منگل، 6 فروری، 2018

قرآنی قصے بیان کرنے کے اغراض و مقاصد

0 comments

قرآن مجید نہ تو قصے کہانی کی کتاب ہے نہ تاریخ عالم بیان کرنا اس کا مقصد ہے۔ بلکہ اس کا مقصد انسان کے لیے کچھ ایسے رہنما اصول مقرر کرناہے جن پر عمل کرکے انسان دنیا میں کامیابی سے سرفراز ہو اور آخرت میں بھی سرخرو ہوسکے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے جابجا گزشتہ قوموں کے واقعات کو بیان کیاہے۔ قرآنی قصے دراصل سورۂ فاتحہ کی آخری دو آیتوں کے اجمال کی تفصیل ہیں۔ (۱) سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا کے کلمات سکھائے ہیں، جن میں ان لوگوں کے راستہ پر چلنے کی دعا کرنے کو کہا ہے جن پر اس نے انعام کیا ہے اور ان لوگوں سے دور رہنے کو کہا ہے جن پر اس کا غضب نازل ہوا یا وہ گمراہ ہوگئے۔ وہ کون لوگ تھے جن پر اللہ نے انعام کیا؟ ان کے اعمال کیسے تھے؟ جن سے خوش ہو کر اس نے انہیں انعامات سے نوازا؟ نیز جن پر اس کا غضب نازل ہوا وہ کون لوگ تھے؟ ان کے اعمال کیسے تھے؟ یا جو لوگ گمراہ ہوئے ان کی گمراہی کے اسباب کیا تھے؟ یہ ساری تفصیل قرآنی قصوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ (۲)
قرآن مجید کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ واقعات و قصص پر مشتمل ہے۔ یہ واقعات اپنے زمانۂ نزول میں جتنی اہمیت کے حامل تھے اتنے ہی اہم آج بھی ہیں، لہٰذا ان واقعات میں پوشیدہ حکمتوں کو معلوم کرنا بے حد ضروری ہے ۔
ان حکمتوں اور مقاصد کو معلوم کرنے کا سب سے اہم ذریعہ خود قرآن مجید ہے، اس نے متعدد مقامات پر قصوں کو بیان کرنے کا مقصد بیان کیاہے۔ ذیل میں انہی مقاصد کو بیان کیا جارہا ہے:

۱۔عبرت و نصیحت:


قرآن مجید کے قصوں کا بنیادی مقصد عبرت و نصیحت ہے۔ قرآن مجید کا ہر واقعہ اپنے اندر عبرت و نصیحت کاپہلو لئے ہوئے ہے۔ خواہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ایک کا دوسرے کو قتل کرنے کا واقعہ ہو یا بنی اسرائیل کی ناشکری کے واقعات ہوں، اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے باغ والوں کے باغ کی تباہی کا واقعہ ہو یا ناشکری کی وجہ سے قوم سبا کی تباہی و بربادی کا واقعہ ہو، ہر واقعہ اپنے اندر عبرت کا بے پناہ خزانہ لئے ہوئے ہے۔ قرآن نے خود متعدد مقامات پر واقعات بیان کرنے کا مقصد عبرت و نصیحت قرار دیاہے۔ چنانچہ یوسف علیہ السلام کا تفصیلی واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَ لٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ تَفْصِیْلَ کُلِّ شَـْیٍٔ وَّ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَo (یوسف:۱۱۱)
’’یقینا ان لوگوں کے قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے، یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑ کر بنالی گئی ہو، بلکہ یہ اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق ہے، اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘
قرآن نے دسیوں مقامات پر تباہ شدہ قوموں کے باقیات کی طرف توجہ دلاکر ان سے عبرت پکڑنے کو کہا ہے:
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَo (الأنعام:۱۱)
’’(اے نبی ﷺ) کہہ دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔‘‘
اس قسم کی آیات کا مقصد یہی ہے کہ ان تباہ شدہ قوموں کے حالات سے لوگ عبرت پکڑیں اور ان قوموں پر ان کے جن برے اعمال کی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا ان کے ارتکاب سے بچیں۔ اسی نقطہ کو واضح کرنے کے لیے قرآن جہاں ہلاکت شدہ قوموں کا تذکرہ کرتاہے وہاں ان کی ہلاکتوں کا ذمہ دار خود انہیں کو ٹھہراتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ النحل میں گزشتہ قوموں کی ہلاکتوں کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا:
ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنْ کَانُوْآ اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَo فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُوْنَo (النحل:۳۳-۳۴)
’’کیا یہ لوگ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تیرے رب کا حکم آجائے۔ ایساہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا، جو ان سے پہلے تھے، ان پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے انہیں آگھیرا۔‘‘
گویا کہ برے اعمال پر ڈٹے رہنا اور اصلاح کی تمام کوششوں کو ٹھکرا دینا ہی دراصل ان کی تباہی و بربادی کا سبب بنا۔ اس طرح ان آیات سے کفار کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تم بھی اسی روش پر چلتے رہے اور اصلاح کی کوشش کو نظر انداز کرتے رہے تو اسی قسم کے عذاب سے دوچار ہو سکتے ہو۔
قرآن نے گزشتہ قوموں کے واقعات کو عبرت و نصیحت کے لیے بیان کیا ہے، لیکن عبرت پکڑنے کے لیے اس نے بنیادی شرط رکھی ہے کہ سننے والے کان ہوں اور سمجھنے والا دل۔ سورۂ نازعات میں فرعون کی سرکشی کی وجہ سے اس کا جو انجام ہوا اس کو بیان کرنے کے بعد قرآن نے یہ قاعدہ کلیہ بیان کیا ہے:
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰیo (النازعات:۲۶)
’’اس واقعہ میں عبرت ہے اس شخص کے لیے جو ڈرے۔‘‘
حقیقت یہی ہے کہ جس شخص کا دل نصیحت قبول کرنے والا نہ ہو اس کو نصیحت فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ نصیحت قبول کرنے والے کے لیے ایک معمولی واقعہ بھی اس کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہے، جب کہ بڑے سے بڑا واقعہ یا حادثہ سخت دل والوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن کا فیصلہ ہے:
لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَ لَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَ لَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُوْلٰٓئِکَ کَالْاَنْعٰمِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْغَافِلُوْنَo(الأعراف:۱۷۹)
’’ان کے پاس ایسے دل ہیں جن سے  سمجھتے نہیں، اور ان کی ایسی آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے نہیں، اور ان کے ایسے کان ہیں جن سے سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ یہی لوگ غفلت میں پڑے رہنے والے ہیں۔‘‘ (۳)

۲۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو تسلی دینا:


ہجرت سے پہلے مکہ کی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابۂ کرام کے لیے انتہائی دشوار تھی۔ مصائب و آلام کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جس سے آپ اور آپ کے اصحاب کو دوچار ہوناپڑتا تھا۔ بعض دفعہ کافروں کی شرارتیں اس حد تک بڑھ جاتیں کہ صحابۂ کرام شدت تکلیف سے مجبور ہو کر آپ سے گزارش کرتے کہ آپ اللہ سے دعا کردیجئے۔ ایسے ہی ایک موقع پر صحابۂ کرام کی ایک جماعت نے آپ سے دعا کی درخواست کی تھی، آپ نے ان کی درخواست پر کہا تھا کہ تشدّد اور  ایذا کا شکار ہونا تو ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ تم سے پہلے بعض مومنوں کے ساتھ یہ کیا گیا کہ انہیں گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کردیا گیاپھر ان کے سروں پر آرہ چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیردی گئیں، لیکن یہ ایذائیں انہیں دین حق سے پھیرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں(۴) ایسے حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانو ںکو تسلی دی جائے،اور ان کے اندر حالات سے نبرد آزما ہونے کاحوصلہ پیداکیاجائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پرانے زمانہ کے ولولہ انگیز واقعات بہترین ذریعہ تھے۔ دراصل انسان کی نفسیات ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ اگراسے یہ معلوم ہوجائے کہ جن مصیبتوں سے وہ دوچار ہے ان میں وہ اکیلا نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی لوگ ان جیسی پریشانیوں سے دوچار ہوچکے ہیں تو اسے خود اپنی پریشانی ہلکی نظرآنے لگتی ہے۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا واقعہ میں گزشتہ زمانے میں اہل ایمان جن مصائب سے دوچار ہوئے تھے ان کا تذکرہ کیا۔
قرآن مجید خود قصوں کو بیان کرنے کا ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی دینا قرار دیتا ہے:
وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ جَآئَکَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَo (ہود:۱۲۰)
’’اور رسولوں کے سب حالات ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لیے بیان کررہے ہیں، آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو مومنوں کے لیے وعظ و نصیحت ہے۔‘‘
کٹھن اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ نے دلاسا دینے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گزشتہ قوموں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مثال کے طورپر ہجرت کے موقع پر آپ کو مکہ سے جدا ہونے کا بڑا ملال تھا۔ اس موقع پر آپ کی تسلی کے لیے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَ کَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ اَہْلکْنٰہُمْ فَـلَا نَاصِرَ لَہُمْo (محمد:۱۳)
’’کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو طاقت و قوت میں تمہاری اس بستی سے بڑھ کر تھیں جس نے آپ کو نکال دیا ہے،ہم نے انہیں ہلاک کردیا، پس ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت پیش کرنے میں بہت حریص تھے۔ آپ دعوت کاکوئی موقعہ ضائع نہیں ہونے دیتے تھے بعض دفعہ ایساہوتا کہ کفار کا انکار آپ کو بہت زیادہ ناگوار گزرتا، ایسے موقعوں پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی دل جمعی کے لیے گزشتہ نبیوں کے ساتھ ان کے امتیوں کے سلوک کاذکر کرکے تسلی دی:
وَ اِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُo وَ قَوْمُ اِبْرٰہِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍo وَ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ وَ کُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِo (الحج:۴۲-۴۴)
’’اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں) ان سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی (اپنے نبیوں) کو جھٹلا چکی ہے۔ مدین کے رہنے والے (بھی تو جھٹلا چکے ہیں) اور موسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلایا گیا۔ پس میں نے کافروں کو مہلت دی پھر ان کو پکڑ لیا تو دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا سخت تھا۔‘‘
قرآن میں اس قسم کی متعدد مثالیں مل جائیں گی جن میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو تسلی دینے کے لیے گزشتہ قوموں کے واقعات کو بیان کیاہے۔ قرآن کا باریکی سے مطالعہ کرنے والوں سے یہ جگہیں پوشیدہ نہیں۔(۵)

۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کو ثابت کرنا:


قرآنی قصوں کاایک اہم مقصد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور قرآن کی حقانیت کو واضح کرنا بھی ہے۔ سیکڑوں سال پہلے کے واقعات اس طرح بیان کرنا گویا کہ آپ واقعہ کے عینی شاہد ہوں خود آپ کی نبوت و رسالت کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔ یہ ثابت شدہ ہے کہ آپ اُمّی تھے یعنی آپ کو لکھنا پڑھنا نہیں آتاتھا،اگرآپ لکھنا پڑھنا جانتے تو بہت ممکن تھا کہ کوئی شخص یہ اعتراض کردیتا کہ آپ نے یہ قصے پرانی کتابوں سے اخذ کرکے بیان کئے ہیں۔ اہل مکہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ کا اٹھنا بیٹھنایہودی اور عیسائی علماء کے درمیان نہیں ہوتا جس سے اس شبہ کو قوتملے کہ آپ نے ان علماء سے سن کر یہ قصے بیان کئے ہوں۔ اس کے باوجود بھی اگر آپ گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ کو اللہ کی طرف سے ان واقعات کا علم دیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک سے زائد مقامات پر واقعات کو آپ کی حقانیت کے لیے دلیل کے طور پر بیان کیاہے۔ مثال کے طور پر موسیٰ علیہ السلام کے تفصیلی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتاہے:
وَ مَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْا قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ وَ مَا کُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِیْنَo وَ لٰـکِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ وَ مَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰـتِنَا وَ لٰـکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَo وَ مَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰـکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰـہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo (القصص:۴۴-۴۶) 
اور جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف حکم بھیجا تو آپ اس وقت طور کے مغربی جانب نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کو) دیکھنے والوں میں سے تھے، لیکن ہم نے (موسیٰ علیہ السلام کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر طویل مدت گزر گئی اور نہ آپ اہل مدین کے درمیان سکونت پذیر تھے کہ ان کو ہماری آیات پڑھ پڑھ کر سناتے، ہاں ہم ہی رسولوں کو بھیجنے والے تھے۔ اور نہ ہی آپ اس وقت طور کی جانب تھے جب ہم نے (موسیٰ علیہ السلام کو ) آواز دی، بلکہ (آپ کا بھیجا جانا) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، امید کہ وہ لوگ نصیحت قبول کریں۔‘‘
موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے درمیان کئی صدیاں ہیں اس کے باوجود اس واقعہ کو ایک عینی شاہد کی طرح بیان کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
ایک اور مقام پر مریم علیہا السلام کی کفالت کے مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے قرآن اسی نقطہ کی وضاحت کرتاہے:
ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآئٍ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَ مَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْـلَامَہُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَ مَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَo (آل عمران:۴۴)
’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی وحی ہم آپ کی جانب کر رہے ہیں اور آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، جب لوگ (قرعہ اندازی کے لیے) اپنے قلموں کو ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟ اور نہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔‘‘
مریم علیہا السلام کی کفالت کے لیے ہیکل کے خادموں میں جو بحث و تکرار ہوئی اور فیصلہ کے لیے جو قرعہ اندازی کی گئی اس کی  خبر آپ تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ وحی تھا جب آپ اس واقعہ کو اس طرح بیان کررہے ہوں گویا کہ آپ خود اس موقع پر موجود تھے تو یہ آپ کی نبوت کی ناقابل تردید دلیل ہے۔

۴۔ واقعات پر سے افسانوی گرد و غبارہٹانا:


گزشتہ قوموں کے وہ واقعات جن کا دار و مدار زبانی روایات پر تھا نسل در نسل ہونے کی وجہ سے ان کی حقیقت پر افسانوی غلاف پڑ گیاتھا جس کی وجہ سے وہ واقعات کچھ سے کچھ ہوگئے تھے۔ اسی طرح گزشتہ قوموں کے کچھ واقعات حقیقت سے مختلف ہوگئے تھے کیوں کہ جن کتابوں میں یہ درج تھا انہیں ان کے ماننے والوں نے بدل ڈالا تھا اور اپنی مرضی کے مطابق ان میں تحریف کردی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کے درمیان اختلافات رونماہوئے، مثال کے طور پر یہودیوں نے دائود اور سلیمان علیہما السلام کے مرتبہ کو اس حد تک گرادیا تھا کہ ان کے بنائے ہوئے خاکہ میں ایک نبی تو کجا کوئی عام شریف انسان بھی نہیں موزوں بیٹھتا۔ ان دونوں جلیل القدر انبیاء کی طرف انہوں نے خود اپنی طرف سے گھڑ کر کئی واقعات مشہور کر رکھے تھے۔ دراصل یہودیوں نے جب دیکھا کہ ان کے برے اعمال جلیل القدر انبیاء کے اعمال سے میل نہیں کھاتے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے اعمال میں سدھار پیدا کرتے انہوں نے اپنے انبیاء کے مرتبہ کو نیچا کرکے پیش کیا تاکہ ان کی بداعمالیوں کے لیے دلیل ثابت ہو۔ دائود اور سلیمان علیہما  السلام کے علاوہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کے بارے میں بھی اختلاف کیا۔ (۶) اسی طرح یہودیوں نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کابیٹا قرار دے ڈالا۔ (۷) قرآن کا یہ ایک بہت بڑا احسان اہل کتاب کے اوپر ہے کہ اس نے انبیاء کرام کی حیثیت کو واضح کردیا جس کی وجہ سے ان کے درمیان اختلافات ہورہے تھے۔ اس نے واضح کیا کہ دائود اور سلیمان علیہما السلام اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے ان سے ان غلط حرکتوں کا صدور نہیںہوا جن کی نسبت ان کی طرف کی جاتی ہے۔ (۸) عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ (۹) اور عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ پاک دامن تھیں (۱۰) اور عیسیٰ علیہ السلام کے سولی پر چڑھائے جانے کا واقعہ صحیح نہیں۔(۱۱)
قرآن خود اس بات کی وضاحت کرتاہے کہ اس کا مقصد بنی اسرائیل کے اندر جن واقعات کی حقیقت کے بارے میں اختلاف ہے اس کو واضح طور پر بیان کردینا ہے:
اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَo (النمل:۷۶)
’’بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کررہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔‘‘
یہیں پر یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ قرآنی قصوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلی کتابوں میں واقع قصوں پر حکم بنایا ہے۔ لہٰذا قرآنی قصوں پر گفتگو کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ قرآن اور سابقہ کتابوں کے قصوں میں اگر اختلاف ہو تو قرآن کے بیان کو لیا جائے گا، اس کے لیے قرآنی آیات کی تاویل نہیں کی جائے گی۔ جس طرح کہ بعض مفسرین نے ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام قرآن کی صراحت کے باوجود اسرائیلی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے آزر کے علاوہ بتایا ہے۔ (۱۲) یہ ایک غلط طریقۂ کار ہے اس لیے کہ قرآن ان کی اصلاح کے لیے آیاہے ہم انہی کتابوں کی روشنی میں -نعوذ باللہ- قرآن میں وارد واقعات کی اصلاح کرنے لگیں، یہ قطعاً ناقابل قبول ہے۔

خاتمہ: 


یہ چار اغراض و مقاصد ہیں جن پر قرآنی آیات اور ان میں وارد قصوں کے مطالعہ کے بعد آگاہی ہوئی۔ قرآن مجید کا باریکی سے مطالعہ کرنے والے اور اس کی تفسیر میں دل چسپی رکھنے والے حضرات اس پر اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔ فی الحال مجھے دوران مطالعہ جو حاصل ہوا اسے میں نے درج کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین۔

حوالے:


۱۔ وہ دو آیتیں ہیں: اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لاَ الضّٰآلِّیْنَo 
۲۔ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الاتقان‘‘ میں ترمذی اور ابن حبان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’المغضوب علیہم‘‘ سے مراد یہودی ہیں اور ’’الضالین‘‘ سے مراد نصاری ہیں۔ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ (الاتقان ۲؍۴۳۰) اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس حکم میں صرف یہود و نصاری ہی شامل ہیں دوسر ے لوگ نہیں اس لیے کہ مفسرین کا اصول ہے کہ لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے خاص سبب کا نہیں، ہاں زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس کی خصوصیت اس شخص کی نوع کے ساتھ ہوگی اور اس طرح یہ حکم اس سے ملتے جلتے افراد کے لیے عام ہوجائے گا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں الاتقان ج۱ ص۹۶ تا ۹۸ مطبوعہ فرید بک ڈپو، دہلی۶)
۳۔ اس نوع کی مزید مثالوں کے لیے دیکھیں: الذاریات : ۳۷، القمر:۵۱، الحشر:۲
۴۔ صحیح بخاری کتاب أحادیث الأنبیائ، باب علامات النبوۃ فی الإسلام
۵۔ اس نوع کی مزید مثالوں کے لیے دیکھیں: العنکبوت کی ابتدائی آیات، الفاطر:۴، و ۲۵
۶۔ النسائ: ۱۵۷- ۱۵۸، مریم: ۱۶-۳۶
۷۔ التوبہ:۳۰
۸۔ دیکھیں: النمل ۱۵-۴۳، الأنبیاء :۷۸-۷۹، البقرۃ:۱۰۲،       ص :۱۷-۲۶
۹۔ دیکھیں المائدۃ:۷۵
۱۰۔ دیکھیں التحریم: ۱۲
۱۱۔ دیکھیں النسائ: ۱۵۷-۱۵۸
۱۲۔ قرآن نے واضح طور پر ابراہیم علیہ السلام کے والد کو سورۂ انعام آیت:۷۴میںآزر کے نام سے یاد کیا ہے۔ایسے میں ہمارے کچھ مفسرین نے معلوم نہیں کہاں کہاں سے معلومات اکٹھا کرکے آزر کو ابراہیم علیہ السلام کا چچا ثابت کرنے کی ناروا کوشش کی ہے۔اللہ تعالی ہمیںقرآن کے سلسلے میں اس قسم جسارت سے بچائے۔آمین
34

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔