بدھ، 7 فروری، 2018

ترجیع کے ساتھ اذان کہنے کا ثبوت احادیث کی روشنی میں

0 comments


نبی کریم ﷺ کی کچھ سنتیں ہمارے لئے اس قدر اجنبی ہوگئی ہیں کہ ان کا نام لیتے ہی لوگ تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’کیا یہ بھی سنت ہے‘‘؟ انہیں مردہ سنتوں میں سے ترجیع کے ساتھ اذان کہنا بھی ہے۔ ترجیع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اذان کہتے وقت مؤذن أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمدا رسول اللہکو پہلے دو مرتبہ دھیمی آواز میں کہے پھر انہیں کلمات کو بلند آواز سے کہے۔ اذان کا یہ طریقہ پیارے رسول ﷺ نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اور ابو محذورہ پوری زندگی اسی کے مطابق اذان دیتے رہے:
 ’’عن أبی محذورۃ أن رسول اللہ ﷺ أقعدہ و ألقی علیہ الأذان حرفاً حرفاً قال إبراہیم: مثل أذاننا، قال بشر: فقلت لہ: أعد علی فوصف الأذان بالترجیع‘‘۔
’’ابو محذورہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بٹھایا اور اذان کا ایک ایک کلمہ بول کر سنایا۔ (حدیث کے راوی) ابراہیم کہتے ہیں کہ ہماری اذان کی مانند، بشر نے ابو محذورہ سے کہا: آپ ہمارے لئے اذان کو دہرائیں۔ چنانچہ انہوں نے ترجیع کے ساتھ اذان بیان کی‘‘۔

تخریج حدیث:

 اس حدیث کو امام ترمذی نے کتاب الصلاۃ باب ماجاء فی الترجیع فی الأذان رقم:۱۷۶ میں بیان کیا ہے۔ نیز ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو مختلف الفاظ میں امام مسلم نے کتاب الصلاۃ باب صفۃ الأذان رقم:۵۷۲، امام نسائی نے کتاب الأذان باب خفض الصوت فی الترجیع فی الأذان رقم: ۶۲۵،۶۲۶، ۶۲۷، ۶۲۸ اور ۶۲۹ میں ،امام ابو دائود نے کتاب الصلاۃ باب کیف الأذان رقم: ۴۲۲، ۴۲۳، ۴۲۴ اور ۴۲۵میں امام ابن ماجہ نے کتاب الأذان و السنۃ فیہ باب الترجیع فی الأذان رقم: ۷۰۰ اور ۷۰۱، امام دارمی نے کتاب الصلاۃ باب الترجیع فی الأذان رقم: ۱۱۷۰ ،اور امام احمد نے اپنی مسند رقم: ۱۴۸۳۳، ۱۴۸۳۶، اور ۲۵۹۹۱ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

 حدیث صحیح ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اسے صحیح قرار دیا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی کتب تسعہ کے اندر ۳۶ سندیں ہیں جن میں سے چھ مکرر اور بقیہ غیر مکرر ہیں۔
اذان میں ترجیع کا حکم:
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث سے اذان میں ترجیع کی مشروعیت معلوم ہوتی ہے اس کے باوجود امت کا ایک طبقہ بے جا تاویلوں کے ذریعہ اس کی مشروعیت کا منکر ہے۔ ان میں سے بعض تاویلیں تو ایسی ہیں جن سے صحابی رسول ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ پر بھی حرف آتا ہے۔ ہم ذیل میں ان تاویلوں کو ذکر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی حقیقت بھی واضح کرتے ہیں:

پہلا شبہ:

جو لوگ اذان میں ترجیع کی مشروعیت کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ابو محذورہ کو تعلیم کے واسطے دہرانے کا حکم دیا تھا مگر انہوں نے اسے ترجیع سمجھ لیا۔
یہ شبہ اس وجہ سے باطل ہے کہ سنن ابی دائود میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہوئی ہے:
 قلت: یا رسول اللہ! علمنی سنۃ الأذان۔۔۔۔ ثم تقول: أشہد أن لا إلہ إلا اللہ، أشہد أن محمداً رسول اللہ تخفض بہا صوتک ثم ترفع صوتک بہا۔۔‘‘
’’(ابو محذورہ) کہتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا کہ آپ مجھے اذان کی سنت سکھا دیں (تو آپ نے انہیں اذان سکھائی اس میں آپ نے فرمایا) پھر تم آہستہ آواز میں أشہد أن لا إلہ إلا اللہ اور أشہد أن محمداً رسول اللہ کہو پھر تم انہیں کلمات کو بلند آواز سے کہو‘‘۔
اس روایت میں ترجیع کو اذان کی سنت قرار دیا گیا ہے۔ جملہ خبریہ فعل امر کے معنی میں ہے۔ لہٰذا یہ شبہ ختم ہوجاتا ہے۔

دوسرا شبہ:

کہا جاتا ہے کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز کو کھینچ کر نہیں پڑھا تھا۔ اس وجہ سے آپ نے ان سے فرمایا: ’’ارجع وأمدد من صوتک‘‘ مگر یہ تاویل باطل ہے: علامہ عبد الرحمان محدث مبارکپوری رحمہ اللہ اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تاویل اس وجہ سے باطل ہے کہ ابو دائود کی روایت میں ’’ثم ارجع فمد من صوتک‘‘ کے الفاظ ہیں یہاں پر لفظ ثم زائد ہے۔ ابو دائود کی روایت میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ ایک مرتبہ آواز آہستہ ہوگی اور ایک مرتبہ بلند ہوگی، لہٰذا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہاں پر آپ ﷺ نے صرف مد کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور ابو محذورہ نے اسے ترجیع سمجھ لیا۔ اس کی تردید سنن ترمذی کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ آپ نے انہیں اذان کے ۱۹ کلمات سکھائے تھے۔ ضروری سی بات ہے کہ انیس کلمات ترجیع کے ساتھ ہی مکمل ہوتے ہیں۔

تیسرا شبہ:

کہا جاتاہے کہ چونکہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے آپ ﷺ سے شدید نفرت کرتے تھے لہٰذا آپ نے ان کو شہادتین کو دو دو مرتبہ مزید آہستہ آواز میں پڑھنے کا حکم دیا تاکہ آپ ﷺ کی محبت ان کے دل میں سرایت کر جائے اور حق کے بارے میں جو شرم و حیا ہو وہ ختم ہوجائے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ نے ان کے کان بھی اینٹھے تھے۔
یہ تاویل انتہائی مضحکہ خیز ہے، علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاویل ضعیف ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ أکبر بلند آواز سے کہنے کے بعد أشھد أن لا إلہ إلا اللہکو بھی دھیمی آواز سے کہا تھا، اور حدیث کی کسی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ آپ نے ابو محذورہ کے کان اینٹھے۔
مذکورہ بالا احتمال اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس میں ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بے جاسوء ظن سے کام لیا گیا ہے۔ ابومحذورہ کا انتقال ۵۹ھ میں ہوا۔ اسلام لانے کے بعد سے اپنی عمر کے آخری ایام تک وہ مکہ میں مسجد حرام کے مؤذن رہے، آپ مسلسل اذان ترجیع کے ساتھ دیتے رہے اور صحابۂ کرام و تابعین عظام اس کو سنتے رہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ ابو محذورہ ایک غیر شرعی کام کرتے رہیں اور صحابۂ کرام انہیں اس سے روکیں بھی نہیں؟ یہ صحابۂ کرام کے مرتبہ و مقام سے بہت گری ہوئی بات ہے۔ اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ صحابۂ کرام میں سے کسی نے بھی ابو محذورہ کو ترجیع کے ساتھ اذان دینے سے نہیں روکا تو یہ معلوم ہوا کہ ترجیع کے ساتھ اذان کی مشروعیت پر صحابۂ کرام متفق ہیں اور جس پر صحابۂ کرام متفق ہوں اس کے بارے میں من مانے طریقے سے تاویلیں کرنا اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو بتلائی گئی اذان دینے والوں کا مذاق اڑانا کسی بھی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔
کچھ لوگ بہت ہی سادگی میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اذان کے تعلق سے اصل عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اس کے اندر ترجیع کا تذکرہ نہیں ہے۔ ہاں، ہم بھی مانتے ہیں کہ عبد اللہ بن زید کی حدیث میں ترجیع کا تذکرہ نہیں ہے، یہ بات بھی تو ہے کہ عبد اللہ بن زید کا واقعہ پہلے کا ہے اور ابومحذورہ کے اسلام لانے کا واقعہ بعد کا ہے ضروری سی بات ہے کہ بعد والے کا اعتبار کیاجائے گا۔ اور یہ اصول ہے کہ ثقہ کا اضافہ مقبول ہوتا ہے اس وجہ سے کہ اضافہ کرنے والے کے پاس زیادہ علم ہوتا ہے بنسبت کم روایت کرنے والے کے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت کا انکار نہیں کررہے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ صحیح احادیث سے اذان کے دونوں طریقے ثابت ہیں ترجیع کے ساتھ اور بغیر ترجیع کے بھی، صرف ایک طریقے کی مشروعیت پر اصرار اور دوسرے کا انکار لا علمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور جو لوگ دلیل سامنے رکھ کر اس کی بے جا تاویل کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف کرنا چاہئے اس لئے کہ جانے انجانے میں وہ حدیث رسول کا انکار کررہے ہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ:

٭ اذان میں ترجیع صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
٭ ترجیع یہ ہے کہ شہادتین کو ایک بار آہستہ پھر انہیں دوبارنہ بلند آواز سے کہا جائے۔
٭حدیثِ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔
٭ اذان کے دونوں طریقے ثابت ہیں لہٰذا سنت نبوی کو زندہ کرنے کی خاطر ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان بھی دینی چاہئے تاکہ اللہ کے رسول کی مردہ سنت کو زندہ کرنے کا ثواب حاصل کیا جاسکے۔ جس طرح یہ غلط ہے کہ ابو محذورہ کی اذان کی مشروعیت پر آواز اٹھائی جائے اسی طرح بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اذان بغیر ترجیع کے مکمل نہیں ہوتی۔ راہ اعتدال یہی ہے کہ دونوں طریقے چونکہ ثابت ہیں لہٰذا دونوں صحیح ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔