بدھ، 7 فروری، 2018

بچوں کا مسجد میں داخلہ اور مساجد کا تقدس

0 comments

چھوٹے بچوں کے مسجد میں داخلہ کے تعلق سے عوام کے دہنوں میںیہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ انھیں مسجد میں نہیں لانا چاہئے، بعض کم پڑھے لکھے مسجدوں کے امام صاحبان بھی لوگوں کو اس سے روکتے ہیں، اس سلسلے میں جس حدیث سے دلیل پکڑی جاتی ہے وہ حد درجہ ضعیف ہے۔ ذیل میں اس ضعیف حدیث کو بیان کیا جائے گا ساتھ ہی اصل مسئلہ کی مختصر طور پر وضاحت کی جائے گی۔ حدیث یہ ہے:
جنبوا مساجدکم صبیانکم و مجانینکم و شراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع أصواتکم و إقامۃ حدودکم و سلَّ سیوفکم و اتخذوا علی أبوابہا المطاہر و جمروہا فی الجمع۔
’’اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچائو نیز خرید و فروخت، لڑائی جھگڑے، آواز بلند کرنے، حد قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے مسجدوں کو بچائو۔ مسجد کے دروازے پرطہارت کے واسطے جگہ بنائو۔ جمعہ کے دن مسجدوں میں خوشبو کی دھونی دو۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج ابن ماجہ (رقم ۷۵، کتاب المساجد و الجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد) نے بروایت حدثنا أحمد بن یوسف السلمی قال حدثنا مسلم ابن إبراہیم قال حدثنا حارث بن نبہان قال حدثنا عتبۃ بن یقظان عن أبی سعد عن مکحول عن واثلۃ بن الأسقع مرفوعاً کی ہے، نیز اسے منذری نے الترغیب و الترہیب (۱؍۱۹۹) میں اور علامہ سیوطی نے الجامع الصغیر (۳۶۰۱) میں بیان کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

حدیث ضعیف ہے۔

علت:

۱۔            حدیث کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہیں انھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم الترجمۃ: ۱۰۵۱) میں متروک قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے رجل صالح منکر الحدیث اور بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے۔ (دیکھیں: میزان الاعتدال ۱؍۴۴۴ رقم الترجمۃ: ۱۶۴۹)
۲۔           ایک دوسرے راوی عتبہ بن یقظان ہیں جنھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم ۴۴۴۴) میں ضعیف کہا ہے۔ ذہبی نے میزان الاعتدال (۳؍۳۰ رقم ۵۴۸۰) میں امام نسائی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ انھو ںنے انھیں ’’غیر ثقۃ‘‘ کہا ہے اور کہا ہے: ’’قوّاہ بعضہم‘‘ یعنی انھیں بعض نے قوی قرار دیا ہے۔مگر قوی قرار دینے والوں کا نام نہیں درج کیا۔ یاد رہے کہ عتبہ بن یقظان سے کتب ستہ میں صرف ابن ماجہ ہی میں روایت آئی ہے، بہرحال سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے، اس میں لگاتار دو ضعیف راوی ہیں عتبہ بن یقظان اور ان سے روایت کرنے والے حارث بن نبہان، خاص طور سے عتبہ بن یقظان، جن کے بارے میں ہیثمی نے کہا ہے: ’’اتفقوا علی ضعفہ‘‘ محدثین نے ان کے ضعیف ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
مذکورہ حدیث میں بچوں کو مسجد میں لے جانے کی ممانعت کے علاوہ چھ مزید چیزوں سے منع کیا گیا ہے اور دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں پر موضوع بحث بچوں کو مسجد سے دور رکھنے کا حکم ہے، اس پر گفتگو کرنے سے پہلے مختصر طور پر حدیث میں وارد دوسرے امور کا ذکر مناسب ہوگا۔

پاگل کامسجد میں داخلہ:

جس شخص کی عقل زائل ہوگئی ہو اس پر نماز فرض نہیں ہے، پھر بھی اگر وہ مسجد میں آئے تو اسے مسجد سے نکال دینے سے متعلق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں، ہاں، فقہاء کرام نے کہا ہے کہ اگر اس کا پاگل پن اس حد تک ہو کہ وہ اپنے ستر کا خیال نہ رکھ پاتا ہو یا شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرسکتا ہو تو چوں کہ اس سے نمازیوںکی نماز پر اثر پڑے گا اس لیے ایسے پاگل شخص کو مسجد سے دور رکھا جائے۔
(دیکھیں: کتاب الفقہ علی المذاہب الأربعۃ ۱؍۳۸۸)

خرید و فروخت:

اس کے حرام ہونے سے متعلق دوسری صحیح احادیث وارد ہیں۔ سنن ابودائود و ترمذی کی روایت ہے:
نہی (رسول اللہ) عن تناشد الأشعار فی المسجد و عن البیع و الإشتراء فیہ۔
’’اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے اور خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘
(دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم ۱۰۷۹، سنن ترمذی رقم ۳۲۲  و اللفظ لہ  )
لڑائی جھگڑا اور آواز بلند کرنا:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے کھوئے ہوئے جانور کے بارے میں مسجد میں آواز بلند کرتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا:
لا ردہا اللہ علیک فإن المساجد لم تبن لہذا۔
(صحیح مسلم رقم۵۶۸)
’’اللہ اسے تیرے پاس واپس نہ کرے،یاد رکھو مساجد اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں۔‘‘
مذکورہ حدیث کی رو سے فقہاء نے مسجد میں غیرضروری آواز بلند کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو مسجد نبوی میں آوازبلند کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہا کہ اگر تم دونوں مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو تمھیں مارتا۔
(صحیح بخاری رقم ۴۷۰)
آپ نے مسجد نبوی کے بغل میں ایک صحن بنا دیا تھا کہ جسے بات چیت کرنی ہو، شعر پڑھنا ہو یا آواز بلند کرنا ہو تو اس صحن کی طرف نکل جائے۔ (موطا :۱؍۱۷۵ رقم ۹۳)
جب آواز بلند کرنے کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد ہے کہ ’’مسجدیں اس کے لیے نہیں بنی ہیں‘‘ تو لڑائی جھگڑے کے بارے میں بدرجۂ اولیٰ یہ حکم ہوگا۔ یہ مسئلہ مسجد میں قصاص کا مطالبہ کرنے کی ممانعت کی حدیث سے مزید واضح ہوجاتا ہے۔
(دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم: ۴۴۹۰)

مسجد میں حد قائم کرنے کی ممانعت:

اس کی ممانعت کا حکم ابودائود کی ایک صحیح حدیث میں ہے جس میں آپ نے مسجد میں حد قائم کرنے سے منع فرمایا۔                                 (دیکھیں: سنن أبی أبی داؤد:۴۴۹۰)

تلوار کھینچنے کی ممانعت:
تلوار کھینچنے کی ممانعت ابوائود کی ایک صحیح حدیث سے ہوتی ہے جس میں آپ نے ہتھیار کھول کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔
(دیکھیں: سنن أبی داؤد: ۲۵۸۶تا۲۵۸۸)
دروازے پر وضوء خانہ یا بیت الخلاء کی تعمیر:
اس تعلق سے کوئی صحیح حدیث نہیں ہے لہٰذا اس کی تعمیر جہاں کہیں بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں، ایسی جگہ نہ ہو جس سے مسجد میں نمازیوں کو پریشانی ہو یا اس کی بدبو مسجد میں پہنچے اس لیے کہ مسجد میں بدبودار چیز کھاکر جانے سے منع کیا گیا ہے۔
(صحیح مسلم رقم ۵۶۱ تا۵۶۷)

خوشبو کی دھونی دینا:

مسجد میں خوشبو کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خوشبو کرنے کو کہا ہے۔
(دیکھیں: سنن أبی داؤد رقم :۴۷۹)
ہاں، خوشبو کے نوعیت کی کوئی تعیین نہیں ہے وہ دھونی کی شکل میں بھی ہو سکتی اور اس کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے۔

مسجد میں بچوں کا داخلہ:

اس حدیث کی وجہ سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور انھوں نے مسجد میں بچوں کو لانے کو ناپسند کیا ہے حالاں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور دوسری صحیح احادیث سے ٹکراتی ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ چھوٹے بچوں کو مسجد میں لاتے بلکہ ایک مرتبہ آپ نے اپنی نواسی کو گود میں لے کر صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔ ابوقتادہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی و ہو حامل أمامۃ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و لأبی العاص بن الربیع فإذا قام حملہا و إذا سجد وضعہا۔ (صحیح مسلم: ۵۴۳، کتاب الصلاۃ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلاۃ)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور (اپنی نواسی) امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھا لیتے اورسجدہ میں جاتے تو زمین پر رکھ دیتے۔‘‘
یہ حدیث نہ صرف یہ کہ بچوں کو مسجد میں لانے کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے بلکہ انھیں گود میں لے کر نماز ادا کرنے کے جواز پربھی دلالت کر رہی ہے، بعض لوگو ںنے اس حدیث کو نفل نماز کے لیے خاص مانا ہے لیکن حدیث کے الفاظ جو دوسرے طریق سے صحیح مسلم میں وارد ہیں ان میں صراحت ہے کہ آپ امامہ کو گود میں اٹھائے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی اور ایسا کرنا صرف آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے ہی خاص نہیں تھا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں:
فالصواب الذی لا معدل عنہ أن الحدیث کان لبیان الجواز و التنبیہ علی ہذہ الفوائد فہو جائز لنا و شرع مستمر للمسلمین إلی یوم الدین۔ (صحیح مسلم مع شرح النووی: ۵؍۳۳)
’’صحیح اور سیدھی بات یہ ہے کہ حدیث بیان جواز کے لیے اور مذکورہ فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے ہے لہٰذا یہ ہمارے لیے جائز ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے مشروع ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو مسجد میں آتے دیکھ کر خطبہ روک دیا اور منبر سے اتر کر انھیں گود میں لے کر منبر پر چڑھے۔ (دیکھیں: سنن ترمذی: ۳۷۷۶، سنن أبی داؤد: ۱۱۰۹، سنن ابن ماجہ: ۳۶۰۰، سند حسن ہے)
بچوں کو مسجد میں لانا اگر کوئی ناپسندیدہ عمل ہوتا تو آپ ایسا ہرگز نہ کرتے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ بچوں کو مسجد میں آنے سے خلل واقع ہونے کی شرط صحیح نہیں، اس لیے کہ آپ منبر سے اتر کر انھیں اٹھانے کے لیے گئے اور پھر انھیں گود میں اٹھاکر لائے۔ آپ کا یہ کام خطبہ کے عمل میں واقعی خلل تھا۔
مذکورہ بالا دونوں حدیثیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھیں اس لیے ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ یہ کہیں کہ یہ تو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، دوسرے لوگ اپنے بچوں کو مسجد میںنہیں لاتے تھے لیکن صحیح مسلم کی ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ عام صحابہ کے بچے بھی مسجد میں آتے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنی لأدخل فی الصلاۃ أرید إطالتہا فأسمع بکاء الصبی فأخفف من شدۃ و جد أمہ بہ۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی: ۴؍۱۸۷ رقم الحدیث: ۴۷۰)
’’میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور نماز کو لمبا کرنا چاہتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو ہلکی کردیتا ہوں، اس کی ماں کو اس کی وجہ سے پریشان ہونے کی وجہ سے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ نماز باجماعت پڑھنے آیا کرتی تھیں، لہٰذا بچوں کے مسجد میں آنے سے نماز یا مسجد کے تقدس پر کوئی حرف آتا ہے نہ عورتوں کے آنے سے، جو لوگ اس قسم کی باتیںکہتے ہیں وہ لاعلمی کی وجہ سے ایسا کہتے ہیں۔
عوام کی بات ہی الگ ہے مساجد کے ائمہ لاعلمی میں مذکورہ ضعیف حدیث کا حوالہ دے کر بچوں کو مسجد میں لانے سے روکتے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ کوئی شخص بچے کے ساتھ مسجد چلا جائے تو لوگ اسے اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے اس نے کوئی غلطی کردی اور اگر اتفاقاً بچے نے دوران نماز کوئی شرارت کردی ہو تو نماز کے بعد ہر کوئی اسے تنقید کا نشانہ بنانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ بچوں کو مسجد سے قریب لانے اور ان کے اندر مسجد کی محبت بٹھانے کے لیے انھیں زیادہ سے زیادہ مسجد میں لایا جائے اور اگر کوئی شرارت ان سے سرزد ہو جائے تو انھیں پیار سے سمجھایا جائے یا نظر انداز کر دیا جائے۔ ایک طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ آپ اپنی نواسی کو گود میں لے کر امامت فرما رہے ہیں دوسرا طریقہ ہمارا ہے کہ بچے کو اولاً مسجد میں لاتے ہی نہیں اور اگر کوئی لے آئے تو اس ’’غلطی‘‘ پر اسے کھری کھوٹی سناتے ہیں۔ بتائیے کون سا طریقہ لائق عمل ہے؟

بچوں کے شور شرابہ کی وجہ:

ہماری مسجدوں میں بچے اگر دوران نماز شور شرابہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ خود ہمارا اپنا عمل ہے، ہم انھیں اچھوتوں کے مانند صف بندی کے وقت ہی مسجد کے ایک کونے میں سب سے پچھلی صف میں کھڑا کرکے شور شرابہ کا موقع فراہم کردیتے ہیں۔ صف بندی کا یہ طریقہ سنت نبوی کے خلاف ہے، آپ کا طریقہ یہ تھا کہ نماز کھڑی ہوتی اسی وقت جتنے  موجود ہوتے آپ لیلنی منکم أولوالاحلام  والنہی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم (صحیح مسلم:۴۳۲) (نمازیوں میں سے عقل و خرد رکھنے والے مجھ سے قریب ہوں پھر جو ان سے کم ہوں وہ رہیں، اس کے بعد ان سے کمتر عقل والے نماز کی صف بندی میں ہوں) کے مطابق صف بندی کیا کرتے تھے۔ صف بندی کے وقت پہلے بڑوں کی صف، پھر اس وقت موجود بچوں کی صف بندی ہوتی پھر عورتوں کی صف ہوتی۔ (دیکھیں: نیل الأوطار للشوکانی: ۲؍۲۲۴) ایسا نہیں ہوتا تھا کہ مردوں کی صف کے بعد تاخیر سے آنے والینمازیوںکے لیے جگہ چھوڑ دی جاتی رہی ہو اور بچوں کی صف مسجد کے کسی کونے میں بنائی جاتی رہی ہو۔ جب ہم نے صف بندی کا نبوی طریقہ چھوڑ دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچے مسجدوں کے لیے ایک مسئلہ بن گئے۔ اس ’’مسئلہ‘‘ سے نپٹنے کا یہی طریقہ ہے کہ صف بندی کا وہی طریقہ نافذ کیا جائے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رائج تھا۔ ایک دودفعہ بچے شور مچائیں گے، شرارتیں کریں گے مگر حکمت عملی کے ساتھ انھیں سمجھانے پر وہ مان جائیں گے۔ خاص طور پر انھیں یہ احساس رہے گا کہ بڑوں کے درمیان رہ کر نماز پڑھ رہے ہیں اس لیے وہ شرارت کم کریں گے۔    

خلاصۂ کلام:

بچوں کا ذہن کچا ہوتا ہے اسی عمر میں اگر انھیں مسجد میں لایا جائے تو اس سے مسجد میں آنے کی عادت بنے گی اور مستقبل میں چل کر وہ اچھے نمازی ثابت ہو ںگے۔ اگر وہ کچھ شرارت بھی کریں تو اسے نظرانداز کریں یا پیار سے انھیں سمجھائیں، غیراخلاقی طریقے سے ڈانٹ ڈپٹ کر ان کے دل میں مسجد سے نفرت نہ پیدا کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنے کی توفیق دے۔ آمین           

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔