ہفتہ، 12 اگست، 2017

افطار میں جلدی کرنا

0 comments
صوم رکھنے والا اللہ کے حکم کی وجہ سے دن بھر کھانے پینے سے رکا رہتا ہے لہٰذا یہ طبعی امر ہے کہ اس کو افطار کے وقت کا شدت سے انتظار رہتا ہے۔ اسلام چونکہ اپنے ماننے والوں کو بے جا پریشانی میں ڈالنے کا قائل نہیں اس وجہ سے اس نے صوم رکھنے والوں کو سورج غروب ہوتے ہی افطار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے افطار میں جلدی کرنے پر دنیا و آخرت کی بھلائی کی ضمانت دی ہے۔آپ کا ارشاد ہے:
''لایزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر''
''لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔''
تخریج:
صحیح بخاری کتاب الصوم باب تعجیل الإفطار رقم: ١٨٥٦،صحیح مسلم کتاب الصوم باب فضل السحور و تأکید استحبابہ واستحباب تأخیرہ و تعجیل الفطر رقم: ١٠٩٨ میں نیز مؤطا امام مالک کتاب الصیام باب ما جاء فی تعجیل الفطر رقم: ٦٣٤ اور سنن الترمذی رقم: ٦٩٥ فی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار میں اس حدیث کی تخریج کی گئی ہے۔
افطار میں جلدی کرنے سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لایزال الدین ظاہراً ما عجل الناس الفطر لأن الیہود والنصاریٰ یؤخرون
(سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب فی تعجیل الفطر رقم: ٢٣٥٣،صحیح الجامع رقم:٧٦٨٩،مستدرک حاکم رقم:١٥٧٣فی کتاب الصوم)
''اس وقت تک دین غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، اس لئے کہ یہود و نصاریٰ افطار دیر سے کرتے ہیں۔''
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تنزلی و پسپائی سے ہر کوئی واقف ہے، ایسے موقع پر ہمیں قرآنی آیات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ان اسباب کو تلاش کرنا چاہئے جو اس پسپائی کے لئے بیان کئے گئے ہیں انھیں اسباب میں سے ایک اہم سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم افطار کرنے میں تاخیر کو قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ چونکہ یہودونصاریٰ افطارمیں تاخیر کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی مخالفت کرتے ہوئے افطار کرنے میں جلدی کرو۔ گویا کہ یہود و نصاریٰ سے الگ شناخت بنانا ایک مسلمان کی امتیازی شان اور دنیا وا ۤخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
افطار میں جلدی کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا شیوہ تھا:
ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور ابو مسروق عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ہم نے عرض کیا: اے ام المومنین! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک شخص افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا افطار اور صلاۃ میں تاخیر کرتا ہے (ان دونوں میںبہتر کون ہے) تو آپ نے پوچھا، کون افطار اور صلاۃ میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے کہا: عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل السحور، سنن أبی داؤد کتاب الصیام باب مایستحب من تعجیل الفطر، سنن الترمذی أبواب الصوم عن رسول اللہ باب ماجاء فی تعجیل الإفطار)
افطار کا وقت:
سورج غروب ہوتے ہی افطارکا وقت شروع ہوجاتا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:
إذا أقبل اللیل ھھنا و أدبر النھار من ھھنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم (صحیح البخاری کتاب الصوم باب الصوم فی السفر و الإفطار، صحیح مسلم کتاب الصوم باب بیان انقضاء الصوم و خروج النھار)
''جب رات یہاں(مشرق میں) آجائے اور دن یہاں سے (مغرب میں) چلا جائے اور
سورج غروب ہوجائے تو صوم افطار کرنے کا وقت آچکا ہے۔''
معلوم ہوا کہ افطار کے وقت میں اصل سورج کا غروب ہو نا ہے نہ کہ مغرب کی اذان، اس لئے اگر وقت ہو گیا ہو اور اذان نہ بھی ہوئی ہو تو افطارکیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
احتیاط کے نام پر افطار میں تاخیر کرنا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جب سورج غروب ہوجائے تو افطار کرلیا جائے اور اس میں تاخیر نہ کی جائے مگر افسوس کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی مخالفت کی جرأت کرتے ہوئے باقاعدہ اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ افطارمیں کم از دو منٹ کی تاخیر کرلی جائے ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مستحق تو نہیں ہو رہے ہیں:
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔(النور:٦٣)
''(نبی کریم ؐ) کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی فتنہ میں نہ پڑ جائیں یا انہیں دردناک عذاب نہ دبوچ لے۔''
موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کافی ترقی کر چکی ہے سورج کے طلوع وغروب کے وقت کے بارے میں یقینی طور پر اطلاع دی جاسکتی ہے۔ ایسے میں احتیاط کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی خلاف ورزی کرنا اور افطارمیں جلدی کرنے کے ثواب سے محروم رہنا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ دین کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے بڑھ کر احتیاط برتنے والا کون ہو سکتا ہے؟ لیکن آپ اور آپ کے اصحاب احتیاط کے نام پر کبھی تاخیر نہیں کرتے تھے۔ امت کا ایک بڑا طبقہ لا علمی میں حدیث رسول کی مخالفت کرتا ہے اور ساتھ ہی سنت کے مطابق افطار میں جلدی کرنے والوں پر لعن طعن کرکے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے بعض لوگوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کا صوم توڑنے کی سازش کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی محبت پیوست کر دے۔ آمین۔

٭٭

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔