بدھ، 29 جولائی، 2009

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کا حکم

0 comments
ہمارے یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہونے کے باوجود لوگوں میں رائج نہیں ہیں، لاعلمی کی وجہ سے یا لوگوں کو ایسا نہ کرتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے اسے خلاف سنت مان لیا جاتا ہے، ایسی ہی چیزوں میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہنا ہے، حالاں کہ اس کے تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
کنا نعرف انقضاء صلاۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بالتکبیر۔
 ( صحیح بخاری: کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلوۃ رقم ۸۴۱-۸۴۲، صحیح مسلم رقم ۵۸۳ )
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے ختم ہونے کی اطلاع تکبیر کے ذریعہ پاتے تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرنے کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز کے ختم ہونے کی اطلاع مل جاتی تھی، گویا کہ بلند آواز سے تکبیر کہنا نماز کے ختم ہونے کی علامت ہوا کرتی تھی۔ اس صریح حدیث کے باوجود بہت سے لوگ اس کی تاویل کرکے یا بے وزن دلیلوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد آواز سے تکبیر یا دوسرے اذکار کرنا صحیح نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل سطور میں مخالفین اور موافقین کی دلیلوں کا جائزہ لے کر بلند آواز سے تکبیر اور دوسرے اذکار کرنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔

مخالفین کے دلائل:

جو لوگ نماز ختم ہونے کے بعد بلند آواز سے ’’اللہ أکبر‘‘ کہنے کو مستحب نہیں سمجھتے وہ اس حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ:
۱۔            اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ بلند آواز سے تکبیر سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما  کو نماز کے ختم ہونے کا علم ہوتا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ میں جاتے ہوئے اور اس سے سر اٹھانے کے بعد جو تکبیر کہی جاتی ہے اس کے ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ اب نماز ختم ہوچکی ہے اس لیے کہ تکبیروں کی آواز آنی بند ہوگئی ہے، لہٰذا معنی ہوگا: 
’’کنت أعرف انقضاء الصلاۃ بإنقضاء التکبیرات۔‘‘
۲۔           بعض لوگ کہتے ہیں تکبیر سے مراد وہ تکبیر ہے جو فرض نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سکھلائی تھی کہ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ أکبر کہیں۔ مگر ایسی صورت میں اللہ أکبر کو ان دونوں سے پہلے کہنا لازم آئے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان تینوں میں سے کسی کو بھی پہلے کہا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۳۔           ذکر و اذکار اللہ تعالیٰ نے بلند آواز سے کرنے سے منع کیا  ہے:
 وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا o (بنی إسرائیل:۱۱۰)
’’نماز میں آواز بلند کرو اور نہ زیادہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان والا راستہ تلاش کرو۔‘‘
   اس آیت کریمہ کی روشنی میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ آواز کو بلند نہ کیا جائے اور جو آپ سے آواز بلند کرنا ثابت ہے وہ صرف تعلیم کے لیے تھا ، مستقل طور پر نہ تھا۔

موافقین کے دلائل:

مذکورہ بالا شبہات کا موافقین جواب دیتے ہیں کہ :
۱۔            جہاں تک پہلے شبہ کی بات ہے تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ روایت ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے:
أن رفع الصوت بالذکرحین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أنہ قال: قال ابن عباس: کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ۔ ( صحیح مسلم رقم ۵۸۳)
’’فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا معمول تھا۔ (ابن عباس کے غلام ابومعبد کہتے ہیں کہ) ابن عباس نے کہا: مجھے ان کے سلام پھیرنے کی اطلاع اسی (ذکر) کو سن کر ہوتی تھی۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت میں تکبیر کے بجائے ’’ذکر‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو تکبیر سے عام ہے مگر اس روایت سے یہ شبہ باطل ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رکوع و سجود میں جاتے وقت کہی جانے والی تکبیروں کا انقطاع ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ صراحۃً دلالت کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف آپ کا بلکہ صحابۂ کرام کا عام معمول تھا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر واذکار کرتے تھے۔ اس میں سرفہرست بلند آواز سے اللہ أکبر کہنا ہے، جیسا کہ پہلی روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
۲۔           جہاں تک دوسرے شبہ کی بات ہے کہ اس سے مراد وہ تکبیر و تحمید اور تسبیح ہے جو آپ نے مخصوص عدد کے ساتھ فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس وجہ سے کہ احادیث میں جو ترتیب آئی ہے وہ اس کے برخلاف تسبیح پھر تحمید اس کے بعد تکبیر ہے، اگر ان لوگوں کا دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ ترتیب کوئی ضروری نہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ انھیں بلند آواز سے شمار کرنا مستحب ہے حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔           تیسرا شبہ جو ظاہر کیا گیا ہے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ آیت کریمہ کے اندر جہاں آواز بلند کرنے کی ممانعت ہے وہیں آواز پست کرنے کی بھی ممانعت ہے، لہٰذا یہ دلیل نہیں بن سکتی اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن مقامات پر بلند آواز سے ذکر کرنا ثابت ہے اس سے یہ آیت منع نہیں کرتی چنانچہ حج کے لیے تلبیہ بلند آواز ہی سے کہا جاتا ہے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ ہاں، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حد سے زیادہ تیز آواز کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:
إربعوا علی أنفسکم فإنکم لاتدعون أصم و لا غائبا۔
 (صحیح بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر رقم ۲۹۹۲، صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب استحباب خفض الصوت بالذکررقم ۲۷۰۴)
’’اپنے نفسوں پر رحم کھائو اس لیے کہ تم جسے بلا رہے ہو وہ بہرا اور غائب نہیں ہے۔‘‘
لہٰذا تکبیر بلند آواز سے ضرور کہی جائے گی مگر معتدل آواز میں، نہ پست اور نہ زیادہ بلند۔
جو لوگ اسے بعض اوقات کے لیے خاص مانتے ہیں کہ ایسا آپ نے تعلیم کے لیے کیا تھا تو ان کا یہ موقف صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر ’’کان‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ یہ آپ کا اور صحابہ کا معمول تھا اور ابن عباس نے اس کو کسی خاص موقع کے ساتھ خاص کرکے نہیں بیان کیا بلکہ عمومیت کے ساتھ یہ بات کہی ہے، لہٰذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں ان کے دلیل میں وزن نہیں ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب:

صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
قال عمرو: فذکرت ذلک لأبی معبد فأنکرہ و قال: لم أحدثک بہذا، قال عمرو: و قد أخبرنیہ قبل ذلک۔
’’عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابومعبد سے کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اس حدیث کو تم سے نہیں بیان کیا، عمرو بن دینار کہتے ہیں: حالاں کہ انھوں نے ہی اس سے پہلے مجھے اس کی خبر دی تھی۔‘‘
لہٰذا یہ ’’من حدّث و نسی‘‘ کا معاملہ بنتا ہے۔ علماء اصول الحدیث کے نزدیک ایسی صورت میں جب کوئی محدث اپنی بیان کردہ حدیث کا انکار کرے تو اس حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے مگر اس میں راجح یہ ہے کہ اگر کسی ثقہ سے حدیث بیان کرنے کے بعد شیخ حدیث کا انکار کرتاہے، شک یا بھول جانے کی وجہ سے، تو ایسی صورت میں اس ثقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو قبول کیا جائے گا، ہاں، اگر محدث قطعی طور پر اس کا انکار کر رہا ہے اور روایت کرنے والے کو جھوٹا بتلا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک اس حدیث کی بات ہے تو عمر وبن دینار ثقہ، ثبت راوی ہیں لہٰذا ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ بخاری و مسلم جیسے جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کی تخریج کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ابومعبد کو بڑھاپے کی وجہ سے بھول واقع ہوگئی اور یہ نہ جان سکے کہ انھوں نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (۱)
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی کہے کہ ابومعبد یہ حدیث بھول گئے اور اس کا انکار کیا تو ہم کہیں گے: کیا ہوا؟ عمرو بن دینار أوثق الثقات (حد درجہ ثقہ) ہیں اور بھول چوک سے کوئی بھی آدمی پاک نہیں۔ ثقہ کی روایت سے حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (المحلی ۴؍۲۶۰) بہرحال روایت کی صحت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

خلاصۂ کلام:

نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ أکبر پڑھنے کے سلسلے میں فریقین کے دلائل بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد دوسرے اذکار مثلاً تین مرتبہ أستغفراللہ اور ایک مرتبہ أللہم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الإکرام وغیرہ پڑھے جائیں۔ (۲)
امام نووی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا حدیث ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث دلیل ہے بعض سلف کے لیے جو کہتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔‘‘
صاحب مرعاۃ المفاتیح شیخ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ما ذہب إلیہ بعض السلف و ابن حزم من المتأخرین من استحباب رفع الصوت بالتکبیر و الذکر أثر کل صلاۃ مکتوبۃ ہو القول الراجح عندی و إن لم یقل بہ الأئمۃ الأربعۃ و مقلدوہم، لأن حدیث ابن عباس باللفظین نص فی ذلک، ویدل علی ذلک ایضاً حدیث عبد اللہ بن الزبیر الاٰتی، والحق یدور مع الدلیل لامع الإدعاء أو الرجال۔ (مرعاۃ ۳؍۳۱۵)
’’اسلاف کرام میں سے بعض اور متأخرین میں سے ابن حزم رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر (دعا) بلند آواز سے کرنا مستحب ہے، یہی قول ہمارے نزدیک راجح ہے، اگرچہ ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اس لیے کہ عبداللہ بن عباس کی دونوں الفاظ کے ساتھ وارد حدیث اس معاملہ میں نص ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی آنے والی حدیث بھی یہی واضح کرتی ہے۔ (۳) حق دلیل کے تابع ہوتاہے محض دعووں اور شخصیتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ’’من حدیث و نسی‘‘ کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں: تدریب الراوی۔
۲۔           دیکھیں صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ رقم ۵۹۱۔
۳۔           صاحب مرعاۃ کا اشارہ صحیح مسلم کی اس حدیث کی طرف ہے:

   ’’عن عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ إذا سلم من صلاۃ یقول بصوتہ الأعلی: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیٔ قدیر… الحدیث۔ لیکن مسلم میں یہ روایت ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہلل بہن دبر کل صلاۃ مکتوبۃ‘‘ (مسلم ۵۹۴) کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ غالباً صاحب مشکوۃ نے بالمعنی روایت کیا ہے۔

جمعرات، 2 جولائی، 2009

جوتے پہن کر نماز ادا کرنے کا حکم

0 comments
موجودہ زمانہ میں مسجدیں فرش والی ہوگئی ہیں ان میں عمدہ قسم کی قالین یا چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں لہٰذا ان مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونے سے مسجد کا فرش گندہ ہوگا اس لیے جوتا پہن کر ان میں داخل ہونے کی با ت نہیں کہی جاسکتی مگر مساجد کے علاوہ کھلے میدان میں نماز ادا کرنے کی صورت میں جوتے چپل نکالنے کا خصوصی اہتمام کرنا اور اگر کوئی شخص جوتا پہن کر نماز ادا کرے تو اسے برا بھلا کہنا غلط ہے، سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے دریافت کیا:
أ کان رسول اللہ یصلی فی النعلین؟ قال:نعم۔
’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کی نماز ادا کرتے تھے؟ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں (آپ جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے)۔ (۱)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے لہٰذا بلا وجہ اندیشوں میں مبتلا ہونا کہ کہیں جوتوں میں گندگی نہ لگی ہو؟  جوتے پاک ہیں یا ناپاک، صحیح نہیں۔ سنن ابی دائود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا وطی أحدکم بنعلیہ الأذی فإن التراب لہ طہور۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۳۸۵)
’’کوئی شخص اگر اپنے جوتوں سے گندگی روند دے تو مٹی اسے پاک کر دے گی۔‘‘
لہٰذا زیادہ سے زیادہ احتیاط یہ ہے کہ نماز سے پہلے جوتوں کو دیکھ لیا جائے، ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد اس وسوسہ میںپڑنا کہ ناپاکی جوتے میں لگی ہے یا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے دوران نماز آپ نے اپنے جوتوں کو نکال کر اپنے بائیں جانب رکھ دیا صحابۂ کرام نے بھی آپ کو دیکھ کر ایسا ہی کیا، بعد میں آپ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے اپنے جوتوں کو نکال دیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کو جوتے نکالتے دیکھا تو خود بھی اپنے جوتے نکال دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے جوتے اس لیے نکال دیے کیوںکہ جبرئیل علیہ السلام نے آکر خبر دی کہ ان جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، چنانچہ میں نے جوتوں کو نکال دیا، اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لے اگر اس میں گندگی لگی ہو تو اسے رگڑ لے اور پھر ان کو پہن کر نماز  ادا کرے۔ (دیکھیں: صحیح سنن ابی داؤد رقم ۶۵۰)
مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علاوہ صحابۂ کرام بھی جوتے پہن کر نماز ادا کر رہے تھے، اور آپ نے جوتے اس وجہ سے نکالے تھے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی نہ کہ اس وجہ سے کہ جوتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اس لیے کہ خود آپ نے آخر میں یہ فرمایا کہ جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہو تو اسے صاف کرکے ان میں نماز ادا کی جائے۔ آپ نے صحابۂ کرام کو کچھ نہیں کہا کہ بغیر گندگی لگے جوتوں کو کیوں نکال دیا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس معاملہ میں شدت اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، جوتوں میں نماز پڑھنے والے ننگے پائوں نماز پڑھنے کو برا بھلا کہیں نہ بغیر جوتوں کے نماز پڑھنے والے جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو کچھ کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں:
رأیت رسول اللہ یصلی حافیأ و منتعلا۔
     (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۳)
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پائوں اورجوتے پہنے ہوئے دونوں طریقوں سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

جوتے پہن کر نماز جنازہ کی ادائیگی:

نماز جنازہ اگرچہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہے اس کے باوجود سہولت کی خاطر عام طور پر باہر کھلی جگہ میں ادا کی جاتی ہے۔ (۲) عموماً قبرستان کے کسی گوشہ میںاس کے لیے کوئی جگہ متعین کردی جاتی ہے جو مزاج شریعت کے مطابق نہیں۔ تقاضائے شریعت یہ ہے کہ نہ تو قبر پر نماز ادا کی جائے اور نہ قبر کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی جائے۔ نماز کوئی بھی ہو خواہ جنازہ کی ہو یا کوئی اور قبرستان سے بالکل علیحدہ پڑھی جائے۔ نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خواتین بھی اس نماز میں شریک ہو جائیں گی۔ بیضاء کے دونوں بیٹوں سہل اور سہیل رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی گئی۔  نماز جنازہ ایسی نماز ہے جس میں رکوع و سجدہ نہیں ہے اس وجہ سے اس نماز میں جوتے پہن کر نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ جنھیں شریعت کا علم نہیں ہے وہ اسے برا سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایسے شخص کے پاس سے نکل جاتے ہیں جو جوتے پہن کر نماز جنازہ ادا کر رہا ہو۔ یہ سراسر جہالت ہے، یہاں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر جوتے پہننے سے منع کیا جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا چاہئے:
خالفوا الیہود فإنہم لا یصلون فی نعالہم و لا حفافہم۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۲)
’’یہودیوں کی مخالفت کرو، وہ جوتا اور موزہ پہن کر نماز نہیں ادا کرتے (لہٰذا تم انھیں پہن کر نماز ادا کرو)۔‘‘
اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماء نے کہاہے کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا بغیر جوتا چپل پہنے نماز ادا کرنے سے کئی گنا افضل ہے۔ (شرح منیۃ المصلی لابراہیم الحلبی بحوالہ السنن و المبتدعات ص۴۶)
ابن قیم رحمہ اللہ نے إغاثۃ اللہفان (ص۱۶۹۰) میں لکھا ہے: 
’’ شکی مزاج لوگو ںکے دل جس پر مطمئن نہیں ہوتے ان میں سے ایک جوتے پہن کر نماز پڑھنا ہے حالاں کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت ہے، آپ نے اسے کیا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ کیا آدمی جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم۔‘‘ 
 ابن قیم مزید کہتے ہیں: ’’بعض لوگ جو وسوسوں میں مبتلا ہوتے ہیں اگر ان کے بغل میں کوئی جوتے پہن کر نماز جنازہ کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس طرح اس سے بدک کر اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ آگ کے انگاروں پر کھڑا ہو جس میں نماز نہیں ہوتی۔‘‘

پختہ فرش والی مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونا:

مذکورہ بالا احادیث کو فرش والی اور ان مساجد میں جوتے چپل پہن کر داخل ہونے کے جواز کے طور پر پیش کرنا جن میں چٹائیاں یا قالین بچھی ہوں جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ مساجد کے تقدس پر ان کی چٹائیوں کو فوقیت دینے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مساجد ہی کے تقدس کا خیال رکھنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد فرش والی نہ تھی چنانچہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے مسجد نبوی میں آتے جاتے تھے اور بعض دفعہ پیشاب بھی کردیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود مسجد دھوئی نہیں جاتی تھی۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسجد فرش والی نہ ہو۔ ہم خود اپنے بستروں پر جہاں ہمیں سونا ہوتا ہے جوتے چپل پہن کر نہیں جاتے اس لیے کہ اس پر ہمیں سونا ہوتا ہے، دوکانوں یا آفسوں میں چوں کہ سونا نہیں ہوتا، لوگ ان میں کھڑے ہو کر یا کرسیوں پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں اس لیے ان میں جوتے چپل پہن کر بھی داخل ہونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا اس پر مساجد کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ مساجد جن کے فرش پختہ نہ ہوں یا ان میں چٹائیاں نہ بچھی ہوں توان میں مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں جوتے چپل پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

خاتمہ:

جوتوں میں کوئی غلاظت نہ لگی ہو اس کے باوجود غیر فرش والی جگہ پر اس کے نکالنے پر اصرار کرنا صحیح نہیں، جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ و۲سلم کی سنت ہے لہٰذا اگر کبھی موقع ملے تو اس سنت پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چھوٹی بڑی سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔ صحیح بخاری کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ فی النعال، کتاب اللباس باب النعال السبتیۃ و غیرہا رقم ۳۸۶، ۵۸۵۰۔ صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب جواز الصلاۃ فی النعلین رقم ۵۵۵۔ سنن ترمذی أبواب الصلوۃ باب ما جاء فی الصلوۃ فی النعال رقم ۳۹۸۔
۲۔ مسجد میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کے باوجود بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے اس کی مخالفت کرتے ہیں، بعض مساجد کے باہر نماز جنازہ کے لیے الگ سے جگہ مخصوص کی جاتی ہے لوگ مسجد سے نماز ادا کرکے باہر آتے ہیں پھر اس مخصوص جگہ پر جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں یہ بے جا تکلف ہے اس کی وجہ سے ہی لوگوںمیں یہ غلط فہمی عام ہوئی ۔ صحیح مسلم (رقم ۹۷۳) کی روایت کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے لوگوں کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ اسی طرح عیدگاہ میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ عیدگاہ ہی میں پڑھی تھی۔ (دیکھیں: صحیح مسلم رقم ۹۵۱)