اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی، لیکن اس مسئلہ میں یہ ضروری سمجھ لینا کہ بچوں کی صف ہر حال میں الگ ہوگی اور اگر کوئی بچہ کسی صف میں شامل  ہو گیا تو اس کی وجہ سے صف ٹوٹ جائے گی غلط ہے۔ ہماری مسجدوں میں عموما اور رمضان کے مہینہ میں خصوصا دیکھا گیا ہے کہ لوگ بلاوجہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی صف اچھوتوں کی طرح مسجد کے ایک کونے میں لگاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے اور صف کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہو لیکن آنے والے نمازیوں کے لیے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بچوں کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کا جو حل ہم لوگوں نے خود سے تلاش کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کو ایک گوشہ مل جاتا ہے جہاں وہ دل کھول کر شور مچاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نبوی طریقہ اپنایا جائے کہ نماز کھڑی ہونے کے وقت سب سے پہلے بڑوں کی صف پھر بچوں کی صف اور سب سے آخر میں عورتوں کی صف بندی ہو تو پھر پچوں کے شور مچانے کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوجائے۔ 
اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث واضح دلیل ہے۔ 
"عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان جدتہ ملیکة دعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لطعام صنعتہ، فاکل منہ ثم قال: قوموا فاصلی لکم، قال انس بن مالک: فقمت لی حصیر لنا قد اسود من طول مالبث فنضحتہ بمائ، فقام علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و صففت انا و الیتیم و راءہ و العجوز من وراءنا، فصلی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رکعتین ثم انصرف۔"
ترجمہ: ”انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جو انھوں نے آپ کے لئے بنایا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھانا تناول فرمایا، اس کے بعد آپ نے کہا کہ کھڑے ہو میں تم لوگوںکو صلاة پڑھادوں ۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لایا جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میںاور یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بوڑھی (دادی) ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی اس کے بعد آپ واپس ہوگئے۔
صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب جواز الجماعة فی النافلة“ رقم 266(658)
شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یتیم کا لفظ بتلاتا ہے کہ وہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیںپہنچے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مسند احمد کی حدیث میں اس کی بھی صراحت ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی۔ (دیکھیں مرعاة المفاتیح429)
ظاہر سی بات ہے کہ اگر بچے کی صف کا اعتبار نہ کیا جائے تو گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام کی حیثیت سے اکیلے کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے بھی ایک ہی مصلی ہو ا جو کہ صف بندی کے اصول کے خلاف ہے۔ صف بندی کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دو مصلی ہوں تو امام کے دائیں طرف مصلی کھڑا ہوگا، اور اگر تین ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا اور مصلی پیچھے کھڑے ہوںگے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ بچے کی صف میںموجودگی کا اعتبار نہ ہوگا اس کا وجوداور عدم وجود برابر ہے تو گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک مقتدی کو کھڑا کیا جس طرح کہ عورت کو آپ نے اکیلے کھڑا کیا۔

ضعیف حدیث سے استدلال:

عام طور پر بچوں کی صف کے لئے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
عن ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہ قال:الا احدثکم بصلاة النبی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ قال: فاقام الصلاة فصف الرجال، وصف خلفہم الغلمان ثم صلی بہم فنذکر صلاتہ۔
(سنن ابی داود: کتاب الصلاة باب مقام الصبیان من الصف، مسند احمد 5:341، 342،342، 344، سنن بیہقی 3:47)
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة نہ بتاں (پھرابو مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاة قائم کرنے کا حکم دیا، مردوں نے صف بندی کی، ان کے پیچھے بچوں نے صف بندی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو صلاة پڑھائی (پھرابو مالک نے آپ کی صلاة کا مفصل بیان کیا)“
مگر یہ حدیث ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ مشکوٰة المصابیح کی تحقیق میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ایک راوی شہر بن حوشب ہیں سوءحفظ کی وجہ سے ان کی تضعیف کی گئی ہے۔ (تحقیق مشکوٰة المصابیح للا ¿لبانی رقم الحدیث (1115)(10))
صاحب مرعاة المفاتیح اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے بڑوں کی صف پہلے ہوگی، پھر بچوں کی صف ہوگی، اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی۔
مگر آخر میں اس حدیث کا درجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سبھی سندوں میں شہر بن حوشب ہیں اور ان پر کلام کیا گیا ہے۔(مرعاة المفاتیح4:43)
لہٰذا اس حدیث پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی دونوں سندیں (مسند احمد اورسنن ابی داود) ضعیف ہیں۔ اس کے اندر شہر ہیں۔ مردوں کے پیچھے عورتوں کی الگ صف کے بارے میں صحیح احادیث ہیں مگر بچوںکو بڑوں سے پیچھے کرنے کے بارے میں اس کے علاوہ میں کوئی اور حدیث نہ پا سکا، اور اس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ لہٰذا میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا اگر صف میںگنجائش ہو تو بڑے بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یتیم کا انس رضی اللہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاة پڑھنا اس کی دلیل ہے۔
(تمام المنة فی التعلیق علی فقہ السنة ص:284)
صاحب مرعاة المفاتیح شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے علامہ سبکی رحمہ اللہ کا قول اس حدیث پر نقل کیا ہے کہ یہ بات (کہ بچوںکی صف بڑوں کے بعد ہو)اس وقت ہے جب وہ دو یا دو سے زائد ہوں ورنہ اگر ایک ہی بچہ ہے تو وہ صف میں بڑوں کے ساتھ شامل ہوکر صلاة پڑھے گا۔ (مرعاة المفاتیح4:43)
علامہ سبکی کا قول اپنی جگہ پر اس معنی میں درست ہے کہ اگر ایک ہی بچہ ہو تو اس کو صف کے اندر کھڑ اکیا جائے گا اکیلے نہیں۔ مگر ایک سے زائد ہوں تو ان کو صف میں شامل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ صحیح بات اس سلسلہ میں یہی ہے کہ ان کو بھی صف کے اندر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ا ¿ولو النہی (اصحاب خرد) والی حدیث کے عموم سے صف کی ترتیب اگر ہو اور بڑوں کو پہلے رکھا جائے تو بہتر ہے۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بچوں کی صف بڑوں سے پیچھے ہو یہ ضروری نہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس پر بے جاسختی کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حدیث نبوی: لیلنی منکم اولو الاحلام و النہی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونھم (صحیح مسلم: کتاب الصلاة باب تسویة الصفوف و اقامتھا) ( تم لوگوں میں سے عقل و خرد والے لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں) کی وجہ سے صف بندی کے وقت موجود مصلیان اسی ترتیب پر کھڑے ہوںگے۔ اگر علم و معرفت میںکوئی کم عمر کاشخصبڑھا ہوا ہو تب اس کو بڑی عمر والے پر فوقیت دی جائے گی۔ حدیث کا یہی تقاضا ہے۔
بعض مساجد میں دیکھا جا تاہے کہ بچوں کو صف بندی کے وقت ہی مسجد کے کونے میں اچھوتوں کی مانند کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس کے لئے خواہ کوئی بھی توجیہ بیان کی جائے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑوں سے دور ہونے کی وجہ سے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شور مچا کر دوسروں کی صلاة بھی خراب کرتے ہیں۔
ہم آخر میں سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کے دو فتوے اس تعلق سے درج کرتے ہیں۔ امید کہ اس سے زیر غور مسئلہ اوربھی واضح ہو جائے گا۔
سنت یہ ہے کہ بچے جب سات سال یا اس سے زائد عمر کے ہوجائیں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں جس طرح کہ بالغ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہی مصلی ہے تو وہ امام کے دائیں کھڑا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ابو طلحہ کے گھر صلاة پڑھائی۔ انس اور یتیم کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ام سلیم کو ان دونوں کے پیچھے کھڑا کیا اور آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے انس کو صلاة پڑھائی تو انہیں اپنے دائیں جانب کر لیا۔ اور ابن عباس کو صلاة پڑھائی انہیں اپنے دائیں کرلیا“۔و باللہ التوفیق
(فتاوی اللجنة الدائمة السوال الثالث من الفتوی رقم 1954)
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بچہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہے تو کیا اس کی صف شمار ہوگی، کمیٹی نے جواب دیا ہے:
اگر بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو اس کی جماعت منعقد ہوگی اور صف بھی ۔
(فتاوی اللجنةالدائمة السول الثانی من الفتوی رقم 3987)
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے یہ پوچھا گیا کہ اگر بچے پہلے آگئے ہوں تو ان کو پیچھے کرنا کیسا ہے؟
شیخ نے اس نے جواب میں کہا: ایسا کرنا جائزنہیں اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کسی آدمی کو اٹھا کر مجلس میں اس کی جگہ پر بیٹھا جائے، ہاں، اگر ان بچوںکی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو ان اولیاء(گارجین)سے کہہ کر ان کو مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے“ (مجموع فتاوی ورسائل للعثیمین 13:39 رقم 404)
گویا کہ شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بچہ پہلے آکر اگلی صف میں کھڑا ہو گیا ہے تو بعد میں آنے والا اس کے بعد کھڑا ہو گا اس کو اس کی جگہ سے ہٹاکر صف نہیں لگائے گا۔

عام طور پر ہماری مساجد میں اس کے خلاف ہوتا ہے ہر کوئی بچے کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ خود کھڑا ہوجاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی کو اگلی صف میں کھڑا ہونا ہے تو اسے پہلے مسجد میں آنا چاہیے پہلے سے موجود مصلیوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی خواہ وہ ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

منگل, جون 16, 2009

قبر پر مٹی ڈالتے وقت ”منہا خلقناکم“ پڑھنا

0 comments

قبر پر مٹی ڈالتے وقت ’’منہا خلقناکم‘‘ پڑھنا



اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت شدہ دعائوں کو چھوڑ کر غیر مسنون دعائیں پڑھنے کا رجحان عوام میں بڑھتاہی جارہاہے۔ نام نہاد اسلامی کتب خانوں والے اپنی دوکان چمکانے کے لیے دعائوں کی ایسی کتابیں شائع کراتے ہیں جن میں بغیر کسی حوالے کے ’’مجرب‘‘ دعائوں کے نام پر بعض دفعہ شرکیہ کلمات کی بھی تلقین کی جاتی ہے۔ درودنمازکے ثابت شدہ الفاظ کے بجائے ’’درود گنج العرش‘‘ اور درود ناری کے فضائل بتائے جاتے ہیں۔ ایسی ہی غیر ثابت شدہ دعائوں میں سے میت کو مٹی دیتے وقت پڑھی جانے والی ایک دعا بھی ہے۔ اس کی مشروعیت کے لیے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:
عن أبی أمامۃ رضی اللہ عنہ قال: لما وضعت أم کلثوم بنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فی القبر قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم : منہا خلقناکم و فیہا نعیدکم و منہا نخرجکم تارۃ أخری۔
’’ابوامامہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹی ام کلثوم قبرمیں اتاری گئیں تو آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’منہا خلقناکم و فیہا نعیدکم و منہا نخرجکم تارۃ أخری‘‘ یعنی ہم نے اسی مٹی سے تم کو پیدا کیا، اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج امام احمد نے اپنی ’’مسند‘‘ (۵؍۲۵۴ رقم الحدیث ۲۲۸۷) میں کی ہے، نیز حاکم نے ’’المستدرک‘‘ (۲؍۳۷۹ رقم الحدیث ۳۴۳۳) میں اسے بیان کیا ہے۔ دونوں نے بسند عبید اللہ بن زحر عن علی بن زید بن جدعان عن القاسم عن أبی أمامۃ درج کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

حدیث حد درجہ ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبید اللہ بن زحر ہیں جن کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے:
یروی الموضوعات عن الأثبات، و إذا روی عن علی بن یزید أتی بالطامات و اذا اجتمع فی إسناد خبر عبید اللہ و علی بن یزید والقاسم أبوعبدالرحمن لم یکن ذلک الخبر إلا مما عملتہ أیدیہم۔
’’یہ ثقہ راویوں سے من گڑھت روایتیں بیان کرتے ہیں، جب یہ علی بن یزید سے روایت کریں تو مصیبت لاتے ہیں اور اگر کسی حدیث کی سند میں عبید اللہ، علی بن یزید اور قاسم ابوعبدالرحمن جمع ہوجائیں تو وہ خبر ان کے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے کارنامہ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔‘‘ (میزان الاعتدال ۵؍۹ رقم الترجمۃ ۵۳۶۴)
یہ سند جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بعینہٖ وہی ہے جس کے بارے میں ابن حبان نے مذکورہ بالا بات کہی ہے اگر ابن حبان کی اس جرح کو تشدد پر محمول کرلیا جائے پھر بھی وہ ان کی جرح میں اکیلے نہیں، ابن المدینی نے انھیں منکر الحدیث، یحییٰ بن معین نے لیس بشیٔ اور دارقطنی نے لیس بالقوی کہا ہے۔ ذہبی نے کہا ہے کہ نسائی ان سے حسن ظن رکھتے تھے اس لیے انھیں ضعفاء میں شمار نہیں کیا اور کہا ہے: ’’لا بأس بہ‘‘ (ان میں کوئی حرج نہیں) (المیزان ۵۳۵۹) حافظ ابن حجر نے التقریب میں کہا ہے: صدوق یخطی (رقم الترجمۃ ۴۲۹۰)
دوسرے راوی علی بن یزید الہانی الشامی ہیںجن کو امام بخاری نے منکر الحدیث، نسائی نے لیس بثقۃ، رازی نے لیس بالقوی اور دار قطنی نے متروک کہا ہے ۔ (المیزان ۵؍۱۹۶ رقم الترجمۃ ۵۹۷۲) نیز حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم۴۸۱۷) میں انھیں ضعیف کہا ہے۔
تیسرے راوی قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
روی عن علی بن یزید أعاجیب و ما أراہا إلامن قبل القاسم۔ (المیزان رقم ۶۸۱۷)
’’علی بن یزید سے عجیب و غریب چیزیں بیان کی گئی ہیں، میں اسے قاسم ہی کی کارستانی سمجھتا ہوں۔ ‘‘
 ابن حجر نے التقریب میں کہا ہے:
 صدوق یغرب کثیرا۔
’’یہ صدوق ہیں اکثر غریب روایت بیان کیا کرتے ہیں۔‘‘
اس حدیث کی روایت میں مسلسل تین متکلم فیہ راوی ہیں لہٰذا اس روایت پر کیوں کر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ حاکم نے اسے مستدرک میں اسی سند سے ذکر کرنے کے بعد اس حدیث کے بارے میں کوئی کلام نہیں کیا ہے۔ ذہبی نے کہا:
خبر واہ علی بن یزید متروک۔
’’حدیث کمزور ہے علی بن یزید کو محدثین نے چھوڑ دیا ہے۔‘‘
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے:
فإذا کان أحسن أحوال ہذا الحدیث أنہ ضعیف جدا، فلا یجوز العمل بہ قولا واحدا کما بینہ الحافظ ابن حجر فی تبیین العجب فیما ورد فی فضل رجب۔ (أحکام الجنائز و بدعہا للألبانی ۱۵۳)
’’اس حدیث کا اگر سب سے اچھا درجہ متعین کیا جائے (تب بھی اس کا درجہ) ’’ضعیف جدا‘‘ (بہت زیادہ ضعیف) ہوگا لہٰذا کسی بھی صورت میں اس پر عمل کرنا جائز نہ ہوگا جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تبیین العجب فیما ورد فی فضل رجب‘‘ میں بیان کیا ہے۔‘‘

متن سے بھی دعوی ثابت نہیں ہوتا:

اگر ہم اس حدیث کو بفرض محال قابل عمل بھی مان لیں تب بھی اس سے دعا کی وہ کیفیت ثابت نہیں ہوتی جو عام لوگوں کے یہاں رائج ہے اور انجانے میں لوگ اس کی دعوت دیتے ہیں اس لیے کہ پہلی بات یہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس آیت کریمہ کے پڑھنے کی بات ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبرمیں اتارتے وقت کی ہے نہ کہ مٹی دیتے وقت کی۔ جہاں تک قبر میں مردے کو اتارتے وقت دعا پڑھنے کی بات ہے تو آپ سے ثابت ہے کہ آپ اس موقع پر ’’بسم اللہ علی سنۃ رسول اللہ‘‘ یا ’’ملۃ رسول اللہ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ (۱)
خود ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی مسند احمد کی مذکورہ ضعیف روایت میں منہا خلقناکم… کے بعد شک کے ساتھ ان الفاظ کا ذکر ہے کہ آپ نے اسے پڑھا یا نہیں، راوی کو معلوم نہیں، مگر مستدرک حاکم میں بسم اللہ علی سنۃ رسول اللہ کا ذکر بغیر شک کے متصلاً بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر دعا کو ثابت بھی مانا جائے تویہ مٹی دیتے وقت نہیں بلکہ میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دعا کی یہ کیفیت کہ پہلی بار مٹی ڈالتے وقت ’’منہا خلقناکم‘‘ دوسری بار ’’و فیہا نعیدکم‘‘  اور تیسری بار ’’و منہا نخرجکم تارۃ أخری‘‘ پڑھا جائے، اس کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ حدیث کے الفاظ اوپر گزر چکے ہیں، اگرچہ وہ لائق حجت نہیں مگر اس کے باوجود بھی مذکورہ کیفیت کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے۔ ہاںیہ بات ضرور ہے کہ آپ تین مرتبہ  مٹی سرہانے کی طرف سے ڈالتے تھے۔ (۲) اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اس موقع پر کوئی دعا بھی خاص طور پر پڑھی جائے۔ یہ شبہ دراصل اس وجہ سے ہوا کہ آیت کے تین ٹکڑے ہیں اور تین ہی مرتبہ مٹی ڈالنے کا تذکرہ بھی ہے لہٰذا بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ اسی وقت پڑھنے کی دعا ہے آیت کے مفہوم سے بھی بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔

ایک شبہ کا ازالہ:

کوئی کہہ سکتا ہے کہ آخر قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے میں حرج کیا ہے جس میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا تذکرہ اور انسانی زندگی کی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ (۳) اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوگی؟
دراصل بات یہ ہے کہ کسی خاص دعا کا خصوصی طور پر اہتمام جو کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں ہے، پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ مان رہے ہیں کہ یہ دعا اس جگہ کے لیے تو مناسب تھی مگر -نعوذ باللہ- آپ ایسا نہیں کرسکے، لہٰذا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   سے دین میں جو کمی رہ گئی ہے اسے اپنی طرف سے پورا کرلیا جائے۔
چوں کہ دعا عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہوا کرتی ہے اس میں قیاس جائز نہیں لہٰذا ہم اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔

خلاصۂ کلام:

اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   سے جو دعائیں ثابت ہیں ہمیں ان کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہئے آپ نے ایک موقعہ پر نبی کی جگہ پر رسول کہہ دینے پر ایک صحابی کو ٹوک دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعائوں میں صرف معانی ہی نہیں بلکہ الفاظ بھی وہی ہونے چاہئیں جو رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہوں۔ لہٰذا دعائوں کے مستند مجموعے ہی مطالعہ میں رکھے جائیں، ایسی کتابوں سے بچا جائے جن میں ’’مجرب دعائوں‘‘ کے نام پر قرآن و سنت کی کسی دلیل کے بغیر من گڑھت دعائیں درج ہوں۔ دعائیں کوئی جڑی بوٹی یا معجون نہیں ہیں کہ انھیں مجرب ہونے کا لیبل لگا کر رائج کیا جائے، دعائیں وہی ثابت مانی جائیں گی جو صحیح احادیث سے ثابت ہوں۔
مرض الموت سے لے کر دفن کے بعد تک کا وقت میت کے لیے مغفرت طلب کرنے اور اس کے ورثاء کو صبر کی تلقین کرنے کا ہوتا ہے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں پڑھنی چاہئیں اور اللہ سے دعا کرنا چاہئے کہ اسے بخش دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے ہر مرحلہ پر سنت نبوی پر عمل کرنے کی توفیق دے اور غیر شرعی امور سے بچائے۔ آمین

حواشی:

۱۔            سنن الترمذی ۱۰۵۱، أبواب الجنائز باب ما جاء ما یقول إذا دخل المیت قبرہ، اس کے علاہ اس کی تخریج أبوداؤد ۲؍۷۰، ابن ماجہ ۱؍۴۷۰ رقم ۱۵۴۹، ۱۵۵۲، ابن حبان ۷۷۳، حاکم ۱؍۳۶۶، اور مسند أحمد رقم ۴۹۹۰، ۵۲۳۳، ۵۳۷۰، ۶۱۱۱ میں کی گئی ہے۔ حدیث صحیح ہے۔
۲۔           سنن ابن ماجہ ۱۶۴ شواہد کی وجہ سے حدیث کو تقویت مل جاتی ہے۔

۳۔           سورہ طہ کی آیت ۵۵ ہے۔

ہفتہ, جون 13, 2009

کتوں کی تجارت اور ان کی پرورش

0 comments

کتوں کی تجارت اور ان کی پرورش کا شرعی حکم


حالیہ برسوں میں مغلوبانہ ذہنیت کی وجہ سے ہر معاملہ میں مغرب کی طرف دیکھنے کارجحان تیزی سے بڑھا ہے، مغربی تہذیب میں جس چیز کو تہذیب و تمدن کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے خواہ وہ کتنی ہی بدنماکیوں نہ ہو ہم اسے بغیر سوچے سمجھے اپناکر ’’مہذب‘‘ سماج کاحصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، انھیں مغربی تہذیب کی علامتوں میں سے ایک علامت خوبصورت کتوں کو پالنا اور ان کی پرورش اور نگہداشت پر خطیر رقم صرف کرنا بھی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ’’پوش‘‘ کہلانے والا طبقہ اور اس کو دیکھ کر درمیانی طبقہ بھی کتوں کو پالنا ایک فیشن سمجھتا ہے۔ لوگوں کی اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے آج کل کتوں کی خرید و فروخت ایک نفع بخش تجارت بن گئی ہے، بڑے بڑے شہروں میں ایسی دکانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں دیسی اور ولایتی نسل کے کتوں کی بہت ساری قسمیں پائی جاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ضرورتوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو پالنے کی اجازت دی ہے، مگر اس موقع پرجس قسم کے کتوں کے پالنے کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے یہ اس قسم کے کتے ہیں جن کی حفاظت خود مالک کرتا ہے، وہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ دو قدم پیدل چلنا بھی ان کے لیے دشوار ہوتاہے۔ یہ خوبصورت کتے اکثر کاروں میں مالک کی گود میں بیٹھ کر باہر سر نکالے نظر آتے ہیں، اس قسم کے کتوں کی پرورش کی اجازت اسلام ہرگز نہیں دیتا۔ شریعت کی بیان کردہ ضرورت کے پیش نظر کتا پالنا اور چیز ہے، فیشن کے طور پر پالنا اور چیز، ضرورت کے تحت کتا پالنا الگ چیز ہے اور اسی کوتجارت بنا لینا الگ چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کو بیچنے اور اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ابومسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی للہ صلیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب و مہر البغی، و حلوان الکاہن 
(صحیح بخاری کتاب البیوع باب ثمن الکلب رقم ۲۲۳۷، صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب تحریم ثمن الکلب رقم ۱۵۶۷)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے، زنا کا پیسہ لینے اور کہانت کا معاوضہ لینے سے منع فرمایاہے۔‘‘
صحیح مسلم (۱۵۶۹) کی روایت میں  ہے کہ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا:
زجر النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلک۔ 
’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔‘‘
صحیح مسلم (۱۵۶۸) کی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یوں بیان کئے گئے ہیں:
شر الکسب مہر البغی و ثمن الکلب و کسب الحجام۔
’’سب سے بری کمائی زنا کی کمائی اور کتے کو بیچ کر کی گئی آمدنی ہے اور حجامت کے ذریعہ کمائی کرنا ہے۔‘‘
مذکورہ بالا حدیثوں میں جن پیشوں کی ممانعت آئی ہے ان سبھی کے بارے میں گفتگو کا یہ محل نہیں اس لیے یہاں صرف کتوں کی تجارت کے تعلق سے گفتگو ہوگی۔
مذکورہ بالا حدیثوں کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام نے کہا ہے کہ کتوں کی تجارت اور اس کے ذریعہ حاصل کی گئی آمدنی حرام ہے۔ اس حکم میں ہر قسم کے کتے شامل ہیں خواہ وہ شکار کے لیے ہوں یا کسی اور مقصد کے لیے، جب کہ بعض علماء شکاری کتوں کو اس ممانعت سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ان کی دلیل مندرجہ ذیل حدیثیں ہیں۔
شکاری کتوں کو ممانعت کے حکم سے الگ کرنے والی احادیث:
(۱) عن جابر رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب إلا کلب الصید۔ 
(سنن الترمذی رقم ۱۲۸۱)
’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، ہاں، شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت ہے۔
(۲) عن جابر رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب و السنور إلا کلب الصید (سنن نسائیرقم ۴۶۷۱)
’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا، البتہ شکاری کتے کی اجازت دی ہے۔‘‘
(۳) عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ثمن الکلب سحت إلا کلب صید۔ (دار قطنی ۳؍۷۳؍۳۷۵)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتے کی قیمت حرام ہے البتہ شکاری کتے کی قیمت (حلال ہے)۔‘‘
(۴) عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی مرفوعا ثلاث کلہن سحت کسب الحجام و مہر البغی و ثمن الکلب إلا کلب الضاری۔ (دار قطنی ۳؍۷۲، سنن البیہقی ۶؍۶ معلقاً، الصحیحۃ للألبانی ۶؍۱۲۳۸ رقم ۲۹۹۰)
’’تین چیزیں حرام ہیں (۱) حجام کی اجرت، بدکاری کا مہر، کتے کی قیمت سوائے شکاری کتے کے۔‘‘

شکاری کتوں کی قیمت کے جواز حدیثوں کی اسنادی حالت:

پہلی حدیث صحیح نہیں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث اس سند سے صحیح نہیں ہے۔ اس کی سند میں ابومہزم جن کا نام یزید بن سفیان ہے، کے بارے میں شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابومہزم کو دیکھا اگر کوئی انھیں ایک درہم دیدے تو اس کے بدلے حدیث گڑھ دیتے۔ نسائی نے انھیں متروک اور ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (دیکھیں: لسان المیزان ۹۷۰۱) لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔
دوسری حدیث کو نسائی نے بیان کیا ہے او رکہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے، امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اس کی علت یہ ہے کہ اس کے اندر ابوالزبیر ہیں جن کی تدلیس مشہور ہے ابن حزم فرماتے ہیں: ہر وہ حدیث جس میں ابوالزبیر یہ نہ کہیں کہ انھوںنے اسے جابر سے سنا یا جابر نے ان سے یہ بات بیان کی ہے یا لیث نے ان سے بروایت جابر بیان کیا ہے تو خود ابوالزبیر کے اقرار کی بنیاد پر انھوں نے اسے جابر سے نہیں سنا ہے۔ (دیکھیں: المحلی ۹؍۱۱) اور اس جگہ چوں کہ مذکورہ بالا چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس حدیث میںانقطاع ہے۔
جہاں تک تیسری حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یحییٰ بن ایوب مختلف فیہ اور مثنی بن صباح بھی ضعیف ہیں،لہٰذا یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
چوتھی حدیث دارقطنی کی ہے اس کے اندر محمد بن مصعب صدوق اور کثیر الغلط ہیں (التقریب) اور دوسرے راوی ولید بن عبید اللہ ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
مذکورہ بالا ساری حدیثیں جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ حددرجہ ضعیف ہیں، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ایک دوسرے سے تقویت کے اصول کو مانتے ہوئے ان احادیث پر حسن یا حسن لغیرہ کا حکم نہیں لگایا ہے، ہاں علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’التعلیق علی الروضۃ الندیۃ‘‘ (۲؍۳۴۷) میں اورپھر ’’الصحیحۃ‘‘ میں تمام طرق کو اکٹھا کرکے اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس استثناء کو حسن قرار دیا ہے او رکہا ہے:
’’خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب میں ترجمہ کی حدیث اور اس کے بعض طرق اور شواہد سے واقف ہوا تو جو کچھ میں حدیث نمبر ۲۹۷۱ کے تحت لکھ چکا تھا اس سے رجوع کرنا میرے لے واجب ہوگیا جو  اس تحقیق کے مخالف تھا۔‘‘ 
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۶؍۱۲۴۱ رقم ۲۹۹۰)
مذکورہ تحقیق کے اندر علامہ البانی رحمہ اللہ نے جن دلائل کی بنیاد پر اس استثناء کو حسن قرار دیا ہے اگر ان اصولوں کو مان لیا جائے تو ایسی صورت میں بہت ساری حدیثیں جن کو ضعیف کے زمرہ میں رکھا گیاہے ان کو حسن یا حسن لغیرہ کے زمرہ میںرکھنا پڑے گا۔ استثناء کی ایک بھی حدیث شدید قسم کی تنقید سے خالی نہیں، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، ایسے میں کیسے یہ مان لیا جائے کہ آپس میں ایک دوسرے سے تقویت پاکر یہ حسن کے درجہ تک پہنچ جاتی ہیں۔
اس مسئلہ میں -واللہ اعلم- صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث کی روایت میں راویوں کو وہم ہوا ہے اور انھوں نے کتوں کی قیمت کی ممانعت اور کتے پالنے کی حدیثوں کو آپس میںگڈ مڈ کردیا ہے جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (۵؍۷۷۰) میں کہا ہے۔

عقلی دلائل:

جو لوگ کتوں کی خرید و فروخت کے قائل ہیں وہ اس کے جواز کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ کتوں کی قیمت لینے سے اس وقت منع کیا گیاتھاجب ان کے قتل کا حکم تھا مگر جب قتل کاحکم ساقط ہو گیا تو اسی کے ساتھ ان کی قیمت لینے یا بیچنے کی ممانعت بھی ختم ہوگئی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی دلیل چاہئے اور ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ بعض لوگ عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے بعض فیصلوں سے جن میں انھوںنے کلب عقور کی قیمت کاتاوان دینے کو کہاہے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ جب ایک چیز کے ضائع ہونے پر اس کا تاوان ہوسکتا ہے تو اس کی قیمت بھی لی جاسکتی ہے، مگر جیسا کہ ابن حزم (محلی ۹؍۱۲) نے کہا ہے: ’’یہ بیع ہے نہ قیمت، بلکہ قصاص ہے‘‘ لہٰذا استدلال فاسد ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (۵؍۷۷۲) میں ان لوگوں کی تردید کی ہے جو کتے کو گھوڑوں اور گدھوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کی قیمت کو جائز قرار دیتے ہیں ، ابن قیم نے کہا ہے کہ کتے کو خنزیر پر قیاس کرنا زیادہ مناسب ہے اس وجہ سے کہ اس سے زیادہ مشابہ ہے۔

خلاصۂ کلام:

کتوں کی تجارت جائز نہیں ہے، اگر شکاری کتوں کی قیمت لینے کو جائز بھی قرار دیا جائے تب بھی عام کتوں کی حرمت بہ دستور باقی ہے لہٰذا ایسے کتوں کی خرید و فروخت جو گھر یا مال و دولت کی رکھوالی کے لائق نہ ہوں ہر حال میںناجائز ہے۔ جہاںتک رہی یہ بات کہ کسی کو اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کتے کی ضرورت ہے اور بغیر خریدے اسے کتا نہیں مل رہا ہے تو کیا کرے؟ ابن حزم  رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں خریدنے والا نہیں بیچنے والا گنہگار ہوگا۔ (المحلی ۹؍۹)
گھروں میں شوقیہ کتوں کو رکھنے کی ممانعت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جانوروں کے تعلق سے اسلام شفقت و رحمت کی ممانعت کرتا ہے بلکہ اس کی یہ تعلیم ہر ایک کو اس کا مناسب حق دینے کے اصول کے عین مطابق ہے، اسلام اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کتوں کو انسان کا درجہ دے دیا جائے۔