Sunday, June 14, 2009

جانوروں کے حقوق پرواویلا-کتنا حقیقت کتنا فسانہ

0 comments
Animal Right In Islam
گوشت خور صرف مسلمان نہیں بلکہ اکثر اقوام گوشت خور ہیں مگر جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کاالزام جس طرح مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے شاید ہی کسی اور قوم پر لگایا جاتا ہو۔ عام تاثر یہ قائم کیا گیا ہے کہ اسلام جانوروں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا، یہ غلط فہمی غیر مسلموں کی اسلام سے عدم واقفیت سے کہیں زیادہ خود مسلمانوں کے طرز عمل سے پیداہوئی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جانوروں کے حقوق کا اسلامی تصور مغربی اور ہندوانہ تصور سے مختلف ہے۔ اہل مغرب کے یہاں کا تصور یہ ہے کہ جانور ہمارے کھانے اور سواری کرنے کے لےے نہیں ہیں، وہ بھی خوشی و غمی محسوس کرتے ہیں۔
ہمارے ہندو بھائی بعض جانوروں کو مقدس مانتے ہیں مگر گوشت کے سوا مال برداری اور دوھ وغیرہ کے لیے ان کا استعمال ان کے یہاں معیوب نہیں۔ ان دونوں کے درمیان اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام اشیاءکو انسان کی ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے خواہ جاندار ہوں یا غیرجاندار مگر اسلام نے انھیں استعمال کرنے کے چند اصول و قواعد بتائے ہیں، ان اصول و قواعد کو ہم ”حقوق“ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔یہاں پر اسلام میں جانوروں کے حقوق کی تفصیل فراہم کرنا ممکن نہیں، ہاں چند اہم امور کی نشان دہی کی جارہی ہے۔جانوروںکے حقوق اسلام کی نظر میں:جانوروں کے تعلق سے اسلام کا تصور سنن ابوداﺅد (رقم2569) کی حدیث واضح کرتی ہے
عن أبى هريرة عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « إياكم أن تتخذوا ظهور دوابكم منابر فإن الله إنما سخرها لكم لتبلغكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس وجعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجتكم ».”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے چوپایوں کی پشت کو منبر بنانے سے بچو، اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے ماتحت کردیا ہے تاکہ تم ان جگہوں پر ان جانوروں پر سوار ہو کر آسانی کے ساتھ پہنچ جاﺅ جہاں کافی مشقت کے ساتھ ہی پہنچا جاسکتا ہے۔“اس حدیث میں جانوروں کو سواری کے طور پر استعمال کرتے وقت ضرورت سے زیادہ تکلیف نہ دینے کو کہا گیا ہے، ضروری سی بات ہے کہ اگر جانور کی پیٹھ کو منبرکے طور پر استعمال کیا جائے گا تو اسے بلاضرورت تکلیف پہنچے گی۔کھلانے پلانے کی ذمہ داری جانور کے مالک کے اوپر:رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کا ارشاد ہے

عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار لا هي أطعمتها وسقتها إذ حبستها ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض
[
صحیح مسلم رقم 2242 (151) عن عبداللہ بن عمر مرفوعاً)”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں ڈالا گیا جس کو اس نے قید رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی، اسے کچھ کھانے کو دیا نہ پینے کو جب باندھے رکھا، اس بلی کو چھوڑا بھی نہیں کہ کیڑے مکوڑے کھا لے۔“معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی جانور کو باندھ کر رکھ رہا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اس کو کھلائے پلائے، کسی آزاد جانور کو کھلانا پلانا باعث ثواب ضرور ہے مگر عام انسان اس کا مکلف نہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کی صرف اس وجہ سے مغفرت ہوگئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے پر ترس کھاکر اسے اپنے موزوں کی مدد سے پانی پلایا تھا۔ (دیکھیں: صحیح بخاری رقم ۷۶۴۳، صحیح مسلم رقم 2245 (155) عن ابی ہریرة مرفوعاً)اس حکم میں جانوروں کے کھانے پینے کے قدرتی وسائل تباہ و برباد کرکے انھیں بھوک و پیاس پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ سے اگر کوئی جانور مرتا ہے تو ان وسائل کو تباہ کرنے والا گنہگار ہوگا۔ جانوروں کے احساسات کا خیال:اسلام نے جانوروں کے احساسات کا بھی پورا خیال رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ جانور کے چھوٹے بچوں کو ماں سے جدا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ کسی کام سے کہیں چلے گئے، ایک صحابی رسول نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے، انھوں نے ان دونوں بچوںکو پکڑ لیا۔چڑیا آکر اپنے پر پھڑپھڑانے لگی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور چڑیا کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے فرمایا

من فجع هذه بولدها ؟ ردوا ولدها إليها (سنن ابی داود رقم 2675، الصحیحة رقم 25)”اسے کس نے اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف میں ڈالا ہے؟ اس کے بچے کو اس کے پاس لوٹا دو۔“یہ جانوروں کے احساسات کا خیال ہی ہے کہ آپ نے ایک جانور کو بھوک کی حالت میں دیکھا تو بے چین ہوگئے اور اس کے مالک کو بلا کر کہا: ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ صحیح وسالم حالت میں ان پر سوار ہو اور انھیں صحیح و سالم حالت میں چھوڑو۔ (دیکھیں: سنن ابی داود رقم2448)جانوروں کو ہونے والی پریشانیوں کا اس حد تک خیال کہ آپ نے گھوڑوں کی دم، گردن اور پیشانی کے بال کاٹنے سے منع فرما دیا وجہ یہ بتلائی کہ ان کی پیشانی کے بالوں میں بھلائی رکھی ہوئی ہے اور دم کے بالوں سے وہ مکھی مچھروں کو بھگانے کا کام لیتے ہیں۔ (دیکھیں: سنن بی داود 2542)دور جدید میں جہاں بہت سی خرابیوں نے جنم لیا ہے وہیں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کتوں کی دم بچپن میں کاٹ دی جاتی ہے اس قسم کے کتوں کی قیمت عام کتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ خوبصورتی کے فراق میں کتوں کو ان کے قدرتی ”مور چھل“ سے محروم کردیا جاتا ہے۔جانوروں کو مارنا:جانوروں کے حقوق کے سلسلے میں اسلام نے اس حد تک خیال رکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا، اس حکم میں انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں کیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے چہرے پر داغنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (دیکھیں: سنن ابی داود رقم 2564) جانوروں کی حالت کا اس قدر خیال کہ ایک عورت نے اپنے اونٹ پرلعنت بھیج دی تو آپ نے اس اونٹ پر سے سامان اتارنے کا حکم دے کر کہا کہ اسے چھوڑ دو اس لیے کہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ (دیکھیں: سنن ابی داود رقم 2561)گویا کہ آپ کو یہ بھی ناگوار گزرا کہ کوئی شخص اپنے جانور کو بھی برا بھلا کہے۔ کون سا مذہب ایسا ہے جو جانوروں کا اس حد تک خیال رکھے؟
جانوروں کو ذبح کرنے سے متعلق امور
آج کل حقوق بہائم پر کام کرنے والی تنظیموں نے سبزی خوری اور حقوق بہائم کو آپس میں اس طرح ملا دیا ہے گویا کہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص گوشت خور ہو کر بھی جانوروں کے حقوق کا محافظ ہوسکتا ہے، سب سے بڑی بات اس غلطی فہمی کو دور کرنا ہے کہ گوشت کھانا جانوروں پر ظلم ہے۔ یہ بات پہلے ہی کہی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبھی جانداروں کو انسان کی ضرورتوں کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ان میں سے کچھ کو حرام قرار دے کر بقیہ کو حلال قرار دیا ہے۔ اس بحث کا یہ موقع نہیں کہ انسان فطرتاً سبزی خور ہے یا گوشت خور؟ مگر یہ بات انسانوں کے دانتوں کی بناوٹ سے واضح ہے کہ وہ گوشت خور بھی ہے سبزی خور بھی ہے۔ اس کے پاس نوکیلے دانت بھی ہیں اور چپٹے بھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سبزی اور گوشت دونوں کھانے کے لیے پیدا کیا ہے لہٰذا اگر ہم گوشت کھاتے ہیں تو کوئی ظلم نہیں کرتے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہم جس جانور کو کھانا چاہیں اسے بغیر کسی قانون و ضابطے کے اپنی خوراک بنالیں بلکہ اس کے لیے وہ بہت ساری ہدایات دیتا ہے۔ نبی کریم کا ارشاد ہے
( إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته فليرح ذبيحته )
(صحیح مسلم رقم1955 (57)
)”اللہ تعالیٰ ہر چیز میں احسان کو واجب قرار دیتا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔ تم اپنی چھری کو تیز کرلیا کرو اور ذبیحہ کو آرام پہنچاﺅ۔“ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:
من رحم ولو ذبيحة عصفور رحمه الله يوم القيامة(الادب المفرد للبخاری رقم 371، الصحیحة للالبانی رقم 27
”جو شخص ایک گوریا (چھوٹی سی چڑیا) کو ذبح کرتے ہوئے رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائے گا۔“ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک آدمی بکری کی گردن پر پاﺅں رکھے ہوئے ہے اور چاقو کو تیز کر رہا ہے، بکری اس کو دیکھ رہی ہے تو آپ نے فرمایا:افلا قبل ہذا؟ اترید ان تمیتہا موتتین؟ (الطبرانی فی الکبیر 31401، الصحیحة رقم 24)”چاقو کو تیزکرنے کام پہلے کیوں نہیں کرلیا؟ کیا تم اسے دو موت مارنا چاہتے ہو۔“اسلام سے پہلے ظلم و بربریت کی ایک قسم یہ تھی کہ وہ جانوروں کو قسطوں میں ذبح کرتے تھے، جانور کے جس حصے کا گوشت انھیںپسندہوتا اس کو بغیر ذبح کئے کاٹ لیتے۔ اورجانور کو زندہ چھوڑ دیتے۔ رسول الله اس طریقے کی بہت سخت مخالفت کی اور اس قسم کے گوشت کو مردار گوشت قرار دے دیا اور فرمایا:ما قطع من البہیمة و ہی حیة فہو میت۔ (صحیح الجامع رقم5652)”چوپائے کے جسم کا جو ٹکڑا اس کے زندہ رہتے ہوئے کاٹا جائے وہ مردار کے حکم میں ہے۔“ کیا ان تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی یہ کہا جاسکتاہے کہ اسلام نے جانوروں کو سبزی اور اناج کی طرح صرف کھانے کی ایک چیز قرار دیا ہے؟
ایک ضروری وضاحت
مذہب اسلام کا بنیادی اصول اعتدال ہے، یہاں پر بھی اسلام کا یہ اصول نافذ ہے ۔ اسلام نے جانوروں کو حقوق دئےے ہیں اس میں کوئی شک نہیں، مگر انھیں انسانوں پر فوقیت نہیں دی ہے۔ جہاں انسانوں اور جانوروں کے مفادات ٹکرائیں وہاں ہر حال میں انسانوں کو ہی ترجیح دی جائے گی۔ یہی کام دنیا کا مہذب سماج کرے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت دہلی لاکھوں روپئے خرچ کرکے بندروں کو پکڑ کو انھیں غیر رہاشی علاقوں مثلاً جنگلوں میںچھوڑ رہی ہے اس طرح سڑک پر حادثات کو دعوت دینے والی گایوں اور بیلوں کو پکڑنے میں جب اسے ناکامی ہوئی تو عدالت کے دباﺅ میں یہ اعلان کرنا پڑاکہ کوئی آدمی آوارہ گائے کو پکڑ کر میونسپلٹی لائے گا تو اسے دو ہزار روپئے انعام کے طور پر دےے جائیں گے۔ یہ سب جانوروں پر انسانوں کی فوقیت کا اعتراف ہی ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی آنکھوں میں بعض جانوروں کا تقدس اس قدر غالب ہے کہ ان کے گمان میں اگر اس جانور کی توہین ہوجائے تو مخصوص فرقہ کی آبادی تہِ تیغ کی جاسکتی ہے،لاکھو ںانسانوں کا قتل ایک معمولی سے جانور کے قتل کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جانوروں کے حقوق کے سلسلہ میں بیداری لانے کے لیے جانوروں کی طرح ننگے ہو کر مرد و زن کا ریلیاں نکالنا ایک عام شیوہ ہے۔ کیا ایسے وقت میں حقوق بہائم کی تنظیموں کو حقوق انسانی کے مخالف نہ سمجھا جائے؟ یہ لوگ جانوروں کے حقوق کے تعلق سے کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا کہ کہ ایک فرقہ پرست پاٹی کے کونسلر نے ایم سی ڈی کو مشورہ دیا کہ کوریا میں کتے کھائے جاتے ہیں لہٰذا کتوں کو کوریا ایکسپورٹ کردیا جائے اس سے ہماری آمدنی بڑھے گی۔(2)
سبزی خوری کا فیشن
ہمارے یہاں بيتا اور دوسری حقوق بہائم کی علم بردار تنظیموں کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر بعض مسلم نوجوان بھی اپنے آپ کو سبزي خور کہلانے لگے ہیں۔ بے شک اسلام گوشت کھانے کولازم نہیں قرار دیتا لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر گوشت نہیں کھاتاکہ یہ جانوروں پر ظلم ہے یا جانور ہماری غذائی ضرورت کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں تو ایسی صورت میں یہ فکر اسلام سے ٹکراتی ہے ویسے اگر کوئی شخص اس لیے گوشت نہیں کھاتا کہ اس کا دل نہیں چاہتا تو اس میں کوئی حرج نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ”ضب“ کا گوشت حلال ہونے کے باوجود پسند نہ آنے کی وجہ سے نہیں کھاتے تھے۔خاتمہ:چوں کہ عید الاضحی میں مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں اور یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ ایک ساتھ لاکھوں کروڑوں جانور ذبح ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ اس موقع پربعض فرقہ پرستوں کے یہاںموضوع بحث بنتا ہے۔ ہمیںاس بحث میں بالکل نہیں پڑنا چاہئے۔ اسلام نے ہمیں جو ہدایت دی ہے ہمیں اس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے اس سے بڑھ کر جانوروں کا کوئی خیرخواہ نہیں ہوسکتا

۔حواشی:1
۔ اب تک راقم الحروف کی نظر سے کوئی ایسی کوشش نہیں گزری کہ کسی نے اسلام میں جانوروں کے حقوق سے متعلق آیات و احادیث کو سامنے رکھ کر اس موضوع پرکوئی سنجیدہ کتاب لکھی ہو۔ حالاں کہ دوسرے مذاہب والوں نے اس پر کافی لٹریچر اکٹھا کرلیا ہے۔ اس موضوع پرایک ویب سائٹ
کے نام سے ہے مگر یہ بھی Peta نامی غیر مسلم تنظیم کی ملکیت ہے لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا
۔2۔ نوبھارت ٹائمز 16اگست 2007ءاخبار کی رپورٹ کے مطابق دہلی میں چار پانچ لاکھ آوارہ کتے ہیں کتوں کو پکڑنے کے لیے دو کروڑ سالانہ بجٹ ہے اس کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دہلی میں پچھلے آٹھ سالوں میں ایک لاکھ 36ہزار لوگوں کو کتوں نے کاٹا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔