بدھ، 7 فروری، 2018

قصۂ یوسف کا تجزیاتی مطالعہ (کرداروں کے حوالے سے)

0 comments


انسان شروع ہی سے قصے کہانیوں کا رسیا رہاہے۔ اس کی اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے جہاں مصلحین نے اسے اپنے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنا اور نصیحت آمیز واقعات بیان کرکے لوگوں کو نیکی اور بھلائی پر آمادہ کرنے اور بزرگوں کے واقعات بیان کرکے انہی جیسا بنے کا جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے لئے پیش کیا، دوسری طرف یسے لوگوں نے بھی اس میدان مین قدم رکھا جن کا کام صرف تفریح طبع کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس قسم کے لوگوں کی اکثریت زمانہ قدیم میں بھی تھی اور موجودہ زمانے میں بھی انہیں کا غلبہ ہے۔ یہ لوگ تفریح کی خاطر ادب کے نام پر بے ادبی کا جو ننگا ناچ  پیش کرتے ہیں اس سے ہر ذی علم واقف ہے۔
ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو اللہ تعالی نے جن مقاصد کے حصول کے لئے نازل فرمایا ہے اس ثانی الذکر ’ادبائ‘‘ کی روش بالکل ہی میل نہیں کھاتی، وہ قصہ برائے تفریح کے بجائے قصہ برائے اصلاح کا قائل ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کسی واقعہ کو ایک ہی جگہ تفصیل سے بیان کرنے کے بجائے مختلف جگہوں پر تھوڑا تھوڑا کرکے بیان کرتا ہے اور واقعات کے صرف انہیں پہلؤں کو لیتا ہے جو اس کے مقصد کو پورا کرتے ہوں۔ یوسف علیہ السلام کا قصہ اس حیثیت سے تمام قرآنی قصوں میں امتیازی مقام رکھتا ہے کہ اسے ایک ہی جگہ تفصیل کے ساتھ ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس قصہ کو ایسے دلنشین پیرائے میں بیان کیا ہے کہ واقعہ نگاری کی تاریخ میں ایک شاہکار بن گیا۔  قرآن نے نیکی اور بدی دونوں کرداروں کو پیش کرکے اپنے ماننے والوں کو نیک کاروں کی پیروی اور بدی کے کرداروں کے نقش قدم سے دور رہنے کی تعلیم دی ہے۔
اس کہانی میں مرکزی کردار یوسف علیہ السلام کا ہے، پوری کہانی آپ کے گرد اس طرح گھومتی ہے کہ کہانی کا کوئی منظر بھی ایسا نہیں ہے جس میں آپ کی جھلک نہ نظر آتی ہو۔ آپ کے اندر دیانت، امانت، عفت، حق شناسی، حق گوئی، اور توازن ذہنی جیسی غیر معمولی صفات کوٹ کوٹ کر بھی ہوئی ہے۔ ’’غریبی جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب قسمت آپ کو دنیا کی سب سے متمدن سلطنت کے پایۂ تخت میں ایک بڑے رئیس کے یہاں لے آتی ہے۔ یہاں پہلے تو اس گھر کی بیگم ہی آپ پر فریفتہ ہوجاتی ہے ۔ آپ کے حسن کا چرچا سارے شہر میں پھیل جاتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں آپ پر فریفتہ ہوجاتی ہیں۔ اب ایک طرف آپ ہیں دوسری طرف سیکڑوں خوب صورت جال ہیں جو ہر جگہ آپ کو پھانسنے کے لیے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی تدبیریں آپ کی ضد کو ٹوڑنے اور آپ کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ جدھر بھی جاتے ہیں یہی دیکھتے ہیں کہ گناہ اپنی ساری خونمائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ دروازہ کھولے کھڑا ہے۔ کوئی فجور کے مواقع کی تلاش میں ہوتا ہے مگر یہاں خود مواقع آپ کی تلاش میں ہیں کہ جس وقت بھی آپ کے دل میں برائی کی طرف معمولی سا میلان بھی پیدا ہو وہ فوراً اپنے آپ کو اس سامنے پیش کردیں،ان حالات میں جس پامردی کے سا تھ آپ ان شیطانی ترغیبات کامقابلہ کرتے ہیں بذات خود قابل تعریف ہے۔ اس پر مزید یہ کہ کبھی آپ کے ذہن میں ذرہ برابر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ واہ رے میں، کیسی مضبوط ہے میری قوت ارادی کہ ایسی ایسی حسین اور جوان عورتیں میری گرویدہ ہیں مگر پھر بھی میرے قدم نہیں پھسلتے۔ بلکہ بشری کمزوریوں کا خیال کرکے کانپ جاتے ہیں اور اللہ سے یہ التجاء کرتے ہیں کہ اے رب، میں کمزور انسان ہوں، میرا اتنا بل بوتا کہاں کہ میں ان بے پناہ شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرسکوں تو مجھے سہار دے اور بچا، ڈرتا ہوں کہ میرے قدم پھسل نہ جائیں۔ (تفہیم القران جلد دوم ص ۳۹۸)
ایک اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ نے اپنے محسن کے احسان کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ خواہ عزیز مصر کی بیگم کی دعوت کو ٹھکرانے کا معاملہ ہو یا قیدخانہ سے نکلنے کا معامہ ہو۔ آپ نے یہ گوارہ نہ کیا کہ آپ کے کسی عمل سے آپ کے محسن عزیز مصر کو لوگوں کے سامنے رسوا ہونا پڑے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ عزیز مصر کی بیوی سے اس معاملہ کی حقیقت دریافت کرلو جس کی پاداش میں مجھے قید خانہ میں ڈالا گیا ہے۔ بلکہ اس کی جگہ پر آپ نے جو الفاظ کہے وہ تھے’ان عورتوں سے دریافت کرو کہ ان کا کیا معاملہ ہے جو انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘  صبروضبط کا یہ عالم ہے کہ برسوں قید خانہ میں بغیر کسی گناہ کے پڑے رہنے کے بعد جب قید خانہ سے نکلنے کا شاہی فرمان آتا ہے تو آپ قید خانہ سے نکلنے میں کچھ بھی جلدی نہیں کرتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے معاملہ واضح ہوجائے کہ غلطی کس کی ہے۔ جرم کا کلنک پیشانی پر لیے ہوئے رہائی حاصل کرنے پر آپ نے قید خانہ ہی میں پڑے رہنے کو ترجیح دیا۔ یہ ایسا موقع ہے کہ اللہ کے حبیب محمد ﷺ نے فرمایا کہ ’اگر میں یوسف کی جگہ ہوتا تو داعی کی آواز پر لبیک کہہ دیتا۔‘‘
دراصل یوسف کا کردار ایک نبی کا کردار ہے۔ قرآن نے اس واقعہ کو جس انداز میں بیان کیا اس میں نبی کی عظمت کا خاص طور پر خیال رکھا ہے۔ قید خانہ سے رہائی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے، لیکن یہ احساس کہ قید خانہ سے باہر جانے کے بعد بھی ہوسکتا کہ کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات رہے کہ واقعی یوسف نے کچھ جرم کیا تھا۔ اگر ایسا ہواتو ان کی دعوت متاثر ہوتی جو کہ نبی کا اولین کا ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے جیل سے نکلنے سے پہلے اپنی بے گناہی ثابت کی۔
نبی کا کام دعوت وتبلیغ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جیل کی چہار دیواری بھی آپ کو دین کی دعوت دینے سے نہیں روک سکی۔ جیسے ہی آپ کو موقع ملا، آپ نے جیل کے ساتھیوں کے سامنے دین کی دعوت پیش کردی۔ آپ کے کردار کا اعلیٰ نمونہ اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب آپ کے وہ بھائی جنہوں نے آپ کو قتل کرنے کے لیے کنویں میں پھینکا تھا اور اپنے گمان میں انہوں نے آپ کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا، آپ کے سامنے مجرم کی طرح کھڑے تھے۔ اس موقع پر آپ کے والدین بھی آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ آپ نے دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے اور طعن وملامت کے تیر برسانے کے بجائے نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کردیا بلکہ خود ان کی طرف سے معذرت پیش کردی کہ ’شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی‘۔
اس کہانی کے اہم کردار برادران یوسف کابھی ہے ان کا کردار اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ انہیں کی وجہ سے کہانی کا پہلا موڑ آتا ہے اور آپ مصر کے بازار میں پہنچتے ہیں۔ گویا آپ کو عروج کے پہلے زینہ پر آپ کے بھائیوں نے پہنچایا۔ ان کا کردار یوسف کے کردار کے مقابل میں ہے۔ ان کے اندر جس قدر اچھائیاں ہیں اسی کے بقدر ان بھائیوں کے اندر برائیاں ہیں۔ یہ حسد وکینہ اور مکروفریب کا نمونہ ہیں۔ بڑے سے بڑا جھوٹ بولنے میں انہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی۔ والدین کے ادب واحترم کا ذرا بھی پاس لحاظ نہیں۔ ان کے حسد کا یہ عالم ہے کہ والد محترم کی محبت کو یوسف کے طرف مائل دیکھ کر یوسف علیہ السلام سے حسد کرنے لگے اور آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے ایک کنویں میں پھینک آئے، مکروفریب اور کذب بیانی کی انتہا کرتے ہوئے اپنے والد کے پاس آکر کہتے ہیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ ثبوت کے طور پر یوسف کی قمیص کو خون میں لت پت کرکے لاتے ہیں۔ ان کی بہتان تراشی کا گھٹیا نمونہ دیکھنے کو اس وقت ملتا ہے جب یہ خود یوسف پر چوری کا الزام لگانے سے نہیں چوکتے۔ کتنی دلیری سے کہتے ہیں۔’ اگر اس (بن یامین) نے چوری کی ہے تو کوئی نئی بات نہیں، اس کے بھائی (یوسف) نے بھی چوری کی تھی۔‘انہیں والد کے ادب واحترام کا لحاظ نہیں۔ ان کے لخت جگر کو ان سے جدا کردیتے ہیں، پھرانہی کو برا بھلا کہتے ہیں کہ وہ یوسف کو کیوں برابر یاد کرتے ہیں۔ برادران یوسف اگرچہ اس کہانی میں ولن کے کردار میں ہیں لیکن قرآن نے سب کو ایک جیسا نہیں دکھایا ہے۔ ان میں بھی یوسف کا بڑا بھائی ان سب میں قدرے غنیمت تھا۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس کا ضمیر سوگیا تھا۔ جب یوسف علیہ السلام سے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے اپنے پاس روک  لیتے ہیں تو بڑے بھائی کا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ بن یامین کو چھوڑ کر والد محترم کو اپنی شکل دکھائے۔ چنانچہ وہ وہیں رک جاتا ہے۔ قرآن بڑے بھائی کے قول کو اس طرح نقل کرتا ہے۔
’’ان میں سے سب سے بڑے نے کہا ’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد وپیمان لے چکے ہیں؟ اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو کچھ تم کرچکے ہو وہ تمہیں معلوم ہے۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤنگا جب تک کہ والد محترم مجھے اجازت نہیں دے دیں۔ یاپھر اللہ ہی کوئی فیصلہ فرمادے۔ کیوں کہ وہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘
اس کہانی میں تیسرا اہم کردار عزیز مصر کی بیگم کا ہے۔ یہ کردار اس قدر اہم ہے کہ اس کے بغیر یوسف علیہ السلام کے قصے کا تصور ہی نہیں۔ اسی عورت کی بدولت آپ کو قید خانہ کی ہوا کھانی پڑی اور برسوں آپ کو قید خانے میں رہنا پڑا، جو بعد میں چل کر مصر کے تخت پر پہنچنے کا سبب بنا۔
اس عورت کے کردار میں ایک انتہائی ضدی اور بے شرم عورت کی جھلک ملتی ہے۔ اس کی ذہنیت کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص پر دیوانہ ہوگئی جس کی پرورش وپرداخت کی ذمہ داری اس کے کندھے پر تھی، جو اس کے بیٹے کی طرح تھا۔ بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے بجائے یہ ثابت کرنے کوشش کرتی ہے کہ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کچھ کرتا جومیں نے کیا، اپنی سہلیوں کو دعوت پر بلا کران کے ہاتھ میں چاقو اور پھل پکڑادیتی ہے۔ جیسے ہی یہ ’معزز خواتین‘  یوسف علیہ السلام کو دیکھتی ہیں ان کے حسن کی تاب نہ لاکر اس قدر مبہوت ہوجاتی ہیں کہ بجائے پھل کے اپنے ہاتھوں کو کاٹ لیتی ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتی ہیں کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ اگر ہم بھی اس مقام پر ہوتے تو یہی کچھ کرتے۔ پھر بے شرمی کی انتہا کرتے ہوئے ان کے سامنے یہ اعلان کرتی ہے کہ اگر اس غلام نیمیری خواہشات نفس کی تکمیل نہ کی  تو میں اسے قید خانہ کی ہوا کھانے پر مجبور کردوں گی۔ اس نے جو کچھ کہا اس پر عمل بھی کیا۔ بیگم عزیز مصر کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کو برائیوں سے دور رکھنے والی چیز حیا ہے۔ اگر شرم وحیا ہی ختم ہوجائے تو وہ ہر قسم کی برائی کرسکتی ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی بدنام کرنے سے نہیں چوکتی۔
اس کہانی کا چوتھا اہم کردار یوسف علیہ السلام کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کا ہے۔ قرآن نے ان کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ ایک غیر معمولی انسان کی صورت ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو کمال درجے کا باوقار ہے۔ اتنی بڑی غم انگیز خبر سن کر بھی اپنے حوش وحواش نہیں کھوتا، اپنی فراست سے معاملہ کی تہ تک پہنچ جاتا ہے کہ ایک بناوٹی کہانی ہے۔ یہ سب کچھ ان حاسد بھائیوں نے کیا ہے۔ یہ سب جاننے کے باوجود کہ یوسف کو غائب کرنے والے یا دوسرے لفظوں میں جان سے مارنے والے یہی برادران یوسف ہیں ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرتے ہیں۔ انہیں مصر بھیجتے وقت جو نصیحت کرتے ہیں اس کے ایک ایک لفظ سے شفقت اور محبت ٹپکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کہتے ہیں:
’’میرے بیٹو! مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل مت ہونا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر کوئی مصیبت آجائے۔‘‘
اللہ پر بھروسہ کا یہ عالم ہے کہ یوسف کو جدا ہوئے ایک زمانہ ہوگیا لیکن اپنے بیٹوں کو یوسف کی تلاش میںبھیجتے ہیں۔
’’اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور اس کے بھائی (بن یامین ) کا پتہ لگاؤ۔ اس کی رحمت سے مایوس یہ ہو۔  اللہ کی رحمت سے کافر قوم ہی مایوس ہوتی ہے۔‘‘
معاملہ واضح ہوجانے، اور بیٹوں کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد جب بیٹے آپ سے معافی کی درخواست کرتے ہیں تو ایک شفیق باپ کی طرح سے ان کی درخواست قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ جلد ہی تمہارے
لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا۔ بے شک وہ بخشنے والا اور رحیم ہے۔‘‘
ان چاروں کرداروں کے علاوہ عزیز مصر کا کردار، عزیز مصر کی بیگم کی سہیلیوں کا کردار بھی قابل ذکر ہے۔ خاص طور پر عزیز مصر کا کردار ، جس نے یوسف علیہ السلام کی پرورش کا انتظام کیا۔ دیار غیر میں ایک شفیق باپ کا سایہ فراہم کیا۔ یہ سبھی کردار اس عظیم ہستی یوسف اور ان کے والد یعقوب علیہ السلام کی بدولت زندہ وجاوید ہوگیے۔
اس کہانی کی ایک اہم بات یہ ہے کہ کہانی میں فنی اعتدال ہے۔ کہانی کو دھیرے دھیرے کلائمکس پر لاکر ختم کردیا ہے۔ ایک بامقصد کہانی کی طرح اس کہانی میں آخر میں سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے۔ بچھڑے ہوئے لوگ اپنوں سے مل جاتے ہیں۔ گنہگار اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ اور انہیں معاف بھی کردیا جاتا ہے۔  دراصل اس کے ذریعہ یہ پیغام دیا گیا ہے کہ نیکی اور بدی کے معرکہ میں فتح نیکی کو ملتی ہے۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔