ہفتہ، 29 جولائی، 2017

ملاقات کے وقت تعظیم کے واسطے کھڑا ہونے کی شرعی حیثیت

0 comments

ملاقات کے وقت تعظیم کے واسطے کھڑا ہونا


آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آخر اس میں برائی کیا ہے کہ آدمی کسی کی تعظیم کے واسطے کھڑا ہو؟ میں بھی اس کو تسلیم کرتا ہوں مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص اس کو دین سمجھ کر کرے۔اس لیے کہ دین وہی ہے جو صحیح حدیث یا قرآن سے ثابت ہو۔جہاں تک رہی بات تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی تو اس سلسلہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے ۔ذیل میں ہم اس سلسلہ میںوارد حدیث اور اس کی حالت کو بیان کیاجارہا ہے۔تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے:
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: قدم زید بن حارثۃ المدینۃ و رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فی بیتی فأتاہ فقرع الباب فقام إلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عریانا یجر ثوبہ، و اللہ ما رأیت عریانا قبلہ و لا بعدہ فاعتنقہ و قبّلہ۔
’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے اس وقت اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے، چنانچہ زید نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کی طرف ننگے بدن بڑھے، حالت یہ تھی کہ آپ کا کپڑا گھسٹ رہا تھا۔ اللہ کی قسم میں نے آپ کو نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کبھی ننگے بدن دیکھا۔ آپ نے انھیں گلے سے لگایا اور بوسہ دیا۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج امام ترمذی نے اپنی سنن (۲۸۷۶) میں إبراہیم بن یحییٰ حدثنی أبی یحییٰ بن محمد عن محمد بن إسحاق عن الزہری عن عروۃ عن عائشۃ کی سند سے کی ہے اورکہا ہے:
’’ہذا حدیث غریب لا نعرفہ من حدیث الزہری إلا من ہذا الوجہ‘‘
حافظ ابن حجر نے ’’النکت الظراف علی الأطراف‘‘ (۴؍۸۱-۸۲) میں امام ترمذی کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد کہا ہے:
قد رواہ الواقدی عن ابن أخی الزہری فیحتمل أن یکون الترمذی لم یعتد بروایتہ۔
’’واقدی نے اس کی روایت زہری کے بھتیجے کے طریق سے کی ہے ممکن ہے کہ ترمذی نے ان کی روایت کو کوئی اہمیت ہی نہ دی ہو۔‘‘

درجۂ حدیث:

اس حدیث کے اندر ایک مدلّس اور دو ضعیف راوی ہیں اس وجہ سے حدیث ضعیف ہے۔

علت:

۱۔            اس حدیث کو زہری سے محمد بن اسحاق ’’عن‘‘ کے ذریعہ روایت کرتے ہیں۔ محمد بن اسحاق چوں کہ مدلس راوی ہیں اس وجہ سے ان کی عنعنہ والی روایتوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ( ملاحظہ ہو التقریب رقم  ۵۷۲۵)
۲۔           محمد بن اسحاق سے روایت کرنے والے راوی یحییٰ بن محمد ہیں حافظ ابن حجر نے ’’التقریب‘‘ (رقم ۷۶۳۸) میں انھیں ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ نابینا تھے انھیں تلقین کی جاتی تھی۔
۳۔           حدیث کی تیسری علت یحییٰ بن محمد کے بیٹے ابراہیم ہیں۔ ذہبی نے ’’میزان الاعتدال‘‘ (رقم الترجمہ ۲۴۷) میں کہا ہے کہ ابن ابی حاتم نے انھیں ’’ضعیف‘‘ اور ازدی نے ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔ ترمذی نے کہا ہے: ’’لم أر أعمی قلبا منہ‘‘ میں نے ان سے زیادہ دل کا اندھا نہیں دیکھا۔ ابن حجر نے ’’التقریب‘‘ (رقم ۲۶۸) میں انھیں ’’لین الحدیث‘‘ کہا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے معانقہ کیا، انھیں بوسہ دیا اور ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے، مگر چوں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے مذکورہ بالا مسئلوں میں اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ معانقہ اور تقبیل (بوسہ) کی بحث ’’کھرے سکے‘‘ میں گزر چکی ہے، یہاں پر گفتگوکا موضوع کسی کے استقبال کے وقت تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی شرعی حیثیت بیان کرنا ہے۔
سعد بن معاذ کے واقعہ سے استدلال اور اس کی حقیقت:
عام طور پر تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی مشروعیت پر سعد بن معاذ کے واقعہ سے استدلال کیا جاتاہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال: لما نزلت بنو قریظۃ علی حکم سعد بعث رسول اللہ إلیہ وکان قریبا منہ فجاء علی حمار فلما دنا من المسجد قال رسول اللہ للأنصار قوموا إلی سیدکم۔
(صحیح بخاری رقم ۳۰۴۳، صحیح مسلم رقم ۱۷۶۸، ابوداؤد رقم ۵۲۱۵)
’’ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بنوقریظہ نے سعد بن معاذ کے فیصلہ پر ہتھیار ڈالے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلانے کے لیے بھیجا وہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھے، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو۔‘‘
مسند احمد (۶؍۱۴۱-۱۴۲) کی روایت میں ہے:
قوموا إلی سیدکم فأنزلوہ قال عمر: سیدنا اللہ عزوجل قال: أنزلوہ أنزلوہ۔ (صححہ الألبانی، الصحیحۃ رقم ۶۷)
’’اٹھو اور اپنے سردار کو سواری سے اتارو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارا سید تو اللہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: انھیں سواری سے اتارو، انھیں سواری سے اتارو۔‘‘
سعد بن معاذ کے مذکورہ واقعہ سے تعظیم کے واسطے کھڑے ہونے کی مشروعیت پر مندرجہ ذیل وجوہ سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی:
۱۔            آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قوموا لسیدکم‘‘ نہیں بلکہ ’’قوموا إلی سیدکم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ دونوں میں واضح فرق ہے، کسی آدمی کے لیے اس کے احترام کے پیش نظر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور کسی ضرورت کے تحت کھڑا ہونا مثلاً سواری سے اترنے میں مدد کرنا وغیرہ مستحب ہے۔ مذکورہ واقعہ میں یہی مطلوب ہے۔ چوں کہ یہ حدیث ’’لسیدکم‘‘ کے الفاظ سے مشہور ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی، حالاں کہ ان الفاظ سے اسے کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے۔
(دیکھیں: سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ رقم: ۶۷)
۲۔           حدیث کا سیاق اس استدلال کو باطل قرار دیتا ہے، سعدبن معاذ اس وقت زخمی تھے،بدقت انھیں گدھے پر سوار کرکے لایا گیا تھا، اس وجہ سے آپ نے انصار سے کہا کہ انھیں سواری سے اتارو۔ سب سے اہم بات یہ کہ  مہمانوں یا کسی بڑی شخصیت کی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال کرنا اگر صحابہ کا دستور ہوتا  تو آپ کو یہ کہنے کی حاجت ہی نہ ہوتی۔
۳۔           وہ صحیح احادیث جو کہ قیام تعظیمی کی ممانعت میں وارد ہیں اس کے مخالف ہیں:
۱۔ من سرہ أن یتمثل لہ قیام فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ (سنن ترمذی رقم ۲۹۰۳ صححہ الألبانی)
’’جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘
۲۔ عن أنس لم یکن شخص أحب إلیہم من رسول اللہ و کانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراہتہ لذلک۔
 (سنن ترمذی رقم ۲۹۰۲ صححہ الألبانی)
’’صحابہ کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی اور نہ تھا۔ وہ جب آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے اس لیے کہ وہ اس تعلق سے آپ کی ناپسندیدگی کو جانتے تھے۔‘‘
بعض لوگ کراہت کی حدیثوں کی تخصیص ایک ضعیف حدیث سے کرتے ہیں:
لا تقوموا کما تقوم الأعاجم یعظم بعضہا (۱) بعضا۔
 (أبوداؤد ۲؍۳۴۶، أحمد ۵؍۲۵۳)
’’تم لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جس طرح عجمی لوگ کھڑے ہوتے ہیں‘‘
یہ لوگ کہتے ہیںکہ ممانعت سے مراد وہ قیام ہے جو عجمی لوگ ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں ورنہ قیام فی نفسہ مکروہ نہیں۔
(دیکھیں المعتصر من المختصر من مشکل الاٰثار ۲؍۳۸۸)
مگر چوں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس لیے اس سے اس کی تخصیص صحیح نہیں۔
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الضعیفۃ رقم ۳۴۶)
بعض لوگ ممانعت کی حدیثوں کو اس شخص پر محمول کرتے ہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، یا ایسا شخص جس کو کبر و غرور کا خطرہ ہو۔ مگر یہ تاویل مناسب نہیں اس لیے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں یہ بات سوچی ہی نہیں جاسکتی کہ آپ صحابہ کے تعظیما کھڑے ہونے سے کبر میں مبتلا ہوسکتے تھے اس لیے آپ نے قیام سے منع فرمایا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے بڑا پاکباز اور بڑا مرتبہ والا کون ہوسکتا ہے جس کے لیے لوگ تعظیماً کھڑے ہوں؟

خلاصۂ کلام:

مذکورہ بالا حدیثوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تعظیم کے واسطے کھڑا ہونا صحیح نہیں ہے۔ جن حدیثوں سے اس کی مشروعیت ثابت کی جاتی ہے وہ یا تو ضعیف ہیں یا غیر صریح ہیں۔ اس کی کراہت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب آدمی یہ توقع کرے یا لوگوں کو حکم دے کہ وہ میرے لیے کھڑے ہوں۔
افسوس کہ یہ وباء عوام اور اہل علم کے اندر عام ہے۔ ماتحت لوگوں سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ تعظیم میں کھڑے ہوں۔ اگر کوئی کھڑا نہ ہو تو اسے گستاخ اور بے ادب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مذکورہ بالا حدیث یاد رکھنی چاہئے:
’’جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوں تو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ ‘‘(سنن ترمذی رقم ۲۹۰۳)

حواشی:


۱۔            مذکورہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ سنن ابودائود میں وارد ہے۔ ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے  مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں کہا ہے کہ ’’بعضہم‘‘ کے الفاظ کے ساتھ بھی اس کی روایت کی گئی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔