Wednesday, July 29, 2009

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

0 comments

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں چار امور پر بحث کرنی ہوگی:

١۔ دعا کے لیے مطلق طور پر ہاتھ اٹھانا۔

٢۔ بغیر کسی وقت کی تعیین کے کسی خاص موقع پرامام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھاکر اجتماعی طور پر دعا کرنا جس میں امام کی دعا پر مقتدی آمین کہیں۔

٣۔ فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ اٹھائے انفرادی طور پر دعا کرنا۔

٤۔ فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی طور پر دعا کرنا جس میں مقتدی امام کی دعا پر آمین کہیں۔

اول الذکر تین امور پر بحث کئے بغیر فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت کی وضاحت مشکل ہے، اس لیے مختصر طور پر ان کی وضاحت کی جارہی ہے۔

دعا کے لیے مطلق طور پر ہاتھ اٹھانا:

دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ سے کوئی دعا کی فرمائش کرتا یا کسی موقع پر آپ دعا کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے سلسلے میں بے شمار احادیث وارد ہیں۔ ان کی کثرت کودیکھتے ہوئے محدثین نے اسے حدیث متواتر میں شمار کیا ہے، لہٰذا دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا باعث ثواب ہے، یہی نہیں بلکہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے سے قبولیت کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں، چنانچہ سنن ابوداؤد اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے:

إن ربکم حیی کریم یستحیٖ من عبدہ إذا رفع یدیہ إلیہ أن یردہما صفرا۔(١)

''تمھارا رب زندہ اور کریم ہے بندہ جب اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے اللہ کو شرم آتی ہے۔''

طبرانی الکبیر کی روایت میں ہے:

ما رفع قوم أکفہم إلی اللہ عزوجل، یسألونہ شیأا إلا کان حقا علی اللہ أن یضع فی أیدیہم الذی یسألون۔ (٢)

''کوئی بھی قوم کچھ مانگنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ہاتھ بلند کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق بن جاتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں وہ چیز رکھ دے جس کے لیے وہ سوال کر رہے ہیں۔''

مذکورہ بالا احادیث بغیر کسی وقت اور جگہ کی تعیین کے ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے کو مستحب قرار دیتی ہےں، لہٰذا ہمیں اسے اپنانا چاہئے۔

جہاں تک انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ہے کہ آپ ؐ استسقاء کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے (٣) تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کسی اور موقع پر ہاتھ اٹھاتے ہی نہ تھے بلکہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ جس کیفیت کے ساتھ صلاۃ استسقاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے وہ کیفیت کسی اور وقت نہ ہوتی تھی، چنانچہ آپ استسقاء کے وقت ہاتھ اس قدر بلند فرماتے تھے کہ بغل کی سفیدی نظر آجاتی تھی، عام طریقے سے ہٹ کر ہاتھ کی ہتھیلی چہرے کی طرف نہ کرکے ہاتھ کا ظاہری حصہ سامنے کرتے تھے، یہ حالت عام حالتوں میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے وقت نہ ہوتی تھی۔ حدیث انس بن مالک میں اسی کیفیت کا انکار ہے۔(٤)

عام حالات میں امام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا:

استسقاء کی دعا کے وقت صحیح بخاری کی ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام سبھی نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی:

عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: أتی رجل أعرابی من أہل البدو إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ فقال یا رسول اللہ! ہلکت الماشیۃ ہلک العیال ہلک الناس فرفع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدیہ یدعو و رفع الناس أیدیہم معہ یدعون۔ قال: فما خرجنا من المسجد حتی مطرنا۔(٥)

''انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جمعہ کے دن )ایک اعرابی رسول اللہ ؐ کے پاس آیا او رکہا: اے اللہ کے رسول! چوپائے، اہل و عیال اور لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ اللہ کے رسول ؐ نے اپنے دونوںہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھایا، لوگو ںنے بھی اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے، راوی حدیث کہتے ہیں کہ ہم مسجد سے نکلے بھی نہ تھے کہ بارش ہونے لگی۔''

اس حدیث میں اجتماعی طور پر آپ کا اور صحابہئ کرام کا پانی طلب کرنے کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح اور بھی مواقع ہیں جہاںآپ نے اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہے۔ ان تمام حدیثوں کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ بغیر کسی وقت کی تعیین کے اگر کوئی اجتماعی مصلحت ہو تو مشترکہ طور پر دعا کی جاسکتی ہے جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور آپ کے ساتھ صحابہئ کرام نے بھی ہاتھوں کو اٹھاکر دعا میں شرکت کی۔

فرض صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر یا بغیر ہاتھ اٹھائے انفرادی طور پر دعا کرنا:

فرض صلاۃ کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ فرض صلاۃ کے بعد کا وقت ان اوقات میں سے ہے جن میں دعا کی قبولیت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

عن أبی أمامۃ رضی اللہ عنہ قال: قیل: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أی الدعاء أ سمع؟ قال: جوف اللیل الآخر و دبر الصلوات المکتوبات۔(٦)

''ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:رات کے آخری حصہ میں اور فرض صلاۃ کے بعد کی گئی دعائیں۔''

اس حدیث میں ''دبر الصلوات'' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس سے سلام پھیرنے سے پہلے صلاۃ کا آخری حصہ، یا صلاۃ کے بعد کا حصہ مراد لیا جاسکتا ہے۔ دراصل ''دبر'' لغت میں کسی چیز کے آخری حصہ کو کہتے ہیں، صلاۃ کا آخری حصہ تشہد ہوا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سلام پھیرنے سے پہلے کا حصہ مراد لیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کے کئی وجوہات بیان فرمائے ہیں:

١۔ صلاۃ کے اندر آدمی اللہ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت اللہ سے کوئی چیز طلب کرنا زیادہ مناسب ہے بنسبت اس کے کہ آدمی اللہ سے سرگوشی ختم کرنے کے بعد اس سے سوال کرے، لہٰذا بندے کو اللہ سے جو کچھ بھی مانگنا ہو وہ صلاۃ ختم کرنے سے پہلے مانگے۔(٧)

٢۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں تشہد کا ذکر ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ''ثم لیتخیر من الدعاء أعحبہ إلیہ'' (٨) یعنی پھر مصلی اپنی مرضی کے مطابق جو دعا چاہے پڑھے۔ اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری ازواج مطہرات سے آپ کی رات کی صلوات میں جو دعائیں وارد ہیں وہ سلام کے پہلے ہی کی ہیں۔ (٩)

٣۔ پوری صلاۃ دعا ہے اور مسلمانوںمیں اس تعلق سے کوئی اختلاف نہیں کہ صلاۃ کے اندر دعا کی جائے گی۔ چنانچہ دعاء استفتاح، رکوع و سجود میں، رکوع و سجود سے سر اٹھاتے وقت اور تشہد میں اللہ کے رسول ؐ سے دعائیں منقول ہیں۔ صلاۃ خواہ فرض ہو یا نفل ہر ایک میں آپ یہ دعائیں پڑھتے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ سے ایک مرتبہ کہا کہ آپ ہمیں کوئی دعا سکھا دیں، جس سے ہم صلاۃ میں دعا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ''اللہم إنی ظلمت نفسی ظلما کثیرا۔۔۔۔۔۔ الحدیث'' سکھایا۔ (١٠)

لہٰذا جب پوری صلاۃ ہی دعا ہے تو دعا کے بعد فوراً دعا کو مشروع نہیں قرار دیا جاسکتا۔

٤۔ صلاۃ کے بعد جس دعا کا ذکر ملتا ہے اس سے مراد ماثور اذکار ہیں چنانچہ آپ ؐ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے پھر تین مرتبہ استغفر اللہ پڑھتے اور اس کے بعد اللہم أنت السلام و منک السلام۔۔۔۔۔۔ الحدیث پڑھتے اس کے بعد اور دوسرے اذکار جن کا احادیث میں ذکر ملتا ہے انھیں پڑھتے تھے۔ آپ نے صحابہئ کرام کو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ اور ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کی تعلیم دی ہے۔ صلاۃ کے بعد یہی اذکار کرنا دعا مانگنے سے زیادہ مستحب ہے۔ (١١)

جو لوگ کہتے ہیں کہ ''دبر الصلوات'' سے مراد سلام پھیرنے کے بعد والا حصہ ہے وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ میں سلام پھیرنے سے پہلے پڑھی جانے والی دعاؤں کے علاوہ کے بارے میں بھی ''دبر الصلاۃ'' کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جو اذکار بتلائے تھے وہ، اور تسبیحات کا ورد یہ سبھی صلاۃ کے بعد کی دعا ئیں ہیں۔ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں، لہٰذا ''دبر الصلاۃ'' کا لفظ سلام سے پہلے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور بعد کے لیے بھی۔ اس لیے اسے کسی ایک معنی کے لیے خاص کرنا صحیح نہیں۔ اس امر کا اعتراف خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے۔ (١٢)

جہاں تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کا سوال ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صلاۃ کے بعد دعا نہ کی جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلام پھیرنے سے پہلے مصلی اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے اللہ سے طلب کرسکتا ہے۔ (١٣)

یہی بات اللہ سے سرگوشی کے وقت اس سے کچھ سوال کرنا بہرحال بہتر ہے مگر اس سے بعد میں دعا مانگنے کی نفی نہیں ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ صلاۃ کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنے کے مخالف نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ خواہ امام ہو یا مقتدی اگر انفرادی طور پر سلام پھیرنے کے بعد دعا کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (١٤)

ضعیف احادیث سے استدلال:

سلام پھیرنے کے بعد دعا کرنے اور خاص طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بارے میں کچھ ضعیف احادیث وارد ہوئی ہیں، عام طور پر جواز کے قائلین انھیں احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ درج ذیل سطور میں ان احادیث کو بیان کرنے کے بعد ان کی استنادی کیفیت بھی مختصر طور پر بیان کی جارہی ہے یاد رہے کہ میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ نے انھیں ضعیف احادیث کی بنیاد پر فرض صلاۃ کے بعداجتماعی دعا کو مستحب قرار دیا ہے:

عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ؐ رفع یدیہ بعد ما سلم و ہو مستقبل القبلۃ فقال: اللہم خلص الولید بن الولید و عیاش بن أبی ربیعۃ و سلمۃ بن ہشام و ضعفۃ المسلمین الذین لا یستطیعون حیلۃ و لا یہتدون سبیلا من أیدی الکفار۔(١٥)

''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے سلام پھیرنے کے بعد قبلہ رخ بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ! ولید بن ولید، عیاش بن ربیعہ اور سلمہ بن ہشام اور کمزور مسلمانوں کونجات دے جو کسی حیلہ کی طاقت نہیں رکھتے اور کفارکے ہاتھ سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔ ''

یہ روایت صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی سندمیں علی بن زید ہیں جن کو حافظ ابن حجر نے ''التقریب'' میں ضعیف کہا ہے۔(١٦)

عن أنس عن النبی ؐ أنہ قال: ما من أحد بسط کفیہ فی دبر کل صلاۃ ثم یقول: اللہم إلٰہی و إلٰہ إبراہیم و إسحق و یعقوب وإلٰہ جبریل و میکائیل وإسرافیل، أسئلک أن تستجیب دعوتی فإنی مضطر و تعصمنی فی دینی فإنی مبتلی و تنالنی برحمتک فإنی مذنب و تنفی عنی الفقر فإنی متمسکن إلا کان حقا علی اللہ عزوجل أن لا یرد یدیہ خائبتین۔ (١٧)

''انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ ہر صلاۃ کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر یہ دعا پڑھے: اللہم الٰہی و إلٰہ إبراہیم۔۔۔۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کو نامراد نہیں پھیرتا۔''

یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کی روایت میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن ہیں جن کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے متہم گردانا ہے۔ (١٨)

لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہے اور اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔

عن الأسود بن عامر عن أبیہ قال: صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف و رفع یدیہ و دعا۔۔۔۔۔۔ الحدیث۔ (١٩)

''اسود بن عامر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی صلاۃ پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو قبلہ رخ سے مڑے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا فرمائی۔''

مذکورہ بالا احادیث جو سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ وہ سبھی ضعیف ہیں اس وجہ سے ان سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی۔

ہاں، اس تعلق سے ایک حدیث ہے جس کو ہیثمی نے ''مجمع الزوائد'' میں طبرانی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے وہ روایت قابل اعتبار ہے، روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن محمد بن یحیی الأسلمی قال: رأیت عبداللہ بن الزبیر و رأی رجلا رافعا یدیہ یدعو قبل أن یفرغ من صلاتہ فلما فرغ منہا قال: إن رسول اللہ ؐ لم یکن یرفع یدیہ حتی یفرغ من صلاتہ۔(٢٠)

''محمد بن یحییٰ الاسلمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے دونوں ہاتھوں کواٹھائے ہوئے ہے۔ وہ صلاۃ سے فارغ ہونے سے پہلے ہی دعا کر رہا ہے، جب وہ صلاۃ سے فارغ ہواتو ابن زبیر نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ سے فارغ ہونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو نہیں بلند کرتے تھے۔''

معلوم ہوا کہ آپ ؐ صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھاتے تھے۔ لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں صلاۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا ثبوت ملتاہے اس وجہ سے انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چند باتو ں کی رعایت کی جائے:

١۔ اسے مستقل عادت نہ بنا لیا جائے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام سے یہ ثابت نہیں کہ وہ ایسا ہر صلاۃ کے بعد کیا کرتے تھے۔

٢۔ اس دعا کی وجہ سے ان مسنون اذکار کا ترک نہ لازم آتا ہو جو آپ ؐسے ثابت ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے وہ مسنون اذکار کر لئے جائیں اس کے بعد دعا کی جائے۔ اس موقع پر ہاتھ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں، چوں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا مستحب ہے اس لیے ہاتھ اٹھانا زیادہ اچھا ہے۔ (٢١)

فرض صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی دونوں کا ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا:

صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی دونوں کا اجتماعی طور پر دعا کرنا صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت نہیں۔ اگر آپ ؐ اور صحابہئ کرام کے زمانہ میں لوگ سلام کے بعد اس قسم کی اجتماعی دعا کا اہتمام کرتے ہوتے جس طرح آج کل ہو رہا ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ احادیث کی کتابیں اس تعلق سے خاموش نہ ہوتیں۔

رہا شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کا فتوی کہ صلاۃ کے بعداجتماعی دعا مستحب ہے تو چوں کہ انھوں نے کوئی صحیح حدیث اس کے ثبوت کے لیے پیش نہیں کی ہے اس وجہ سے وہ ناقابل التفات ہے۔ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی بیان کردہ حدیثوں کے ضعف کی طرف خود اشارہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

''اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز کے بعدہاتھ اٹھا کر دعاکرنا درست ہے، اس حدیث کے راویوں میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبدالرحمن متکلم فیہ ہے جیسا کہ میزان الاعتدال وغیرہ میں مذکور ہے لیکن اس کا متکلم فیہ ہونا ثبوت جواز و استحباب کے منافی نہیں کیوں کہ ضعیف حدیث سے جو موضوع نہ ہو استحباب و جواز ثابت ہوتا ہے۔ '' (٢٢)

مذکورہ بالا قول میاں صاحب نے حدیث انس کے بارے میں کہا ہے جس کا تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔

یہاں پر دو باتیں قابل ملاحظہ ہیں:

١۔ ضعیف حدیث سے استحباب اور جوازکا ثبوت۔ حالاں کہ علماء اصول حدیث کا راجح مسلک یہ ہے کہ حدیثِ ضعیف حجت نہیں اور جب اس کا حجت ہونا ہی صحیح نہیں تو اس سے استحباب یا جواز کیوں کر ثابت ہوسکتاہے۔ اس لیے کہ استحباب کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور یہ حق اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کو نہیں پہنچتا کہ کسی عمل کے کرنے پر ثواب کی ضمانت دے۔

٢۔ مذکورہ بالا حدیث اور اس کے علاوہ دوسری احادیث جن کو میاں صاحب نے ذکر کیا ہے ان میں کہیں بھی اجتماعی طور پر دعا کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا بفرض محال اگر ان پر عمل بھی کیا جائے تووہ انفرادی دعا کے لیے ثبوت بن سکتی ہیں اجتماعی دعا کے لیے نہیں۔ (٢٣)

فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کے بارے میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''صلاۃ کے بعد امام اور مقتدی کا ایک ساتھ دعاکرنا بدعت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔'' (٢٤)

اس مسئلہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے ہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو احادیث کی کتابوں میں ضرور اس کا تذکرہ ملتا اس کا تذکرہ نہ ہونایہ ثابت کرتاہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔

لہٰذا جو لوگ اجتماعی دعا نہ کرنے والوں کو لعن طعن کرتے ہیں انھیں اپنے روےے میں تبدیلی لانی چاہئے کہ کہیں وہ لوگوں کو سنت رسول پر عمل کرنے سے تو نہیں روک رہے ہیں اور بدعت پر آمادہ کرنے کے لیے سختی کر رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بات اور ذہن نشین ہونی چاہئے کہ جو لوگ اس اجتماعی دعا کی مخالفت کرتے ہیں وہ اگرچہ یہ کہتے ہیں کہ اس اجتماعی دعا کی وجہ سے وہ مسنون اذکار چھوٹ جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ لوگ ان اذکار کو نہیں پڑھتے، سلام کے بعد فوراً اٹھ جاتے ہیں، یا خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ اس رویہ کو بھی اگر مستقل طور پر عادت بنا لیا جائے تو لائق مذمت اور ایک برائی سے بچ کر دوسری برائی میں قدم رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملہ میں غلو سے بچائے۔ (آمین)

اگر کوئی ایسا خاص موقع آئے کہ سارے مصلیوں کی مجموعی ضرورت ہو تو اجتماعی طور پر دعا کی جاسکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خاص موقع پر اگرچہ ثابت نہیں مگر جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ بارش کی ضرورت کے لیے جو کہ تمام حاضرین کی ضرورت تھی آپ نے اجتماعی دعا فرمائی اور اس کے لیے آپ نے خطبہئ جمعہ بیچ میں روک دیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ آئے کہ جس کے شکار سبھی مصلی ہوں اور وہ دعا کی فرمائش کریں تو امام صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کرا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی کے مطابق عبادتوں کو انجام دینے کی توفیق بخشے۔ آمین ٭٭٭

حواشی:

١۔ صحیح سنن أبی داؤد رقم ١٤٨٨، سنن ابن ماجہ رقم ٣٨٦٥

٢۔ المعجم الکبیر للطبرانی ١/٣١٢ رقم ٦١٤٢ قال الہیثمی فی ''المجمع'' رجالہ رجال الصحیح ١٠/١٦٩

٣۔ صحیح بخاری: کتاب الاستسقاء باب رفع الإمام یدہ فی الاستسقائ

٤۔ دیکھیں: فتح الباری ٢/٣٣٠ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی

٥۔ صحیح بخاری کتاب الاستسقاء باب رفع الناس أیدیہم مع الإمام فی الاستسقائ

٦۔ سنن ترمذی کتاب الدعوات ٢/٢٦٣ و قال حدیث حسن، وقال الألبانی رحمہ اللہ: رجالہ ثقات لکن فیہ عنعنۃ ابن جریج و کان مدلسا، انظر مشکاۃ المصابیح ١/٣٠٥ رقم الحدیث ٩٦٨، صحیح سنن الترمذی ٣/٤٤٢ رقم الحدیث ٣٤٩٩ میں علامہ البانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

٧۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ٢٢/٥١٩

٨۔ صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب ما یتخیر من الدعاء بعد التشہد، ولیس بواجب، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب التشہد فی الصلاۃ رقم ٤٠٢

٩۔ دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٢٢/٤٩٦

١٠۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٤٩٧

١١۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمہ ٢٢/٥١٤

١٢۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥٠٠

١٣۔ حدیث کا مذکورہ بالا حصہ اس باب میں بالکل واضح ہے کہ تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے مصلی اپنی دنیا وآخرت کی بھلائی کے لیے کوئی بھی دعا کرسکتاہے لہٰذا ان لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا جو کہتے ہیں کہ صلاۃ میں صرف وہی دعائیں کی جاسکتی ہیں جو قرآن یا حدیث میں مذکور ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی دعا نہیں کی جاسکتی۔ (دیکھیں فتح الباری٢/٢٥٦، نووی ٤/١١٧)

١٤۔ دیکھیں: فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥٠٠

١٥۔ تفسیر ابن کثیر ١/٥٤٣

١٦۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث سے پہلے بخاری کے حوالہ سے اسی معنی کی ایک حدیث نقل کی ہے مگر اس کے اندر سلام کے بعد کا نہیں بلکہ رکوع کے بعد اور سجدہ سے پہلے اس دعا کا تذکرہ ہے، حالاں کہ یہ حدیث بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔ (دیکھیں: ابن کثیر ١/٥٤٣) اس کے معاً بعد جو حدیث ابن کثیر نے ظہر کے بعد آپ کے اس دعا کو پڑھنے کے بارے میں ذکر کی ہے اس کے اندر بھی علی بن زید ہیں اس وجہ سے اس کا بھی اعتبار نہ ہوگا، لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ وہ رکوع کے بعد کا واقعہ ہے۔

١٧۔ عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی بحوالہ فتاوی نذیریہ ١/٥٦

١٨۔ دیکھیں: المیزان رقم الترجمہ ٥١١٢

١٩۔ مصنف ابن ابی شیبیہ بحوالہ فتاوی نذیریہ ١/٥٦٥

حافظ ابن حجر نے التقریب رقم ٥٠٣ میں اسود بن عامر کے ترجمہ میں انھیں الطبقۃ التاسعۃ میں شمار کرایا ہے۔ الطبقۃ التاسعۃ کی تشریح مقدمہ میں حافظ نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد الطبقۃ الصغری من اتباع التابعین ہیں (التقریب ص١٥) ان کی وفات ٢٠٨ھ میں ہوئی ہے۔

لہٰذا یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ انھوںنے کسی صحابی کا زمانہ نہیں پایا۔ اسود کے والد عامر جن سے اسود نے یہ حدیث روایت کی ہے وہ تابعی ہوں گے یا تبع تابعی لہٰذا ان کا یہ کہنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی کسی بھی صورت میں درست نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا کہ سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عامر کے درمیان کم از کم ایک راوی محذوف ہے، لہٰذا یہ روایت مرسل ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسود بن عامر کے ترجمہ میں کسی نے بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنے والد سے کوئی حدیث روایت کی ہے، لہٰذا ان کا اپنے والد سے روایت کرنا بھی مشکوک ہے۔ (تہذیب الکمال ٣/٢٢٦ رقم ٥٠٣، تاریخ بغداد ٧/٣٤-٣٥ رقم ٣٤٩٧)

فتاوی نذیریہ میں تین دفعہ اس حدیث کا ذکر ہے اور ہر جگہ مصنف ابن ابی شیبہ کا حوالہ دیا گیا ہے مگر یہ روایت تلاش کرنے کے باوجود بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں نہ مل سکی۔

٢٠۔ مجمع الزوائد ١٠/١٦٩

٢١۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (١/٢٥٨) میں لکھا ہے کہ صلاۃ کے بعد مسنون اذکار اور تسبیح و تہلیل وغیرہ کرنے کے بعد مصلی کو چاہئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام بھی بھیجے اور اس کے بعد جو دعا چاہے مانگے، اس طرح دعا صلاۃ کے بعد نہ شمار ہو کر حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ سلام شمار ہوگی اور فضالہ بن عبید کی حدیث کے مطابق جس میں ہے کہ ''جب کوئی صلاۃ ادا کرے تو شروع میں اللہ کی حمد و ثنا پھر نبی کریم ؐ پر صلاۃ و سلام بھیجے پھر جو چاہے دعا کرے۔'' اس وقت دعا کرنا مستحب ہے۔

حدیث صحیح ہے۔ ترمذی (٣٤٧٥) نے اسے روایت کرنے کے بعد اسے صحیح کہا ہے۔ نیز حاکم (١/٢١٨) نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اس کے علاوہ ابوداؤد (١٤٨١) اور نسائی ٣/٤٤) نے بھی اس کی روایت کی ہے۔

١٢۔ فتاوی نذیریہ ١/٥٦٤

٢٣۔ فتاوی نذیریہ کے محشی جناب مولانا ابوسعید محمد شرف الدین صاحب نے حاشیہ (١/٥٦٧) میں ایک حدیث سلام کے بعد دعا کرنے کے ثبوت کے لیے پیش کی ہے: ''عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ؐ: إذا صلیتم الصبح فافزعوا إلی الدعاء و باکروا فی طلب الحوائج، اللہم بارک لأمتی فی بکورہا۔'' اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ''اس حدیث کو علی متقی نے کنز العمال جلد ١ ص١٧٥ میں صحیح مسلم اور ابوداؤد، نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔''

مگر مذکورہ حدیث ان کتابوں میں نہیں مل سکی اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الجامع (١/٢٠١، رقم ٦٧٢) میں ذکر کیا ہے اور اس کو ''ضعیف جدا'' قرار دیا ہے اور حوالہ کے طور پر خطیب کی تاریخ بغداد اور ابن عساکر کا حوالہ دیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی حجت نہیں بن سکتی ہے۔

٢١۔ فتاوی ابن تیمیہ ٢٢/٥١٩

٭٭٭

ملاقات کے وقت تعظیم کے واسطے کھڑا ہونا

0 comments

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت: قدم زید بن حارثة المدینة و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی بیتی فا تاہ فقرع الباب فقام ا لیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عریانا یجر ثوبہ، و اللہ ما را یت عریانا قبلہ و لا بعدہ فاعتنقہ و قبّلہ۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے، چنانچہ زید نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف ننگے بدن بڑھے، حالت یہ تھی کہ آپ کا کپڑا گھسٹ رہا تھا۔ اللہ کی قسم میں نے آپ کو نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کبھی ننگے بدن دیکھا۔ آپ نے انھیں گلے سے لگایا اور بوسہ دیا۔

تخریج:

اس حدیث کی تخریج امام ترمذی نے اپنی سنن () میں ا براہیم بن یحییٰ حدثنی ابی یحییٰ بن محمد عن محمد بن ا سحاق عن الزہری عن عروة عن عائشة کی سند سے کی ہے اورکہا ہے:

ہذا حدیث غریب لا نعرفہ من حدیث الزہری ا لا من ہذا الوجہ

حافظ ابن حجر نے ”النکت الظراف علی الا طراف“ (4/81-82) میں امام ترمذی کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد کہا ہے:

قد رواہ الواقدی عن ابن اخی الزہری فیحتمل ان یکون الترمذی لم یعتد بروایتہ۔

واقدی نے اس کی روایت زہری کے بھتیجے کے طریق سے کی ہے ممکن ہے کہ ترمذی نے ان کی روایت کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہو۔

درجہ حدیث:

اس حدیث کے اندر ایک مدلّس اور دو ضعیف راوی ہیں اس وجہ سے حدیث ضعیف ہے۔

علت:

1۔ اس حدیث کو زہری سے محمد بن اسحاق ”عن“ کے ذریعہ روایت کرتے ہیں۔ محمد بن اسحاق چوں کہ مدلس راوی ہیں اس وجہ سے ان کی عنعنہ والی روایتوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ( ملاحظہ ہو التقریب رقم 5725)

2۔ محمد بن اسحاق سے روایت کرنے والے راوی یحییٰ بن محمد ہیں حافظ ابن حجر نے ”التقریب“ (رقم 7638) میں انھیں ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نابینا تھے انھیں تلقین کی جاتی تھی۔

3۔ حدیث کی تیسری علت یحییٰ بن محمد کے بیٹے ابراہیم ہیں۔ ذہبی نے ”میزان الاعتدال“ (رقم الترجمہ247) میں کہا ہے کہ ابن ابی حاتم نے انھیں ”ضعیف“ اور ازدی نے ”منکر الحدیث“ کہا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے: ”لم ار اعمی قلبا منہ“ میں نے ان سے زیادہ دل کا اندھا نہیں دیکھا۔ ابن حجر نے ”التقریب“ (رقم 268) میں انھیں ”لین الحدیث“ کہا ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے معانقہ کیا، انھیں بوسہ دیا اور ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے، مگر چوں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے مذکورہ بالا مسئلوں میں اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ معانقہ اور تقبیل (بوسہ) کی بحث ”کھرے سکے“ میں گزر چکی ہے، یہاں پر گفتگوکا موضوع کسی کے استقبال کے وقت تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی شرعی حیثیت بیان کرنا ہے۔

عام طور پر تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی مشروعیت پر سعد بن معاذ کے واقعہ سے استدلال کیا جاتاہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال: لما نزلت بنو قریظة علی حکم سعد بعث رسول اللہ ا لیہ وکان قریبا منہ فجاءعلی حمار فلما دنا من المسجد قال رسول اللہ للا نصار قوموا ا لی سیدکم۔ (صحیح بخاری رقم ۳۴۰۳، صحیح مسلم رقم 1768، ابوداود رقم 5215)

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بنوقریظہ نے سعد بن معاذ کے فیصلہ پر ہتھیار ڈالے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلانے کے لیے بھیجا وہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھے، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو۔

مسند احمد (6/148) کی روایت میں ہے:

قوموا ا لی سیدکم فا نزلوہ قال عمر: سیدنا اللہ عزوجل قال: انزلوہ انزلوہ۔

(صححہ الا لبانی، الصحیحة رقم 67)

اٹھو اور اپنے سردار کو سواری سے اتارو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارا سید تو اللہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: انھیں سواری سے اتارو، انھیں سواری سے اتارو۔

سعد بن معاذ کے مذکورہ واقعہ سے تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی مشروعیت پر مندرجہ ذیل وجوہ سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی:

۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قوموا لسیدکم“ نہیں بلکہ ”قوموا ا لی سیدکم“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دونوں میں واضح فرق ہے، کسی آدمی کے لیے اس کے احترام کے پیش نظر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور کسی ضرورت کے تحت کھڑا ہونا مثلاً سواری سے اترنے میں مدد کرنا وغیرہ مستحب ہے۔ مذکورہ واقعہ میں یہی مطلوب ہے۔ چوں کہ یہ حدیث ”لسیدکم“ کے الفاظ سے مشہور ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی، حالاں کہ ان الفاظ سے اسے کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے۔ (دیکھیں الصحیحة رقم 67)

۲۔ حدیث کا سیاق اس استدلال کو باطل قرار دیتا ہے، سعدبن معاذ اس وقت زخمی تھے،بدقت انھیں گدھے پر سوار کرکے لایا گیا تھا، اس وجہ سے آپ نے انصار سے کہا کہ انھیں سواری سے اتارو۔ سب سے اہم بات یہ کہ مہمانوں یا کسی بڑی شخصیت کی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال کرنا اگر صحابہ کا دستور ہوتا تو آپ کو یہ کہنے کی حاجت ہی نہ ہوتی۔

۳۔ وہ صحیح احادیث جو کہ قیام تعظیمی کی ممانعت میں وارد ہیں اس کے مخالف ہیں:

۱۔ من سرہ ان یتمثل لہ قیام فلیتبوا مقعدہ من النار۔ (سنن ترمذی رقم 2903 صححہ الا لبانی)

جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

۲۔ عن انس لم یکن شخص احب ا لیہم من رسول اللہ و کانوا ا ذا را وہ لم یقوموا لما یعلمون من کراہتہ لذلک۔ (سنن ترمذی رقم 2902 صححہ الا لبانی)

صحابہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی اور نہ تھا۔ وہ جب آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے اس لیے کہ وہ اس تعلق سے آپ کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۔

بعض لوگ کراہت کی حدیثوں کی تخصیص ایک ضعیف حدیث سے کرتے ہیں:

لا تقوموا کما تقوم الا عاجم یعظم بعضہا (۱) بعضا۔ (ا بوداود 2/346، احمد5/253:)

تم لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جس طرح عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں

یہ لوگکہتے ہیںکہ ممانعت سے مراد وہ قیام ہے جو عجمی لوگ ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں ورنہ قیام فی نفسہ مکروہ نہیں۔

(دیکھیں المعتصر من المختصر من مشکل الاٰثار 2/388)

مگر چوں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس لیے اس سے اس کی تخصیص صحیح نہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الضعیفة رقم 346)

بعض لوگ ممانعت کی حدیثوں کو اس شخص پر محمول کرتے ہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، یا ایسا شخص جس کو کبر و غرور کا خطرہ ہو۔ مگر یہ تاویل مناسب نہیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات سوچی ہی نہیں جاسکتی کہ آپ صحابہ کے تعظیما کھڑے ہونے سے کبر میں مبتلا ہوسکتے تھے اس لیے آپ نے قیام سے منع فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا پاکباز اور بڑا مرتبہ والا کون ہوسکتا ہے جس کے لیے لوگ تعظیماً کھڑے ہوں؟

خلاصہ کلام:

مذکورہ بالا حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تعظیم کے واسطے کھڑا ہونا صحیح نہیں ہے۔ جن حدیثوں سے اس کی مشروعیت ثابت کی جاتی ہے وہ یا تو ضعیف ہیں یا غیر صریح ہیں۔ اس کی کراہت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب آدمی یہ توقع کرے یا لوگوں کو حکم دے کہ وہ میرے لیے کھڑے ہوں۔

افسوس کہ یہ وباءعوام اور اہل علم کے اندر عام ہے۔ ماتحت لوگوں سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ تعظیم میں کھڑے ہوں۔ اگر کوئی کھڑا نہ ہو تو اسے گستاخ اور بے ادب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مذکورہ بالا حدیث یاد رکھنی چاہئے:

جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں تو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ “(سنن ترمذی رقم 2903)

حواشی:

۱۔ مذکورہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ سنن ابوداود میں وارد ہے۔ ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے مرقاة شرح مشکوٰة میں کہا ہے کہ ”بعضہم“ کے الفاظ کے ساتھ بھی اس کی روایت کی گئی ہے۔

Thursday, July 2, 2009

جوتے پہن کر صلاة ادا کرنے کا حکم

0 comments



موجودہ زمانہ میں مسجدیں فرش والی ہوگئی ہیں ان میں عمدہ قسم کی قالین یا چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں لہٰذا ان مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونے سے مسجد کا فرش گندہ ہوگا اس لیے جوتا پہن کر ان میں داخل ہونے کی با ت نہیں کہی جاسکتی مگر مساجد کے علاوہ کھلے میدان میں صلاة ادا کرنے کی صورت میں جوتے چپل نکالنے کا خصوصی اہتمام کرنا اور اگر کوئی شخص جوتا پہن کر صلاة ادا کرے تو اسے برا بھلا کہنا غلط ہے، سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے دریافت کیا:

ا


¿ کان رسول اللہ یصلی فی النعلین؟ قال:نعم۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کی صلاة ادا کرتے تھے؟ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں (آپ جوتے پہن کر صلاة پڑھتے تھے)۔ (۱)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر صلاة پڑھتے تھے لہٰذا بلا وجہ اندیشوں میں مبتلا ہونا کہ کہیں جوتوں میں گندگی نہ لگی ہو؟ جوتے پاک ہیں یا ناپاک، صحیح نہیں۔ سنن ابی داد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:


Êذا وطی ا
حدکم بنعلیہ الا
¿ذی ف
ان التراب لہ طہور۔ (صحیح سنن ا
¿بی داو
¿د رقم ۵۸۳)

کوئی شخص اگر اپنے جوتوں سے گندگی روند دے تو مٹی اسے پاک کر دے گی۔

لہٰذا زیادہ سے زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صلاة سے پہلے جوتوں کو دیکھ لیا جائے، ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد اس وسوسہ میںپڑنا کہ ناپاکی جوتے میں لگی ہے یا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ


¿ کرام کے ساتھ صلاة ادا فرما رہے تھے دوران صلاة آپ نے اپنے جوتوں کو نکال کر اپنے بائیں جانب رکھ دیا صحابہ
¿ کرام نے بھی آپ کو دیکھ کر ایسا ہی کیا، بعد میں آپ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے اپنے جوتوں کو نکال دیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کو جوتے نکالتے دیکھا تو خود بھی اپنے جوتے نکال دےے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے جوتے اس لیے نکال دےے کیوںکہ جبرئیل علیہ السلام نے آکر خبر دی کہ ان جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، چنانچہ میں نے جوتوں کو نکال دیا، اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لے اگر اس میں گندگی لگی ہو تو اسے رگڑ لے اور پھر ان کو پہن کر صلاة ادا کرے۔ (دیکھیں: صحیح سنن ابی داو
¿د رقم ۰۵۶)

مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علاوہ صحابہ


¿ کرام بھی جوتے پہن کر صلاة ادا کر رہے تھے، اور آپ نے جوتے اس وجہ سے نکالے تھے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی نہ کہ اس وجہ سے کہ جوتوں میں صلاة پڑھنا ممنوع ہے اس لیے کہ خود آپ نے آخر میں یہ فرمایا کہ جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہو تو اسے صاف کرکے ان میں صلاة ادا کی جائے۔ آپ نے صحابہ
¿ کرام کو کچھ نہیں کہا کہ بغیر گندگی لگے جوتوں کو کیوں نکال دیا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس معاملہ میں شدت اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، جوتوں میں صلاة پڑھنے والے ننگے پاں صلاة پڑھنے کو برا بھلا کہیں نہ بغیر جوتوں کے صلاة پڑھنے والے جوتوں کے ساتھ صلاة پڑھنے والوں کو کچھ کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں:

را


¿یت رسول اللہ یصلی حافیا
¿ و منتعلا(صحیح سنن ا
¿بی داو
¿د رقم ۳۵۶)

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاں اورجوتے پہنے ہوئے دونوں طریقوں سے صلاة پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

جوتے پہن کر صلاة جنازہ کی ادائیگی:

صلاة جنازہ اگرچہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہے اس کے باوجود سہولت کی خاطر عام طور پر باہر کھلی جگہ میں ادا کی جاتی ہے۔ (۲) عموماً قبرستان کے کسی گوشہ میںاس کے لیے کوئی جگہ متعین کردی جاتی ہے جو مزاج شریعت کے مطابق نہیں۔ تقاضائے شریعت یہ ہے کہ نہ تو قبر پر صلاة ادا کی جائے اور نہ قبر کی طرف رخ کرکے صلاة ادا کی جائے۔ صلاة کوئی بھی ہو خواہ جنازہ کی ہو یا کوئی اور قبرستان سے بالکل علیحدہ پڑھی جائے۔ صلاة جنازہ مسجد میں پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خواتین بھی اس صلاة میں شریک ہو جائیں گی۔ بیضاءکے دونوں بیٹوں سہل اور سہیل رضی اللہ عنہما کی صلاة جنازہ مسجد ہی میں پڑھی گئی۔ صلاة جنازہ ایسی صلاة ہے جس میں رکوع و سجدہ نہیں ہے اس وجہ سے اس صلاة میں جوتے پہن کر صلاة پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ جنھیں شریعت کا علم نہیں ہے وہ اسے برا سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایسے شخص کے پاس سے نکل جاتے ہیں جو جوتے پہن کر صلاة جنازہ ادا کر رہا ہو۔ یہ سراسر جہالت ہے، یہاں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر جوتے پہننے سے منع کیا جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا چاہئے:

خالفوا الیہود ف


Êنہم لا یصلون فی نعالہم و لا حفافہم۔ (صحیح سنن ا
¿بی داو
¿د رقم ۲۵۶)

یہودیوں کی مخالفت کرو، وہ جوتا اور موزہ پہن کر صلاة نہیں ادا کرتے (لہٰذا تم انھیں پہن کر صلاة ادا کرو)۔

اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماءنے کہاہے کہ جوتے پہن کر صلاة ادا کرنا بغیر جوتا چپل پہنے صلاة ادا کرنے سے کئی گنا افضل ہے۔ (شرح منیة المصلی لابراہیم الحلبی بحوالہ السنن و المبتدعات ص۶۴)

ابن قیم رحمہ اللہ نے


Êغاثة اللہفان (ص۰۹۶۱) میں لکھا ہے:

شکی مزاج لوگو ںکے دل جس پر مطمئن نہیں ہوتے ان میں سے ایک جوتے پہن کر صلاة پڑھنا ہے حالاں کہ جوتے پہن کر صلاة ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت ہے، آپ نے اسے کیا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ کیا آدمی جوتے پہن کر صلاة پڑھ سکتا ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم۔

ابن قیم مزید کہتے ہیں: ”بعض لوگ جو وسوسوں میں مبتلا ہوتے ہیں اگر ان کے بغل میں کوئی جوتے پہن کر صلاة جنازہ کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس طرح اس سے بدک کر اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ آگ کے انگاروں پر کھڑا ہو جس میں صلاة نہیں ہوتی۔

پختہ فرش والی مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونا:

مذکورہ بالا احادیث کو فرش والی اور ان مساجد میں جوتے چپل پہن کر داخل ہونے کے جواز کے طور پر پیش کرنا جن میں چٹائیاں یا قالین بچھی ہوں جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ مساجد کے تقدس پر ان کی چٹائیوں کو فوقیت دینے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مساجد ہی کے تقدس کا خیال رکھنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد فرش والی نہ تھی چنانچہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے مسجد نبوی میں آتے جاتے تھے اور بعض دفعہ پیشاب بھی کردیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود مسجد دھوئی نہیں جاتی تھی۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسجد فرش والی نہ ہو۔ ہم خود اپنے بستروں پر جہاں ہمیں سونا ہوتا ہے جوتے چپل پہن کر نہیں جاتے اس لیے کہ اس پر ہمیں سونا ہوتا ہے، دوکانوں یا آفسوں میں چوں کہ سونا نہیں ہوتا، لوگ ان میں کھڑے ہو کر یا کرسیوں پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں اس لیے ان میں جوتے چپل پہن کر بھی داخل ہونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا اس پر مساجد کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ مساجد جن کے فرش پختہ نہ ہوں یا ان میں چٹائیاں نہ بچھی ہوں توان میں مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں جوتے چپل پہن کر صلاة پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

خاتمہ:

جوتوں میں کوئی غلاظت نہ لگی ہو اس کے باوجود غیر فرش والی جگہ پر اس کے نکالنے پر اصرار کرنا صحیح نہیں، جوتے پہن کر صلاة ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ و۲سلم کی سنت ہے لہٰذا اگر کبھی موقع ملے تو اس سنت پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چھوٹی بڑی سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔ صحیح بخاری کتاب الصلاة باب الصلاة فی النعال، کتاب اللباس باب النعال السبتیة و غیرہا رقم ۶۸۳، ۰۵۸۵۔ صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاة باب جواز الصلاة فی النعلین رقم ۵۵۵۔ سنن ترمذی ا


¿بواب الصلوة باب ما جاءفی الصلوة فی النعال رقم ۸۹۳۔

۲۔ مسجد میں صلاة جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کے باوجود بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے اس کی مخالفت کرتے ہیں، بعض مساجد کے باہر صلاة جنازہ کے لیے الگ سے جگہ مخصوص کی جاتی ہے لوگ مسجد سے صلاة ادا کرکے باہر آتے ہیں پھر اس مخصوص جگہ پر جنازہ کی صلاة پڑھتے ہیں یہ بے جا تکلف ہے اس کی وجہ سے ہی لوگوںمیں یہ غلط فہمی عام ہوئی ۔ صحیح مسلم (رقم ۳۷۹) کی روایت کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے لوگوں کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ اسی طرح عیدگاہ میں صلاة جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے نجاشی کی صلاة جنازہ غائبانہ عیدگاہ ہی میں پڑھی تھی۔ (دیکھیں: صحیح مسلم رقم ۱۵۹)