منگل، 6 فروری، 2018

کیا ہر مانگنے والے کو دینا ضروری ہے؟

0 comments

عوام کو اپنی چرب زبانی کے ذریعہ موم کرنے والے پیشہ ور فقیر عام طور پر اپنے پیشہ کے جائز بتانے کے لیے مندرجہ ذیل حدیث دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اس وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی حالت اور مسئلہ کی مختصر وضاحت کردی جائے تاکہ عوام کو حقیقت حال سے آگاہی ہوجائے:
للسائل حق و لو جاء علی فرس۔
’’مانگے والے کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔‘‘

تخریج: 

یہ حدیث حسین بن علی، علی بن ابی طالب، ابن عباس، انس بن مالک، ہرماس بن زیاد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی جاتی ہے۔
حسین بن علی کے طریق سے ابودائود نے کتاب الزکوٰۃ (رقم ۱۶۶۵) میں، امام احمد نے اپنی مسند (۱؍۲۰۱) میں، ابوشیبہ نے مصنف (۲؍۱۸۶؍۲) میں، ابویعلی نے اپنی مسند (۳۱۷؍۲) میں اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
علی بن ابی طالب کے طریق سے ابودائود (۱۶۶۶) اور قضاعی نے ’’مسند الشہاب‘‘ (۱۹؍۲) میں اس کی تخریج کی ہے۔
ابن عباس کے طریق سے اس کی تخریج ابن عدی نے ’’الکامل‘‘ (۸؍۲)میں ابراہیم المکی کے ترجمہ میں کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تخریج ابوجعفر الرزاز نے ’’ستۃ مجالس من الأمالی‘‘ (ق ۱۱۹؍۱) میں کی ہے۔
ہرماس کی حدیث کو ہیثمی نے ’’المجمع‘‘( ۳؍۱۰۱) میں بیان کیا ہے۔
نیز اس حدیث کو مرسلاً امام مالک نے مؤطا (۲؍۹۹۶) میں بیان کیا ہے اور اس کے علاوہ المقاصد (۳۳۷)، التمییز (۱۲۷)، الأسرار (۳۷۲)، الکشف (۲؍۱۴۸) اور تذکرۃ الموضوعات (۶۲) میں یہ حدیث بیان کی گئی ہے۔

حدیث کا درجہ:

اس حدیث کی سبھی سندیں ضعیف ہیں، جن لوگوں نے اس کی بعض سندوں کی توثیق کی ہے ان سے خطا ہوئی ہے جیساکہ امام البانی رحمہ اللہ نے ’’سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ‘‘ (۱۳۷۸) میں کہا ہے۔

علت : 

حسین بن علی کی حدیث میں ایک راوی یعلی بن ابی یحییٰ ہیں، ابوحاتم اور ان کے اتباع میں حافظ ابن حجر نے انھیں مجہول کہا ہے۔ ان سے روایت کرنے والے مصعب بن محمد ہیں ابن معین نے ان کی توثیق کی ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے:
یکتب حدیثہ و لا یحتج بہ۔
’’ان کی حدیثوں کو لکھا جاتا ہے مگر ان سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔‘‘
علی بن ابی طالب کی حدیث میں فاطمہ بنت حسین سے روایت کرنے والے شیخ کا نام مذکور نہیں لہٰذا ان کی جہالت کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ علامہ البانی نے کہا ہے کہ اس سے مراد یعلیٰ بن ابی یحییٰ ہیں اس صورت میں بھی وہ مجہول ہیں۔
ابن عباس کی روایت میں ایک راوی سلیمان الأحول ہیں، البانی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں کہا ہے کہ میں انھیں نہیں جانتا۔ ان سے روایت کرنے والے ابراہیم بن یزید المکی ہیں جن کے بارے میں ابن عدی نے کہا ہے:
عندی أنہ یسرق الحدیث
’’میرے نزدیک یہ حدیث چور ہے۔‘‘
امام احمد اور نسائی نے انھیں متروک الحدیث اور ابن معین نے ’’لیس بثقۃ‘‘ کہا ہے۔  امام بخاری نے کہا ہے: ’’سکتوا عنہ‘‘ محدثین نے ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔ (میزان الاعتدال للذہبی ۱؍۷۵)
انس بن مالک کی حدیث کو سیوطی نے ’’ذیل الأحادیث الموضوعۃ‘‘ (ص۱۹۹) میں بیان کیا ہے اس لیے کہ اس کی سند میں ابوہدبہ ہیں جن کا نام ابراہیم بن ہدبہ ہے۔ ذہبی نے ان کے بارے میں کہا ہے: بغداد کے علاوہ ان کی حدیثیں باطل ہوتی ہیں اور ابوحاتم نے انھیں کذّاب کہا ہے۔
ہرماس کی حدیث میں ایک راوی عثمان بن فائد ہیں جن کو ہیثمی نے ضعیف کہا ہے۔ رہا ابن حبان کا ان کی توثیق کرنا تو انھیں عثمان بن فائد کے نام پر شبہ ہوا ہے ورنہ خود انھوں نے انھیں الضعفاء (۲؍۱۰۱) میں شمار کیا ہے۔ نیز ابن حبان ضعیف راویوں کی توثیق میں غفلت برتنے میں مشہور ہیں، لہٰذا یہاں ان کا اعتبار نہیں ہوگا۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان کی غفلت پر الضعیفۃ (ج۳ ص۵۶۰) میں ان پر سخت تنقید کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں عبداللہ المخرومی ہیں ان کے ترجمہ میں ابن عدی نے کہا ہے:
و ہو مع ضعفہ یکتب حدیثہ علی أنہ قدوثقۃ غیر واحد۔
’’اگرچہ یہ ضعیف ہیں مگر ان کی حدیثوں کو لکھا جاتا ہے اس لیے کہ ان کی کئی لوگوں نے توثیق کی ہے۔‘‘
 ابن حجر نے انھیں ’’صدوق فیہ لین‘‘ کہا ہے۔
اس حدیث کو امام مالک نے مرسلاً روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح ٹھہرایا اور چوں کہ مرسل بھی ضعیف ہی کی قسم ہے اس وجہ سے یہ بھی ضعیف ہے۔ 

خلاصۂ کلام

خلاصۂ کلام یہ کہ اس حدیث کی سبھی سندیں ضعیف ہیں۔ 
شیبانی نے التمییز (۱۲۷) میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام احمد ابن حنبل کا قول نقل کیا ہے:
حدیثان یدوران فی الأسواق و لا أصل لہما و لا اعتبار، قولہم: للسائل حق و لو جاء علی فرس، والثانی: یوم نحرکم یوم صومکم۔
’’دو حدیثیں عوام میں گردش کر رہی ہیں جب کہ ان کی کوئی اصل و حقیقت نہیں۔ پہلی حدیث ہے: مانگنے والے کاحق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ دوسری حدیث: تمہارا قربانی کا دن تمہارے روزہ کے دن کے مانند ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ یہ اور ان جیسی ضعیف و موضوع روایتوں نے مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھیک مانگنے کو بطور پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ بھکاریوں کی کثرت مسلم علاقوں کی پہچان بن گئی ہے، مسجد کی وسعت کا اندازہ مصلیوں سے نہیں بلکہ اس کے باہر کھڑے بھکاریوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ 
یہ بات چونکانے والی ہے کہ بڑے شہروں میں بھکاری مافیا کئی سالوں سے سرگرم ہیں یہ بچو ںکو پکڑتے ہیں اور انھیں مفلوج بنا کر ان سے بھیک منگواتے ہیں اور ان پیسوں سے عیش کرتے ہیں۔
کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ مسجد کے گیٹ کے باہر کھڑے بھکاری نماز ادا کرتے ہیں؟ ان میں سے اکثر پنجوقتہ نماز تو دور جمعہ اور عیدین کی صلوٰۃبھی نہیں پڑھتے۔ اگر ہم ہر مستحق و غیر مستحق  مانگنے والے کو اس کا حق سمجھ کر بھیک دیتے رہیں گے تو یہ لعنت ختم کر بھیک دیتے رہیں گے تو یہ لعنت ختم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی ہی رہے گی۔ ہمیں ان بھکاریوں کو بھیک دینے سے پہلے یہ غور کرلینا چاہئے کہ کہیں ہم ان کی بے جا حوصلہ افزائی تو نہیں کر رہے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔