جمعرات، 2 جولائی، 2009

جوتے پہن کر نماز ادا کرنے کا حکم

0 comments
موجودہ زمانہ میں مسجدیں فرش والی ہوگئی ہیں ان میں عمدہ قسم کی قالین یا چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں لہٰذا ان مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونے سے مسجد کا فرش گندہ ہوگا اس لیے جوتا پہن کر ان میں داخل ہونے کی با ت نہیں کہی جاسکتی مگر مساجد کے علاوہ کھلے میدان میں نماز ادا کرنے کی صورت میں جوتے چپل نکالنے کا خصوصی اہتمام کرنا اور اگر کوئی شخص جوتا پہن کر نماز ادا کرے تو اسے برا بھلا کہنا غلط ہے، سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے دریافت کیا:
أ کان رسول اللہ یصلی فی النعلین؟ قال:نعم۔
’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کی نماز ادا کرتے تھے؟ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں (آپ جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے)۔ (۱)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے لہٰذا بلا وجہ اندیشوں میں مبتلا ہونا کہ کہیں جوتوں میں گندگی نہ لگی ہو؟  جوتے پاک ہیں یا ناپاک، صحیح نہیں۔ سنن ابی دائود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا وطی أحدکم بنعلیہ الأذی فإن التراب لہ طہور۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۳۸۵)
’’کوئی شخص اگر اپنے جوتوں سے گندگی روند دے تو مٹی اسے پاک کر دے گی۔‘‘
لہٰذا زیادہ سے زیادہ احتیاط یہ ہے کہ نماز سے پہلے جوتوں کو دیکھ لیا جائے، ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد اس وسوسہ میںپڑنا کہ ناپاکی جوتے میں لگی ہے یا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے دوران نماز آپ نے اپنے جوتوں کو نکال کر اپنے بائیں جانب رکھ دیا صحابۂ کرام نے بھی آپ کو دیکھ کر ایسا ہی کیا، بعد میں آپ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے اپنے جوتوں کو نکال دیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کو جوتے نکالتے دیکھا تو خود بھی اپنے جوتے نکال دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے جوتے اس لیے نکال دیے کیوںکہ جبرئیل علیہ السلام نے آکر خبر دی کہ ان جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، چنانچہ میں نے جوتوں کو نکال دیا، اسی موقع پر آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لے اگر اس میں گندگی لگی ہو تو اسے رگڑ لے اور پھر ان کو پہن کر نماز  ادا کرے۔ (دیکھیں: صحیح سنن ابی داؤد رقم ۶۵۰)
مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علاوہ صحابۂ کرام بھی جوتے پہن کر نماز ادا کر رہے تھے، اور آپ نے جوتے اس وجہ سے نکالے تھے کہ ان میں گندگی لگی ہوئی تھی نہ کہ اس وجہ سے کہ جوتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اس لیے کہ خود آپ نے آخر میں یہ فرمایا کہ جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہو تو اسے صاف کرکے ان میں نماز ادا کی جائے۔ آپ نے صحابۂ کرام کو کچھ نہیں کہا کہ بغیر گندگی لگے جوتوں کو کیوں نکال دیا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس معاملہ میں شدت اختیار کرنا مناسب نہیں ہے، جوتوں میں نماز پڑھنے والے ننگے پائوں نماز پڑھنے کو برا بھلا کہیں نہ بغیر جوتوں کے نماز پڑھنے والے جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو کچھ کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح سے ثابت ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں:
رأیت رسول اللہ یصلی حافیأ و منتعلا۔
     (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۳)
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پائوں اورجوتے پہنے ہوئے دونوں طریقوں سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

جوتے پہن کر نماز جنازہ کی ادائیگی:

نماز جنازہ اگرچہ مسجد میں ادا کرنا جائز ہے اس کے باوجود سہولت کی خاطر عام طور پر باہر کھلی جگہ میں ادا کی جاتی ہے۔ (۲) عموماً قبرستان کے کسی گوشہ میںاس کے لیے کوئی جگہ متعین کردی جاتی ہے جو مزاج شریعت کے مطابق نہیں۔ تقاضائے شریعت یہ ہے کہ نہ تو قبر پر نماز ادا کی جائے اور نہ قبر کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی جائے۔ نماز کوئی بھی ہو خواہ جنازہ کی ہو یا کوئی اور قبرستان سے بالکل علیحدہ پڑھی جائے۔ نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خواتین بھی اس نماز میں شریک ہو جائیں گی۔ بیضاء کے دونوں بیٹوں سہل اور سہیل رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی گئی۔  نماز جنازہ ایسی نماز ہے جس میں رکوع و سجدہ نہیں ہے اس وجہ سے اس نماز میں جوتے پہن کر نماز پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بعض لوگ جنھیں شریعت کا علم نہیں ہے وہ اسے برا سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ بعض دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایسے شخص کے پاس سے نکل جاتے ہیں جو جوتے پہن کر نماز جنازہ ادا کر رہا ہو۔ یہ سراسر جہالت ہے، یہاں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر جوتے پہننے سے منع کیا جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا چاہئے:
خالفوا الیہود فإنہم لا یصلون فی نعالہم و لا حفافہم۔ (صحیح سنن أبی داؤد رقم ۶۵۲)
’’یہودیوں کی مخالفت کرو، وہ جوتا اور موزہ پہن کر نماز نہیں ادا کرتے (لہٰذا تم انھیں پہن کر نماز ادا کرو)۔‘‘
اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماء نے کہاہے کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا بغیر جوتا چپل پہنے نماز ادا کرنے سے کئی گنا افضل ہے۔ (شرح منیۃ المصلی لابراہیم الحلبی بحوالہ السنن و المبتدعات ص۴۶)
ابن قیم رحمہ اللہ نے إغاثۃ اللہفان (ص۱۶۹۰) میں لکھا ہے: 
’’ شکی مزاج لوگو ںکے دل جس پر مطمئن نہیں ہوتے ان میں سے ایک جوتے پہن کر نماز پڑھنا ہے حالاں کہ جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت ہے، آپ نے اسے کیا ہے اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ کیا آدمی جوتے پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے تو انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم۔‘‘ 
 ابن قیم مزید کہتے ہیں: ’’بعض لوگ جو وسوسوں میں مبتلا ہوتے ہیں اگر ان کے بغل میں کوئی جوتے پہن کر نماز جنازہ کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس طرح اس سے بدک کر اس کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں گویا کہ وہ آگ کے انگاروں پر کھڑا ہو جس میں نماز نہیں ہوتی۔‘‘

پختہ فرش والی مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہونا:

مذکورہ بالا احادیث کو فرش والی اور ان مساجد میں جوتے چپل پہن کر داخل ہونے کے جواز کے طور پر پیش کرنا جن میں چٹائیاں یا قالین بچھی ہوں جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ مساجد کے تقدس پر ان کی چٹائیوں کو فوقیت دینے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مساجد ہی کے تقدس کا خیال رکھنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد فرش والی نہ تھی چنانچہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے مسجد نبوی میں آتے جاتے تھے اور بعض دفعہ پیشاب بھی کردیا کرتے تھے مگر اس کے باوجود مسجد دھوئی نہیں جاتی تھی۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسجد فرش والی نہ ہو۔ ہم خود اپنے بستروں پر جہاں ہمیں سونا ہوتا ہے جوتے چپل پہن کر نہیں جاتے اس لیے کہ اس پر ہمیں سونا ہوتا ہے، دوکانوں یا آفسوں میں چوں کہ سونا نہیں ہوتا، لوگ ان میں کھڑے ہو کر یا کرسیوں پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں اس لیے ان میں جوتے چپل پہن کر بھی داخل ہونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ لہٰذا اس پر مساجد کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں وہ مساجد جن کے فرش پختہ نہ ہوں یا ان میں چٹائیاں نہ بچھی ہوں توان میں مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں جوتے چپل پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

خاتمہ:

جوتوں میں کوئی غلاظت نہ لگی ہو اس کے باوجود غیر فرش والی جگہ پر اس کے نکالنے پر اصرار کرنا صحیح نہیں، جوتے پہن کر نماز ادا کرنا آپ صلی اللہ علیہ و۲سلم کی سنت ہے لہٰذا اگر کبھی موقع ملے تو اس سنت پر ضرور عمل کرنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چھوٹی بڑی سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔ صحیح بخاری کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ فی النعال، کتاب اللباس باب النعال السبتیۃ و غیرہا رقم ۳۸۶، ۵۸۵۰۔ صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب جواز الصلاۃ فی النعلین رقم ۵۵۵۔ سنن ترمذی أبواب الصلوۃ باب ما جاء فی الصلوۃ فی النعال رقم ۳۹۸۔
۲۔ مسجد میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کے باوجود بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے اس کی مخالفت کرتے ہیں، بعض مساجد کے باہر نماز جنازہ کے لیے الگ سے جگہ مخصوص کی جاتی ہے لوگ مسجد سے نماز ادا کرکے باہر آتے ہیں پھر اس مخصوص جگہ پر جنازہ کی نماز پڑھتے ہیں یہ بے جا تکلف ہے اس کی وجہ سے ہی لوگوںمیں یہ غلط فہمی عام ہوئی ۔ صحیح مسلم (رقم ۹۷۳) کی روایت کے مطابق عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے لوگوں کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ اسی طرح عیدگاہ میں نماز جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے آپ نے نجاشی کی نماز جنازہ غائبانہ عیدگاہ ہی میں پڑھی تھی۔ (دیکھیں: صحیح مسلم رقم ۹۵۱) 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔