بدھ، 7 فروری، 2018

بوسہ، معانقہ یا مصافحہ؟ ملاقات کے وقت کیا بہتر ہے؟

0 comments


ملاقات کے وقت ہر مذہب والے اپنے اپنے طریقہ پرایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں ۔یہ چیز مہذب معاشرہ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسلام نے اس تعلق سے کیا تعلیم دی ہے آئیے معلوم کرتے ہیں۔
قال رجل: یا رسول اللہ الرجل منا یلقی أخاہ أو صدیقہ أینحنی لہ؟ قال: لا، قال: فیلتزمہ و یقبّلہ، قال: لا، قال: فیأخذ بیدہ و یصافحہ، قال: نعم۔
’’ایک آدمی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے تو کیا اس کے لیے جھک جائے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اس نے کہا: تو کیا اسے چمٹا لے اور بوسہ دے، آپ نے فرمایا: نہیں، اس آدمی نے کہا: تو کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ہاں۔‘‘

تخریج:

اس حدیث کی تخریج   ترمذی (۲۸۷۱) صحیح ابن ماجہ (۳۰۰۲)، بیہقی (۷؍۱۰۰) اور أحمد (۳؍۱۹۸) نے حنظلۃ بن عبداللہ عن أنس بن مالک کے طریق سے کی ہے۔
درجۂ حدیث:
حدیث حسن ہے، جیسا کہ امام ترمذی نے کہا ہے اور حافظ ابن حجر نے التلخیص (رقم ۱۸۳۴) میں اسے باقی رکھا ہے۔ علامہ البانی فرماتے ہیں:
’’یہ حدیث ویسی ہی ہے جیسا امام ترمذی نے کہا ہے بلکہ اس سے بھی اعلیٰ درجہ کی ہے اس لیے کہ اس کے تمام رجال سوائے حنظلہ کے ثقہ ہیں۔ محدثین نے انھیں ضعیف کہا ہے مگر متہم نہیں کیا ہے، بلکہ یحییٰ القطان وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ انھیں اختلاط ہوگیا تھا لہٰذا ان جیسے لوگوں سے استشہاد پکڑا جاسکتا ہے اور متابعت کی صورت میں ان کی حدیثیں قوی ہوجاتی ہیں۔‘‘ (الصحیحۃ : ۱؍۲۴۸)
چوں کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں ان کی متابعت شعیب بن الحبحاب الأزدی، مہلب بن أبی صفرہ اور کثیر بن عبداللہ سے ہوتی ہے جن کی تخریج بالترتیب ضیاء نے المنتقی (۸۷؍۲) و (۲۳؍۱) اور ابن شاہین نے رباعیات  (۱۸۲؍۲) میں کی ہے۔
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الصحیحۃ ۱؍۲۴۹-۲۵۰)
 ان متابعات کی وجہ سے یہ حدیث لائق حجت ہوجاتی ہے، لہٰذا جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اس روایت میں حنظلہ منفر دہیں ان سے غلطی ہوئی ہے، جیسا کہ بیہقی اور صاحب تحفۃ الأحوذی نے کہا ہے۔ غالباً انہیں مذکورہ بالامتابعات کا علم نہیں ہوسکا۔

متن حدیث:

مذکورہ بالا حدیث میں ملاقات کے وقت جھکنے، گلے ملنے اور بوسہ دینے سے منع کیا گیا ہے اور مصافحہ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ جہاں تک جھکنے کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ناجائز اور غیر اسلامی طریقہ ہے جو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے یہاں رائج ہے۔ اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے جھکے ۔ سلف صالحین میں سے کسی سے بھی اس کی اجازت منقول نہیں۔

معانقہ یا گلے ملنا:

حدیث میں گلے ملنے سے بھی منع کیا گیا ہے، لہٰذا مذکورہ حدیث کی وجہ سے یہ بھی ممنوع ہونا چاہئے مگر دیگر کئی احادیث ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام ایک دوسرے سے گلے ملتے تھے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے الأدب المفرد (۹۷۰) میں اور امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند (۳؍۴۹۵) میں جابر بن عبداللہ کی ایک حدیث یوں روایت کی ہے:
’’مجھے ایک حدیث ایک ایسے آدمی سے ملی جس نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے سنا تھا۔ میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ایک مہینہ کی مسافت طے کر کے شام عبداللہ بن انیس کے پاس پہنچا۔ میں نے دربان (گیٹ مین) سے کہا کہ ان سے کہہ دو کہ جابر دروازے پر ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا جابر بن عبداللہ؟ میں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ عبداللہ بن انیس اپنے کپڑوں کو روندتے ہوئے آئے اور مجھے گلے سے لگا لیا، میں نے بھی انھیں گلے لگایا۔‘‘
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
(دیکھیں صحیح الأدب المفرد للألبانی رقم ۷۴۶)
بیہقی (۷؍۱۰۰) نے صحیح سند سے شعبی کے طریق سے ایک روایت اس طرح نقل کی ہے:
کان أصحاب محمد إذا التقوا صافحوا، فإذا قدموا من سفر عانق بعضہم بعضا۔
’’صحابۂ کرام جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو ایک دوسرے کو گلے سے لگاتے۔‘‘
اسی کے مانند طبرانی نے بھی ’’الأوسط‘‘ میں ایک روایت ذکر کی ہے۔ ہیثمی نے ’’المجمع‘‘ (۸؍۳۶) میں کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح کے رواۃ ہیں۔
ان سبھی روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ سفر سے آنے کے بعد ملاقات کے وقت گلے ملنا اس ممانعت سے مستثنیٰ ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ ملاقات کے تین درجے ہیں، پہلا یہ کہ کسی شخص سے بار بار ملاقات کی حاجت پڑتی ہو جیسے کہ ایک ساتھ کام کرنے والے افراد، تو ان سے صرف زبان سے سلام کیا جائے، اس لیے کہ بار بار مصافحہ کرنے میں مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرے یہ کہ کسی سے ایک یا دو دن بعد ملاقات ہو یا ایسے وقت ملاقات ہو جب مصافحہ کرنے میں زحمت نہ ہو تو مصافحہ کیا جائے۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی شخص سے ایک لمبی مدت کے بعد ملاقات ہو، یا کوئی شخص کافی لمبے سفر سے ملاقات کے لیے آیا ہو ایسے میں اس سے گلے ملا جائے۔ جیسا کہ عبداللہ بن انیس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے واقعہ میں گزر چکا ہے۔

بوسہ دینا:

مذکورہ حدیث ملاقات کے وقت بوسہ کی عدم مشروعیت پر نص صریح ہے۔ یاد رہے کہ بیوی، بچوں کو بوسہ دینا اس حکم میں شامل نہیں، اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔ رہیں وہ احادیث جن میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابۂ کرام کو بعض مواقع پر بوسہ دیا مثلاً زید بن حارثہ کے مدینہ آنے پر ان سے گلے ملنے اور بوسہ دینے نیز ابوالہیثم وغیرہ کو گلے لگانے اور بوسہ دینے کی روایت، تو یہ روایات ثابت نہیں ہیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:
۱۔            یہ احادیث معلول ہیں لہٰذا لائق حجت نہیں۔
۲۔           اگر ان میں سے کوئی حدیث صحیح بھی ہو تو اس صحیح حدیث سے معارض نہیں ہوسکتی اس لیے کہ یہ آپ کا فعل ہے اور ممکن ہے کہ آپ کے لیے خاص ہو، اس کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں جو اس حدیث کے خلاف حجت پکڑنے کو کمزور کرتے ہیں جیسے کہ یہ قولی ہے اور پوری امت کو مخاطب ہے لہٰذا یہ ان پرحجت ہے۔ علماء اصول نے قاعدہ مقرر کیا ہے کہ تعارض کے وقت قول کو فعل پر اور حاظر (روکنے والی) کو مبیح (جائز قرار دینے والی) پر ترجیح دی جائے گی۔ یہ حدیث قولی ہے اور حاظر بھی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کو ترجیح دی جائے گی۔ (الصحیحۃ ۱؍۲۵۱) یہ سب اس وقت ہے جب بوسہ کے ثبوت والی احادیث کو صحیح مان لیا جائے ورنہ جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ وہ لائق حجت نہیں۔
جہاں تک ہاتھ کو بوسہ دینے کی بات ہے تو علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس باب میں بہت ساری احادیث اور آثار ہیں، تمام کا مجموعہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس کے ثبوت پر دلالت کررہا ہے، لہٰذا ہم عالم کے ہاتھ کو بوسہ دینے کو چند شرائط کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں:
   ۱۔ اسے عادت نہ بنا لیا جائے کہ عالم تلامذہ کی طرف ہاتھ بڑھانے اور یہ اس سے تبرک حاصل کرنے کے عادی ہوجائیں۔ اس لیے کہ اگرچہ آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا گیا ہے مگر ایسا نادر مواقع پر ہوا ہے نہ کہ اس طریقہ پر کہ لوگ اس کے عادی ہوجائیں۔ لہٰذا اسے سنت مستمرہ بنالینے کو جائز نہیں قرار دیاجاسکتا، جیسا کہ فقہی قواعد سے یہ بات ظاہر ہے۔
۲۔                 یہ عمل عالم کو اپنے غیر پر تکبرکی دعوت اور اپنی ذات کے لیے ریا کا باعث نہ ہو جیسا کہ آج کل بعض مشائخ کے یہاں پایا جارہا ہے۔
۳۔           کسی معلوم سنت کے ترک کا سبب نہ بنے، مثلاً مصافحہ کی سنت جو کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قول سے مشروع ہے، جیسا کہ کئی احادیث میں وارد ہے کہ یہ مصافحہ کرنے والوں کے گناہوں کو ساقط کرنے کا سبب ہے، لہٰذا اس کو ترک کرنا کسی وجہ سے جائز نہیں۔ مذکورہ مسئلہ میں سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ ہاتھوں کا بوسہ دینا جائز ہے۔
 (دیکھیں الصحیحۃ ۱؍۲۵۲-۲۵۳)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے جہاں مصافحہ کی مشروعیت کا علم ہوتا ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سنت یہ ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے کیا جائے اس لیے کہ حدیث میں واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔

خلاصۂ کلام:

ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، سلف صالحین کا دستور رہا ہے، اس کے علاوہ گلے لگنا بھی صحابۂ کرام کے عمل سے ثابت ہے مگر یہ سفر سے واپسی پر ہوا کرتا تھا، لہٰذا اسے عام عادت نہ بنالیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی کا شیدائی بنائے۔ آمین

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔