Tuesday, June 16, 2009

قبر پر مٹی ڈالتے وقت ”منہا خلقناکم“ پڑھنا

0 comments

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعاﺅں کو چھوڑ کر غیر مسنون دعائیں پڑھنے کا رجحان عوام میں بڑھتاہی جارہاہے۔ نام نہاد اسلامی کتب خانوں والے اپنی دوکان چمکانے کے لیے دعاﺅں کی ایسی کتابیں شائع کراتے ہیں جن میں بغیر کسی حوالے کے ”مجرب“ دعاﺅں کے نام پر بعض دفعہ شرکیہ کلمات کی بھی تلقین کی جاتی ہے۔ صلاة علی النبی کے ثابت شدہ الفاظ کے بجائے ”درود گنج العرش“ اور درود ناری کے فضائل بتائے جاتے ہیں۔ ایسی ہی غیر ثابت شدہ دعاﺅں میں سے میت کو مٹی دیتے وقت پڑھی جانے والی ایک دعا بھی ہے۔ اس کی مشروعیت کے لیے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:
عن ابی امامة رضی اللہ عنہ قال: لما وضعت ام کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القبر قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : منہا خلقناکم و فیہا نعیدکم و منہا نخرجکم تارة اخری۔
”ابوامامہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم قبرمیں اتاری گئیں تو آپ نے یہ آیت پڑھی: ”منہا خلقناکم و فیہا نعیدکم و منہا نخرجکم تارة ا¿خری“ یعنی ہم نے اسی مٹی سے تم کو پیدا کیا، اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے۔“

تخریج:
اس حدیث کی تخریج امام احمد نے اپنی ”مسند“ (۵۴۵۲ رقم الحدیث ۷۸۲۲) میں کی ہے، نیز حاکم نے ”المستدرک“ (۲۹۷۳ رقم الحدیث ۳۳۴۳) میں اسے بیان کیا ہے۔ دونوں نے بسند عبید اللہ بن زحر عن علی بن زید بن جدعان عن القاسم عن ا¿بی ا¿مامة درج کیا ہے۔

درجه حدیث:
حدیث حد درجہ ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبید اللہ بن زحر ہیں جن کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے:
یروی الموضوعات عن الا¿ثبات، و ذا روی عن علی بن یزید ا¿تی بالطامات و اذا اجتمع فی سناد خبر عبید اللہ و علی بن یزید والقاسم ا¿بوعبدالرحمن لم یکن ذلک الخبر Êلا مما عملتہ ا¿یدیہم۔
”یہ ثقہ راویوں سے من گڑھت روایتیں بیان کرتے ہیں، جب یہ علی بن یزید سے روایت کریں تو مصیبت لاتے ہیں اور اگر کسی حدیث کی سند میں عبید اللہ، علی بن یزید اور قاسم ابوعبدالرحمن جمع ہوجائیں تو وہ خبر ان کے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے کارنامہ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔“ (میزان الاعتدال ۵۹ رقم الترجمة ۴۶۳۵)
یہ سند جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بعینہ وہی ہے جس کے بارے میں ابن حبان نے مذکورہ بالا بات کہی ہے اگر ابن حبان کی اس جرح کو تشدد پر محمول کرلیا جائے پھر بھی وہ ان کی جرح میں اکیلے نہیں، ابن المدینی نے انھیں منکر الحدیث، یحییٰ بن معین نے لیس بشی¿ اور دارقطنی نے لیس بالقوی کہا ہے۔ ذہبی نے کہا ہے کہ نسائی ان سے حسن ظن رکھتے تھے اس لیے انھیں ضعفاءمیں شمار نہیں کیا اور کہا ہے: ”لا با¿س بہ“ (ان میں کوئی حرج نہیں) (المیزان ۹۵۳۵) حافظ ابن حجر نے التقریب میں کہا ہے: صدوق یخطی (رقم الترجمة ۰۹۲۴)
دوسرے راوی علی بن یزید الہانی الشامی ہیںجن کو امام بخاری نے منکر الحدیث، نسائی نے لیس بثقة، رازی نے لیس بالقوی اور دار قطنی نے متروک کہا ہے ۔ (المیزان ۵۶۹۱ رقم الترجمة ۲۷۹۵) نیز حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم۷۱۸۴) میں انھیں ضعیف کہا ہے۔
تیسرے راوی قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
روی عن علی بن یزید ا¿عاجیب و ما ا¿راہا Êلامن قبل القاسم۔ (المیزان رقم ۷۱۸۶)
”علی بن یزید سے عجیب و غریب چیزیں بیان کی گئی ہیں، میں اسے قاسم ہی کی کارستانی سمجھتا ہوں۔ “
ابن حجر نے التقریب میں کہا ہے:
صدوق یغرب کثیرا۔
”یہ صدوق ہیں اکثر غریب روایت بیان کیا کرتے ہیں۔“
اس حدیث کی روایت میں مسلسل تین متکلم فیہ راوی ہیں لہٰذا اس روایت پر کیوں کر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ حاکم نے اسے مستدرک میں اسی سند سے ذکر کرنے کے بعد اس حدیث کے بارے میں کوئی کلام نہیں کیا ہے۔ ذہبی نے کہا:
خبر واہ علی بن یزید متروک۔
”حدیث کمزور ہے علی بن یزید کو محدثین نے چھوڑ دیا ہے۔“
علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے:
فÊذا کان ا¿حسن ا¿حوال ہذا الحدیث ا¿نہ ضعیف جدا، فلا یجوز العمل بہ قولا واحدا کما بینہ الحافظ ابن حجر فی تبیےن العجب فیما ورد فی فضل رجب۔ (ا¿حکام الجنائز و بدعہا للا¿لبانی ۳۵۱)
”اس حدیث کا اگر سب سے اچھا درجہ متعین کیا جائے (تب بھی اس کا درجہ) ”ضعیف جدا“ (بہت زیادہ ضعیف) ہوگا لہٰذا کسی بھی صورت میں اس پر عمل کرنا جائز نہ ہوگا جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”تبیین العجب فیما ورد فی فضل رجب“ میں بیان کیا ہے۔“

متن سے بھی دعوی ثابت نہیں ہوتا:
اگر ہم اس حدیث کو بفرض محال قابل عمل بھی مان لیں تب بھی اس سے دعا کی وہ کیفیت ثابت نہیں ہوتی جو عام لوگوں کے یہاں رائج ہے اور انجانے میں لوگ اس کی دعوت دیتے ہیں اس لیے کہ پہلی بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آیت کریمہ کے پڑھنے کی بات ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبرمیں اتارتے وقت کی ہے نہ کہ مٹی دیتے وقت کی۔ جہاں تک قبر میں مردے کو اتارتے وقت دعا پڑھنے کی بات ہے تو آپ سے ثابت ہے کہ آپ اس موقع پر ”بسم اللہ علی سنة رسول اللہ“ یا ”ملة رسول اللہ“ پڑھا کرتے تھے۔ (۱)
خود ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی مسند احمد کی مذکورہ ضعیف روایت میں منہا خلقناکم.... کے بعد شک کے ساتھ ان الفاظ کا ذکر ہے کہ آپ نے اسے پڑھا یا نہیں، راوی کو معلوم نہیں، مگر مستدرک حاکم میں بسم اللہ علی سنة رسول اللہ کا ذکر بغیر شک کے متصلاً بیان ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر دعا کو ثابت بھی مانا جائے تویہ مٹی دیتے وقت نہیں بلکہ میت کو قبر میں اتارتے وقت کی دعا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دعا کی یہ کیفیت کہ پہلی بار مٹی ڈالتے وقت ”منہا خلقناکم“ دوسری بار ”و فیہا نعیدکم“ اور تیسری بار ”و منہا نخرجکم تارة ا¿خری“ پڑھا جائے، اس کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ حدیث کے الفاظ اوپر گزر چکے ہیں، اگرچہ وہ لائق حجت نہیں مگر اس کے باوجود بھی مذکورہ کیفیت کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے۔ ہاںیہ بات ضرور ہے کہ آپ تین مرتبہ مٹی سرہانے کی طرف سے ڈالتے تھے۔ (۲) اس سے یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اس موقع پر کوئی دعا بھی خاص طور پر پڑھی جائے۔ یہ شبہ دراصل اس وجہ سے ہوا کہ آیت کے تین ٹکڑے ہیں اور تین ہی مرتبہ مٹی ڈالنے کا تذکرہ بھی ہے لہٰذا بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ یہ اسی وقت پڑھنے کی دعا ہے آیت کے مفہوم سے بھی بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔

ایک شبہ کا ازالہ:
کوئی کہہ سکتا ہے کہ آخر قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے میں حرج کیا ہے جس میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا تذکرہ اور انسانی زندگی کی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ (۳) اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوگی؟
دراصل بات یہ ہے کہ کسی خاص دعا کا خصوصی طور پر اہتمام جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ مان رہے ہیں کہ یہ دعا اس جگہ کے لیے تو مناسب تھی مگر -نعوذ باللہ- آپ ایسا نہیں کرسکے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین میں جو کمی رہ گئی ہے اسے اپنی طرف سے پورا کرلیا جائے۔
چوں کہ دعا عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہوا کرتی ہے اس میں قیاس جائز نہیں لہٰذا ہم اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔

خلاصہ کلام:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دعائیں ثابت ہیں ہمیں ان کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہئے آپ نے ایک موقعہ پر نبی کی جگہ پر رسول کہہ دینے پر ایک صحابی کو ٹوک دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاﺅں میں صرف معانی ہی نہیں بلکہ الفاظ بھی وہی ہونے چاہئیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں۔ لہٰذا دعاﺅں کے مستند مجموعے ہی مطالعہ میں رکھے جائیں، ایسی کتابوں سے بچا جائے جن میں ”مجرب دعاﺅں“ کے نام پر قرآن و سنت کی کسی دلیل کے بغیر من گڑھت دعائیں درج ہوں۔ دعائیں کوئی جڑی بوٹی یا معجون نہیں ہیں کہ انھیں مجرب ہونے کا لیبل لگا کر رائج کیا جائے، دعائیں وہی ثابت مانی جائیں گی جو صحیح احادیث سے ثابت ہوں۔
مرض الموت سے لے کر دفن کے بعد تک کا وقت میت کے لیے مغفرت طلب کرنے اور اس کے ورثاءکو صبر کی تلقین کرنے کا ہوتا ہے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں پڑھنی چاہئیں اور اللہ سے دعا کرنا چاہئے کہ اسے بخش دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے ہر مرحلہ پر سنت نبوی پر عمل کرنے کی توفیق دے اور غیر شرعی امور سے بچائے۔ آمین

حواشی:
۱۔ سنن الترمذی ۱۵۰۱،ابواب الجنائز باب ما جاءما یقول Êذا دخل المیت قبرہ، اس کے علاہ اس کی تخریجابوداو¿د ۲۰۷، ابن ماجہ ۱۰۷۴ رقم ۹۴۵۱، ۲۵۵۱، ابن حبان ۳۷۷، حاکم ۱۶۶۳، اور مسنداحمد رقم ۰۹۹۴، ۳۳۲۵، ۰۷۳۵، ۱۱۱۶ میں کی گئی ہے۔ حدیث صحیح ہے۔
۲۔ سنن ابن ماجہ ۴۶۱ شواہد کی وجہ سے حدیث کو تقویت مل جاتی ہے۔
۳۔ سورہ طہ کی آیت ۵۵ ہے۔
avbva

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔