بدھ، 7 فروری، 2018

قران کو تجوید کی رعایت سے پڑھنے کی اہمیت

0 comments

 

قران کی تلاوت کا اہتمام تو ہر دینی ماحول والے گھرانوں میں ہوتا ہے مگر ایک اہم چیز جو اس تعلق سے ضروری ہے اوراس کی طرف کم ہی توجہ کی جاتی ہے وہ ہے تجوید کے ساتھ قران پڑھنا۔حالانکہ تجوید کی رعایت نہایت ضروری ہے۔اس کے ساتھ ایک اور ضروری وضاحت کہ تجوید سے میری مراد ان قواعد سے ہے جو قرآن کی تلاوت میں معاون ہیں، رہے وہ قواعد جس کو اہل فن نے ایجاد کیا ہے اور اس سے آسانی کے بجائے قرآن کی تلاوت اور بھی مشکل ہوگئی ہے وہ قواعد مراد نہیں ہیں ۔
عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کو تجوید کی رعایت سے پڑھنا کوئی ضروری چیز نہیں حالانکہ نبی کریم ﷺ نے قرآن کو تجوید کے ساتھ ہی سکھایا تھا۔ حدیث ہے:
کان ابن مسعود یقریٔ القرآن رجلا فقرأ الرجل (إنما الصدقات للفقراء و المساکین) مرسلۃ، فقال ابن مسعود: ما ہکذا أقرأنیہا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  قال: کیف أقرأکہا یا أبا عبدالرحمن؟ قال أقرأنیہا: (إنما الصدقات للفقراء و المساکین) فمددہا۔
’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک آدمی کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے اس آدمی نے (انما الصدقات للفقراء و المساکین) کو بغیر مد کے پڑھا، ابن مسعود نے کہا کہ مجھ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح نہیں پڑھایا۔ اس آدمی نے پوچھا: اسے آپ کو کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا؟ انھوں نے کہا کہ مجھے اس طرح پڑھایا چنانچہ انھوں نے (فقراء) کو کھینچ کر پڑھا۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج طبرانی نے ’’معجم الکبیر‘‘ (۸۶۷۷) میں حدثنا محمد بن علی الصائع حدثنا سعید بن منصور حدثنا شہاب بن خراش حدثنی موسی بن یزید الکندی کی سند سے کی ہے۔ ہیثمی نے ’’الزوائد‘‘ (۷؍۱۵۵) میں اسے طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے نیز جزری نے ’’النشر فی القرآت العشر‘‘ (۱؍۳۱۳) میں اور علامہ البانی نے ’’الصحیحۃ‘‘ (رقم۳۲۰۱) میں اس کا ذکر کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

حدیث حسن ہے، حدیث کے تمام رجال ثقہ ہیں سوائے موسیٰ بن یزید الکندی کے، وہ مجہول ہیں، مگر یہ روایت ہیثمی نے ’’طبرانی الکبیر‘‘ کے حوالے سے ہی نقل کی ہے اور اس میں موسیٰ بن یزید کی جگہ مسعود بن یزید الکندی ہے اور کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ حافظ جزری نے بھی مسعود بن یزید الکندی ہی لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔ لہٰذا یہ تحریف ہے اور صحیح وہی ہے جو ہیثمی اور جزری نے نقل کیا ہے۔ علامہ البانی نے بالجزم کہاہے کہ اصل میں یہ مسعود بن یزید الکندی ہیں، لکھنے والوں کی تحریف کی وجہ سے مسعود کی جگہ پر موسیٰ ہوگیا۔
جہاں تک مسعود بن یزید الکندی کی بات ہے تو ابن حبان نے ’’الثقات‘‘ (۳؍۲۶۰) میں ان کاذکر کیا ہے اور علامہ البانی نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے۔
شہاب بن خراش جو کہ سعید بن منصور سے روایت کرتے ہیں ان کے بارے میں بعض ائمہ نے ہلکی سی جرح کی ہے۔
ابن المبارک نے ثقہ اوراحمد بن حنبل، ابن معین اور نسائی نے ’’لا باس‘‘ کہا ہے۔
عبدالرحمن بن مہدی نے کہا ہے:
’’لم أر أحدا  أعلم بالسنۃ من حماد بن زید، ولم أر أحدا أحسن و صفا لہا من شہاب بن خراش‘‘
ذہبی نے کہا ہے:
 ’’صدوق مشہور لہ ما یستنکر‘‘
ابن حبان نے ضعفاء میں کہا ہے:
یخطیٔ کثیرا۔ (المیزان للذہبی رقم ۳۷۵۰)
لہٰذا شہاب بن خراش کا کم از کم درجہ صدوق کا ہے۔

متن حدیث:

حافظ الجزری نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدمتصل (۱) کرنا واجب ہے۔ یہ روایت کئی معنوں میں اہم ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف قرآن کی آیات ہی نہیں بلکہطریقۂ نطق پربھی توجہ دیتے تھے، کس لفظ کو کس حد تک کھینچنا ہے یا اسے کس طرح ادا کرناہے یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سکھایا کرتے تھے اورصحابۂ کرام بھی اسے اسی طرح محفوظ رکھتے تھے۔
’’الفقرائ‘‘ کو کھینچ کر مد متصل کے ساتھ پڑھنے اور بغیر کھینچے پڑھنے میں معنوی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اس پر زور دینا یہ بتلاتا ہے کہ قرآن کاطریقۂ نطق سیکھنا ضروری ہے۔ صحابۂ کرام نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ خاص طور پر ان جیسے مسائل کی طرف توجہ دیا کرتے تھے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی کہ ایک مرتبہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
من أحب أن یقرأ القرآن غضا کما أنزل فلیقرأ علی قراء ۃ ابن أم عبد۔ (صحیح الجامع:۵۹۶۱)
’’جو شخص پسند کرتا ہو کہ عمدہ طریقے سے قرآن اسی طرح پڑھے جس طرح نازل ہوا ہے تو وہ ابن مسعود کی قرأت پر قرآن پڑھے۔‘‘
یہ رسول اللہ صلی اللہ کی طرف سے اس بات کا اقرار ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت صحیح اور ترتیل کے ساتھ ہے۔
تجوید جو کہ آج ایک علم کی شکل میں موجود ہے وہ اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے علماء نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے تواتر کے ساتھ چلی آرہی قرأت کا مطالعہ کرکے قواعد مرتب کئے تاکہ انہی قواعد کی روشنی میں آیات قرآنی کا طریقۂ نطق اسی طرز پرہوسکے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کریم کو  ان کو پڑھنا بھی سکھایا کرتے تھے۔
عربی زبان کی حفاظت میں تجوید کا کردار:
اس میںکوئی شک نہیں کہ عربی زبان کو اپنی اصل حالت میں باقی رکھنے میںتجوید کا بہت بڑاہاتھ ہے اگر علماء کرام نے یہ علم نہ وضع کیاہوتا تو عربی زبان اپنی اصلی ڈگر سے کم از کم طریقۂ نطق میں ہٹ جاتی جس طرح کہ عام زبانیں قدیم اورجدید کے خانوں میں تقسیم ہوگئیں۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ زمانہ کے پھیر بدل نے عربی زبان کوبول چال کی زبان اور لکھنے پڑھنے کی زبان میں تقسیم کردیاہے۔ ایسے وقت میں بھی کوئی شخص قرآن کو تجوید کی رعایت کے ساتھ پڑھے اور بفرض محال جاہلی دور کا عرب بدو اسے سنے تو اسے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوگی۔

کیاتجوید صرف قرآن کے لیے خاص ہے؟

قرّاء کرام اگرچہ تجوید کو صرف اور صرف قرآن تک محدود رکھتے ہیں مگر اس کادائرہ اس سے بھی وسیع ہے۔ قراء کے یہاں اگر کوئی نون ساکن کے بعد ہمزہ آنے کی صورت میں اظہار کی مثال میں ’’من أنت‘‘ کہے تو یہ صحیح نہ ہوگا اس لیے کہ یہ قرآن میں سے نہیں ہے۔
تجوید کے جزوی مسائل جیسے تفخیم، ترقیم، غنہ وغیرہ کے بارے میں تو یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ اس کے اندر عربی زبان کو شامل کیا جائے مگر حروف کے مخارج اور ان کی صفات کی حد تک عربی زبان بول چال اور عبارت خوانی میں اس کی رعایت ہونی چاہئے۔
قرآن کے نطق اوراس کی ادائیگی پر بہت ہی کم لوگ توجہ دیتے ہیں اسے حفاظ اور قراء کے لیے ہی خاص مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے علماء بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت بڑی فحش قسم کی غلطیاں کرتے ہیں بعض دفعہ لحن جلی کے مرتکب ہوجاتے۔ حالاں کہ اگر تجوید کی طرف تھوڑی سی توجہ دی جائے تو بڑی آسانی سے ان غلطیوں سے بچا جاسکتا ہے۔

ایک ضروری وضاحت:

ایسی بات نہیں کہ تجوید کی کتابوں میں مذکور سبھی باتیں صحیح ہوں، قراء کرام تجوید میں بہت ساری ایسی چیزیں بھی داخل کرتے ہیں جو کہ خلاف سنت ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس سے بچا جائے، مثال کے طورآیت کی علامت کے بعد اگر اس کے قریب ہی درمیان آیت میں وقف تام یا لازم کی علامت ہو تو وہاں پر آیت کے بجائے اس علامت پر وقف کرنے کو ترجیح دینا۔ اسی کے قبیل سے آیات کی علامات پر ’’لا‘‘ کی علامت رکھنا بھی ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہاں پر وقف نہ کیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ آیتوں کے آخر میں وقف کرتے تھے یہ چیزچوں کہ ثابت ہے لہٰذا تجوید کی کتابوں کے شروع میں وصل کل،فصل کل وغیرہ کی بحث غیر ضروری اور بے جا تکلف  ہے۔ ان سبھی چیزوں سے بچنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو قرآن کی تلاوت سنت کے مطابق کرنے کی توفیق دے۔ آمین

حواشی:

۱۔            حرف علت (الف، واو، یائ) کے بعد اگر ہمزہ اسی کلمہ میں ہو تو اسے مدمتصل کہتے ہیں، چوں کہ اس کی ادائیگی مشکل ہوتی ہے اس لیے یہاں پر کھینچ کر پڑھتے ہیں۔
نوٹ:تجوید کے لغوی معنی عمدہ کرنا اور اچھا کرنا ہے ۔تجوید اس علم کو کہتے ہیں جس میں حروف کے مخارج اوران کی صفات سے گفتگو کی جاتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔