بدھ، 7 فروری، 2018

بغیر کسی عذر کے مسجد میں عید کی نماز اداکرنا

0 comments


بات وجوب یا عدم وجوب کی نہیں بلکہ صرف افضل اور غیرافضل کی ہے مگرچوں کہ ہماری اجتماعی غفلت کی وجہ سے عیدگاہ میں عیدین کی نماز کی افضلیت تو دور بعض لوگ اب یہ کہتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ مسجد جیسی بابرکت جگہ کو چھوڑ کر کھلے میدان میں عید کی نماز پڑھنا، اگر مسجد میں وسعت ہو تو غیرافضل ہے، اس وجہ سے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔
بعض لوگ جو کھلے میدان میں عید کی نماز کی افضلیت کے قائل نہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں عیدین کی نماز مسجد کی تنگی کی وجہ سے پڑھی تھی اس تعلق سے ایک ضعیف حدیث کا سہارا لیتے ہیں:
عن عثمان بن عبدالرحمن التیمی قال: مطرنا فی إمارۃ أبان بن عثمان علی المدینۃ مطرا شدیدا لیلۃ الفطر، فجمع الناس فی المسجد، فلم یخرج إلی المصلی الذی یصلی فیہ الفطر و الأضحی… ثم قام علی المنبر فقال: یٰـأیہا الناس إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یخرج بالناس إلی المصلی یصلی بہم لأنہ أرفق بہم و أوسع علیہم و أن المسجد کان لایسعہم، فإذا کان المطر فالمسجد أرفق۔
’’عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابان بن عثمان کے مدینہ میں گورنری کے زمانے میں ایک مرتبہ عید الفطر کے دن زبردست بارش ہوئی جس کی وجہ سے انھوں نے لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور عیدگاہ نہیں گئے جہاں وہ عیدین کی نماز پڑھتے تھے…  پھر انھوں نے منبرپر کھڑے ہو کر کہا: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عیدگاہ نماز عید کے لیے اس وجہ سے لے جاتے تھے کیوں کہ وہ ان کے لیے آرام دہ اور کشادہ تھی اور مسجد میں اتنی وسعت نہ تھی کہ وہ اس کے اندر نماز عید ادا کرتے۔ (ابان نے مزید کہا کہ) بارش کی وجہ سے مسجد ہی زیادہ بہتر ہے۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث کو بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ (۳؍۳۱۰) میں محمد بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن عن عثمان بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ (۱)     لوگ عید کی نماز آبادی سے باہر پڑھا کرتے تھے الا یہ کہ بارش ہو ۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں نماز عید اس وجہ سے پڑھتے تھے کہ مسجد میں اتنی وسعت نہ تھی کہ سبھی نمازی آرام کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔
پہلا قول تو تسلیم شدہ ہے اس لیے یہاں اس پر بحث نہیں، یہاں پر صرف آخری توجیہ کی تردید مقصود ہے:
۱۔            اگر واقعی مسجد چھوٹی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح مسجد کو وسیع کریں تاکہ آبادی سے باہر جاکر عیدین کی نماز نہ پڑھنی پڑے، جیسا کہ خلفاء نے مسجد کی تنگی کو دیکھ کر اپنے اپنے عہد میں اس کو وسعت دی۔
۲۔           جمعہ کے دن مدینہ کے اطراف سے لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے آتے تھے۔ اس وقت مسجد تنگ نہ ہوتی تھی تو عید کے دن کیوں تنگ ہوتی؟ حالاں کہ عید اور جمعہ کے دن نمازیوں کی تعداد یکساں ہوتی تھی۔
بعض لوگ بہت ہی بھونڈی توجیہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ چوں کہ عیدین میں عورتیں بھی نماز کے لیے آتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو عیدگاہ آنے کو کہا ہے اور حائضہ چوں کہ مسجد میں نہیں جاسکتی اس وجہ سے مسجد کے علاوہ جگہ پر آپ نے عیدین کے لیے انتظام فرمایا۔
مگر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ایک طرف تو یہ بات کہہ کر وہ ضمنی طور پر عیدگاہ میں عورتوں کے داخلہ کے جواز کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف انھیں عیدگاہ میں فتنہ کا خوف دلا کر روکتے ہیں۔ آخر یہ دو رخاپن کیوں؟ ظاہر ہے، بات اپنی بے عملیوں کو وجہِ جواز فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

حدیث سند کی اعتبار سے بھی ضعیف ہے:

اس کی روایت میں محمد بن عبدالعزیز  ہیں جن کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’منکر الحدیث‘‘ اور نسائی نے ’’متروک‘‘ کہا ہے۔ امام شافعی نے ’’الأم‘‘ (۱؍۲۰۷) میں ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے مگر اس کی سند بھی حددرجہ ضعیف ہے اس لیے کہ اس میں ابراہیم بن محمد الاسلمی ہے جو بقول علامہ البانی رحمہ اللہ کذّاب ہے۔

یہ حدیث بھی ضعیف ہے:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن بارش ہونے لگی تو آپ نے مسجد میں نماز عید پڑھائی۔ (مستدرک حاکم ۱؍۲۹۵) اگرچہ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے موافقت کی ہے مگر چوں کہ اس کا دار و مدار عیسیٰ بن عبدالاعلی پر ہے جو کہ مجہول ہیں، اسی طرح ان کے شیخ عبید اللہ بھی مجہول الحال ہیں اس وجہ سے اگرچہ لوگوں میں یہ حدیث کافی مشہور ہے مگر ضعیف اور ناقابل قبول ہے۔
اگر بفرض محال صحیح مان بھی لیں تواس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صرف ایک مرتبہ مجبوری کی حالت میں مسجد میں نماز پڑھی تھی جو کہ عیدگاہ میں نماز پڑھنے کی افضلیت پر واضح ثبوت ہے۔ (مسئلہ سے متعلق احادیث اور دیگر پہلوئوں کی جانکاری کے لیے براہ کرم علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’صلاۃ العیدین فی المصلی‘‘ پڑھیں۔)

اتحاد یا افتراق:

اگر بعض غیور مسلمان کہیں پر سنت نبوی کے مطابق عیدگاہ میں عید کی نماز کا انتظام کرتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی مسجدوں کو ’’عیدگاہ‘‘ بنالینے والے اس کو افتراق سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ سنت نبوی کے مطابق عیدین کی ادائیگی کا موقع فراہم کرنا انتہائی اہم اور ثواب کا کام ہے۔

کتاب و سنت پر عمل کرنے کے یہی تقاضے ہیں؟

عید دلوں کو جوڑنے کے لیے آتی ہے مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہمارے یہاں بعض احباب اسی کو افتراق کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ کھلے میدان میں عید کی نماز ادا کرنے کی ’سنت‘‘ انھیں پارک میں تو کھینچ لاتی ہے مگر دلوں کی دوری کو ختم نہیں کر پاتی نتیجہ یہ ہے کہ ایک مقام پر آمنے سامنے اہل حدیثوں اور غربا اہلحدیثوں کی جماعتیں قائم ہوتی ہیں ایک گروہ نماز ادا کرتا ہے اور دوسرا تماشا دیکھتا ہے۔ جن لوگوں نے یہ منظر نہ دیکھا ہو وہ عید کے موقع پر موری گیٹ (دہلی)میں آکر دیکھ سکتے ہیں۔ الٰہی! دونوں گروہوں کو سمجھ دے، ’’امرائ‘‘ ہوں یا ’’غرباء‘‘ دعوی تو دونوں کا عمل بالکتاب والسنۃ کا ہے۔ کم از کم یہ اس دعوے کی لاج رکھ لیں۔

خلاصۂ کلام:

مسجد نبوی جیسی بابرکت مسجد کو چھوڑ کر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عیدگاہ جاکر عیدین کی نماز ادا کرنا یہ بتلاتا ہے کہ عیدین کی نماز کھلے میدان میں پڑھنا ہی افضل ہے۔ یہی طریقہ آپ کے بعد بھی لوگوں نے برقرار رکھا جہاںتک مکہ کے لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے عیدین کی نماز مسجد حرام میں پڑھتے رہے ہیں تو اس کی وجہ دراصل مناسب جگہ کی عدم فراہمی ہے نہ کہ مسجد کی افضلیت۔
بڑھتی آبادی کے باوجود اگر شہروں میں ہم چاہیں تو پارکوں میں اس کا انتظام کرسکتے ہیں بلکہ دہلی جیسے شہروں میں باقاعدہ اس کا انتظام ہے ۔ لہٰذا جن لوگوں کے پاس اتنی وسعت ہو کہ ان مقامات پر عیدین کی نماز پڑھ سکیں تو انھیں ضرور آکر ان جگہوں پر یا جہاں بھی اس قسم کا انتظام ہو نماز عیدین پڑھنی چاہئے، بغیر کسی عذر کے سنت نبوی کی خلاف ورزی سے احتراز کرناچاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنت کا شیدائی بنائے۔ آمین          

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔