ہفتہ، 13 جون، 2009

کتوں کی تجارت اور ان کی پرورش

0 comments

کتوں کی تجارت اور ان کی پرورش کا شرعی حکم


حالیہ برسوں میں مغلوبانہ ذہنیت کی وجہ سے ہر معاملہ میں مغرب کی طرف دیکھنے کارجحان تیزی سے بڑھا ہے، مغربی تہذیب میں جس چیز کو تہذیب و تمدن کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے خواہ وہ کتنی ہی بدنماکیوں نہ ہو ہم اسے بغیر سوچے سمجھے اپناکر ’’مہذب‘‘ سماج کاحصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، انھیں مغربی تہذیب کی علامتوں میں سے ایک علامت خوبصورت کتوں کو پالنا اور ان کی پرورش اور نگہداشت پر خطیر رقم صرف کرنا بھی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ’’پوش‘‘ کہلانے والا طبقہ اور اس کو دیکھ کر درمیانی طبقہ بھی کتوں کو پالنا ایک فیشن سمجھتا ہے۔ لوگوں کی اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے آج کل کتوں کی خرید و فروخت ایک نفع بخش تجارت بن گئی ہے، بڑے بڑے شہروں میں ایسی دکانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں دیسی اور ولایتی نسل کے کتوں کی بہت ساری قسمیں پائی جاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ضرورتوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو پالنے کی اجازت دی ہے، مگر اس موقع پرجس قسم کے کتوں کے پالنے کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے یہ اس قسم کے کتے ہیں جن کی حفاظت خود مالک کرتا ہے، وہ اتنے نازک ہوتے ہیں کہ دو قدم پیدل چلنا بھی ان کے لیے دشوار ہوتاہے۔ یہ خوبصورت کتے اکثر کاروں میں مالک کی گود میں بیٹھ کر باہر سر نکالے نظر آتے ہیں، اس قسم کے کتوں کی پرورش کی اجازت اسلام ہرگز نہیں دیتا۔ شریعت کی بیان کردہ ضرورت کے پیش نظر کتا پالنا اور چیز ہے، فیشن کے طور پر پالنا اور چیز، ضرورت کے تحت کتا پالنا الگ چیز ہے اور اسی کوتجارت بنا لینا الگ چیز۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کو بیچنے اور اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ابومسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی للہ صلیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہیں:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب و مہر البغی، و حلوان الکاہن 
(صحیح بخاری کتاب البیوع باب ثمن الکلب رقم ۲۲۳۷، صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب تحریم ثمن الکلب رقم ۱۵۶۷)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے، زنا کا پیسہ لینے اور کہانت کا معاوضہ لینے سے منع فرمایاہے۔‘‘
صحیح مسلم (۱۵۶۹) کی روایت میں  ہے کہ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا:
زجر النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلک۔ 
’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔‘‘
صحیح مسلم (۱۵۶۸) کی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یوں بیان کئے گئے ہیں:
شر الکسب مہر البغی و ثمن الکلب و کسب الحجام۔
’’سب سے بری کمائی زنا کی کمائی اور کتے کو بیچ کر کی گئی آمدنی ہے اور حجامت کے ذریعہ کمائی کرنا ہے۔‘‘
مذکورہ بالا حدیثوں میں جن پیشوں کی ممانعت آئی ہے ان سبھی کے بارے میں گفتگو کا یہ محل نہیں اس لیے یہاں صرف کتوں کی تجارت کے تعلق سے گفتگو ہوگی۔
مذکورہ بالا حدیثوں کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام نے کہا ہے کہ کتوں کی تجارت اور اس کے ذریعہ حاصل کی گئی آمدنی حرام ہے۔ اس حکم میں ہر قسم کے کتے شامل ہیں خواہ وہ شکار کے لیے ہوں یا کسی اور مقصد کے لیے، جب کہ بعض علماء شکاری کتوں کو اس ممانعت سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ان کی دلیل مندرجہ ذیل حدیثیں ہیں۔
شکاری کتوں کو ممانعت کے حکم سے الگ کرنے والی احادیث:
(۱) عن جابر رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب إلا کلب الصید۔ 
(سنن الترمذی رقم ۱۲۸۱)
’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے، ہاں، شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت ہے۔
(۲) عن جابر رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن ثمن الکلب و السنور إلا کلب الصید (سنن نسائیرقم ۴۶۷۱)
’’جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا، البتہ شکاری کتے کی اجازت دی ہے۔‘‘
(۳) عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ثمن الکلب سحت إلا کلب صید۔ (دار قطنی ۳؍۷۳؍۳۷۵)
’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتے کی قیمت حرام ہے البتہ شکاری کتے کی قیمت (حلال ہے)۔‘‘
(۴) عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی مرفوعا ثلاث کلہن سحت کسب الحجام و مہر البغی و ثمن الکلب إلا کلب الضاری۔ (دار قطنی ۳؍۷۲، سنن البیہقی ۶؍۶ معلقاً، الصحیحۃ للألبانی ۶؍۱۲۳۸ رقم ۲۹۹۰)
’’تین چیزیں حرام ہیں (۱) حجام کی اجرت، بدکاری کا مہر، کتے کی قیمت سوائے شکاری کتے کے۔‘‘

شکاری کتوں کی قیمت کے جواز حدیثوں کی اسنادی حالت:

پہلی حدیث صحیح نہیں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث اس سند سے صحیح نہیں ہے۔ اس کی سند میں ابومہزم جن کا نام یزید بن سفیان ہے، کے بارے میں شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابومہزم کو دیکھا اگر کوئی انھیں ایک درہم دیدے تو اس کے بدلے حدیث گڑھ دیتے۔ نسائی نے انھیں متروک اور ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (دیکھیں: لسان المیزان ۹۷۰۱) لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔
دوسری حدیث کو نسائی نے بیان کیا ہے او رکہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے، امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اس کی علت یہ ہے کہ اس کے اندر ابوالزبیر ہیں جن کی تدلیس مشہور ہے ابن حزم فرماتے ہیں: ہر وہ حدیث جس میں ابوالزبیر یہ نہ کہیں کہ انھوںنے اسے جابر سے سنا یا جابر نے ان سے یہ بات بیان کی ہے یا لیث نے ان سے بروایت جابر بیان کیا ہے تو خود ابوالزبیر کے اقرار کی بنیاد پر انھوں نے اسے جابر سے نہیں سنا ہے۔ (دیکھیں: المحلی ۹؍۱۱) اور اس جگہ چوں کہ مذکورہ بالا چیزوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس حدیث میںانقطاع ہے۔
جہاں تک تیسری حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یحییٰ بن ایوب مختلف فیہ اور مثنی بن صباح بھی ضعیف ہیں،لہٰذا یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
چوتھی حدیث دارقطنی کی ہے اس کے اندر محمد بن مصعب صدوق اور کثیر الغلط ہیں (التقریب) اور دوسرے راوی ولید بن عبید اللہ ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
مذکورہ بالا ساری حدیثیں جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ حددرجہ ضعیف ہیں، یہی وجہ ہے کہ محدثین نے ایک دوسرے سے تقویت کے اصول کو مانتے ہوئے ان احادیث پر حسن یا حسن لغیرہ کا حکم نہیں لگایا ہے، ہاں علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’التعلیق علی الروضۃ الندیۃ‘‘ (۲؍۳۴۷) میں اورپھر ’’الصحیحۃ‘‘ میں تمام طرق کو اکٹھا کرکے اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس استثناء کو حسن قرار دیا ہے او رکہا ہے:
’’خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب میں ترجمہ کی حدیث اور اس کے بعض طرق اور شواہد سے واقف ہوا تو جو کچھ میں حدیث نمبر ۲۹۷۱ کے تحت لکھ چکا تھا اس سے رجوع کرنا میرے لے واجب ہوگیا جو  اس تحقیق کے مخالف تھا۔‘‘ 
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ۶؍۱۲۴۱ رقم ۲۹۹۰)
مذکورہ تحقیق کے اندر علامہ البانی رحمہ اللہ نے جن دلائل کی بنیاد پر اس استثناء کو حسن قرار دیا ہے اگر ان اصولوں کو مان لیا جائے تو ایسی صورت میں بہت ساری حدیثیں جن کو ضعیف کے زمرہ میں رکھا گیاہے ان کو حسن یا حسن لغیرہ کے زمرہ میںرکھنا پڑے گا۔ استثناء کی ایک بھی حدیث شدید قسم کی تنقید سے خالی نہیں، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، ایسے میں کیسے یہ مان لیا جائے کہ آپس میں ایک دوسرے سے تقویت پاکر یہ حسن کے درجہ تک پہنچ جاتی ہیں۔
اس مسئلہ میں -واللہ اعلم- صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث کی روایت میں راویوں کو وہم ہوا ہے اور انھوں نے کتوں کی قیمت کی ممانعت اور کتے پالنے کی حدیثوں کو آپس میںگڈ مڈ کردیا ہے جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (۵؍۷۷۰) میں کہا ہے۔

عقلی دلائل:

جو لوگ کتوں کی خرید و فروخت کے قائل ہیں وہ اس کے جواز کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ کتوں کی قیمت لینے سے اس وقت منع کیا گیاتھاجب ان کے قتل کا حکم تھا مگر جب قتل کاحکم ساقط ہو گیا تو اسی کے ساتھ ان کی قیمت لینے یا بیچنے کی ممانعت بھی ختم ہوگئی۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی دلیل چاہئے اور ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ بعض لوگ عثمان بن عفان اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے بعض فیصلوں سے جن میں انھوںنے کلب عقور کی قیمت کاتاوان دینے کو کہاہے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ جب ایک چیز کے ضائع ہونے پر اس کا تاوان ہوسکتا ہے تو اس کی قیمت بھی لی جاسکتی ہے، مگر جیسا کہ ابن حزم (محلی ۹؍۱۲) نے کہا ہے: ’’یہ بیع ہے نہ قیمت، بلکہ قصاص ہے‘‘ لہٰذا استدلال فاسد ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد (۵؍۷۷۲) میں ان لوگوں کی تردید کی ہے جو کتے کو گھوڑوں اور گدھوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کی قیمت کو جائز قرار دیتے ہیں ، ابن قیم نے کہا ہے کہ کتے کو خنزیر پر قیاس کرنا زیادہ مناسب ہے اس وجہ سے کہ اس سے زیادہ مشابہ ہے۔

خلاصۂ کلام:

کتوں کی تجارت جائز نہیں ہے، اگر شکاری کتوں کی قیمت لینے کو جائز بھی قرار دیا جائے تب بھی عام کتوں کی حرمت بہ دستور باقی ہے لہٰذا ایسے کتوں کی خرید و فروخت جو گھر یا مال و دولت کی رکھوالی کے لائق نہ ہوں ہر حال میںناجائز ہے۔ جہاںتک رہی یہ بات کہ کسی کو اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کتے کی ضرورت ہے اور بغیر خریدے اسے کتا نہیں مل رہا ہے تو کیا کرے؟ ابن حزم  رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں خریدنے والا نہیں بیچنے والا گنہگار ہوگا۔ (المحلی ۹؍۹)
گھروں میں شوقیہ کتوں کو رکھنے کی ممانعت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جانوروں کے تعلق سے اسلام شفقت و رحمت کی ممانعت کرتا ہے بلکہ اس کی یہ تعلیم ہر ایک کو اس کا مناسب حق دینے کے اصول کے عین مطابق ہے، اسلام اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کتوں کو انسان کا درجہ دے دیا جائے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔