بدھ، 7 فروری، 2018

قبر کے لئے کسی خاص جگہ کے تعین کی شرعی حیثیت

0 comments

قبر کے لئے کسی خاص جگہ کی تعیین

مرنے کے بعد کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے کی خواہش کرنا ایک عام بات ہے۔ بہت سے لوگ مرنے سے پہلے اس قسم کی وصیت کر جاتے ہیں کہ انہیں فلاں رشتہ دار یا فلاں شخص کے پہلو میں دفن کیا جائے یا فلاں شہر یا فلاں قبرستان میں دفن کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شرعی نصوص کی بنیاد پر اس کی کوئی اصل ہے؟ اور کیا کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے یا کسی خاص جگہ دفن ہونے کا فائدہ مردے کو ملتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی غلط آدمی کے پہلو میں دفن کر دیا جائے تو کیا اس کابرا اثر اس شخص پر پڑے گا؟
اس سلسلے میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے:
’’ادفنوا موتاکم وسط قوم صالحین فان المیت یتاذی بجار السوء کما یتأذی الحی بجار السوئ‘‘
’’اپنے مردوں کو نیک لوگوں کے بیچ میں دفن کرو۔ اس لئے کہ مردہ برے پڑوسی سے اسی طرح تکلیف محسوس کرتا ہے جس طرح زندہ شخص برے پڑوسی سے تکلیف محسوس کرتا ہے‘‘۔
اس حدیث کو ابو نعیم نے حلیۃ الأولیاء (۶؍۳۵۴) میں بروایت ابی ہریرہ بیان کیا ہے۔ مگر یہ حدیث موضوع ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ابن حبان نے کتاب المجروحین میں کہا ہے کہ یہ ایک باطل خبر ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے کلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألبانی رقم ۵۶۳ (۲؍۳۸) )
لہٰذا اس حدیث کی بنیاد پر یہ بات نہیں کہی جا سکتی ہے کہ مردوں کو غلط آدمیوں کے پہلو میں دفن کرنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ علماء کرام کی ایک جماعت نیک لوگوں کے پہلو میں دفن کرنے کو مستحب قرار دیتی ہے مگر ان کے پاس اس کے لئے کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔ ہاں وہ لوگ کچھ احادیث سے استدلال کرتے ہیں جو اس مسئلہ میں صریح نہیں ہیں۔ انہی احادیث میں سے ایک حدیث  وہ ہے جس کو امام بخاری اور مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے:
’’أن موسیٰ علیہ السلام لما حضرتہ الوفاۃ سأل ربہ أن یدنیہ من الأرض المقدسۃ رمیۃ بحجر‘‘۔
 (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب من أحب الدفن فی الأرض المقدسۃ أو نحوھا رقم ۱۲۷۴، صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام رقم ۲۳۷۲)
’’موسیٰ علیہ السلام نے وفات کے وقت اپنے رب سے دعا کی کہ انہیں ارض مقدس (فلسطین) سے پتھر پھینکنے کی دوری تک قریب کردے‘‘۔
ابن بطال کہتے ہیں:
موسیٰ علیہ السلام کے ارض مقدس سے قریب کرنے کی دعا ارض مقدس میں انبیاء اور صالحین کے دفن ہونے کی وجہ سے اس مقام کی افضلیت کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا جس طرح زندگی میں ان کی صحبت مستحب تھی اسی طرح مرنے کے بعد بھی ان کے پڑوس میں رہنا مستحب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام فضیلت والی جگہوں پر جاتے ہیں اور وہاں قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور اصحاب قبر کے لئے دعا کرتے ہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’اس حدیث میں فضیلت والی جگہوں اور مقامات پر دفن ہونے کی فضیلت اور نیک لوگوں کے قبرستان سے قریب ہونے کی فضیلت ہے‘‘۔
یہ حدیث کسی نیک آدمی کے پہلو میں دفن ہونے کی فضیلت کے بارے میں صراحت کے ساتھ نہیں بتاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جن شہروں کو مبارک کہا گیا ہے ان میں دفن ہونے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث کے لئے عنوان باندھا ہے:
’’باب من أحب الدفن فی الأرض المقدسۃ أو نحوھا‘‘
سلف صالحین کی ایک بڑی جماعت سے ثابت ہے کہ انہوں نے مرنے کے وقت اس قسم کی وصیت کی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کا شرف حاصل کرنے کے لئے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت لی تھی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں وہیں پر دفن کیا گیا تھا۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا جائے۔
اسی طرح غالب بن  جبریل نے امام بخاری رحمہ اللہ کے پہلو میں دفن کرنے کی وصیت کی تھی۔
لہٰذا اگر کوئی شخص اس قسم کی وصیت کرتا ہے تو اس کو منع نہیں کیا جائے گا۔لیکن چونکہ شریعت میں اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس سے مردے کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اس وجہ سے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔
جو چیز قابل انکار ہے وہ عوام میں سے بعض لوگوں کا یہ عمل ہے کہ وہ کسی مخصوص بزرگ کے پہلو میں دفن کرنے کی وصیت کرتے ہیں کہ وہ بزرگ ان کی مدد کریں گے یا اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لئے سفارش کریںگے۔ یہ اسلام مخالف عقیدہ ہے۔
دہلی میں جو لوگ مہندیان کے قبرستان سے واقف ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ وہاں پر دفن ہونے کے لئے لوگ بڑی بڑی رقوم دے کر اپنی زندگی ہی میں قبر کے لئے زمین حاصل کرلیتے ہیں تاکہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی قبر سے قربت حاصل ہوجائے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ جیسے بزرگ کے قریب دفن ہونے کی وجہ سے ہمیں فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ عقیدہ دراصل وہی ہے جس کی بنیاد پر ہندو پاک میں قبریں عیدگاہ بنی ہوئی ہیں۔ لوگ ان قبروں کے پاس جا جا کر اپنے حق میں سفارش کراتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ جس طرح کسی زندہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اسی طرح مردے کو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔  مہندیان کے سلسلہ میں ایک اعجوبہ شیخ ابو الحسن علی ندوی کی طرف بھی منسوب ہے کہ وہ اندرا گاندھی کی لگائی ہوئی ایمرجنسی کے دور میں شاہ ولی اللہ کی قبر کے پاس مہندیان میں معتکف ہوگئے تھے۔ والعلم عند اللہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآئٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۔
                                                   (النحل:۲۰-۲۱)
’’جو لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی چیز کے پیدا کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کو خود پیدا کیا گیا ہے۔ وہ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہیں (دوبارہ) کب اٹھایا جائے گا‘‘
یہ آیت کریمہ صریح طور پر مردوں سے فریادرسی کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور بتلا رہی ہے کہ مردوں سے کسی بھی قسم کے فائدہ کی امید رکھنا غلط ہے۔
صاحب قبر کو اپنے پڑوسی قبر والے سے کسی نفع و نقصان کے نہ پہنچنے کی بات اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے:
’’عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ قال: إذا مات الإنسان انقطع  عنہ عملہ إلا من ثلاثۃ إلا من صدقۃ جاریۃ أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعولہ‘‘۔ (صحیح مسلم کتاب الوصیۃ باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ رقم ۱۲۳۱)
’’جب انسان کی موت ہوجاتی ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (۱) صدقہ جاریہ (۲) نفع بخش علم (۳) نیک اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے‘‘۔
مرنے کے بعد جو چیزیں کسی انسان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں ان کی فہرست نبی کریم ﷺ نے بتادی ہے۔ا ن میں صاحب قبر کے پڑوسی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ امید کرنا کہ کسی بزرگ کی قبر کے پاس قبر ہونے سے کسی قسم کا فائدہ حاصل ہوجائے گا صحیح نہیں ہے۔

اس قسم کی وصیت کا حکم:

اسلام نے وصیت پر عمل کرنے پر کافی زور دیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہے:
’’فَمَنْ بَدَّلَہٗ بَعْدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَا اِثْمُہُ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَہٗ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۱)
’’جو شخص وصیت میں سننے کے بعد تبدیلی کرے گا تو ا س کا گناہ اسی کے اوپر ہوگا جو تبدیلی کرے گا اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔
اس کے ساتھ ہمیں قرآن یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ ہر قسم کی وصیت کو نافذ کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔ اگر کسی وصیت کے ذریعہ کسی کو نقصان پہنچانے کا مقصد ہو تو اس کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس میں ترمیم کر دینا ہی عین انصاف ہے۔
’’فَمَنْ خَافَ  مِنْ مُوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘ (البقرۃ :۱۸۲)
’’جو شخص وصیت کرنے والے سے کسی کے اوپر ظلم یا گناہ کا خوف محسوس کرے اور اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردے تو کوئی حرج نہیں ہے اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔
ان دونوں آیات کی روشنی میں اس مسئلہ میں یہی بات کہی جائے گی کہ وصیت کرنے والے کی نیت اس سے اگر یہ ہو کہ کسی بزرگ کی قبر کے پاس دفن ہونے سے فائدہ حاصل ہوگا وہ بزرگ شفاعت کریںگے تو چونکہ یہ ایک شرکیہ عقیدہ ہونے کی وجہ سے گناہ کا کام ہے اس وجہ سے اس کی تنفیذ نہیں کی جائے گی اور اگر اس قسم کا عقیدہ نہیں ہے تو پھر ایسی صورت میں اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔