Thursday, June 25, 2009

بچوں کی صف

0 comments

عام طور پر بچوں کی صف کے بارے میں یہ تصور ہے کہ بڑوں کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی پہلے بڑے لوگوں کی صف ہوگی، پھر بچوں کی اور اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی، لیکن اس مسئلہ میں یہ ضروری سمجھ لینا کہ بچوں کی صف ہر حال میں الگ ہوگی اور اگر کوئی بچہ کسی صف میں شامل  ہو گیا تو اس کی وجہ سے صف ٹوٹ جائے گی غلط ہے۔ ہماری مسجدوں میں عموما اور رمضان کے مہینہ میں خصوصا دیکھا گیا ہے کہ لوگ بلاوجہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی صف اچھوتوں کی طرح مسجد کے ایک کونے میں لگاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے اور صف کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہو لیکن آنے والے نمازیوں کے لیے جگہ چھوڑ دی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بچوں کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کا جو حل ہم لوگوں نے خود سے تلاش کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کو ایک گوشہ مل جاتا ہے جہاں وہ دل کھول کر شور مچاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نبوی طریقہ اپنایا جائے کہ نماز کھڑی ہونے کے وقت سب سے پہلے بڑوں کی صف پھر بچوں کی صف اور سب سے آخر میں عورتوں کی صف بندی ہو تو پھر پچوں کے شور مچانے کا مسئلہ کسی حد تک حل ہوجائے۔ 
اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث واضح دلیل ہے۔ 
"عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان جدتہ ملیکة دعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لطعام صنعتہ، فاکل منہ ثم قال: قوموا فاصلی لکم، قال انس بن مالک: فقمت لی حصیر لنا قد اسود من طول مالبث فنضحتہ بمائ، فقام علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و صففت انا و الیتیم و راءہ و العجوز من وراءنا، فصلی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رکعتین ثم انصرف۔"
ترجمہ: ”انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جو انھوں نے آپ کے لئے بنایا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور کھانا تناول فرمایا، اس کے بعد آپ نے کہا کہ کھڑے ہو میں تم لوگوںکو صلاة پڑھادوں ۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لایا جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہوگئی تھی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاﺅ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میںاور یتیم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ بوڑھی (دادی) ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی اس کے بعد آپ واپس ہوگئے۔“
”صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب جواز الجماعة فی النافلة“ رقم 266(658)
شیخ الحدیث عبیداللہ مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یتیم کا لفظ بتلاتا ہے کہ وہ ابھی بلوغت کی عمر کو نہیںپہنچے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مسند احمد کی حدیث میں اس کی بھی صراحت ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی۔ (دیکھیں مرعاة المفاتیح429)
ظاہر سی بات ہے کہ اگر بچے کی صف کا اعتبار نہ کیا جائے تو گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام کی حیثیت سے اکیلے کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے بھی ایک ہی مصلی ہو ا جو کہ صف بندی کے اصول کے خلاف ہے۔ صف بندی کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دو مصلی ہوں تو امام کے دائیں طرف مصلی کھڑا ہوگا، اور اگر تین ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا اور مصلی پیچھے کھڑے ہوںگے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ بچے کی صف میںموجودگی کا اعتبار نہ ہوگا اس کا وجوداور عدم وجود برابر ہے تو گویا وہ یہ کہہ رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک مقتدی کو کھڑا کیا جس طرح کہ عورت کو آپ نے اکیلے کھڑا کیا۔

ضعیف حدیث سے استدلال:

عام طور پر بچوں کی صف کے لئے جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
عن ابی مالک الاشعری رضی اللہ عنہ قال:الا احدثکم بصلاة النبی ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ قال: فاقام الصلاة فصف الرجال، وصف خلفہم الغلمان ثم صلی بہم فنذکر صلاتہ۔
(سنن ابی داود: کتاب الصلاة باب مقام الصبیان من الصف، مسند احمد 5:341، 342،342، 344، سنن بیہقی 3:47)
”ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة نہ بتاﺅں (پھرابو مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاة بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاة قائم کرنے کا حکم دیا، مردوں نے صف بندی کی، ان کے پیچھے بچوں نے صف بندی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو صلاة پڑھائی (پھرابو مالک نے آپ کی صلاة کا مفصل بیان کیا)“
مگر یہ حدیث ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ مشکوٰة المصابیح کی تحقیق میں اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ایک راوی شہر بن حوشب ہیں سوءحفظ کی وجہ سے ان کی تضعیف کی گئی ہے۔ (تحقیق مشکوٰة المصابیح للا ¿لبانی رقم الحدیث (1115)(10))
صاحب مرعاة المفاتیح اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے بڑوں کی صف پہلے ہوگی، پھر بچوں کی صف ہوگی، اس کے بعد عورتوں کی صف ہوگی۔
مگر آخر میں اس حدیث کا درجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سبھی سندوں میں شہر بن حوشب ہیں اور ان پر کلام کیا گیا ہے۔(مرعاة المفاتیح4:43)
لہٰذا اس حدیث پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی دونوں سندیں (مسند احمد اورسنن ابی داود) ضعیف ہیں۔ اس کے اندر شہر ہیں۔ مردوں کے پیچھے عورتوں کی الگ صف کے بارے میں صحیح احادیث ہیں مگر بچوںکو بڑوں سے پیچھے کرنے کے بارے میں اس کے علاوہ میں کوئی اور حدیث نہ پا سکا، اور اس سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ لہٰذا میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا اگر صف میںگنجائش ہو تو بڑے بچوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یتیم کا انس رضی اللہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاة پڑھنا اس کی دلیل ہے۔
(تمام المنة فی التعلیق علی فقہ السنة ص:284)
صاحب مرعاة المفاتیح شیخ الحدیث عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے علامہ سبکی رحمہ اللہ کا قول اس حدیث پر نقل کیا ہے کہ یہ بات (کہ بچوںکی صف بڑوں کے بعد ہو)اس وقت ہے جب وہ دو یا دو سے زائد ہوں ورنہ اگر ایک ہی بچہ ہے تو وہ صف میں بڑوں کے ساتھ شامل ہوکر صلاة پڑھے گا۔ (مرعاة المفاتیح4:43)
علامہ سبکی کا قول اپنی جگہ پر اس معنی میں درست ہے کہ اگر ایک ہی بچہ ہو تو اس کو صف کے اندر کھڑ اکیا جائے گا اکیلے نہیں۔ مگر ایک سے زائد ہوں تو ان کو صف میں شامل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ صحیح بات اس سلسلہ میں یہی ہے کہ ان کو بھی صف کے اندر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ا ¿ولو النہی (اصحاب خرد) والی حدیث کے عموم سے صف کی ترتیب اگر ہو اور بڑوں کو پہلے رکھا جائے تو بہتر ہے۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بچوں کی صف بڑوں سے پیچھے ہو یہ ضروری نہیں۔ لہٰذا جو لوگ اس پر بے جاسختی کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حدیث نبوی: لیلنی منکم اولو الاحلام و النہی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونھم (صحیح مسلم: کتاب الصلاة باب تسویة الصفوف و اقامتھا) ( تم لوگوں میں سے عقل و خرد والے لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، اس کے بعد وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو ان سے کم ہوں) کی وجہ سے صف بندی کے وقت موجود مصلیان اسی ترتیب پر کھڑے ہوںگے۔ اگر علم و معرفت میںکوئی کم عمر کاشخصبڑھا ہوا ہو تب اس کو بڑی عمر والے پر فوقیت دی جائے گی۔ حدیث کا یہی تقاضا ہے۔
بعض مساجد میں دیکھا جا تاہے کہ بچوں کو صف بندی کے وقت ہی مسجد کے کونے میں اچھوتوں کی مانند کھڑا کردیا جاتا ہے۔ اس کے لئے خواہ کوئی بھی توجیہ بیان کی جائے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچے بڑوں سے دور ہونے کی وجہ سے اور اپنے ہم عمروں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے شور مچا کر دوسروں کی صلاة بھی خراب کرتے ہیں۔
ہم آخر میں سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی کے دو فتوے اس تعلق سے درج کرتے ہیں۔ امید کہ اس سے زیر غور مسئلہ اوربھی واضح ہو جائے گا۔
”سنت یہ ہے کہ بچے جب سات سال یا اس سے زائد عمر کے ہوجائیں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں جس طرح کہ بالغ کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ہی مصلی ہے تو وہ امام کے دائیں کھڑا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ابو طلحہ کے گھر صلاة پڑھائی۔ انس اور یتیم کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ام سلیم کو ان دونوں کے پیچھے کھڑا کیا اور آپ سے ثابت ہے کہ آپ نے انس کو صلاة پڑھائی تو انہیں اپنے دائیں جانب کر لیا۔ اور ابن عباس کو صلاة پڑھائی انہیں اپنے دائیں کرلیا“۔و باللہ التوفیق
(فتاوی اللجنة الدائمة السوال الثالث من الفتوی رقم 1954)
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بچہ بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا ہے تو کیا اس کی صف شمار ہوگی، کمیٹی نے جواب دیا ہے:
”اگر بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو اس کی جماعت منعقد ہوگی اور صف بھی ۔“
(فتاوی اللجنةالدائمة السول الثانی من الفتوی رقم 3987)
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے یہ پوچھا گیا کہ اگر بچے پہلے آگئے ہوں تو ان کو پیچھے کرنا کیسا ہے؟
شیخ نے اس نے جواب میں کہا: ایسا کرنا جائزنہیں اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ کسی آدمی کو اٹھا کر مجلس میں اس کی جگہ پر بیٹھا جائے، ہاں، اگر ان بچوںکی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو ان اولیاء(گارجین)سے کہہ کر ان کو مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے“ (مجموع فتاوی ورسائل للعثیمین 13:39 رقم 404)
گویا کہ شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بچہ پہلے آکر اگلی صف میںکھڑا ہو گیا ہے تو بعد میں آنے والا اس کے بعد کھڑا ہو گا اس کو اس کی جگہ سے ہٹاکر صف نہیں لگائے گا۔
عام طور پر ہماری مساجد میں اس کے خلاف ہوتا ہے ہر کوئی بچے کو اس کی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ خود کھڑا ہوجاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی کو اگلی صف میں کھڑا ہونا ہے تو اسے پہلے مسجد میں آنا چاہیے پہلے سے موجود مصلیوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی خواہ وہ ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔