بدھ، 7 فروری، 2018

غیر ملکی زبانوں کی تعلیم شریعت کی نظر میں

0 comments

غیر ملکی زبانوں سے نفرت کیوں؟


زبانوں کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ جس دھرم کے ماننے والے اسے بولیں وہ انہی کی زبان ہوجاتی ہے۔موجودہ زمانہ میں دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ فاصلے مٹ گئے ہیں۔ ایسے میں عالمی زبانوں سے ناواقفیت کا صرف یہی نقصان نہیں کہ ہم رائے عامہ کے اہم وسیلہ سے محروم ہوجائیں گے اور اس کے نتیجہ میں معاشی طور پر ہم کو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے  بلکہ اس کاایک بڑا نقصان ایک داعی امت ہونے کی حیثیت سے یہ ہے کہ ہم اپنی دعوت براہ راست ان تک نہیں پہنچاسکتے ،شکوک وشبہات کا ازالہ نہیں کرسکتے، اسلام پر ہونے والے اعترضات کا جواب نہیں دے سکتے۔ اس وجہ سے داعیان اسلام کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ لینگویج گیپ Language gap کو ختم کریںاور ہر صاحب زبان کو اس کی  زبان میں دعوت دینے کی کوشش کریں۔اللہ تعالی نے ہر نبی کو ان کی قوم کی زبان میں مبعوث فرمایا ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’وَمَااَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ۔(ابراہیم :۴)
’’ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان ہی میں مبعوث کیا تاکہ وہ ان کے لئے واضح طور پر بیان کرسکے‘‘۔
اس آیت کریمہ سے زبانوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کسی بھی زبان کا مخالف نہیںبلکہ دنیا کے ہر خطہ میں پھیلی ہوئی بے شمار زبانوں کو وہ اللہ کی نشانی قرار دیتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’وَمِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُم وَاَلْوَانِکُمْ‘‘ (الروم۲۲)
’’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان وزمین کی تخلیق نیز رنگوں اور زبانوں کا اختلاف بھی ہے۔‘‘
یہی نہیںبلکہ نبی کریم  ﷺ نے ضرورت پڑنے پرغیروں کی زبان سیکھنے پر زور دیا ہے۔آپ  ﷺ کو بعض دفعہ سریانی زبان میں خط وکتابت کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے لیے اس زبان کے ماہرین کی خدمات لینے کی ضرورت پڑتی تھی جو عموماََ یہودی ہوا کرتے تھے۔ خط وکتابت کا معاملہ چونکہ رازداری کا ہوتا ہے اس وجہ سے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا،اس پریشانی کے حل کے لئے آپ ﷺ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ سریانی زبان سیکھیں ۔ بنی کریم ﷺ کی برکت اور زید رضی اللہ عنہ کی لگن کہ آدھے مہینہ کی مدت میں سریانی زبان کے ماہر ہوگئے۔
عن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ،قال :أمرنی رسول اللہ ﷺ أن نتعلم لہ من کلمات من کتاب یہود،قال: إنی واللہ ما اٰمن یہود علی کتابی ،قال:فمامر بی نصف شہر حتی تعلمتہ ،کان إذا کتب إلی یہود کتبت إلیہم وإذاکتبوا إلیہ قرأت لہ کتابہم۔
’’زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ میں آپ کی خاطر یہودیوں کی زبان سیکھوں۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کی قسم یہودیوں سے خط وکتابت کے تعلق سے مامون نہیں ہوں ۔زید بن ثابت کہتے ہیں کہ آدھا مہینہ بھی نہیں گذرا کہ میں نے آپ کے لیے وہ زبان سیکھ لی ،کہتے ہیں کہ جب میں نے زبان سیکھ لی تو آپ ﷺ جب کبھی یہود کو خط لکھتے تو میں آپ کی طرف سے لکھتا تھا اور جب وہ آپ کو لکھتے تو میں پڑھ کر سناتا تھا۔‘‘
تخریج :
اس حدیث کی تخریج ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب الإستیذان والأداب عن رسول اللہ باب ما جاء فی تعلیم السریانیۃ،رقم ۲۷۱۵،ابوداؤد نے کتاب العلم باب روایۃ حدیث أھل الکتاب ،رقم ۳۶۴۵ اور امام احمد نے اپنی مسند (رقم ۲۱۰۷۷اور ۲۱۱۰۸)میں کی ہے ۔
درجۂ حدیث:
حدیث صحیح ہے امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد اسے حسن صحیح کہا ہے۔علامہ البانی نے صحیح سنن ابی داؤد اور سنن ترمذی میں اس حکم کو برقرار رکھا ہے۔

غیر ملکی زبانوں کی اہمیت :

مذکورہ بالا حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر دعوتی ضرورت ہو تو کوئی بھی زبان سیکھی جاسکتی ہے۔یہاں تک کہ وہ زبان بھی جو خاص طور پر یہودیوں کی زبان سمجھی جاتی تھی۔تحفۃ الاحوذی میں علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے طیبی کا قول کہ’’ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شر سے بچنے کے لیے شریعت میں جو چیز حرام ہے اس کو بھی سیکھناجا ئزہے‘‘نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ کسی زبان کا سیکھنا حرام ہے۔ خواہ وہ سریانی ہویا ہندی،سنسکرت،ترکی یا فارسی ہو۔
زبانوں کے تعلق سے اسلام کے اتنے واضح موقف کے باوجود معلوم نہیں کیوں امت کا ایک بڑا طبقہ بعض زبانوں کو مبغوض سمجھے ہوئے ہے ۔انگریزی حکومت میں اس کی مخالفت سمجھ میں آتی ہے۔ اب اس زمانے میں جب سارا کام انگریزی اور ہندی میں ہوتا ہے ان زبانوں سے معاندانہ رویہ اپنا کر ہم کس دنیا میں رہنا چاہتے ہیں اور کس قسم کی نسل پیدا کرنا چاہتے ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیںکہ ہر زبان کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ زبانیں اپنے ساتھ اپنا تہذیبی پس منظر رکھتی ہیں ،زبان کے محاورے اور تلمیحات وغیرہ اس تہذیب ہی سے ماخوذ ہوتے ہیں جیسے ہندی کا مزاج دیومالائی ہے، انگریزی پر رومن تہذیب کی چھاپ ہے۔لیکن یہ بات تو اردو زبان پر بھی صادق آتی ہے۔اس زبان کے خمیر میں شیعیت اور صوفیت اور بدعیت شامل ہے اس کے باوجود ہم اس زبان میں تصنیف و تالیف کا کام کرتے ہیں۔
اسلام نے زبانوں کے تعلق سے اپنا دامن کا فی وسیع رکھا ہے یہودیوں کی زبان ہونے کے باوجود آپ نے سریانی زبان کو دعوتی مقاصد کے لیے سیکھنے کے لئے زید رضی للہ عنہ کوحکم دیا۔اسکے باوجود زبانوں کے لئے اسلام کو متعصب ثابت کرنے کے لیے حدیثیں وضع کی گئیں ۔فارسی زبان کی مذمت اورعربی زبان کی فضیلت میں وارد احادیث اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زبانوں کے بارے میں تعصب سے بچائے۔ آمین۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔