بدھ، 7 فروری، 2018

فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا

0 comments


ہمارے یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہونے کے باوجود لوگوں میں رائج نہیں ہیں، لاعلمی کی وجہ سے یا لوگوں کو ایسا نہ کرتے ہوئے دیکھنے کی وجہ سے اسے خلاف سنت مان لیا جاتا ہے، ایسی ہی چیزوں میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہنا ہے، حالاں کہ اس کے تعلق سے واضح احادیث موجود ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
کنا نعرف انقضاء صلاۃ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بالتکبیر۔
 ( صحیح بخاری: کتاب الأذان باب الذکر بعد الصلوۃ رقم ۸۴۱-۸۴۲، صحیح مسلم رقم ۵۸۳ )
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے ختم ہونے کی اطلاع تکبیر کے ذریعہ پاتے تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کرنے کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جس سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز کے ختم ہونے کی اطلاع مل جاتی تھی، گویا کہ بلند آواز سے تکبیر کہنا نماز کے ختم ہونے کی علامت ہوا کرتی تھی۔ اس صریح حدیث کے باوجود بہت سے لوگ اس کی تاویل کرکے یا بے وزن دلیلوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد آواز سے تکبیر یا دوسرے اذکار کرنا صحیح نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل سطور میں مخالفین اور موافقین کی دلیلوں کا جائزہ لے کر بلند آواز سے تکبیر اور دوسرے اذکار کرنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔

مخالفین کے دلائل:

جو لوگ نماز ختم ہونے کے بعد بلند آواز سے ’’اللہ أکبر‘‘ کہنے کو مستحب نہیں سمجھتے وہ اس حدیث کا جواب دیتے ہیں کہ:
۱۔            اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ بلند آواز سے تکبیر سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہما  کو نماز کے ختم ہونے کا علم ہوتا تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ میں جاتے ہوئے اور اس سے سر اٹھانے کے بعد جو تکبیر کہی جاتی ہے اس کے ختم ہوجانے کی وجہ سے وہ سمجھتے تھے کہ اب نماز ختم ہوچکی ہے اس لیے کہ تکبیروں کی آواز آنی بند ہوگئی ہے، لہٰذا معنی ہوگا: 
’’کنت أعرف انقضاء الصلاۃ بإنقضاء التکبیرات۔‘‘
۲۔           بعض لوگ کہتے ہیں تکبیر سے مراد وہ تکبیر ہے جو فرض نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سکھلائی تھی کہ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور ۳۳ مرتبہ الحمد للہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ أکبر کہیں۔ مگر ایسی صورت میں اللہ أکبر کو ان دونوں سے پہلے کہنا لازم آئے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان تینوں میں سے کسی کو بھی پہلے کہا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
۳۔           ذکر و اذکار اللہ تعالیٰ نے بلند آواز سے کرنے سے منع کیا  ہے:
 وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا o (بنی إسرائیل:۱۱۰)
’’نماز میں آواز بلند کرو اور نہ زیادہ پست بلکہ ان دونوں کے درمیان والا راستہ تلاش کرو۔‘‘
   اس آیت کریمہ کی روشنی میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ آواز کو بلند نہ کیا جائے اور جو آپ سے آواز بلند کرنا ثابت ہے وہ صرف تعلیم کے لیے تھا ، مستقل طور پر نہ تھا۔

موافقین کے دلائل:

مذکورہ بالا شبہات کا موافقین جواب دیتے ہیں کہ :
۱۔            جہاں تک پہلے شبہ کی بات ہے تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ روایت ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے:
أن رفع الصوت بالذکرحین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم و أنہ قال: قال ابن عباس: کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ۔ ( صحیح مسلم رقم ۵۸۳)
’’فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر و اذکار کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا معمول تھا۔ (ابن عباس کے غلام ابومعبد کہتے ہیں کہ) ابن عباس نے کہا: مجھے ان کے سلام پھیرنے کی اطلاع اسی (ذکر) کو سن کر ہوتی تھی۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت میں تکبیر کے بجائے ’’ذکر‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو تکبیر سے عام ہے مگر اس روایت سے یہ شبہ باطل ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رکوع و سجود میں جاتے وقت کہی جانے والی تکبیروں کا انقطاع ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ صراحۃً دلالت کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف آپ کا بلکہ صحابۂ کرام کا عام معمول تھا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ذکر واذکار کرتے تھے۔ اس میں سرفہرست بلند آواز سے اللہ أکبر کہنا ہے، جیسا کہ پہلی روایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
۲۔           جہاں تک دوسرے شبہ کی بات ہے کہ اس سے مراد وہ تکبیر و تحمید اور تسبیح ہے جو آپ نے مخصوص عدد کے ساتھ فرض نماز کے بعد پڑھنے کو کہا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے، اس وجہ سے کہ احادیث میں جو ترتیب آئی ہے وہ اس کے برخلاف تسبیح پھر تحمید اس کے بعد تکبیر ہے، اگر ان لوگوں کا دعویٰ مان بھی لیا جائے کہ ترتیب کوئی ضروری نہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ انھیں بلند آواز سے شمار کرنا مستحب ہے حالاں کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔           تیسرا شبہ جو ظاہر کیا گیا ہے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ آیت کریمہ کے اندر جہاں آواز بلند کرنے کی ممانعت ہے وہیں آواز پست کرنے کی بھی ممانعت ہے، لہٰذا یہ دلیل نہیں بن سکتی اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن مقامات پر بلند آواز سے ذکر کرنا ثابت ہے اس سے یہ آیت منع نہیں کرتی چنانچہ حج کے لیے تلبیہ بلند آواز ہی سے کہا جاتا ہے، اس سے کوئی منع نہیں کرتا۔ ہاں، اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حد سے زیادہ تیز آواز کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:
إربعوا علی أنفسکم فإنکم لاتدعون أصم و لا غائبا۔
 (صحیح بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر رقم ۲۹۹۲، صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعاء باب استحباب خفض الصوت بالذکررقم ۲۷۰۴)
’’اپنے نفسوں پر رحم کھائو اس لیے کہ تم جسے بلا رہے ہو وہ بہرا اور غائب نہیں ہے۔‘‘
لہٰذا تکبیر بلند آواز سے ضرور کہی جائے گی مگر معتدل آواز میں، نہ پست اور نہ زیادہ بلند۔
جو لوگ اسے بعض اوقات کے لیے خاص مانتے ہیں کہ ایسا آپ نے تعلیم کے لیے کیا تھا تو ان کا یہ موقف صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث کے الفاظ میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کے اندر ’’کان‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ یہ آپ کا اور صحابہ کا معمول تھا اور ابن عباس نے اس کو کسی خاص موقع کے ساتھ خاص کرکے نہیں بیان کیا بلکہ عمومیت کے ساتھ یہ بات کہی ہے، لہٰذا جو لوگ یہ بات کہتے ہیں ان کے دلیل میں وزن نہیں ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب:

صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
قال عمرو: فذکرت ذلک لأبی معبد فأنکرہ و قال: لم أحدثک بہذا، قال عمرو: و قد أخبرنیہ قبل ذلک۔
’’عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابومعبد سے کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اس حدیث کو تم سے نہیں بیان کیا، عمرو بن دینار کہتے ہیں: حالاں کہ انھوں نے ہی اس سے پہلے مجھے اس کی خبر دی تھی۔‘‘
لہٰذا یہ ’’من حدّث و نسی‘‘ کا معاملہ بنتا ہے۔ علماء اصول الحدیث کے نزدیک ایسی صورت میں جب کوئی محدث اپنی بیان کردہ حدیث کا انکار کرے تو اس حدیث کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے مگر اس میں راجح یہ ہے کہ اگر کسی ثقہ سے حدیث بیان کرنے کے بعد شیخ حدیث کا انکار کرتاہے، شک یا بھول جانے کی وجہ سے، تو ایسی صورت میں اس ثقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو قبول کیا جائے گا، ہاں، اگر محدث قطعی طور پر اس کا انکار کر رہا ہے اور روایت کرنے والے کو جھوٹا بتلا رہا ہے تو ایسی صورت میں اس حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک اس حدیث کی بات ہے تو عمر وبن دینار ثقہ، ثبت راوی ہیں لہٰذا ان کی بات کا اعتبار ہوگا۔ بخاری و مسلم جیسے جلیل القدر محدثین نے اس حدیث کی تخریج کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ابومعبد کو بڑھاپے کی وجہ سے بھول واقع ہوگئی اور یہ نہ جان سکے کہ انھوں نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ (۱)
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اگر کوئی کہے کہ ابومعبد یہ حدیث بھول گئے اور اس کا انکار کیا تو ہم کہیں گے: کیا ہوا؟ عمرو بن دینار أوثق الثقات (حد درجہ ثقہ) ہیں اور بھول چوک سے کوئی بھی آدمی پاک نہیں۔ ثقہ کی روایت سے حجت قائم ہوجاتی ہے۔ (المحلی ۴؍۲۶۰) بہرحال روایت کی صحت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔

خلاصۂ کلام:

نماز کے بعد بلند آواز سے اللہ أکبر پڑھنے کے سلسلے میں فریقین کے دلائل بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد دوسرے اذکار مثلاً تین مرتبہ أستغفراللہ اور ایک مرتبہ أللہم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الإکرام وغیرہ پڑھے جائیں۔ (۲)
امام نووی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ بالا حدیث ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث دلیل ہے بعض سلف کے لیے جو کہتے ہیں کہ فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر بلند آواز سے کرنا مستحب ہے۔‘‘
صاحب مرعاۃ المفاتیح شیخ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ما ذہب إلیہ بعض السلف و ابن حزم من المتأخرین من استحباب رفع الصوت بالتکبیر و الذکر أثر کل صلاۃ مکتوبۃ ہو القول الراجح عندی و إن لم یقل بہ الأئمۃ الأربعۃ و مقلدوہم، لأن حدیث ابن عباس باللفظین نص فی ذلک، ویدل علی ذلک ایضاً حدیث عبد اللہ بن الزبیر الاٰتی، والحق یدور مع الدلیل لامع الإدعاء أو الرجال۔ (مرعاۃ ۳؍۳۱۵)
’’اسلاف کرام میں سے بعض اور متأخرین میں سے ابن حزم رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تکبیر اور ذکر (دعا) بلند آواز سے کرنا مستحب ہے، یہی قول ہمارے نزدیک راجح ہے، اگرچہ ائمہ اربعہ اور ان کے مقلدوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔ اس لیے کہ عبداللہ بن عباس کی دونوں الفاظ کے ساتھ وارد حدیث اس معاملہ میں نص ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی آنے والی حدیث بھی یہی واضح کرتی ہے۔ (۳) حق دلیل کے تابع ہوتاہے محض دعووں اور شخصیتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ’’من حدیث و نسی‘‘ کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں: تدریب الراوی۔
۲۔           دیکھیں صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ رقم ۵۹۱۔
۳۔           صاحب مرعاۃ کا اشارہ صحیح مسلم کی اس حدیث کی طرف ہے:
   ’’عن عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ إذا سلم من صلاۃ یقول بصوتہ الأعلی: لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیٔ قدیر… الحدیث۔ لیکن مسلم میں یہ روایت ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہلل بہن دبر کل صلاۃ مکتوبۃ‘‘ (مسلم ۵۹۴) کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ غالباً صاحب مشکوۃ نے بالمعنی روایت کیا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔