منگل، 6 فروری، 2018

قرآنی قصوں کی چند امتیازی خصوصیات

0 comments
قرآنی قصے اللہ رب العالمین کے عظیم کلام کا حصہ ہیں اس وجہ سے ان کے اندر فصاحت و بلاغت کا جو اعلیٰ معیار ہے اس کا موازنہ کسی انسانی کلام سے نہیں کیا جاسکتا۔ جب ہم قرآن مجید میں بکھرے ہوئے قصوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے انداز بیان اور دیگر خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں چند ایسی قابل ذکر خصوصیات نظر آتی ہیں جو ان کے علاوہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ اس مختصر سے مضمون میں سبھی خصوصیات کا ذکر تو ممکن نہیں لہٰذا صرف اہم خصوصیات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

١۔اختصار


قرآنی قصوں کی سب سے اہم خصوصیت اختصار ہے۔ قرآنی قصے جہاں بھی آپ دیکھیں گے انہیں حد درجہ مختصر پائیں گے، سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ نیز کل واقعاتی ترتیب میں جو قصہ قرآن میں مذکور ہے وہ یوسف علیہ السلام کا قصہ ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس درجہ اختصار سے بیان کیا ہے کہ پورا قصہ صرف چند صفحات میں سمٹ گیا۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن محض ایک جملہ میں کسی واقعہ کے اہم پہلوؤں کی جانب اشارہ کر دیتا ہے اور بقیہ تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب پورا واقعہ عوام کے ذہن میں ہو، مثال کے طور پر غزوہئ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہئ کرام کا واقعہ اس وقت ہر خاص و عام کی زبان پر تھا اس وجہ سے اس واقعہ کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرنا تحصیل حاصل ہوتا، لہٰذا قرآن نے صرف اشارہ کردینا ہی کافی سمجھا اور اس کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرکے قرآن جس مسئلہ کو ثابت کرنا چاہتا ہے اسے ذکر کردیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ عَلَی الثَّلٰ
ـثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰیۤ اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَ ظَنُّوْآ اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُo (التوبۃ:118)

''اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی (اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی)جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیاکہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کرسکیں بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔''
اس واقعہ کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ اس نکتہ کو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ بندہ جب سچی توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے۔ مذکورہ واقعہ کو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ خود ان تین اصحاب میں سے ایک تھے۔ ان کے بیان کردہ تفصیلی واقعہ کو حدیث یا کسی تفسیر کی کتاب میں پڑھیں اور اس کے بعد یہ معلوم کریں کہ کیا قرآن مجید کی صرف ایک مختصر سی آیت میں اس پورے واقعہ کی منظر کشی نہیں ہوگئی؟ (1)
قرآنی قصوں سے اختصار کی ایک اور مثال پیش کرتا ہوں جن سے قرآنی قصوں کے انداز بیان کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
یوسف علیہ السلام مصر کی بادشاہت پانے کے بعد غلہ کی ذخیرہ اندوزی کا مناسب بندوبست کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خشک سالی کے دنوں میں مصر ہی نہیں بلکہ اطراف مصر کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی شہرت کنعان جہاں آپ کا خاندان تھا،وہاں پہنچی ، حالات سے مجبور ہو کر غلہ حاصل کرنے کی غرض سے آپ کے بھائی مصر کا رخ کرتے ہیں اور یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں آپ تو انہیں پہچان لیتے ہیں مگر آپ کے بھائی نہیں پہچان پاتے ہیں۔ اس پورے واقعہ کو نہایت اختصار کے ساتھ قرآن نے یوں بیان کیا ہے:

وَ جَآءَ اِخْوَۃُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَہُمْ وَ ہُمْ لَہ، مُنْکِرُوْنَo         وَ لَمَّا جَہَّزَہُمْ بِجَہَازِہِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّکُمْ مِّنْ اَبِیْکُمْ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْکَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْن         َo فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَـلَا کَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْن         ِo (یوسف:٥٨-٦٠)

''یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے اور ان کے پاس گئے تو انہوں نے انہیں پہچان لیا اور ان لوگوں نے انہیں نہ پہچانا، جب انہیں ان کا اسباب مہیا کردیا تو کہا کہ تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی لانا جو تمہارے باپ سے ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں ہوں بھی بہترین میزبانی کرنے والوں میں۔پس اگر تم اسے لے کر میرے پاس نہ آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی ناپ بھی نہ ملے گا بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔''
مصر میں بادشاہت سنبھالنے کے بعد آپ نے کس طرح انتظام سنبھالا اور اس درمیان کیا واقعات پیش آئے قرآن نے اس کو نہیں بیان کیا، اسی طرح بھائیوں اور یوسف علیہ السلام کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کو بھی قرآن نے ذکر نہیں کیا مگر بعد میں بھائی کو لانے کی بات کہنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یوسف علیہ السلام نے ان سے ان کے خاندان کے متعلق پوچھا ہوگا ورنہ ایک اجنبی کی حیثیت سے آپ کا یہ کہنا کہ آئندہ اپنے بھائی کو بھی لانا بے معنی ہوجاتا ہے۔
یہ دو مثالیں صرف قرآنی قصوں میں پائے جانے والے اختصار کی وضاحت کے لیے ہیں ورنہ قرآن مجید میں وارد ہر قصہ اس کامستحق ہے کہ اسے اس جگہ مثال کے طور پر بیان کیا جائے۔

٢۔ جزئی تفاصیل سے اجتناب


قرآنی قصوں کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جزئی تفصیلات سے مکمل طور پر اجتناب کیا گیا ہے۔ قرآن کریم واقعات کے صرف کارآمد پہلوؤں کو ذکر کرتاہے، جو چیز اس کے مقصد سے ہٹ کر ہو اس کو نظر انداز کردیتا ہے، چنانچہ انبیائے کرام کے ناموں کے علاوہ دوسرے کرداروں کے نام کو وہ عموماً مبہم طور پر ذکر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یوسف علیہ السلام کے والد محترم چوں کہ ایک جلیل القدر نبی تھے اس وجہ سے ان کا تذکرہ ان کے نام کے ساتھ کیا ہے اس کے علاوہ اس پورے تفصیلی قصہ میں سبھی کردار ایسے ملیں گے جن کا نام نہیں ذکر کیا گیا۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو ہر جگہ ''اخوۃ یوسف'' کے نام سے پکارتا ہے، جس کے گھر میں یوسف علیہ السلام نے پرورش پائی اس کے لیے ''عزیز'' اور اس کی بیوی کے لیے ''امرأۃ العزیز'' کالفظ استعمال کیا ہے۔ حالانکہ اس پورے قصے میں یوسف علیہ السلام کے بعد سب سے اہم کردار ''امرأۃ العزیز'' کا ہے اس کے باوجود اس کا نام نہ ذکر کرکے قرآن نے اپنے اسی اصول کو قائم رکھا ہے۔
قرآن نہ صرف یہ کہ اس اصول کو شروع سے آخر تک ہر جگہ اپنائے ہوئے ہے، بلکہ اپنے متبعین کو بھی اسی روش پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے۔ سورہئ کہف میں اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اختلافی اقوال کو ذکر کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی:
فلَا تُمَارِ فِیْہِمْ اِلَّا مِرَآئً ظَاہِرًا وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْہِمْ مِّنْہُمْ اَحَدًاo (الکہف:٢٢)

''سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث مت کرو اور نہ ان کے متعلق کسی سے پوچھو۔''
قرآن کی نظر میں اگر اصحاب کہف کی تعداد کوئی اہم مسئلہ ہوتا تو اقوال کو ''یقولون'' کے لفظ کے ساتھ بیان کرنے کے بجائے واضح طور پر بیان کردیا جاتا۔ لہٰذا قرآن نے خود اپنے طرزعمل سے جزئی تفصیلات کی بے وقعتی کو اجاگر کردیا۔
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کی مذمت کی گئی کہ انہوں نے جزئیات پر حد سے زیادہ زور دیا، اس طرح انہوں نے اپنا قیمتی وقت ضائع کیا اور اللہ کی ناراضگی بھی مول لی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک گائے ذبح کرنے کو کہا، کسی بھی گائے کو ذبح کرکے اس حکم کی تعمیل کی جاسکتی تھی، مگر انہوں نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو جس طرح اس گائے کے رنگ اور مختلف صفتوںکو دریافت کرکے پریشان کیا اس کو سورہئ بقرہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اس کا وبال انہیں بھگتنا پڑا، جب اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا جس کو تلاش کرنے میں انہیں کافی مشقت اٹھانی پڑی۔ (٢)
دراصل جزئیات کے پیچھے پڑنا قرآن کی روح کے منافی ہے۔ یہ مسلمانوں کی نہیں بلکہ یہودیوں کی صفت ہے۔ جو لوگ کلیات کو چھوڑ کر اپنا وقت جزئیات میں ضائع کرتے وہ مغز کو چھوڑکر چھلکے چوس رہے ہیں۔ انہی جزئی تفاصیل کی کھوج نے ہمارے مفسرین کو اسرائیلات کی وادی میں سیر کرنے اور وہاں سے کھرے کھوٹے ہر قسم کے سکوں کو اکٹھا کرنے پر مجبور کیا۔ اورآج حالت یہ ہے کہ قرآن مجید کی تفاسیر میں صرف چند ایک معتبر تفاسیر کو چھوڑ کر بے سروپا اسرائیلی روایات کی بھرمار ہے۔ اصحاب کہف کے کتے کا رنگ کیا تھا؟ وہ خود ان کا اپنا پالتو کتا تھا یا نہیں؟ اصحابِ کہف کے نام کیا تھے؟ امرأۃ العزیز اور ملکہ سبا کانام کیا تھا؟ یہ سب ایسے امور ہیں جن کے نہ جاننے سے کوئی نقصان نہیں اور ان کی کھوج سے بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ہم صرف اتناجانتے ہیں کہ اگر اس کے اندر کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور اس کی نشان دہی کرتا۔ (3)
ان بے کار سوالوں کے پیچھے پڑنے پر بعض دفعہ بہت ہی غلط نتیجہ سامنے آتاہے۔ قرآن مجید میں ملکہئ سبا کا نام نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی تورات میں ملکہئ سبا کا نام تھا، مگر تورات کے مترجمین نے ترجمہ کرتے وقت تحریف شدہ تورات میں ملکہ کا جو کردار دیکھا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک بدکردار عورت تھی، لہٰذا انہوں نے اس کے لیے ''بلقیس''کا لفظ استعمال کیا جس کا مطلب ہوتاہے طوائف، اسی لفظ کو ہمارے مفسرین نے بغیر کسی تحقیق کے وہاں سے اخذ کیا اور ملکہ کے نام کے طور پر اپنی تفسیروں میں درج کرنا شروع کردیا۔
غور کرنے کا مقام ہے کہ ایک مومنہ عورت جو سلیمان علیہ السلام پر ایمان لے آئی ہو اس کو ہم طوائف کے نام سے یاد کریں اور نادانستہ طور پر اسی لفظ کو قرآن مجید میں تفسیر کے طور پر بیان کریں کتنی بری بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے آمین۔ اس سے صرف ملکہئ سبا کے کردار پر ہی نہیں بلکہ خود سلیمان علیہ السلام کے کردار پر حرف آتا ہے۔ اور اس لفظ کو استعمال کرنے والا لاعلمی میں ایک جلیل القدر پیغمبر کے شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتاہے۔
ہمارا موقف یہی ہوناچاہئے کہ قرآن کے مبہم ناموں کو مبہم ہی رہنے دیں ان پر ضرورت سے زیادہ زور دینے سے قرآن مجید کا تذکیری پہلو ختم ہوجاتاہے اور تاریخی رنگ غالب آجاتا ہے جو ایک نقصان دہ بات ہے۔

3۔عمومیت



قرآن مجید چوں کہ قصہ برائے تفریح کے بجائے قصہ برائے اصلاح کا قائل ہے اس وجہ سے وہ ہر واقعہ کو حالات حاضرہ پر چسپاں کرکے اس سے نتائج اخذ کرتاہے۔ قصہ خواہ چھوٹا ہو یابڑا اس کے اندر کچھ ایسے الفاظ یا قرینے شامل کردیتا ہے جو اس قصے کے نتیجہ کو عام کردیتے ہیں اس کی کئی صورتیں ہیں۔
ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ صراحتاً بیان کردیتا ہے مثال کے طور پر سورہ یوسف کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے
''لَقَدْ کَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِہٖ اٰیَاتٌ لِّلسَّائِلِیْنَ'' (یوسف:7)
کہہ کر اسے قریش مکہ پر چسپاں کردیا ہے۔ (4)
دوسراطریقہ یہ ہے کہ واقعہ بیان کرنے کے بعد بجائے ضمیر استعمال کرنے کے لفظ ظاہر استعمال کردیتا ہے جو اس بات پر دلیل ہوتی ہے کہ مذکورہ واقعہ میں جس عذاب یا انعام کا تذکرہ ہے وہ دراصل اس برائی یا خوبی کی وجہ سے ہے اور اس برائی یا خوبی کا انسان جہاں بھی پایا جائے گا وہ اسی انعام یا عذاب کا مستحق ہوگا، اس قسم کی مثالوں میں سورہئ محمد کی یہ آیت پیش کی جاسکتی ہے۔

اَ فَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ دَمَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ وَ لِلْکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُہَا
o (محمد:10)

''کیا وہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اللہ نے انہیں ملیامیٹ کردیا۔ ایسے ہی نتائج کافروں کے لیے مقدر ہیں۔''
قرآن نے آخر میں بجائے اس کے کہ ضمیر استعمال کرکے ''ولہم امثالہا'' کہتا یہاں پر ''و للکافرین امثالہا'' کا لفظ استعمال کیا ہے جو یہ بتانے کے لیے ہے کہ یہ صرف اس زمانے کے کافروں کے لیے خاص نہیں بلکہ ہر زمانہ کے کافروں کے لیے حکم عام ہے۔ اسی طرح صرف ایک لفظ ''کافرین'' سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ان قوموں پر عذاب کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ کافر تھے۔

4۔واقعات کی تکرار


قرآنی قصوں کی ایک اہم خصوصیت واقعات کی تکرار ہے۔ قرآن مجید نے ایک ہی قصہ کو مختلف جگہوں پر بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے واقعہ کو قرآن نے سورہئ اعراف میں بیان کیا ہے پھر اسی واقعہ کو سورہ شعراء میں بھی بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود دونوںجگہوں پر اس واقعہ کو باریکی سے پڑھنے والے اس حقیقت کو مان لیں گے کہ دونو ںکے انداز بیان میں فرق ہے،کچھ تفصیلات سورہئ اعراف میں زیادہ ہیں کچھ سورہئ شعراء میں زیادہ ہیں۔ مطلب یہ کہ تکرار مقصد نہیں بلکہ بامقصد تکرار ہے۔ یہی حال ان تمام قصوں کا ہے جو ایک سے زائد مقامات پر بیان ہوئے ہیں۔
قرآن نے اس بات کی ضرور رعایت کی ہے کہ واقعات کی تکرار کے وقت ہر مرتبہ نیا اسلوب، نئے الفاظ اور نیا انداز بیان اختیار کیا ہے۔ کہیں اختصار سے کام لیا ہے تو کہیں تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ دل چسپی برقرار رہے اور تکرار سے اکتاہٹ نہ محسوس ہو۔ ایک ہی بات کو مختلف انداز سے اس طرح بیان کرنا کہ ہر مرتبہ ایک نئی شان نظر آئے یہ قرآن کے ادبی اعجاز کا ایک حصہ ہے۔

خاتمہ


مذکورہ بالا خصوصیات کے علاوہ دوسری خصوصیات مثلاً الفاظ کا استعمال اور جملوں کی ترکیب وغیرہ کا تعلق چوں کہ صرف قرآنی قصوں سے نہیں ہے بلکہ احکام کی آیتوں سے بھی ہے اس وجہ سے ان کو یہاں پر ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تفسیر میں سلف صالحین کے منہج کو اپنانے کی توفیق دے۔ آمین

حوالے:

1۔    سورۃ الفیل کو اس قسم کی اس مثال کے طور پر ذکر کیا جاسکتاہے اس واقعہ کے زبان زد عام ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس جانب اشارہ ہی کیا ہے۔
2۔    دیکھیں: سورۃ البقرۃ:67-71
3۔    قرآن مجید میں وارد مبہمات اوراس کے تعلق سے سلف صالحین کے موقف کو سمجھنے کے لیے دیکھیں الاتقان2:232-243:
4۔    قاضی سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ نے سورہئ یوسف کی تفسیر ''الجمال و الکمال'' کے آخر میں بڑی نفیس بحث کی ہے۔ اس کے اندر اللہ کے رسول ؐ اور یوسف علیہ السلام کے حالات کے درمیان 23 مماثلتیں دکھائی ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیں الجمال والکمال مصنفہ قاضی سلیمان منصور پوری ص249-260 مطبوعہ شیخ غلام اینڈ سنز تاجران کتب لاہور1941ئ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔