بدھ، 7 فروری، 2018

آب زمزم کی فضیلت

0 comments

آب زمزم کی فضیلت


آب زمزم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ ہاجر علیہا السلام کے لئے اس وقت جاری کیا تھا جب اسماعیل علیہ السلام کے والد محترم ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے انہیں اس مقام پر چھوڑ دیا تھا جہاں پر آج مکۃ المکرمہ ہے۔ توشہ ختم ہونے کے بعد جب پیاس کی شدت نے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو پریشان کیا تو ہاجر علیہا السلام کی ممتا نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ادھر ادھر دوڑ کر پانی تلاش کریں،چنانچہ وہ بار بار صفااور مروہ کے درمیان بے چینی کے عالم میں چکر لگا رہی تھیں، ان کے سات چکر ہی ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے زمزم کا چشمہ جاری کر دیا۔ ہاجر علیہا السلام پانی کے بہائو کو روکنے کے لئے منڈ یر بنانے لگیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: اگر آپ علیہا السلام اسے چھوڑ دیتیں تو پانی ظاہر ہوتا ۔ یعنی کنویں کی شکل میں نہ ہوتا۔
یہ آب زمزم کی مختصر تاریخ ہے۔ گویا کہ یہ مکہ مکرمہ میں انسانی آبادی کا سبب بنا۔ قبیلۂ جرہم کے لوگوں نے ہاجرعلیہا السلام کی اجازت سے اس کو اپنا مسکن بنایا اس طرح مکہ کی آبادی قائم ہوگئی۔ ماء زمزم کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ وہ پانی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے لئے جاری کیا اور آج تک یہ چشمۂ فیض جاری ہے ۔ ایک تھوڑے سے عرصہ کے علاوہ اس کا فیض کبھی بند نہیں ہوا۔ اس بابرکت پانی کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
’’ماء زمزم مما شرب لہ‘‘
’’آب زمزم جس غرض سے پیا جائے اس کے لئے کافی ہے‘‘۔
تخریج حدیث:
اس حدیث کی تخریج سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب الشرب من زمزم رقم ۶۲ ۳۰، مسند احمد ۳؍۳۵۷، سنن بیہقی ۵؍۱۴۸ میں کی گئی ہے۔

درجۂ حدیث:

یہ حدیث ان احایث میں سے ہے جن کی صحت و ضعف پر ائمۂ کرام کا اختلاف رہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ایک مستقل رسالہ لکھ کر اس کو لائق حجت قرار دیا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل رقم ۱۱۳۳ (۴؍۳۲۰) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس حدیث کی دوسندوں کا ذکر کیا ہے پہلی سند میں جس کو ابن ماجہ، احمد اور بیہقی نے بیان کیا ہے اس میں ایک راوی عبد اللہ بن المؤمل ہیں حافظ ذہبی نے انہیں ’’ضعیف‘‘ اور ایک جگہ ’’لین‘‘ قرار دیا ہے حافظ ابن حجر نے ’’ضعیف الحدیث‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ سخاوی نے اس حدیث کو ’’المقاصد الحسنۃ‘‘(۹۲۸) میں ذکر کرنے کے بعد کہا ہے ’’ اس کی سند ضعیف ہے‘‘۔
علامہ البانی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں معاذ بن نجدہ کے علاوہ سبھی رواۃ صحیح کے ہیں، ذہبی نے المیزان میں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے: ’’صالح الحال وقد تکلم فیہ‘‘ہاں، ان سے روایت کرنے والے اسحاق بن شیبان البغدادی کو میںنہیں جانتا۔اس طریق میں میرے نزدیک یہی علت ہے۔ (دیکھیں: ارواء الغلیل ۴؍۳۲۰-۳۲۱)   دوسری سند جس کو خطیب نے اپنی تاریخ (۱۰؍۱۱۶) میں بیان کیا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں جیسا کہ التلخیص (۲۲۱) میں ہے۔ بیہقی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے کیوں کہ اس کی سند میں سوید منفرد ہیں حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا ہے کہ یہ فی نفسہ صدوق ہیں مگر یہ نابینا ہوگئے تھے تو جو حدیثیں ان کی نہیں ہوتی تھیں ان کو بھی بیان کرنے لگتے تھے۔
بہرحال یہ حدیث اپنے تمام طرق کے ساتھ حسن کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اس کی طرف امام ابن القیم (زاد المعاد ۴؍۳۹۳) امام زرکشی (التذکرہ ص ۱۵۱) حافظ ابن حجر اور امام سیوطی رحمہ اللہ گئے ہیں۔ اور یہی صحیح بھی ہے۔
٭٭٭

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔