Sunday, October 18, 2009

مہر معاف کرانا

0 comments



دودھ معاف کرانایا مہر معاف کرانا ہمارے یہاں ہندوستانی معاشرہ میں عام سی بات ہے۔ جہاں تک دودھ معاف کرانے کی بات ہے تو یہ ایک ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے پھر اسے معاف کرنا نہ کرنا کیسا؟ اور پھر یہ گمان کرنا کہ اگر ماں نے دودھ معاف نہ کیاتو قیامت کے دن بخشش نہیں ہوگی اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ہاں، اگر اس سے مراد ماں کی ناراضگی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہ کسی جائز وجہ سے ہے تو دنیا وآخرت کے لئے خسارہ کی چیز ہوگی۔ اس وجہ سے یہاں پر صرف مہر معاف کرنے کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔
قرآن کریم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے:
'
'وَاٰتُوْا النِّسَاءَ صَدُقَاتِھِنَّ نِحْلَۃً'' (النسائ:٣)
''
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی خوشی دے دو''
کہہ کر عورتوں کو ان کا مہر دینے کی بات کہی ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے:
''
فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا مَرِیْئًا'' (النسائ:٣)
''
اگر وہ اپنی خوشی سے تمہیں اس میں سے کچھ دیں تو اسے شوق سے کھاؤ''۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہر عورت کا حق اور اس کی ملکیت ہے، جس طرح مہر کی شکل میں ملی ہوئی رقم یا چیز کو وہ کسی دوسرے آدمی کو دینے کا اختیار رکھتی ہے اسی طرح اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اس رقم کو شوہر کو دے دے یا پھر رقم لینے سے پہلے اس کا کچھ حصہ یا پورا حصہ معاف کردے۔
اس آیت کریمہ میں عورتوں کی جانب سے مہر کی رقم معاف کرنے پر اس سے فائدہ اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے جب عورت اپنی خوشی سے مہر معاف کرے۔ اس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔
آج کل مہرکی معافی کا رواج کچھ اس قسم کا ہے کہ آدمی شادی کی دیگر غیر ضروری چیزوں پر لاکھوں خرچ کر دیتا ہے اس لئے کہ لوگ دیکھ کر واہ واہ کہیں مگر مہر دینے کی بات آتی ہے تو مہر دینے کے بجائے پہلی ہی رات بیوی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے کہ وہ مہر معاف کردے۔ بے چاری اس موقع پر شوہر نامدار کا مہر معاف نہ کرے تو کیا کرے؟ یہ تو ایک قسم کا دباؤ ہو گیا جو کہ ناجائز ہے۔ دباؤ کی صرف یہی ایک شکل نہیں ہے کہ کوئی شخص مار یا دھمکی کے ذریعہ کسی کو ایسے کام پر مجبور کرے جو وہ نہ کرنا چاہتا ہو۔ دباؤ کی ایک شکل جو کہ ہمارے معاشرہ میں عام ہے، یہ بھی ہے کہ کسی شخص سے کسی بات کو ایسے موقع پر کہا جائے کہ وہ انکار نہ کر سکے۔ یہاں اسی قسم کا اکراہ (دباؤ) پایا جاتا ہے۔


مہر دینے کے باوجود بھی مہرکی معافی کی درخواست:
بات کچھ عجیب سی ہے کہ جب نکاح کے وقت ہی زیور یا کسی اور رقم پر مہر کی رقم طے کر دی گئی اور اس کو ادا بھی کر دیا گیا تو پھر معاف کرانے کا کیا مطلب؟ مگر شمالی ہند اور بعض دوسرے علاقوں میں مہر دے دیاگیا ہو یا نہ دیا گیاہو مہر معافی کی رسم ضرور ادا کی جاتی ہے۔ شوہر محترم مہر ادا کرنے کے باوجود بیوی سے درخواست کرتے ہیں کہ مہر معاف فرما دیں۔ مہر کی معافی کی پہلی صورت تو سمجھ میں آنے والی تھی مگر اس معافی کی رسم کو جہالت اور لاعلمی کے علاوہ اور کیا نام دیںگے؟
صرف عورتیں ہی کیوں معاف کریں:
مرد اپنی چالاکی سے بہت سارے ایسے راستے نکال لیتا ہے جو اس کے فائدے کے لئے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ اس کے لئے مذہب کا بھی جھوٹا سہارا لیتا ہے۔
اب مہر کی معافی کا مسئلہ ہی لیں۔ عورت سے معاف کرانے کی درخواست کرتا ہے مگر خلع کے موقع پر پوری کوشش ہوتی ہے کہ مہر ہی نہیں اس سے زیادہ کی رقم بھی مل جائے تو اچھا ہے۔
ایک موقع پر مہر کے تعلق ہی سے قرآن مجید نے مردوں اور عورتوں دونوں کو ایک دوسرے کو رخصت دینے پر ابھارا ہے:
''وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَافَرَضْتُمْ اِلَّا اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَ الَّذِی بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَاَنْ تَعْفُوْااَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ''۔ (البقرۃ:٢٣٧)
''اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دوکہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کر دیا ہو تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو، یہ اور بات ہے کہ وہ خود معاف کردیں یا وہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے تمہارا معاف کر دینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے''۔
یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ مردوں کو مخاطب کرکے خاص طور پر کہا گیاہے کہ اگر تم اپنا حصہ معاف کردو یعنی آدھے مہر کے بجائے مکمل مہر دے دو تو زیادہ بہتر ہے۔ اگر چہ بعض لوگوں نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مخاطب مرد و عورت دونوں ہیں مگر راجح بات یہی ہے کہ اس حصہ کے مخاطب مرد ہیں۔
مرد کو اس بات پر خاص طور پر اس وجہ سے ابھارا گیا کیوں کہ مرد صاحب اختیار ہوتا ہے۔ روزی کمانے کی ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے لئے آدھے کے بجائے پورا مہر دینا عورت پر احسان ہوگا۔
مہر کے تعلق سے دوسری بے اعتدالیاں:
بات مہر کی چل رہی ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مہر کے تعلق سے معاشرہ میں رائج چند بے اعتدالیوں کی طرف توجہ دلاتا چلوں:


مہر کو ادھار کرنا:
رسول اکرم ؐ اور صحابہئ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں عام اصول یہ تھا کہ نکاح کے وقت ہی جو بھی مہر مقرر ہوتا تھا ادا کر دیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک صحابی کے پاس کچھ نہ تھا تو آپ نے کہا کہ جاؤ اگر لوہے کی انگوٹھی ملے تو وہی لے آؤ۔ جب انہوں نے کہا کہ یہ بھی نہیں ہے تو آپ نے فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کی سورتیں یاد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہےں۔ اس پر آپ نے ان سورتوں کو یاد کرانے کو کہا اور اسی کو مہر قرار دیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ جاؤ بعد میں جب تمہارے پاس ہوگا تو اسے مہر دے دینا۔ آپ جب کسی کے بارے میں سنتے کہ اس نے شادی کرلی ہے تو پوچھتے کہ مہر میں کیا دیا۔ آپ کی اس تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر فوری طور پر ادا کرنا زیادہ مناسب ہے۔
ہمارے معاشرہ میں آج کل حالت یہ ہے کہ نکاح کے وقت ہی قاضی صاحب دریافت کرتے ہیں کہ مہر معجل (اسی وقت) یا مہر مؤجل (ادھار) میں سے کون سا مہر دینا ہے؟ ٹیبل کرسی پر لاکھوں خرچ کرنے کے بعد مہر مؤجل یعنی ادھار باندھ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور مہر ادا نہیں ہوتا ہے۔ بعض جگہ تو بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ساتھ میں رہتے ہوئے پوری زندگی گذار دیتے ہیں مگر مہر کی رقم ادھار ہی رہتی ہے۔ یہ شرعی حکم کا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبوی دور میں بھی ایک دو ایسے بھی واقعات سامنے آئے کہ مہر اسی وقت ادا نہ کر کے بعد میں ادا کیا گیا مگر ایسا کم ہی ہوا یا کسی مجبوری کے تحت ہوا۔ اس سے اس قدر تو معلوم ہوتا ہے کہ مہر کو ادھار کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کو عادت بنا لینا اور لڑکی والوں کا فوری طور پر مہر کے مطالبہ کے بجائے زیادہ سے زیادہ رقم پر مہر باندھنے پر اصرار کرنا اور وہ بھی یہ سوچ کر کہ یہ مہر کی رقم اگر کبھی طلاق کی نوبت آئی تو شوہر کو دینا ہوگاورنہ نہیں۔یہ ساری باتیں غیر مناسب ہےں۔مسلمانوں کے عمل کو دیکھ کر ایسالگتا ہے کہ مہر کی رقم ادا کرنے کا وقت نکاح کے بجائے طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے معاملوں میں لاپرواہی سے بچائے۔ آمین۔٭٭٭ 

سورج کرہن کی نماز کے مساءل

0 comments

گرہن چاہے چاند کا ہو یا سورج کا دونوں کو اکثر معاشرہ میں منحوس تصور کیا جاتا ہے مگر چونکہ سورج گرہن سے لوگ زیادہ متأثر ہوتے ہیں اس وجہ سے اس کے بارے میں توہمات کچھ زیادہ ہیں۔ اس موقع پر عورتیں گھر سے باہر نہیں نکلتیں، حاملہ عورتیں لوہے کا سامان خصوصاً دھار دار چیزوں کو ہاتھ لگانے سے بچتی ہیں تاکہ ان کے بچے پیدائشی نقص کے بغیر پیدا ہوں۔ عورتیں چونکہ زیادہ اندھ وشواسی (ضعیف الاعتقاد) ہوتی ہیں اس وجہ سے اس قسم کی چیزیں ان کے یہاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
زمانہ کافی ترقی کر گیا، انسان نے چاند پر کمندیں ڈال دیں۔ فضا کے اندر ہونے والی معمولی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے مگر عہد قدیم سے لوگوں کے ذہنوں پر مسلط یہ غلط قسم کے خیالات ختم نہ ہوسکے۔
ہمارے ملک ہندوستان میں ہمارے ہندو بھائی چونکہ مظاہر قدرت کی عبادت کرتے ہیں اس وجہ سے وہ لوگ سورج گرہن کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ سورج گرہن کے موقع پر نجومی کسی تباہی یا نقصان کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ اس مرتبہ ٢٢/ جولائی ٢٠٠٩ کو اس صدی کے سب سے بڑے سورج گرہن کے موقع پر ہندوستانی نجومیوں نے اہم سیاسی شخصیات کے قتل اور بڑے پیمانہ پر معاشرتی پریشانیوں کی پیشین گوئیاں کی تھیں۔
مذہب اسلام کا عالم انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اس ضعیف الاعتقادی کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی۔ مدینہ طیبہ میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا اتفاق سے اسی دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی لوگ کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس موقع پر آپ نے دو رکعت صلاۃ پڑھائی اور ایک مختصر تقریر فرمائی:
إن الشمس والقمر لا ینکسفان لموت أحد من الناس، ولکنہما آیتان من اٰیات اﷲ فإذا رأیتموہا فقوموا فصلوا۔
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب الصلاۃ فی کسوف الشمس رقم ٩٩٤، صحیح مسلم کتاب الکسوف، باب صلاۃ الکسوف، رقم٩١١)
''چاند اور سورج گرہن(١) کسی کی موت کی وجہ سے نہیں ہوتا، یہ تو اﷲ کی دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن دیکھو تو صلاۃ کے لئے کھڑے ہوجاؤ''۔
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:
''سورج اور چاند گرہن اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلانے کے لئے کرتا ہے لہٰذا جب تم ایسے آثار دیکھو تو یاد الٰہی، دعا اور استغفار کی طرف رجوع کرو''۔
(صحیح بخاری الکسوف باب الذکر فی الکسوف رقم ١٠١٠ صحیح مسلم الکسوف باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف رقم ٩١٢)
مذکورہ بالا حدیثوں میں دو باتیں بتائی گئی ہیں:
(١) چاند یا سورج گرہن کا سبب کسی کی موت یا پیدائش نہیں بلکہ یہ اﷲ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا بندوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ جس طرح وہ ایک محدد وقت کے لئے سورج یا چاند کی روشنی کو روک سکتا ہے ہمیشہ کے لئے بھی اس کی روشنی ختم کرسکتا ہے۔
(٢) جب گرہن لگے تو ہمیں صلاۃ پڑھنا چاہئے اور اﷲ سے دعا و ذکر و اذکار کرنا چاہئے۔


صلاۃ کسوف کا طریقہ:
گذشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم گرہن کے موقع پر صلاۃ پڑھاتے تھے اس مخصوص صلاۃ کا طریقہ کیا ہے؟ اس کی تفصیل مندرجہ ذیل حدیث میں آئی ہوئی ہے:
''عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائی۔ آپ نے سورہئ بقرۃ کی مقدار کے قریب لمبا قیام کیا پھر لمبار رکوع کیا، پھر سر اٹھاکر پہلے قیام سے کم لمبا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر (قومہ کرکے) دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوکر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا پھر پچھلے قیام سے کم لمبا قیام کیا پھر پچھلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا ، پھر دو سجدے کیے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیرا۔ اتنی دیر میں سورج روشن ہوچکا تھا۔ پھر خطبہ دیا''۔
(صحیح بخاری الکسوف باب صلاۃ الکسوف جماعۃ رقم ١٠٠٤، صحیح مسلم الکسوف باب ما عرض علی النبی فی صلاۃ الکسوف رقم ٩٠٧)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
(١) صلاۃ کسوف دو رکعت پڑھی جائے گی۔
(٢) ہر رکعت میں دو رکوع ہوںگے۔ پہلی دفعہ رکوع کرنے کے بعد پھر تلاوت کلام پاک پھر دوسرا رکوع ہوگا جس کے بعدمصلی سجدہ میں جائے گا۔ یہی طریقہ دوسری رکعت میں بھی ہوگا۔
(٣) پہلا قیام اور رکوع طویل ہوگا اس کے بعد کے قیام اور رکوع بتدریج مختصر ہوتے جائیںگے۔
(٤) حدیث میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ قیام اور رکوع دوسری صلاتوں کے مقابلہ میں طویل ہونگے مگر چونکہ سجدہ کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں ملتا ہے اس وجہ سے اس کی مقدار عام صلاۃ کی طرح ہوگی۔
(٥) مستحب یہ ہے کہ سنت رسول کے مطابق صلاۃ کے بعد وعظ و نصیحت کیا جائے۔
یہ ہے صلاۃ کسوف و خسوف کا طریقہ۔ یہ صلاۃ چونکہ سورج اور چاند گرہن کے ساتھ مشروط ہے اس وجہ سے اس صلاۃ سے عوام کا واسطہ کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ اس کے بارے میں بہت کم جانکاری رکھتے ہیں۔ عدم واقفیت کی ایک بڑی وجہ صلاۃ کا طریقہ بھی ہے۔ صلاۃ کسوف دوسری صلوات کے برخلاف دو رکوع کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اس وجہ سے عام پڑھے لکھے لوگ بھی اس کے طریقہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔
صلاۃ کسوف کے تعلق سے چند اہم باتیں ہیں جن کا جاننا ضروری ہے:


ممنوع اوقات میں صلاۃ کسوف پڑھنا:
اگر گرہن ایسے وقت میں لگے جب صلاۃ پڑھنا منع ہے تب بھی صلاۃ کسوف کو اس وقت میں پڑھا جائے گا اگرچہ وہ سورج طلوع ہونے کا یا غروب ہونے کا وقت ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے صلاۃ کسوف ذوات الاسباب والی صلاتوں میں سے ہے۔ یعنی وہ صلاۃ جو کسی سبب سے مشروط ہو۔ چونکہ ہمیں اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ:
''فإذا رأیتموہا فقوموا فصلوا''
''جب تم چاند یا سورج گرہن دیکھو تو صلاۃ کے لئے اٹھ کھڑے ہو''۔
اس حکم میں صلاۃ کے وقت کی کوئی تحدید نہیں ہے اس وجہ سے اگر وہ طلوع یا غروب کا وقت ہو پھر بھی اسی وقت میں اس کو پڑھیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دوسری صلاۃ کو اس کے وقت سے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے مگر کسوف کی صلاۃ کو نہیں کیا جاسکتا۔
دوسرے رکوع کے لئے اٹھتے وقت سورہئ فاتحہ کی تلاوت:
صلاۃ کسوف میں ایک رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں اور وہ بھی قیام کی طرح طویل ہوتے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اور تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد سورہئ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں؟
اس سلسلے میں راجح بات یہ ہے کہ اس میں سورہئ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اس لئے کہ یہ نئی رکعت نہیں ہے بلکہ اسی رکعت کا تسلسل ہے۔


ماہرین فلکیات کی خبر پر اعتبار کرکے صلاۃ کسوف پڑھنا:
موجودہ زمانہ میں سائنس کی ترقی کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ برسوں پہلے سورج اور چاند گرہن کے بارے میں پیشیں گوئی کردی جائے۔ چنانچہ سورج یا چاند گرہن سے بہت پہلے اس کے بارے میں اطلاعات اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی علاقہ میں معمولی سے گرہن کی اطلاع ہو ا ور سورج یا چاند گرہن بدلی کی وجہ سے نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں صرف ماہرین فلکیات کی خبرکا اعتبار کرتے ہوئے گرہن کی صلاۃ پڑھی جائے گی یا نہیں؟
علماء کرام کی رائیں اس سلسلے میں اگرچہ مختلف ہیں مگر صحیح بات یہ ہے کہ ان کی خبر پر اعتبار کرتے ہوئے ہم صلاۃ کسوف ادا کریںگے۔ اس لئے کہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سورج و چاند گرہن کی خبر غلط نہیں ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم بدلی کے چھٹنے کا انتظار کریںگے تو ہوسکتا ہے کہ وقت ہی نکل جائے اور ہم صلاۃ کے وقت کے نکل جانے کی وجہ سے صلاۃ کسوف نہ پڑھ سکیں۔         (دیکھیں زاد لممتع (٥/١٩٠)
البتہ جن علاقوں میں سورج گرہن نہ لگا ہو وہاں کے لوگ دوسرے علاقوں کا اعتبار کرتے ہوئے اپنے یہاں گرہن کی صلاۃ نہیں پڑھیںگے۔


کیا پیشگی گرہن کی خبر دینا علم غیب ہے؟
چونکہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو ایک نظام کے تابع کیا ہے اسی نظام کی بنیاد پر ہی یہ اندازہ لگایاجاتا ہے کہ کب سورج یا چاند گرہن لگے گا۔لہذا اس کو غیب کا علم نہیں کہا جائے گا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے بہت سارے لوگ ایک میدان میںہو ںاور ایک شخص کسی اونچی عمارت پر کھڑا ہووہ ان لوگوں کو بتائے کہ فلاں شخص آرہا ہے میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ چوںکہ وہ اونچائی پر ہے اس وجہ سے اس کے لیے دیکھنے کا امکان زیادہ ہوگا۔جس طرح اوچائی پر کھڑا شخص نیچے موجود لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں عالم الغیب ہوں اسی طرح سائنسی آلات کی مدد سے سیاروں کی نقل وحرکت کا اندازہ لگا کر سورج یا چاند گرہن کی خبر دینے والے کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ عالم الغیب ہے۔


صلاۃ کسوف میں عورتوں کی شمولیت:
ہمارے یہاں بر صغیر ہندو پاک میں عورتوں کے تعلق سے افراط و تفریط عام ہے۔ ایک طرف بازاروں اور کالجوں میں اختلاط مردو زن کے ساتھ بے پردہ گھومنے کی آزادی ہے دوسری طرف شریعت نے انہیں جو آزادی فراہم کر رکھی ہے اس سے بھی انہیں محروم کردیا جاتا ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ طبقہ بھی جومخلوط تعلیم گاہوں میں اپنی بیٹیوں کو بڑے فخر سے بھیجتا ہے اپنی بہو بیٹیوں کومساجد میں صلاۃ ادا کرنے کے لئے بھیجنے میں تردد محسوس کرتا ہے۔ حالانکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں پنج وقتہ صلوات کے علاوہ نفلی صلوات میں بھی باجماعت حاضر ہوا کرتی تھیں۔
''سیدہ اسماء رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ سورج گرہن کی صلاۃ میں آپ ؐنے اتنا لمبا قیام کیا کہ مجھے (عورتوں کی صف میں کھڑے کھڑے) کمزوری محسوس ہوئی۔ میں نے برابر میں اپنی مشک سے پانی لے کر سر پر ڈالنا شروع کردیا (پھر دوبارہ صلاۃ میں شامل ہوگئی)''
(صحیح مسلم الکسوف باب ماعرض علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی صلاۃ الکسوف رقم ٩٠٤)
اس حدیث سے جہاں عورتوں کے صلاۃ کسوف میں شامل ہونے کا پتہ چلتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم صلاۃ الکسوف بہت طویل پڑھایا کرتے تھے۔


صلاۃ کسوف کے لئے اذان اور اقامت:
صلاۃ کسوف کے لئے اذان اور اقامت نہیں دی جائے گی، البتہ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے آواز لگائی جاسکتی ہے۔ عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپ نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا:
''إن الصلاۃ جامعۃ''
''صلاۃ کے لئے جمع ہوجاؤ۔''
(صحیح بخاری کتاب الکسوف باب النداء ب ''الصلاۃ جامعۃ'' فی الکسوف رقم ٩٩٨، صحیح مسلم کتاب الکسوف باب ذکر النداء بصلاۃ الکسوف۔ ٩١٠)
موجودہ زمانہ میں چونکہ سورج اور چاند گرہن کی اطلاع عام طور پر پہلے مل جایا کرتی ہے اس وجہ سے پمفلٹ ، اخبار اور دوسرے ذرائع سے بھی وقت اور جگہ کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔


صلاۃ کسوف مسجد یا کھلے میدان میں:
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہئ کرام کے آثار سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے کہ صلاۃ کسوف یا خسوف کے لئے آپ ؐ آبادی کے باہر نکلے ہوں جس طرح آپ صلاۃ استسقاء یا عیدین کے لئے نکلا کرتے تھے۔ لہٰذا گرہن کی صلاۃمسجد ہی میں پڑھی جائے گی۔ البتہ جو لوگ مسجد نہ آسکتے ہوں ان کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ گھر میں صلاۃ کسوف پڑھ لیں۔


صلاۃ کسوف فرض یا سنت؟
اس سلسلہ میں علماء کے مابین اختلاف ہے صلاۃ کسوف فرض ہے یا سنت، مگر راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے اس لئے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ خصوصی طور پر آپ نے اس کے لئے جماعت کا اہتمام فرمایا ہے۔ جہاں تک رہی بات کہ فرض صلوات صرف پانچ ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ دن و رات میں کل پانچ وقت کی صلاۃ فرض ہے۔ مگر وہ صلوات جو کسی سبب کی وجہ سے فرض ہوں تو اس سے اور اس حدیث میں کوئی تعارض نہیں لازم آتا (تفصیل کے لئے دیکھیں: الشرح الممتع ٥/٢)


صلاۃ کسوف میں تلاوت:
صلاۃ کسوف و خسوف میں تلاوت بلند آواز سے ہوگی چاہے دن کا وقت ہو یا رات کا، عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے:
جہر النبی فی صلاۃ الکسوف بقراء تہ۔
(صحیح بخاری ١٠١٦، صحیح مسلم ٩٠١ (٥)
''رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صلاۃ کسوف میں بلند آواز سے تلاوت کی''۔
تلاوت کے لئے کوئی سورت مخصوص نہیں ہے، خاص بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ سورۃ طویل ہو۔


رکوع میں کیا پڑھیں گے؟:
صلاۃ کسوف کے طویل رکوع میں وہی دعائیں پڑھی جائیںگی جو رکوع میں پڑھی جاتی ہیں۔ رکوع میں پڑھی جانے والی دعائیں یہ ہیں: ''سبحان ربی العظیم''، ''سبحانک اللہم بحمدک اللہم اغفرلی''، ''سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیم'' ان میں سے سبھی دعائیں یا ان میں سے کوئی ایک تکرار کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
اما الرکوع فعظموا فیہ الرب
''رکوع میں رب کی تعظیم بیان کرو''۔
(مسلم کتاب الصلاۃ باب النہی عن قراء ۃ القرآن فی الرکوع والسجدۃ) (٤٧٩)(٢٠٧)


صلاۃ کسوف کی قضا:
اگر کسی وجہ سے گرہن کا علم نہیں ہوسکا اور گرہن ختم ہونے کے بعد اس کا علم ہوا تو پھر ایسی صورت میں اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اس لئے کہ جس وجہ سے یہ صلاۃ مشروع ہوئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔
فرض صلاۃ کے وقت اگر صلاۃ کسوف کا وقت آجائے:
اگر ایسی نوبت آئے تو دو صورتیں ہیں ایک کہ فرض صلاۃ کا وقت تنگ ہے مثلاً مغرب اور عصر کا وقت ایسی صورت میں صلاۃ کسوف کو مختصر کرکے فرض صلاۃ ادا کریںگے۔ اور اگر عشاء کی طرح کوئی ایسی صلاۃ ہے جس میں کافی وقت ہوتا ہے تو اس میں صلاۃ کسوف پڑھ کر فرض صلاۃ پڑھیںگے۔
(دیکھیں:الشرح الممتع علی زاد المستقنع ٥/١٩٠)


خاتمہ:
یہ ہے گرہن کے موقع پر اسلامی احکام اور اس موقع پر آپ ؐ اور صحابہئ کرام کا عمل۔ آپ ؐ اس موقع پر نہایت خوفزدہ ہوجایا کرتے تھے۔ () مگر قرآن و حدیث اور آثار صحابہ سے قطعاً یہ ثبوت نہیں ملتا کہ عورتیں اور خاص طور پر حاملہ عورتیں اس دن کوئی خصوصی احتیاط برتیں گی۔ اگر یہ احتیاط طبی نقطہئ نظر سے ہو، تب بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ ماہرین نے سرے سے اس قسم کے خطرات سے انکار کیا ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے وہ یہ کہ سورج گرہن کے وقت چونکہ سورج کی شعائیں بالکل سیدھی پڑتی ہیں اس وجہ سے کھلی آنکھوں سے دیکھنے میں آنکھوں کی بینائی جانے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ سائنسی اور طبی نقطہئ نظر سے سورج گرہن کا نہ تو رحم مادر میں پل رہے بچے پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ اس قسم کا کوئی دوسرا نقصان ہوتا ہے۔ جو لوگ ذاتی تجربہ کی باتیں کرتے ہیں وہ در اصل ان کا وہم ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر معاملہ میں صحیح اسلام کی پیروی کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔


حواشی:
١۔کسوف کا لفظ سورج گرہن کے لئے اور خسوف کا لفظ چاند گرہن کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر عموماً کسوف کا لفظ چاند اور سورج گرہن دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔٭٭٭