Tuesday, August 25, 2009

روزے کی حالت میں کھانا وغیرہ چکھنا

0 comments

روزے کی حالت میں جب کھانا چکھنے کی ضرورت پیش آئے تواس میں کوئي حرج والی بات نہيں ، جب تک روزہ دار کے پیٹ میں کچھ داخل نہ ہو روزہ کو کچھ نہيں ہوتا ، اس میں قھوہ وغیرہ چکھنا سب برابر ہيں ۔
لیکن اگر بغیر کسی ضرورت کے کوئي چيز چکھی جائے تو ایسا کرنا مکروہ تو ہے لیکن اس سے بھی روزہ باطل نہیں ہوتا ۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس سے تعلیقا روایت کی ہے کہ :
ہنڈیا یا کوئي چيز چکھنے میں کوئي حرج نہیں ۔
اورامام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
میں کھانا چکھنے سے اجتناب پسند کرتا ہوں ، لیکن اگر چکھ لیا جائے توکوئي نقصان نہیں اوراس میں کوئي حرج والی بات نہیں ہے ۔ ا ھـ
دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 4 / 359 ) ۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
بغیر کسی ضرورت کے کھانا چکھنا مکروہ ہے ، لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ مجموع الفتاوی الکبری ( 4 / 474 ) ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :
کیا کھانا چکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
توشيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
جب اسے نگلا نہ جائے توکھانا چکھنے سے روزہ نہيں ٹوٹتا ، لیکن بغیر کسی ضرورت کے ایسا نہیں کرنا چاہیے ، اور اس حالت میں اگرآپ کے پیٹ میں بغیر کسی قصد اورارادہ کے کوئي چيز داخل ہوجائے توروزہ باطل نہيں ہوگا ۔ ا ھـ
دیکھیں فتاوی الصیام صفحہ نمبر ( 356 ) ۔
فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :
انسان کے لیے روزہ کی حالت میں بوقت ضرورت کھانا چکھنے میں کوئي حرج نہیں ، اگراس میں سے کوئي چيز عمدا نہ نگلی جائے تو روزہ صحیح ہو گا ۔ ا ھـ
دیکھیں : الفتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 332 ) ۔
منہ میں صرف ذائقہ یا پھر خوشبو رہنے سے روزہ پر کچھ اثر نہيں ہوتا ، جب تک کہ کوئي چيزجان بوجھ کر نگلی نہ جائے ۔
ابن سیرین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کےلیے تازہ مسواک کرنے میں کوئي حرج نہیں ، انہيں کہا گيا کہ تازہ مسواک کا تو ذائقہ ہوتا ہے ، وہ کہنے لگے : اورپانی کا بھی تو ذائقہ ہوتا ہے لیکن آپ اس کی کلی کرلیتے ہیں ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی الشرح الممتع میں کہتے ہیں :
کھانا مثلا کھجور ، روٹی ، اورشوربہ وغیرہ چکھنا مکروہ ہے ، لیکن بوقت ضرورت چکھنے میں کوئي حرج نہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ : ہوسکتا ہےکہ اس کھانے سے کوئي چيز بغیر کسی شعور کے پیٹ میں داخل ہوجائے ، اس لیے کھانا چکھنے میں روزے کو فاسد ہونے کے خدشہ کے پیش نظر بغیر ضرورت کے کچھ نہيں چکھنا چاہیے ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھانے کی اشتہاء زيادہ ہونے پر لذت حاصل کرنے کےلیے چکھے ، اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ قوت سے چوسے تو کچھ نہ کچھ اس کے پیٹ میں داخل ہوجائے ۔
اورضرورت اورحاجت سے مراد یہ ہے کہ : کھانا تیار کرنے والے نمک یا پھر اس کی مٹھاس وغیرہ دیکھنے کا محتاج ہو ۔ ا ھـ
دیکھیں : الشرح الممتع لابن ‏عثيمین ( 3 / 261 ) ۔
اس بنا پر ہم کہيں گے کہ : آپ روزہ کی حالت میں قھوہ چکھ سکتےہیں اس لیے کہ آپ کو اس کی ضرورت ہے ، لیکن آپ یہ احتیاط کریں کہ اس میں سے کوئي چيز حلق میں نہ داخل ہوجائے ۔
واللہ اعلم .
بشکریہ:
 الاسلام سوال وجواب

Wednesday, August 12, 2009

افطار میں جلدی کرنا

0 comments

صوم رکھنے والا اللہ کے حکم کی وجہ سے دن بھر کھانے پینے سے رکا رہتا ہے لہٰذا یہ طبعی امر ہے کہ اس کو افطار کے وقت کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ اسلام چونکہ اپنے ماننے والوں کو بے جا پریشانی میں ڈالنے کا قائل نہیں اس وجہ سے اس نے صوم رکھنے والوں کو سورج غروب ہوتے ہی افطار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے افطار میں جلدی کرنے پر دنیا و آخرت کی بھلائی کی ضمانت دی ہے۔آپ کا ارشاد ہے:
''لایزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر''
''لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔''
تخریج:
صحیح بخاری کتاب الصوم باب تعجیل الإفطار رقم: ١٨٥٦،صحیح مسلم کتاب الصوم باب فضل السحور و تأکید استحبابہ واستحباب تأخیرہ و تعجیل الفطر رقم: ١٠٩٨ میں نیز مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ما جاء فی تعجیل الفطر رقم: ٦٣٤ اور سنن الترمذی رقم: ٦٩٥ فی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار میں اس حدیث کی تخریج کی گئی ہے۔
افطار میں جلدی کرنے سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لایزال الدین ظاہراً ما عجل الناس الفطر لأن الیہود والنصاریٰ یؤخرون
(سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب فی تعجیل الفطر رقم: ٢٣٥٣،صحیح الجامع رقم:٧٦٨٩،مستدرک حاکم رقم:١٥٧٣فی کتاب الصوم)
''اس وقت تک دین غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، اس لئے کہ یہود و نصاریٰ افطار دیر سے کرتے ہیں۔''
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تنزلی و پسپائی سے ہر کوئی واقف ہے، ایسے موقع پر ہمیں قرآنی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ان اسباب کو تلاش کرنا چاہئے جو اس پسپائی کے لئے بیان کئے گئے ہیں انھیں اسباب میں سے ایک اہم سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم افطار کرنے میں تاخیر کو قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ چونکہ یہودونصاریٰ افطارمیں تاخیر کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی مخالفت کرتے ہوئے افطار کرنے میں جلدی کرو۔ گویا کہ یہود و نصاریٰ سے الگ شناخت بنانا ایک مسلمان کی امتیازی شان اور دنیا وا ۤخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
افطار میں جلدی کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا شیوہ تھا:
ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور ابو مسروق عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ہم نے عرض کیا: اے ام المومنین! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک شخص افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا افطار اور صلاۃ میں تاخیر کرتا ہے (ان دونوں میںبہتر کون ہے) تو آپ نے پوچھا، کون افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے کہا: عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل السحور، سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر، سنن الترمذی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار)
افطار کا وقت:
سورج غروب ہوتے ہی افطارکا وقت شروع ہوجاتا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
إذا أقبل اللیل ھھنا و أدبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم (صحیح البخاری کتاب الصوم باب الصوم فی السفر و الإفطار، صحیح مسلم کتاب الصوم باب بیان انقضاء الصوم و خروج النھار)
''جب رات یہاں(مشرق میں) آجائے اور دن یہاں سے (مغرب میں) چلا جائے اور
سورج غروب ہوجائے تو صوم افطار کرنے کا وقت آچکا ہے۔''
معلوم ہوا کہ افطار کے وقت میں اصل سورج کا غروب ہو نا ہے نہ کہ مغرب کی اذان، اس لئے اگر وقت ہو گیا ہو اور اذان نہ بھی ہوئی ہو تو افطارکیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
احتیاط کے نام پر افطار میں تاخیر کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جب سورج غروب ہوجائے تو افطار کرلیا جائے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے مگر افسوس کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی مخالفت کی جرأت کرتے ہوئے باقاعدہ اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ افطارمیں کم از دو منٹ کی تاخیر کرلی جائے ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مستحق تو نہیں ہو رہے ہیں:
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔(النور:٦٣)
''(نبی کریم ؐ) کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی فتنہ میں نہ پڑ جائیں یا انہیں دردناک عذاب نہ دبوچ لے۔''
موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے سورج کے طلوع وغروب کے وقت کے بارے میں یقینی طور پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں احتیاط کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی خلاف ورزی کرنا اور افطارمیں جلدی کرنے کے ثواب سے محروم رہنا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ دین کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے بڑھ کر احتیاط برتنے والا کون ہو سکتا ہے؟ لیکن آپ اور آپ کے اصحاب احتیاط کے نام پر کبھی تاخیر نہیں کرتے تھے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ لا علمی میں حدیث رسول کی مخالفت کرتا ہے اور ساتھ ہی سنت کے مطابق افطار میں جلدی کرنے والوں پر لعن طعن کرکے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے بعض لوگوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کا صوم توڑنے کی سازش کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی محبت پیوست کر دے۔ آمین۔

٭٭

Saturday, August 8, 2009

یزید نام رکھنا (2

0 comments
(دوسری اور آخری قسط)
قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ ٥٠ھ ھجری میں بسر بن ارطاۃ کی قیادت میں ہوا۔ یہ امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کا واقعہ ہے۔ مسلمانوں پر جب سخت حالات پڑے تو مدد کے لئے معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید رحمہ اﷲ کی قیادت میں کمک بھیجی۔ اس موقع پر یزید کی قیادت میں ابو ایوب انصاری، ابن عباس اور ابن عمر رضی اﷲ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔
اس حدیث سے جہاں یزید کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ وہ روم پر لشکر کشی کرنے والے پہلے لشکر کی قیادت کر رہے تھے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک اور صالح انسان تھے اس لئے کہ اگر وہ اس کیرکٹر کے ہوتے جو بعض لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں تو ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی ان کی قیادت میں ہرگز جہاد کرنے پر راضی نہ ہوتے۔
اس موقع پر ایک اوربات قابل غور ہے، وہ یہ کہ امیر معاویہ نے لشکر کی قیادت پہلے پہل یزید کے ہاتھ میں نہ دی۔ اگر انہیں واقعی یزید کو آگے بڑھانا ہوتا تو وہ ضرور ایسا کرتے۔ اس وجہ سے بھی کہ اس غزوہ کی شہرت حدیث رسول کی وجہ سے مشہور و معروف تھی ہر کوئی یہ خواہش کرتا تھا کہ اس جنگ میں شریک ہوکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت کا حق دار ہوجائے۔
کچھ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیںکہ ''قسطنطنیہ کے پہلے بحری بیڑے کے لئے نبی ؐ کی بشارت کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے گا جن کے اندر مغفرت کی اہلیت ہے۔ چونکہ یزید کافر ومرتد ہو کر مرا تھا اس وجہ سے وہ اس بشارت کا حقدار نہیں''۔
جہاں تک یزید کے کافر و مرتد ہونے کی بات ہے اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ نواسہئ رسول حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا قتل یزید نے خود کرایا تب بھی یزید کو کافر یا مرتد نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس لئے کہ نبی کے علاوہ کسی کے قتل پر کسی کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ جس نے کسی بھائی کو کافر کہا تو اگر وہ واقعی کافر ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا یہ قول خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم ٥٧٥٢) لہٰذا بغیر سوچے سمجھے صرف سنی سنائی باتوں میں آکر کسی کو کافر کہنے سے بچنا چاہئے۔
جہاں تک رہی یزید کو اس بشارت سے الگ کرنے کی بات تو حقیقت یہ ہے کہ کسی جماعت یا گروہ کے بارے میں مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل اللہ کی جانب سے اس بات کی ضمانت دی جا رہی ہے کہ اس شخص یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی۔ جن صحابہئ کرام کو آپ ؐ نے جنت کی بشارت دی ان کے ساتھ ''ایمان پر موت'' کی شرط نہیں لگائی۔ اسی طرح قسطنطنیہ کے فوجی بیڑے کے بارے میں بھی کوئی شرط نہیں لگائی۔ لہٰذا ہم اپنی طرف سے کوئی شرط کیوں کر لگا سکتے ہیں؟
یزید کی خلافت:
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو اپنے آخری ایام میں اس بات کی فکر ہوئی کہ اگر موت سے پہلے خلیفہ کی تعیین نہ کی گئی تو امت ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار ہوجائے گی۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے یزید کو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر حسین بن علی، ابن زبیر، ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ عنہم کے علاوہ کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ان لوگوں کا اعتراض یزید پر نہیں تھا بلکہ اس تجویز پر اعتراض تھا کہ خلیفہ باپ کے بعد بیٹا بنے۔ تفصیل کے لئے (دیکھیں: تاریخ الإسلام للإمام الذہبی ٣/١٨٦، تاریخ طبری ٥/٣٠٣، تاریخ الخلفاء ص ٢١٣)
تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ یزید کو خلیفہ بنانے پر معاویہ رضی اﷲ عنہ پر لعن طعن کرتے ہیں وہ خود بھی موروثیت کی بات کرتے ہیں۔ بلکہ وراثتاً بارہ امام تک کی بات کرتے ہیں۔ آخر یہ نا انصافی امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ اور ان کے صاحبزادے یزید رحمہ اﷲکے ساتھ ہی کیوں؟
امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ صحابیِ رسول تھے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی تربیت ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں بدگمانی کرنا خود رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تربیت کے بارے میں شک کرنا ہے۔ خود امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے یزید کی خلافت کے بارے میں یہ کلمات ہیں:
أللہم إن کنت إنما عہدت لیزید لما رأیت بن فضلہ، فبلغہ ما أمکث وأعنہ، وإن کانت إنما حملنی حب الوالد لولدہ، وأنہ لیس لما صنعت بہ أہلا فأقبضہ قبل أن یبلغ ذلک۔ (تاریخ الإسلام للذہبی۔ عہد معاویۃ بن أبی سفیان ص ١٦٩)
''اے اﷲ اگر میں نے یزید کو ولی عہد اس کے فضل کی وجہ سے بنایا ہو تو اس کو میری امیدوں کو علمی جامہ پہنانے والا بنا اور اس کام میں تو اس کی مدد کر، اور اگر مجھے اس نام پر ابھارنے والی چیز ایک باپ کے اندر بیٹے کی محبت ہے تو اس کومقصد تک پہنچنے سے پہلے اٹھالے''۔
ابن خلدون کہتے ہیں:
''امیر معاویہ نے یزید کو ولی عہد اختلاف سے بچنے کے لئے بنایا اس لئے کہ بنو امیہ اپنے علاوہ کسی اور کو حاکم ماننے پر راضی نہ ہوتے۔ اگر آپ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلیفہ بناتے تو وہ لوگ اختلاف کرتے''۔ (مقدمہ ابن خلدون٢٠٦)
ابن العربی العواصم من القواصم میں صحابہ کرام میں سے ایک جلیل القدر صحابی کا قول نقل کرتے ہیں:
وہ کہتے ہیں:
''ہم ایک صحابی کے پاس جب یزید بن معاویہ خلیفہ بنا دئے گئے تو گئے۔ انہوں نے کہا: کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ یزید امت محمدیہ کا بہترین شخص نہیں نہ ا ن میں سب سے زیادہ فقہ کا علم رکھنے والا نہ شرف کے لحاظ سے ان میں زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں مگر اﷲ کی قسم امت محمدیہ متحد ہو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ افتراق کا شکار ہو۔ '' (العواصم من القواصم ص:٢٣١)
یزید کے بارے میں معتدل رائے:
یزید کے بارے میں امت میں عام طور پر غلو سے کام لیا جاتا ہے، مخالفین ان کی مخالفت میں غلو کرتے ہیں، اور مؤیدین ان کی حمایت میں غلو کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اہل سنت والجماعت کی معتدل رائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے پیش کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
''لوگ یزید بن معاویہ کے بارے میں تین گروہوں میں بٹے ہو
ـئے ہیں۔ دو غلو کرنے والے ہیں اور ایک معتدل فرقہ ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر اور منافق تھے۔ انہوں نے اﷲ کے رسول کے نواسے کو قتل کرانے کی کوشش کی ان سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے قتلِ حسین کے ذریعہ اپنے دادا عتبہ اور ان کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کا انتقام لیا جن کو صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب وغیرہ نے غزوہئ بدر اور بعد کی جنگوں میں قتل کیا۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ بدری کینہ تھا اور جاہلی انتقام۔ ایسی بات کہنا شیعہ روافض کے لیے آسان ہے اس وجہ سے کہ وہ ابو بکر، عمر اور عثمان جیسے صحابہ کرام کو کافر بتاتے ہیں تو ان کے لئے یزید کو کافر کہنا زیادہ آسان ہے۔
دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ وہ ایک نیک انسان، عادل امام اور صحابہ کرام میں سے تھے۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اٹھایا اوربرکت کی دعا کی۔ ان میں سے بعض تو یزید بن معاویہ کو ابو بکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں اور بعض تو انہیں نبی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ غلو پسندوں اور گمراہ کرنے والوں کے اقوال ہیں۔
تیسرا قول یزید کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھے۔ جس طرح ان سے بھلائی کے کام ہوئے اسی طرح سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ ان کی ولادت عثمان غنی کی خلافت میںہوئی۔ وہ کافر نہیں تھے البتہ ان کی وجہ سے حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور جو کچھ اہل حرۃ کے ساتھ کیا گیاوہ نہ تو صحابی تھے نہ ہی ولی تھے۔ یہ عام اہل علم و عقل اور اہل سنت والجماعت کا قول ہے۔'' (دیکھیں:فتاوی ابن تیمیہ٤٨٢-٤٨١/٤)
ابن صلاح سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو قتل کرنے کا حکم دینے والا اور قتل کی طرف پیش قدمی کرنے والا عبید اﷲ بن زیاد تھا جو کہ اس وقت عراق کا گورنر تھا۔ حدیث میں ہے کہ مومن پر لعنت بھیجنا اس سے جنگ کرنا ہے۔ (فتح الباری ١٠/٤٧٩) حسین رضی اﷲ کا قاتل اس قتل سے کافر نہیں ہوگیا۔ بلکہ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ہاں، اگر کوئی کسی نبی کو قتل کرے تو وہ کافر ہوگا۔ (قید الشرید ص٥٩-٦٠)
جہاں تک یزید پر لعنت بھیجنے کی بات ہے تو شریعت میں جب کسی جاندار پر لعنت بھیجنے سے منع کیا گیا ہے تو کسی مسلمان پر لعنت بھیجنے کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔
یزید کے بارے میں محمد بن الحنفیہ کی شہادت کافی ہے۔ یہ اہل بیت میں سے ہیں اس لئے ان کی شہادت کا دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ اعتبار ہوگا۔
ابن کثیر روایت کرتے ہیں کہ عبد اﷲ بن مطیع جو کہ عبداﷲ بن زبیر کے داعی تھے وہ اور ان کے اصحاب مدینہ سے محمد بن الحنفیہ کے پاس گئے ۔انہوں نے محمد بن الحنفیہ کو یزید سے جدا کرنا چاہا۔ محمد بن الحنفیہ نے انکار کردیا۔ ابن مطیع نے کہا: یزید تو شراب پیتا ہے، صلاۃ چھوڑتا ہے، کتاب اﷲ کے حکم کی خلافت ورزی کرتا ہے۔ محمد بن الحنفیہ نے کہا: میں نے ان کے اندروہ باتیں نہیں دیکھیں جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ میں ان کے پاس گیا ان کے یہاں قیام کیا میں نے انہیں صلاۃ کی پابندی کرتے دیکھا۔ بھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ فقہ کے بارے میں دریافت کرتے، سنت کا التزام کرتے دیکھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ سب وہ دکھاوے کے لئے کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخر وہ کیوں مجھ سے ڈرنے لگے یا مجھ سے کس چیز کی امید کرنے لگے کہ میرے لئے خشوع و خضوع کی نمائش کرنے لگے؟ تم لوگ جو یزید پر شراب نوشی کے بارے میں کہہ رہے ہو اس کے بارے میں بتاتاہوں۔ اگر تم لوگوں نے ان کو شراب پیتے دیکھا تو تم ان کے شریک ہوئے۔ اگر تم لوگوں نے انہیں نہیں دیکھا تو تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا کہ تم کوجس چیز کا علم نہیں اس کے بارے میں خبردو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ ہمارے یہاں حق ہے اگرچہ ہم نے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے گواہی دینے والے کے لئے اسے حرام قرار دیا ہے۔ تمہارے معاملہ میں مجھے مداخلت نہیں کرنی ہے۔
(البدایۃوالنہایۃ ٨/٢٣٣تاریخ الاسلام حوادث ٨٠-٦١ص٢٧٤محمد الشیبانی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے، دیکھیں مواقف المعارضۃ من خلافۃ یزید بن معاویہ ص ٣٨٤)
یزید بن معاویہ کے بارے میں من گھڑت روایت:
احادیث گھڑنے والوں نے عبادات و معاملات کے بارے میں احادیث گھڑنے کے علاوہ تاریخی واقعات کے بارے میں اپنی طرف سے جھوٹی احادیث گھڑ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردی ہیں۔ ابو حنیفہ اور امام شافعی کی فضیلت اور مذمت میں حدیث گھڑنے والوں نے جو حدیثیں گھڑی ہیں وہ مشہور و معروف ہیں۔
انہی گھڑی ہوئی حدیثوں میں سے ایک حدیث یہ ہے:
عن أبی عبیدۃ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لایزال امر أمتی قائما بالقسط حتی یثلمہ رجل من بنی أمیۃ یقال لہ یزید۔ (البدایۃ والنہایۃ ٨/٢٥٣)
''ہماری امت کا معاملہ انصاف پر قائم رہے گا یہاں تک کہ بنی امیہ کا ایک آدمی اس کا ایک حصہ ڈھا دے گا اس کا نام یزید ہوگا۔ ''
پھرابن کثیر نے ابن عساکر کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ یہ روایت مکحول اور ابوثعلبہ کے درمیان منقطع ہے۔
یہ روایت عقل کے لحاظ سے بھی موضوع و من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ مذکورہ روایت ابو عبیدہ بن جراح (پیدائش ٢٨ھ) کے علاوہ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت یزید دس سال کے تھے۔ اس عمر تک ان کے ساتھ رہے علمی استفادہ بھی کیا۔ سوال یہ ہے کہ ابو درداء نے معاویہ سے کہہ کر یزید کا نام کیوں نہیں بدلوا دیا اور اس حدیث کی بنیاد پر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا کہ اس لڑکے کو خلافت مت سونپنا کیوں کہ یہ معتوب ہے؟
یزید کے تعلقات اہل بیت سے:
اہل بیت سے یزید کے تعلقات حسین رضی اﷲ عنہ کے خروج کے بعد بھی اچھے رہے۔ ان کے تعلقات علی بن حسین، عبد اﷲ بن عباس اور محمد بن حنفیہ سے آخر تک اچھے رہے، جہاں تک عبد اﷲ بن جعفر کی بات ہے تو ان کے یزید سے دوستانہ مراسم تھے۔ یزید ان کی کسی فرمائش کو رد نہیں کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن جعفر کہا کرتے تھے: کیا تم مجھے یزید کے بارے میں اچھی رائے رکھنے پر برا بھلا کہتے ہو؟ (قید الشرید فی أخبار یزید ص ٣٥)
کیا یزید ظالم تھے؟
عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ یزید ایک ظالم بادشاہ تھا حسین رضی اللہ عنہ نے رعایا کو یزید کے ظلم و جور سے نجات دلانے کے لئے ان کے خلاف جنگ کی۔ یہ بات بھی غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کے خروج اور یزید کی تخت نشینی کے درمیان کے چھ ماہ کے عرصہ میں کوئی ایسی روایت نہیں ملتی ہے کہ پورے عالم اسلام میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ اللہ کی مخلوق تلملا اٹھی تھی۔ اس وقت ملت اسلامیہ کے صوبوں میں خلیفہ کی جانشینی کے جواز اور عدم جواز پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں۔ صرف کوفی سبائی شرارت پر تلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ کیا جا رہا تھا۔
اگر واقعی حسین رضی اللہ عنہ رعایا کو یزید کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اٹھے ہوتے تو وہ ملت اسلامیہ میں اعلان کرکے ایک بڑے لشکر کے ساتھ اٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے۔ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی بات ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے:
''وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ'' (البقرۃ: ١٩٥)
''اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو''
دشمن کے مقابلہ کے لئے ہتھیار تیار کرنے کو کہا گیا ہے:
''وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃِ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ'' (انفال:٦٠)
''(دشمن) کے مقابلہ کے لئے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلات جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو''
کیا حسین رضی اللہ عنہ اتنے ناعاقبت اندیش تھے کہ ان کو نتیجہ کا علم نہیں تھا؟ کہ اس سے ظالم کا ظلم اور بڑھ جائے گا۔ دوسری بات یہ کہ ظالم سے رعایا کو نجات دلانے کی ذمہ داری صرف حسین رضی اللہ عنہ پر ہی نہ تھی دوسرے لوگ بھی اس کے مکلف تھے؟ آخر وہ کیوں نہیں سامنے آئے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ آپ کوفیوں کی سازش کا شکار ہو گئے تھے جنہوں نے آپ کو خطوط لکھ کر خلافت کے لئے دعوت دی اور جب حسین رضی اللہ عنہ نے حقیقتِ حال جاننے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا تو انہیں دھوکہ سے قتل کرا دیا۔ ابتداء میں آپ کوفیوں کی دعوت پر گھر سے نکلے تھے مگر جب راستے میں مسلم کے قتل کی اطلاع ملی تو آپ اہل خاندان کے دباؤ میں خون کا بدلہ لینے کے لئے نکلے۔ اس کے بعد جو کچھ بھی پیش آیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
جس طرح ہندؤں کے یہاں مہابھارت کو حق و باطل کی لڑائی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر ان قصوں پر یقین کیا جائے تو یہ سراسر سیاسی نوعیت کی جنگ تھی۔ وہی حال واقعہ کربلا کا بھی ہے۔ یہ جنگ بھی سیاسی نوعیت کی تھی۔
جہاں تک رہی بات کربلا کے موقع پر اہل بیت پر ہوئے مظالم کی داستانوں کی تو ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ آخر ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ صرف مسلم بن عقیل کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور اہل بیت اٹھ کھڑے ہوئے مگر کربلا میں اہل بیت کو پیاسا رکھا گیا پیاسے بچوں کے حلق پر تیر برسائے گئے، مقتولین کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا۔ سروں کو نیزہ پر اٹھا کر بازاروں میں گھمایا گیا۔ اہل بیت کی عورتوں کی چادریں چھین کر نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا۔ اس پر صحابہ کرام خاموش رہے۔ یہاں تک کہ چھ مہینہ بعد علی بن حسین زین العابدین مدینہ گئے۔ لازما انہوں نے اہل بیت کے ساتھ ہوئے ان مظالم کی داستان بیان کی ہوگی مگر اس پر اہل مدینہ خصوصاً ہاشمی گھرانے کے افراد خاموش رہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
صحابہئ کرام کا عمل یہ بتاتا ہے کی ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ ان کے یہاں یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا اور کچھ نہیں۔
نام رکھنے کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت:
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سب سے زیادہ عبد اﷲ اور عبد الرحمان کے نام کو پسند کرتے تھے۔ (دیکھیں سنن ابی داؤد ٤/٢٨٧ رقم ٤٩،٤٩ حدیث صحیح ہے) در اصل عبد اﷲ میں اﷲ کے ذاتی نام کی طرف بندہ منسوب ہوتا ہے اور عبد الرحمان میں بندہ اﷲ کے صفاتی نام رحمان کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ لہٰذا عبد کی اضافت اﷲ کے ذاتی یا صفاتی نام کی طرف کی جائے، کسی اور کی طرف نہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرا نام رکھو مگر میری کنیت (ابوالقاسم) مت رکھو۔ (سنن أبی داؤد ٤/٢٩١ رقم ٤٩٦٥)حدیث صحیح ہے علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
اﷲ کے رسول نے چند ناموں سے منع بھی فرمایا ہے چنانچہ افلح اور یسار جیسے نام رکھنے سے منع فرمایا اسکی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس سے لوگ خواہ مخواہ تشویش میں مبتلا ہوںگے (دیکھیں سنن أبی داؤد ٤/٢٩٠، رقم ٤٩٥٨)
آپ کا یہ بھی طریقہ تھا کہ کسی کا غلط نام دیکھتے تو اس کو بدل کر بہتر نام رکھ دیتے۔
نام رکھنے میں چند چیزوں کی رعایت ہونی چاہئے:
(١) نام سے شرک کی بو نہ آئے۔
(٢) تکبر کا اظہار نہ ہو۔
(٣) صاحب نام کی تذلیل نہ ہوتی ہو۔
مذکورہ بالا چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے کوئی بھی نام رکھا جاسکتا ہے۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور علماء کرام کے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وہ حدیث جس میں انبیاء کرام کے نام پر نام رکھنے کی بات کہی گئی ہے اگرچہ ضعیف ہے مگر چونکہ رسول اکرم ؐنے خود اپنے نام پر نام رکھنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اس سے دیگر انبیاء کے نام پر نام رکھنے کی اجازت کی بات سمجھ میں آتی ہے۔
صحابہئ کرام کے نام پر نام رکھنا ان سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔ جس پر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابھارا ہے (من أحبہم فبحبی أحبہم)
ہم گذشتہ سطور میں بیان کرچکے ہیں کہ صحابہئ کرام میں یزید نام رکھنے والے صحابہ کی ایک بڑی تعداد تھی۔ ان کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کا نام اگر یزید رکھتے ہیں تو غلط بات نہ ہوگی۔ جیسا کہ واقعہ کربلا کے بعد کے لوگوں نے بغیر کسی جھجک کے اس نام کو رکھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کردیا جائے۔ صحابہئ کرام کے بعد تابعین میں سے ایک شخص کے یزید نام ہونے کی وجہ سے جس کے اوپر حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کرانے کا الزام ہے، یہ نام ہمیشہ کے لئے مکروہ یا ناجائز نہیں ہوگیا۔ اگر یہ بات صحیح بھی ہوجائے کہ یزید رحمہ اﷲنے حسین رضی اﷲ عنہ کا قتل کرایا ہے تب بھی ہم اس کی وجہ سے اس نام کے رکھنے کو مکروہ نہیں قرار دے سکتے۔
خاتمہ:
اس پورے مضمون کا مقصد اس باطل خیال کی تردید کرنا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد امت نے متفقہ طور پر اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ ضمنی ہیں۔ یزید بن معاویہ کے بارے میں مخالفین و مؤیدین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کسی کے بارے میں بے جا الزام تراشی سے بچائے۔ آمین۔ ٭٭٭