بدھ, جنوری 10, 2018

جانوروں کے حقوق پرواویلا-کتنا حقیقت کتنا فسانہ

0 comments

اسلام میں جانوروں کے حقوق


گوشت خور صرف مسلمان نہیں بلکہ اکثر اقوام گوشت خور ہیں مگر جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کاالزام جس طرح مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے شاید ہی کسی اور قوم پر لگایا جاتا ہو۔ عام تأثر یہ قائم کیا گیا ہے کہ اسلام جانوروں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا، یہ غلط فہمی غیر مسلموں کی اسلام سے عدم واقفیت سے کہیں زیادہ خود مسلمانوں کے طرز عمل سے پیداہوئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جانوروں کے حقوق (Animal Rights) کا اسلامی تصور مغربی اور ہندوانہ تصور سے مختلف ہے۔ اہل مغرب کے یہاں Animal Rightsکا تصور یہ ہے کہ جانور ہمارے کھانے اور سواری کرنے کے لیے نہیں ہیں، وہ بھی خوشی و غمی محسوس کرتے ہیں۔ (۱) ہمارے ہندو بھائی بعض جانوروں کو مقدس مانتے ہیں مگر گوشت کے سوا  مال برداری اور دوھ وغیرہ کے لیے ان کا استعمال ان کے یہاں معیوب نہیں۔ ان دونوں کے درمیان اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام اشیاء کو انسان کی ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے خواہ جاندار ہوں یا غیرجاندار مگر اسلام نے انھیں استعمال کرنے کے چند اصول و قواعد بتائے ہیں، ان اصول و قواعد کو ہم ’’حقوق‘‘ (Rights)سے تعبیر کرسکتے ہیں۔
یہاں پر اسلام میں جانوروں کے حقوق کی تفصیل فراہم کرنا ممکن نہیں، ہاں چند اہم امور کی نشان دہی کی جارہی ہے۔

جانوروں کے حقوق اسلام کی نظر میں:

جانوروں کے تعلق سے اسلام کا تصور سنن ابودائود (رقم ۲۵۶۷) کی حدیث واضح کرتی ہے:
عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إیاکم أن تتخذوا ظہور دوابکم منابر فإن اللہ تعالی إنما سخرہا لکم لتبلغکم إلی بلد لم تکونوا بالغیہ إلا بشق الأنفس۔
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے چوپایوں کی پشت کو منبر بنانے سے بچو، اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے ماتحت کردیا ہے تاکہ تم ان جگہوں پر ان جانوروں پر سوار ہو کر آسانی کے ساتھ پہنچ جائو جہاں کافی مشقت کے ساتھ ہی پہنچا جاسکتا ہے۔‘‘
اس حدیث میں جانوروں کو سواری کے طور پر استعمال کرتے وقت ضرورت سے زیادہ تکلیف نہ دینے کو کہا گیا ہے، ضروری سی بات ہے کہ اگر جانور کی پیٹھ کو منبرکے طور پر استعمال کیا جائے گا تو اسے بلاضرورت تکلیف پہنچے گی۔
کھلانے پلانے کی ذمہ داری جانور کے مالک کے اوپر:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا ارشاد ہے:
عذبت امراۃ فی ہرۃ سجنتہا حتی ماتت فدخلت فیہا النار،لا ہی أطعمتہا و سقتہا إذ حبستہا، ولا ہی ترکتہا تأکل من خشاش الأرض۔ (صحیح البخاری رقم ۳۴۸۲، صحیح مسلم رقم ۲۲۴۲ (۱۵۱) عن عبداللہ بن عمر مرفوعاً)
’’ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں ڈالا گیا جس کو اس نے قید رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی، اسے کچھ کھانے کو دیا نہ پینے کو جب  باندھے رکھا، اس بلی کو چھوڑا بھی نہیں کہ کیڑے مکوڑے کھا لے۔‘‘
معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی جانور کو باندھ کر رکھ رہا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کو کھلائے پلائے، کسی آزاد جانور کو کھلانا پلانا باعث ثواب ضرور ہے مگر عام انسان اس کا مکلف نہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کی صرف اس وجہ سے مغفرت ہوگئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے پر ترس کھاکر اسے اپنے موزوں کی مدد سے پانی پلایا تھا۔ (دیکھیں: صحیح بخاری رقم ۳۴۶۷، صحیح مسلم رقم ۲۲۴۵ (۱۵۵)  عن أبی ہریرۃ مرفوعاً)
اس حکم میں جانوروں کے کھانے پینے کے قدرتی وسائل تباہ و برباد کرکے انھیں بھوک و پیاس پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ سے اگر کوئی جانور مرتا ہے تو ان وسائل کو تباہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔

جانوروں کے احساسات کا خیال:

اسلام نے جانوروں کے احساسات کا بھی پورا خیال رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ جانور کے چھوٹے بچوں کو ماں سے جدا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ کسی کام سے کہیں چلے گئے، ایک صحابی رسول نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے، انھوں نے ان دونوں بچوںکو پکڑ لیا۔چڑیا آکر اپنے پر پھڑپھڑانے لگی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور چڑیا کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے فرمایا:
من فجع ہذہ بولدہا؟ ردوا ولدہا إلیہا۔
(سنن أبی داؤد رقم ۲۶۷۵، الصحیحۃ رقم ۲۵)
’’اسے کس نے اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف میں ڈالا ہے؟ اس کے بچے کو اس کے پاس لوٹا دو۔‘‘
یہ جانوروں کے احساسات کا خیال ہی ہے کہ آپ نے ایک جانور کو بھوک کی حالت میں دیکھا تو بے چین ہوگئے اور اس کے مالک کو بلا کر کہا: ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ صحیح وسالم حالت میں ان پر سوار ہو اور انھیں صحیح و سالم حالت میں چھوڑو۔ (دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم ۲۴۴۸)
جانوروں کو ہونے والی پریشانیوں کا اس حد تک خیال کہ آپ نے گھوڑوں کی دم، گردن اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع فرما دیا وجہ یہ بتلائی کہ ان کی پیشانی کے بالوں میں بھلائی رکھی ہوئی ہے اور دم کے بالوں سے وہ مکھی مچھروں کو بھگانے کا کام لیتے ہیں۔ (دیکھیں: سنن أبی داؤد ۲۵۴۲)
دور جدید میں جہاں بہت سی خرابیوں نے جنم لیا ہے وہیں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کتوں کی دم بچپن میں کاٹ دی جاتی ہے اس قسم کے کتوں کی قیمت عام کتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ خوبصورتی کے فراق میں کتوں کو ان کے قدرتی ’’مور چھل‘‘ سے محروم کردیا جاتا ہے۔

جانوروں کو مارنا:

جانوروں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام نے اس حد تک خیال رکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا، اس حکم میں انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں کیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے چہرے پر داغنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم ۲۵۶۴) جانوروں کی حالت کا اس قدر خیال کہ ایک عورت نے اپنے اونٹ پرلعنت بھیج دی تو آپ نے اس اونٹ پر سے سامان اتارنے کا حکم دے کر کہا کہ اسے چھوڑ دو اس لیے کہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ (دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم ۲۵۶۱)گویا کہ آپ کو یہ بھی ناگوار گزرا کہ کوئی شخص اپنے جانور کو بھی برا بھلا کہے۔ کون سا مذہب ایسا ہے جو جانوروں کا اس حد تک خیال رکھے؟

جانوروں کو ذبح کرنے سے متعلق امور:

آج کل حقوق بہائم پر کام کرنے والی تنظیموں نے سبزی خوری (Vegetarian) اور حقوق بہائم (Animal Rights)  کو آپس میں اس طرح ملا دیا ہے گویا کہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص گوشت خور (Non-Veg) ہو کر بھی جانوروں کے حقوق کا محافظ ہوسکتا ہے، سب سے بڑی بات اس غلطی فہمی کو دور کرنا ہے کہ گوشت کھانا جانوروں پر ظلم ہے۔
یہ بات پہلے ہی کہی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبھی جانداروں کو انسان کی ضرورتوں کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کچھ کو حرام قرار دے کر بقیہ کو حلال قرار دیا ہے۔ اس بحث کا یہ موقع نہیں کہ انسان فطرتاً سبزی خور ہے یا گوشت خور؟ مگر یہ بات انسانوں کے دانتوں کی بناوٹ سے واضح ہے کہ وہ گوشت خور بھی ہے سبزی خور بھی ہے۔ اس کے پاس نوکیلے دانت بھی ہیں اور چپٹے بھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سبزی اور گوشت دونوں کھانے کے لیے پیدا کیا ہے لہٰذا اگر ہم گوشت کھاتے ہیں تو کوئی ظلم نہیں کرتے۔
اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہم جس جانور کو کھانا چاہیں اسے بغیر کسی قانون و ضابطے کو اپنی خوراک بنالیں بلکہ اس کے لیے وہ بہت ساری ہدایات دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
إن اللہ کتب الإحسان علی کل شیٔ، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلۃ و إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح و لیحد أحدکم شفرتہ فلیحرح ذبیحتہ۔ (صحیح مسلم رقم ۱۹۵۵ (۵۷))
’’اللہ تعالیٰ ہر چیز میں احسان کو واجب قرار دیتا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔ تم اپنی چھری کو تیز کرلیا کرو اور ذبیحہ کو آرام پہنچائو۔‘‘
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:
من رحم و لو ذبیحۃ عصفور رحمہ اللہ یوم القیامۃ۔ (الأدب المفرد للبخاری رقم ۳۷۱، الصحیحۃ للألبانی رقم ۲۷)
’’جو شخص ایک گوریا کو ذبح کرتے ہوئے رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی بکری کی گردن پر پائوں رکھے ہوئے ہے اور چاقو کو تیز کر رہا ہے، بکری اس کو دیکھ رہی ہے تو آپ نے فرمایا:
أ فلا قبل ہذا؟ أ ترید أن تمیتہا موتتین؟ (الطبرانی فی الکبیر ۳؍۱۴۰؍۱، الصحیحۃ رقم ۲۴)
’’چاقو کو تیزکرنے کام پہلے کیوں نہیں کرلیا؟ کیا تم اسے دو موت مارنا چاہتے ہو۔‘‘
اسلام سے پہلے ظلم و بربریت کی ایک قسم یہ تھی کہ وہ جانوروں کو قسطوں میں ذبح کرتے تھے، جانور کے جس حصے کا گوشت انھیںپسندہوتا اس کو بغیر ذبح کئے کاٹ لیتے۔ اورجانور کو زندہ چھوڑ دیتے۔ اللہ کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اس طریقے کی بہت سخت مخالفت کی اور اس قسم کے گوشت کو مردار گوشت قرار دے دیا اور فرمایا:
ما قطع من البہیمۃ و ہی حیۃ فہو میت۔
(صحیح الجامع رقم۵۶۵۲)
’’چوپائے کے جسم کا جو ٹکڑا اس کے زندہ رہتے ہوئے کاٹا جائے وہ مردار کے حکم میں ہے۔‘‘
 کیا ان تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی یہ کہا جاسکتاہے کہ اسلام نے جانوروں کو سبزی اور اناج کی طرح صرف کھانے کی ایک چیز قرار دیا ہے؟

ایک ضروری وضاحت:

مذہب اسلام کا بنیادی اصول اعتدال ہے، یہاں پر بھی اسلام کا یہ اصول نافذ ہے ۔ اسلام نے جانوروں کو حقوق دئیے ہیں اس میں کوئی شک نہیں، مگر انھیں انسانوں پر فوقیت نہیں دی ہے۔ جہاں انسانوں اور جانوروں کے مفادات ٹکرائیں وہاں ہر حال میں انسانوں کو ہی ترجیح دی جائے۔ یہی کام دنیا کا مہذب سماج کرے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت دہلی لاکھوں روپئے خرچ کرکے بندروں کو پکڑ کو انھیں غیر رہاشی علاقوں مثلاً جنگلوں میںچھوڑ رہی ہے اس طرح سڑک پر حادثات کو دعوت دینے والی گایوں اور بیلوں کو پکڑنے میں جب اسے ناکامی ہوئی تو عدالت کے دبائو میں یہ اعلان کرنا پڑاکہ کوئی آدمی آوارہ گائے کو پکڑ کر میونسپلٹی لائے گا تو اسے دو ہزار روپئے انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔ یہ سب جانوروں پر انسانوں کی فوقیت کا اعتراف ہی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی آنکھوں میں بعض جانوروں کا تقدس اس قدر غالب ہے کہ ان کے گمان میں اگر اس جانور کی توہین ہوجائے تو مخصوص فرقہ کی آبادی تہِ تیغ کی جاسکتی ہے،لاکھو ںانسانوں کا قتل ایک معمولی سے جانور کے قتل کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جانوروں کے حقوق کے لیے بیداری لانے کے لیے جانوروں کی طرح ننگے ہو کر مرد و زن کا ریلیاں نکالنا ایک عام شیوہ ہے۔ کیا ایسے وقت میں حقوق بہائم کی تنظیموں کو حقوق انسانی کے مخالف نہ سمجھا جائے؟ یہ لوگ جانوروں کے حقوق کے تعلق سے کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا کہ کہ ایک فرقہ پرست پاٹی کے کونسلر نے ایم سی ڈی کو مشورہ دیا کہ کوریا میں کتے کھائے جاتے ہیں لہٰذا کتوں کو کوریا ایکسپورٹ کردیا جائے اس سے ہماری آمدنی بڑھے گی۔(۲) 

سبزی خوری (Vegitairian)کا فیشن:

ہمارے یہاں Petaاور دوسری حقوق بہائم کی علم بردار تنظیموں کے پروپیگنڈہ سے متأثر ہو کر بعض مسلم نوجوان بھی اپنے آپ کو (Vegetarian) کہلانے لگے ہیں۔ بے شک اسلام گوشت کھانے کولازم نہیں قرار دیتا لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر گوشت نہیں کھاتاکہ یہ جانوروں پر ظلم ہے یا جانور ہماری غذائی ضرورت کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں تو ایسی صورت میں یہ فکر اسلام سے ٹکراتی ہے ویسے اگر کوئی شخص اس لیے گوشت نہیں کھاتا کہ اس کا دل نہیں چاہتا تو اس میں کوئی حرج نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ’’ضب‘‘ کا گوشت حلال ہونے کے باوجود پسند نہ آنے کی وجہ سے نہیں کھاتے تھے۔

خاتمہ:

چوں کہ عید الاضحی میں مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں اور یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ ایک ساتھ لاکھوں کروڑوں جانور ذبح ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ اس موقع پربعض فرقہ پرستوں کے یہاںموضوع بحث بنتا ہے۔
ہمیںاس بحث میں بالکل نہیں پڑنا چاہئے۔ اسلام نے ہمیں جو ہدایت دی ہے ہمیں اس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے اس سے بڑھ کر جانوروں کا کوئی خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔

حواشی:

۱۔            اب تک راقم الحروف کی نظر سے کوئی ایسی کوشش نہیں گزری کہ کسی نے اسلام میں جانوروں کے حقوق سے متعلق آیات و احادیث کو سامنے رکھ کر اس موضوع پرکوئی سنجیدہ کتاب لکھی ہو۔ حالاں کہ دوسرے مذاہب والوں نے اس پر کافی لٹریچر اکٹھا کرلیا ہے۔ اس موضوع پرایک ویب سائٹ www.islamicconcern.com کے نام سے ہے مگر یہ بھی Peta نامی غیر مسلم تنظیم کی ملکیت ہے لہٰذا اس کے مواد پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

۲۔           نوبھارت ٹائمز ۱۶؍اگست ۲۰۰۷ء اخبار کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں چار پانچ لاکھ آوارہ کتے ہیں کتوں کو پکڑنے کے لیے دو کروڑ سالانہ بجٹ ہے اس کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں پچھلے آٹھ سالوں میں ایک لاکھ ۳۶ ہزار لوگوں کو کتوں نے کاٹا ہے۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔