Thursday, June 25, 2009

زیورات میں زکوٰة

0 comments

زیورات میں زکوٰة نکالی جائے یا نہ نکالی جائے؟

یہ ایک اہم موضوع ہے۔ عام طورپر اس مسئلہ میں اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ زیورات کو کپڑوں اور دوسری استعمال کی اشیاءپر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے قیاس کرنا کسی بھی صورت میں صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ زیورات کی زکوٰة کے سلسلہ میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف رہا ہے۔ بعض اس میں مطلق زکوٰة کے قائل نہیں تھے اور بعض زکوٰة کے قائل تھے۔ آئندہ سطور میں زیورات میں زکوٰة کے مسئلہ کو تمام فریقوں کے دلائل اور راجح قول کی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔

زیورات میں زکوٰة ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماءکرام کے پانچ اقوال ملتے ہیں:

۔ زیورات میں کوئی زکوٰة نہیں اگر اسے استعمال کے لئے رکھاگیا ہو، خواہ عورت اسے مسلسل استعمال کرتی ہویا خاص خاص مواقع پر استعمال میں لاتی ہو۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایسے زیورات میں زکوٰة نہیں ہے ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ اگر زیور کو اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس کو بیچ کر ضرورت پوری کی جائے تو اس پر زکوٰة ہے جبکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اسی صورت میں زکوٰة فرض ہوگی جب اسے تجارت کی غرض سے رکھا گیا ہو۔

۔ زیور کے اندر صرف ایک سال زکوٰة ہے، یعنی اگر کسی شخص نے کسی زیور کی زکوٰة ایک مرتبہ نکال دی تو پھر آگے اس کو ہر سال اس میں زکوٰة دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔ زیور کی زکوٰة یہ ہے کہ اسے عاریتاً کسی کو استعمال کرنے کے لئے دے دیا جائے۔

۔ زیور کی یا تو زکوٰة نکالی جائے یا عاریتاً استعمال کرنے کے لئے دیا جائے۔

۔ زیور اگر نصاب تک پہنچ گیا ہے تو ہر سال اس کی زکوٰة دینا واجب ہے۔

مذکورہ بالا پانچوں اقوال میں راجح قول پانچواں ہے۔ یعنی زیور اگر چہ ذاتی استعمال کے لئے ہو اس کی زکوٰة دینا واجب ہے قرآن و سنت کے نصوص اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

قرآن مجید سے دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) (التوبة 34-35)

”جو لو گ سونااور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجئے۔ جس دن اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیوں،پہلوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ لو، اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔“

مذکورہ آیت میں ”کنز“ سے مراد وہ سونا اورچاندی ہے جس کی زکوٰة نہ نکالی گئی ہو۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جس سونے چاندی میں سے زکاة نکال دی گئی ہو اگر چہ وہ سات زمینوں کے نیچے ہو، کنز نہیں ہے اور اگرزکاة نہ نکالی گئی ہو تو وہ ”کنز“ ہے اگر چہ زمین کے اوپر ہی کیوں نہ ہو۔

(تفسیر ابن کثیر 2:462ط مکتبہ دار السلام ریاض)

مذکورہ آیت عام ہے اور ہر قسم کے سونے چاندی کو شامل ہے، اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کے اندر زیورات شامل نہیں ہیں تو اس کو چاہئے کہ دلیل پیش کرے۔

حدیث رسول سے دلیل:

عن زيد بن أسلم أن أبا صالح ذكوان أخبره أنه سمع أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

: ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها في نار جهنم فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار

(صحیح مسلم :کتاب الزکاة باب اثم مانع الزکاة رقم987)

”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہر وہ سونے اور چاندی کا مالک جو اس سے اس کا حق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی چادریں بنائی جائیںگی، انہیں آگ میں گرم کیاجائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب وہ ٹھنڈی ہوجائیںگی تو انھیں پھر گرم کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اس دن تک چلتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ سنا دیا جائے گا پھر اس کو اس کا راستہ جنت یا جہنم دکھا دیاجائے گا۔“

”مامن صاحب ذھب“ کے عموم میں ہر وہ شخص آجاتا ہے جس کے پاس سونا چاندی ہو، اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوںگے جن کے پاس نصاب کے برابر سونا یا چاندی نہ ہو۔ اسی طرح ”لایو


¿دی حقہا“ میں تمام حقوق شامل ہیں ان میں سر فہرست زکاة ہے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”الزکوٰة حق المال“زکاة مال کا حق ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ اس سے مرادزکاة ہے چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں: لايودی زکاتہ (صحیح مسلم کتاب الزکوٰة باب اثم مانع الزکوة رقم 987(26))

ایسی بات نہیں کہ ذخیر


ہاحادیث میں صرف وہی احادیث ہیں جن کے عموم سے زیورات میں زکوٰة ثابت ہوتی ہو۔ بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ زیورات میں زکوٰة دینے کی بات کہی گئی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں:

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده

: أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها " أتعطين زكاة هذا ؟ " قالت لا قال " أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار ؟ " قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبي صلى الله عليه و سلم وقالت هما لله عزوجل ولرسوله .

قال الشيخ الألباني : حسن

(سنن ابی داود کتاب الزکوٰة، باب زکوٰة الحلی رقم 1563، سنن الترمذی کتاب الزکوٰة باب ماجاءفی زکوٰة الحلی رقم 637 وقال: لا یصح فی ہذا الباب عن النبی شیئ، سنن نسائی رقم 2479، 2480 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الحلی۔امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس باب میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، صحیح نہیں، اس لیے کہ اسی حدیث کو ابوداد اور نسائی نے صحیح سندوں سے بیان کیا ہے۔ شاید امام ترمذی رحمہ اللہ ان سندوں تک نہ پہنچ سکے۔ (دیکھیں فتاویٰ اللجنة الدائمة رقم 1797 کتاب الزکوٰة باب زکوٰة الذہب المعد للاستعمال )

”ایک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا تم اس کی زکوة دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا:نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں کنگنوں کے بدلہ میں آگ کے کنگن پہنائے۔ اس عورت نے کنگن کو نکالا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“

سنن ابی داد کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن شداد بن الھاد بیان کرتے ہیں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرے دونوں ہاتھوںمیں چاندی کے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا : اس کو میں نے آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاة دیتی ہو؟ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، یا اللہ نے جو چاہا وہ جواب میں نے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ تمہیں جہنم میں داخل کرنے کے لیے کافی ہےں۔“

( سنن ا


¿بی داو
¿د کتاب الزکاة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم 1565، سنن الدارقطنی کتاب الزکاة، باب زکوٰة الحلی رقم ۴۳۹۱، حاکم نے اس حدیث کی تخریج اپنی مستدرک(1437) میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے۔)

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کا گنگن پہنے ہوئے تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا یہ بھی کنز ہے (جس کی طرف قرآن کریم کی آیت والذین یکنزون الذھب میں اشارہ کیا گیا ہے) آپ نے جواب دیا: ”جونصاب تک پہنچ جائے اور تم زکاة ادا کردو تو کنز نہیں ہے۔“

( سنن ا


¿بی داو
¿د کتاب الزکوٰة باب الکنز ماھو؟ و زکوٰة الحلی رقم1564، سنن دار قطنی کتاب الزکوٰة باب ما ا
¿دی زکوٰتہ فلیس بکنز193، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع رقم 5582 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ حاکم نے کہاکہ یہ حدیث بخاری کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی ہے۔ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔)

مذکورہ بالا نصوص سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سونے چاندی کے زیورات میں زکوة ہے۔ اس تعلق سے وارد آیات قرآنیہ اور احادیث و آثار واضح ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کیا گیا۔

ہاں، اس میں کوئی شک نہیں کہ زیورات کی زکاة کے سلسلے میں سلف صالحین کے یہاں اختلاف پایا جاتارہا ہے۔ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کو قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اور جو دلیل کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہو اس کو لیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)النسا:59)

”اگر تم کسی مسئلہ میں اختلاف کرو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ سب سے عمدہ اور بہتر طریقہ ہے۔ “

لہٰذا یہاں پر بھی اسی اصول کے پیش نظر قرآن و سنت کے نصوص کو سامنے رکھ کر راجح مسلک کو واضح کیاجا رہاہے۔ اب آئندہ سطور میں زیورات میں زکاة کے منکرین کے دلائل اور ان کے شبہات کو بیان کرکے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے گی۔ ان شاءاللہ۔

ایک اشکال:

جو لوگ زیورات میں زکاة کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ جن احادیث میں وعید آئی ہوئی ہے وہ اس وقت کی ہوں جب زیورات پہننا ممنوع تھا۔ لیکن مذکورہ بالا احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ احادیث میں اس قسم کا کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس وجہ سے کہ :

۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات کے پہننے سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کی زکاة نہ دینے پر وعید سنائی۔ اگر زیورات پہننا ممنوع ہوتا تو آپ اس کو اتار دینے کا حکم فرما تے۔ جیسا کہ آپ نے اس صحابی کو جو سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے نکال دینے کو کہا تھا۔

۲۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ پہلے زیورات پہننا ممنوع تھا بعد میں اس کی اجازت دی گئی تو اس کے لیے بھی تو دلیل چاہئے بغیر دلیل کے ہم یہ کیسے تسلیم کریں کہ اس مسئلہ میں فلاں حکم ناسخ اور فلاں منسوخ ہے۔

۳۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلے زیور ممنوع تھا تب بھی مذکورہ بالااحادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ان کی زکاةدے دی جائے تو ان کا پہننا جائز ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی زکاة کے واجب نہ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی ہے۔

کیاعائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکاة کی قائل نہ تھیں؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاة نہیں ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو دلیل میں پیش کرتے ہیں جو مو


¿طا امام مالک میں وارد ہے۔

پوری حدیث یوں ہے:

”عبد الرحمان بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کی بیٹیوں کی کفالت کرتی تھیں۔ ان بچیوں کے پاس زیور تھے مگر وہ ان زیورات میں سے زکوة نہیں نکالتی تھیں“۔

(مو


¿طا
Êمام مالک رقم586، کتاب الزکوة باب مالازکاة فیہ من الحلی و التبر و العنبر)

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوة کی قائل نہ تھیں۔ مگر بات ایسی نہیں ہے خود ان ہی سے دار قطنی میں ایک حدیث آئی ہوئی ہے:

عن عمرو بن شعيب عن عروة عن عائشة : قالت لا بأس بلبس الحلي إذا أعطي زكاته (سنند دار قطنی کتاب الزکوة باب زکاة الحلی رقم 1938)

”زیور پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کی زکاةادا کردی گئی ہو۔“

اس حدیث سے اس بات کی تردید ہوجاتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک زیورات میں زکاة نہیں ہے۔ جہاں تک رہی بات مو


¿طا امام مالک کی اس حدیث کی جس میں یتیم بچیوں کے زیورات میں سے زکوة نہ نکالنے کی بات ان کی طرف منسوب کی گئی ہے تو علماءکرام نے اس کی توجیہ یوں کی ہے:

عائشہ رضی اللہ عنہا زیورات میں زکوٰة کی قائل تو تھیں مگر وہ مطلق طور پر یتیموں کے مال نکالنے کی قائل نہ تھیں۔

مگر مو


¿طا امام مالک ہی کی ایک اور حدیث ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال سے بھی زکاة نکالتی تھیں۔ چنانچہ عبد الرحمان بن قاسم ہی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:

کانت عائشة تلینی انا و خالی یتیمین فی حجر ھا فکانت تخرج من اموالنا الزکوة۔ (مو


¿طا
Êمام مالک رقم 589، کتاب الزکوة باب زکاة اموال الیتامی و التجارة لہم منھا)

”عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی نگہداشت میں میری اور میرے ماموں کی پرورش کر رہی تھیں ہم دونوں یتیم تھے وہ ہمارے مالوں سے زکوة نکالتی تھیں۔ “

بعض لوگوںنے کہا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا یتیموں کے مال میں زکاة کے وجوب کی قائل نہ تھیں۔ مصلحت کے مطابق کبھی زکاة نکال دیتی تھیں اور کبھی نہیں نکالتی تھیں۔ اگر کوئی شخص ان مذکورہ بالا باتوں کو نہ مانے تب بھی ہمیں زیورات میں زکاة کی بات ہی لینی ہوگی اس لیے کہ یہ قول ہے اورزکاة نہ نکالنا فعل ہے اور قاعدہ ہے کہ جب قول و فعل میں اختلاف ہو تو قول کو لیا جائے گا اس لیے کہ ہو سکتا ہے کسی وجہ سے انھوں نے زکاة نہ نکالی ہو۔

کپڑوں پر قیاس

زیورات میں زکاة نہ دینے والوں کا سب سے اہم استدلال یہ ہے کہ جب ہم اپنے استعمال کے کپڑوں پرزکاة نہیں نکالتے، اور دوسری چیزوں مثلا گاڑیوں وغیرہ پربھی زکاة نہیں نکالتے تو صرف زیورات ہی میں زکاة کیوں نکالی جائے وہ بھی تو استعمال کی ایک چیز ہے۔

یہ استدلال صحیح نہیں ہے اس وجہ سے کہ:

یہ قیاس نص کے مقابلہ میں ہے اور نص کی موجودگی میں قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔

ضعیف حدیث سے استدلال

اس مسئلہ میں ایک ضعیف حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ حدیث ہے:” لیس فی الحلی زکوة“: یعنی زیورات میں زکاة نہیں۔ اس حدیث کو دارقطنی نے مرفوعا بیان کیا ہے اور بیہقی نے کتاب التحقیق (1:696) میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

یہ حدیث سراسر باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا۔ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیں تو ہر قسم کے زیورات میں زکاة کی نفی ہوجائے گی اور اس کے قائل وہ بھی نہیں ہیں جو اس حدیث سے زیورات میں عد م زکاة پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث متن کے لحاظ سے غلط ہوئی۔

جہاں تک سند کی بات ہے تو اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب مجہول ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیہقی نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے:

انہ باطل لا اصل لہ، و انما یروی عن جابر من مقولہ و عافیة بن ایوب مجہول ، فمن احتج بہ مرفوعامعزرا بذنبہ (دیکھیں: ارواءالغلیل 3:294)

”یہ حدیث باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں، یہ حدیث جابر سے موقوفا روایت کی جاتی ہے، سند میں عافیہ بن ایوب مجہول ہیں۔ جس شخص نے بھی مرفوع سمجھ کر اس سے حجت پکڑی وہ اپنے گناہ کی وجہ سے ملامت زدہ ہوگا۔“

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی دو اور علتوں کو بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ عافیہ سے روایت کرنے والے ابراہیم بن ایوب ہیں ان کو ابو العرب نے ’الضعفائ“ میں ذکر کیا ہے اور ان کے بارے میں ابو طاہر المقدسی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ ضعیف ہیں اور ابو حاتم نے کہا ہے: ’لاا


¿عرفہ‘ (میں انہیں نہیں جانتا)۔

دوسری علت یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ (4:27) میں یہ حدیث موقوفا جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔علامہ البانی کہتے ہیں کہ یہ موقوف سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حدیث کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔

(دیکھیں:ارواءالغلیل3:295)

کیا زیور صرف ایک بار نکالی جائے گی:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ زیور جو کہ استعمال کے لیے رکھا گیا ہو اس میں صرف ایک مرتبہ ہی زکاة نکالنا کافی ہوگا یعنی اگر کوئی شخص کسی زیور کی زکاة اگر ایک سال نکال دیتا ہے تو آنے والے سالوں میں اس کی زکاة نکالنے کی ضرورت نہ ہوگی۔

یہ بات اگر اس وجہ سے کہی جاتی ہو کہ احادیث میں جہاں زیورکی زکاة کی بات کہی گئی ہے وہاں پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس کی زکاة ہر سال نکالی جائے تو یہ بات صرف زیور پر ہی نہیں نافذ ہوتی بلکہ تمام اموال میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہاں پر بھی وعید کی احادیث مطلق آئی ہوئی ہےں۔

اور اگر یہ بات اس وجہ سے کہی جاتی ہے کہ تجارت کے مال میں کمی و زیادتی ہوتی رہتی ہے اور زیور جو کہ صرف استعمال کے لیے ہوتا ہے اس میں زیادتی و کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس میں زندگی میں ایک مرتبہ زکاة نکال دینا کافی ہوگا تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہرسال اگر تجارتی اموال میں زکاة لی جاتی ہے تو کیا اس وجہ سے لی جاتی ہے کہ اس میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے؟ یا کوئی اور وجہ ہے؟

صحیح بات- واللہ اعلم- یہ ہے کہ یہ ایک توقیفی امر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے زکاة دینے کو کہا ہے لہٰذا ہم کو زکاة دینا ہے۔ اسی طرح ہم زیورات میں زکوة کے بارے میں بھی کہیںگے۔ جب سال مکمل ہوجائے تو اس وقت موجود زیورات کی قیمت کا اندازہ لگا کر زکاة نکال دی جائے اگر وہ زیور نصاب پر پورا اتر تا ہو۔ زکاة نکالنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مال کے اندر بڑھوتری ہوتی ہو اس کی دلیل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے جس کو امام مالک نے اپنی کتاب مو


¿طا میں درج کیا ہے: اتجروا فی اموال الیتامی لا تاکلھا الصدقة (موطا کتاب الزکوٰة باب زکاة ا
¿موال الیتامی و التجارة لہم فیھا) ”یتیموں کے مال میں تجارت کرو تاکہ صدقہ اسے کھا نہ لے“۔

ضروری سی بات ہے کہ یتیم کا مال اگر تجارت کے لیے نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے اندر اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زکاة کی وجہ سے اس کے ختم ہوجانے کا خدشہ بیان کرنا یہ بتلاتا ہے کہ زکاة کے لیے مال کا کمی و بیشی والا ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیور کے ختم ہونے کا اندیشہ:

یہ شبہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ زیورجو استعمال کے لیے ہو اس میں چونکہ اضافہ کا امکان نہیں ہوتا اس لیے اگر ہر سال اس میں سے زکاة نکالی جائے تووہ ختم ہوجائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ شبہ غلط ہے شریعت نے ہر چیز کا ایک نصاب مقرر کر دیا ہے۔زیور خواہ سونے کی شکل میں ہو یا چاندی کی شکل میں ، اگر مقررہ نصاب سے کم ہوجائے گا تو خود بخود زکاة کے دائرہ سے باہر ہوجائے گا۔

ہاں، اگر کوئی شخص زیور کی زکاة اس کی قیمت کا اندازہ لگا کر روپیوں کی شکل میں دیتا ہے تو ایسی صورت میں زیور اپنی شکل میں باقی رہتا ہے۔ اس وجہ سے اس پر زکاة واجب ہوتی رہے گی۔ اس صورت میں بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا زیور ختم ہوجائے گا اس وجہ سے کہ زیور تو اپنی شکل میں موجود ہے۔

اگر زیور کی زکاة شوہر ادا کردے:

زیور جس کی ملکیت میں ہے اسی کے ذمہ اس کے زکاة کی ادائیگی بھی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا شخص اس ذمہ داری کو اپنے ذمہ لے کر ادا کر دیتا ہے تو یہ زکاة ادا ہو جائے گی۔

یہیں پر ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر گھر میں کئی عورتیں ہوں اور ہر ایک کے پاس اتنی مقدار میں زیور ہے جو نصاب تک نہیں پہنچتا تو ایسا نہیں کیاجائے گا کہ سبھی عورتوں کے زیورات کو ملا کر ان میں سے زکاة نکالی جائے۔ اگر چہ وہ سبھی عورتیں ایک ہی شخص کی زوجیت میں ہوں۔

کیا عورت زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے؟

ہمارے معاشرہ میں عورتوں کی ملکیت کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے۔ عورتوں کی آزادی کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے پاس رکھا سرمایہ خواہ نقدی کی شکل میں ہویاجائداد کی شکل میں ، شوہر اپنی ملکیت سمجھ کر خرچ کرتا ہے۔ ایسے میں یہ تصور کہ عورت مالدار ہو اور شوہر غریب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ مگر قرون اولیٰ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بیویاں مالدار ہوں اور شوہر غریب۔ چنانچہ دو صحابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دریافت کیاکہ کیا ہم اپنے غریب شوہروں پر زکاة کی رقم خرچ کر سکتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں تم خرچ کر سکتی ہو۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گنے اجر کی بشارت دی، صدقہ کا اجر اور قرابت داری کا اجر۔ (دیکھیں: صحیح بخاری کتاب الزکوٰة، باب الزکوٰة علی الزوج و الایتام فی الحجر، صحیح مسلم: کتاب الزکوة، باب فضل النفقة علی الاقربین و الاولاد)

اس سلسلہ میں یہ قاعدہ ہے کہ زکاة کی رقم ہر اس شخص پر خرچ کی جاسکتی ہے جس کی کفالت کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی۔ شوہر بیوی کا کفیل ہے مگر بیوی شوہر کی کفیل نہیں ہے۔ اس وجہ سے بیوی اپنی زکاة کی رقم شوہر پر خرچ کر سکتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اتنا غریب ہوکہ بیوی کے زیورات کی زکاة ادا کرنے میں اسے کافی مشقت اٹھانی پڑتی ہو اور پیسے جٹا کروہ اسے ادا کرتا ہو تو بیوی چاہے تو وہ زکوٰہ کی رقم اسی شوہر کو دے سکتی ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

زیور کا نصاب:

بات چونکہ زیور کے زکاة کی ہو رہی ہے اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پر اس کا نصاب بیان کر دیا جائے۔ زیور اگر سونے کا ہو تو ایسی صورت میں اس کا نصاب 20 دینار ہے۔ 20 دینار موجودہ پیمانہ کے مطابق تقریباً 85 گرام ہوتا ہے۔ اور اگر چاندی کا زیور ہے تو اس کا نصاب ۰۰۲ درہم ہے جس کا وزن موجودہ دور کے پیمانے کے مطابق تقریباً 595گرام ہوتا ہے۔ جب سونااور چاندی اس مقدار کو پہنچ جائے تو اس کا چالیسواں حصہ زکاة میں نکالا جائے گا۔

خلاصہ کلام:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱۔ زیورات میں زکاة ہے۔

۲۔ یہ زکاة جب تک زیورات کی مقدار نصاب تک پہنچتی ہے دینی ہوگی صرف ایک مرتبہ زکاة دینا کافی نہیں۔

۳۔ اگر شوہر غریب ہے تو عورت زکاة کی رقم اس پر خرچ کر سکتی ہے اس وجہ سے کہ بیوی کے اوپر شوہر کے نفقہ کی ذمہ داری شرعاً عائد نہیں ہوتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔