بدھ، 7 فروری، 2018

غم آمیز لہجے میں قرآن کی تلاوت کرنے کا شرعی حکم

0 comments

 

قرآن کی تلاوت کے وقت کے بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ رونے والی آواز بناکر پڑھتے ہیں۔اس قسم کا تکلف شاید وہ لوگ ذیل کیحدیث کی وجہ سے کرتے ہیں۔اس وجہ سے ضروری محسوس ہوا کہ اس حدیث کی اسنادی حالت بیان کردی جائے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

إقرء وا القراٰن بالحزن فإنہ نزل بالحزن۔
’’قرآن کو غم آمیز لہجے میں پڑھو اس لیے کہ یہ اسی طرح نازل ہوا ہے۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج طبرانی نے الاوسط (رقم ۲۹۲۳) میں اس مندرجۂ ذیل سند سے بیان کیا ہے: حدثنا إسماعیل بن سیف قال حدثنا عوین بن عمر القیس أخوریاح بن عمرو قال حدثنا سعید الجریری عن عبداللہ بن بریدۃ عن أبیہ مرفوعاً۔ ہیثمی نے الزوائد (۷؍۱۷۰) میں الاوسط للطبرانی کے حوالے سے اور ذہبی نے میزان الاعتدال میں اسماعیل بن سیف کے ترجمہ (رقم ۸۹۳) میں اس کا ذکر کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

حدیث ضعیف ہے۔ ہیثمی نے الزوائد (۷؍۱۷۰) میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث میں ایک راوی اسماعیل بن سیف ہیں جو کہ ضعیف ہیں، لہٰذا یہ حدیث ضعیف ہے۔
ذہبی نے المیزان میں اسماعیل بن سیف کے ترجمہ (رقم ۸۹۳) میں لکھا ہے:
إسماعیل بن سیف، بصری یروی عنہ عبدان الاہوازی و قال: کانوا یضعفونہ، و قال ابن عدی: کان یسرق الحدیث۔ روی عن الثقات أحادیث غیر محفوظۃ۔
’’اسماعیل بن سیف بصری سے عبدان الاہوازی روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ محدثین انھیں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ ابن عدی نے کہا ہے کہ وہ حدیث چور تھے۔ ثقہ راویوں سے وہ غیر محفوظ حدیثیں روایت کیا کرتے تھے۔‘‘
حافظ ابن حجر نے لسان المیزان میں بزار اور احمد بن علی بن مثنی کی طرف منسوب کیا ہے کہ انھوں نے اسماعیل بن سیف کو ضعیف کہا ہے۔ نیز ابن حبان نے انھیں ثقات میں شمار کیا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ ثقہ سے روایت کریں۔
(دیکھیں: لسان المیزان رقم ۸۹۴)
جہاں تک ابن حبان کی توثیق کا سوال ہے تو محدثین نے انھیں متساہل قرار دیا ہے خاص طور پر اس وقت جب کہ وہ منفرد ہوں، لہٰذا ایسی صورت میں ان کا اعتبار نہ ہوگا۔

متن حدیث:

صحابۂ کرام اور تابعین عظام کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں وہ سادگی نہیں رہی۔ پیشہ ور قاریوں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوگئی، جنھوں نے تکلف کے ساتھ قرآن کی تلاوت کو ہی اپنا مطمح نظر بنا لیا۔ جاہل اور کم پڑھے لکھے لوگوں نے اس کو تجوید سمجھ لیا، حالت یہ ہوگئی کہ اگر کوئی اس طرح تکلف کے ساتھ تلاوت نہ کرے تو لوگ اسے کم علم سمجھنے لگتے ہیں۔
انھیں بے جا تکلفات میں ایک قرآن کی تلاوت غم زدہ آواز میں کرنا بھی ہے۔ اس کی مشروعیت پر طبرانی کی مذکورہ بالاحدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مگر یہ حدیث جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے ضعیف ہے اس لیے اس سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔
ایک دوسری حدیث جس کو ہیثمی نے الزوائد (۷؍۱۷۰) میں ذکر کیا ہے وہ بھی ضعیف ہے۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
 ’’لوگوں میں سب سے اچھی قراء ت کرنے والا وہ ہے جو قرآن پڑھے تو غمزدہ ہو کر پڑھے۔‘‘
اسی روایت میں ابن لہیعہ ہیں جو کہ ضعیف ہیں۔ اس وجہ سے یہ حدیث بھی حجت نہیں بن سکتی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت جو کہ صحیح احادیث کی روشنی میں ہم تک پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ آپ جب خوف کی آیت سے گزرتے تو اللہ کی پناہ چاہتے، جب رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ سے رحمت طلب فرماتے اور جب تنزیہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ کی تسبیح بیان کرتے۔ (صحیح الجامع، رقم ۴۶۵۸)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ کا حال ہر آیت کی تلاوت کے وقت ایک جیسا نہیں ہوتا تھا۔ آیت رحمت اورآیت خوف کی تلاوت کے وقت آپ کی کیفیت مختلف ہوا کرتی تھی۔ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ آپ نے کوئی آیت تلاوت فرمائی اس کے بعد آپ اسی کو دہراتے رہے اور اسی حالت میں صبح ہوگئی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات صلوٰۃ میں ایک آیت کی تلاوت کی۔ آپ اسی آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی لہٰذا آپ نے اس پر رکوع و سجدہ کرکے صلوٰۃ ختم کردیا۔ وہ آیت تھی:
’’ان تعذبہم فانہم عبادک و ان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم۔‘‘
(مسند أحمد ۵؍۱۴۹) حدیث صحیح ہے۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود سے قرآن مجید کا کوئی حصہ سنانے کو کہا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پڑھ کر سنائوں جب کہ قرآن آپ پر نازل ہوا؟ آپ نے کہا: میری خواہش ہے کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے سورۂ نساء کی تلاوت آپ کے سامنے کی۔ جب میں ’’فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلآئِ شَہِیْدًا‘‘ (النسائ:۴۱) پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بس۔ میں نے جب نظر اٹھائی تو دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے۔
(صحیح بخاری رقم ۵۰۵۵، صحیح مسلم ۸۰۰)
مذکورہ بالا حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دوران تلاوت اگر کوئی آیت ایسی آتی تھی جس کا مضمون رقت آمیز ہوتا تھا تو آپ پر ایک خاص قسم کی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی۔ اور بعض دفعہ توآپ رو دیا کرتے تھے۔ مگر ایسا سبھی آیتوں کے ساتھ نہیں ہوا کرتا تھا۔ آیت رحمت پر غم کی آواز پیدا کرنا اور غمزدہ آواز میں اس کی تلاوت کرنا کیا معنی رکھتاہے؟ جہاں اللہ تعالیٰ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کرے اور مومنوں کے ساتھ اپنی عنایتوں کا ذکر کرے تو ایسی جگہوں پر فرحت و شادمانی کا اظہار ہونا چاہئے۔

خلاصۂ کلام:

قرآن مجیدکی تلاوت کے وقت بہ تکلف رقت آمیز آواز پیدا کرنا صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت نہیں۔ ہاں اگر آیت کا مضمون کچھ اس قسم کا ہے جس سے اس قسم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ بریدہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیثیں جو اس باب میں وارد ہیں وہ ضعیف ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر تلاوت کلام پاک کی توفیق بخشے۔ آمین

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔