بدھ، 7 فروری، 2018

کیا قرآن کی نظر میں عورت مکار ہے؟

0 comments
عام طور پر لوگوں کے ذہن میں عورتوں کے تعلق سے یہ تصور ہوتا ہے کہ وہ فطری طور پر مکار ہوتی ہیں، عورتوں کی سرشت ہی میں مکر و دغا ہے لہٰذا وہ اس فن میں ماہر ہوتی ہیں۔ اگر اس فاسد خیال کی بنیاد صرف مشاہدے اور ذاتی تجربات ہوتے تو بہت زیادہ قباحت کی بات نہ ہوتی اس لیے کہ ہر شخص اپنے مشاہدہ اور تجربہ کی روشنی میں کوئی رائے قائم کرنے میں آزاد ہے، مگر اس کی قباحت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اس کی نسبت مذہب اسلام کی طرف کی جائے اور قرآن و حدیث کے نصوص سے غلط استدلال کرکے یہ بتانے کی کوشش کی جائے کہ اسلام کی نظر میں عورتوں کی جنس مکار ہوتی ہے۔
عورتوں کے تعلق سے اسلام کا حکم واضح ہے اس لیے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف ان نصوص کو بیان کیا جائے گا جن کو بنیاد بنا کر عورت ذات کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے مکار و دغاباز وغیرہ جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔

آدم و حوا کے قصہ سے استدلال:

کہا جاتاہے کہ آدم علیہ السلام کو ورغلاکر شجر ممنوعہ کا پھل حوا علیہا السلام نے کھلایا تھا، جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا دونوں کو جنت سے نکال دیا، گویا کہ انسانی تاریخ میں انسان سے پہلی غلطی کی وجہ ایک عورت بنی اور جو کام ابلیس خود نہ کرسکا وہ ایک عورت ذات کے ذریعہ انجام دیا۔ اس سے یہ دلیل پکڑی جاتی ہے کہ عورت کا مکر و فریب شیطان کے مکر و فریب سے بڑھا ہوا ہے۔
کیا حواعلیہا السلام کے کہنے پر آدم علیہ السلام نے پھل کھایا تھا؟
 قرآن مجید میں آدم و حوا کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تفصیل کے ساتھ ایک سے زائد جگہوں پر بیان کیا ہے مگر کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں کہا ہے کہ حوا نے اس پھل کو پہلے کھایا یا آدم علیہ السلام سے کھانے کو کہا، سورۂ بقرہ میں اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے:
وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْہَا رَغْدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَo فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَ قُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍo فَتَلَقّٰیٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُo (البقرۃ:۳۵-۳۷)
’’اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھائو پیو، لیکن اس درخت کے قریب مت جانا، نہیں تو ظالموں میں سے ہوجائو گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جس عیش و آرام میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔ اور ہم نے حکم دیا کہ (جنت سے) نکل جائو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور سامان زندگی مقرر کردیا گیا ہے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے (اور ان کلمات کے ذریعہ سے معافی مانگی) تو (اللہ تعالیٰ) نے ان کا قصور معاف کردیا، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ اس درخت کے قریب جانے سے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے روکا تھا اور شیطان نے دونوں کو بہکایا تھا اس لیے کہ قرآن نے دونوں کے لیے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا ہے۔
ان دونوں کو شیطان نے کس طرح بہکایا اس کی وضاحت دوسری جگہ کی گئی ہے:
فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰٓـاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَ مُلْکٍ لَّا یَبْلٰیo فَاَکَلَا مِنْہَا فَبَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰیo (طہ:۱۲۰-۱۲۱) 
’’شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا: اے آدم! کیا میں تم کو ایسا درخت نہ بتائوں جو ہمیشہ کی زندگی کا ثمر دے اور ایسی بادشاہت جو کبھی زائل نہ ہو، تو دونوںنے اس درخت کا پھل کھالیا جس کے نتیجہ میں ان کی شرمگاہیں ان پر ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے جسم پر جنت کے پتے چپکانے لگے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی اور بہک گئے۔‘‘
ایک اور جگہ پر ہے کہ شیطان نے ان سے کہا:
مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَoوَ قَاسَمَہُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَo فَدَلّٰہُمَا بِغُرُوْرٍ (الأعراف:۲۰-۲۲)
تمہارے رب نے تمھیں اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جائو یا ہمیشہ کی زندگی نہ پاجائو۔ (شیطان نے) ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں، خیر اس نے دھوکا دے کر ان دونوں کو (برائی کی طرف) کھینچ ہی لیا۔‘‘

شیطان کے بہکانے کی کیفیت:

قرآن مجید کی یہ خوبی ہے کہ واقعات بیان کرتے ہوئے سبھی اجزاء کو ایک ہی جگہ نہیں بیان کردیتا ہے بلکہ مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں واقعات کے صرف ضروری اجزاء کو بیان کرتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ طہ کی بہ نسبت سورۂ اعراف میں وسوسہ کی کیفیت نہیں بیان کی گئی ہے مگرلفظ ’’قاسمہما‘‘ سے جس با ت کی وضاحت ہوتی ہے وہ وسوسہ سے نہیں، اس لیے کہ شیطان کا وسوسہ اس طرح بھی ہوسکتاہے جس طرح دیگر اولاد آدم کے ساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بھی یہ کہہ سکتاہے کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا یا پھسلا دیا مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیطان نے مجھ سے قسم کھا کر کہا۔ لہٰذا یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیطان نے براہ راست دونوں سے قسم کھا کر یقین دلایا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں اور اس درخت کے پھل کو کھانے سے صرف اس لیے روکا گیا ہے کہ اس کو کھا کر تم دونوں فرشتے بن جائو گے اور تمھیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔ آدم اور حوا اس کے بہکاوے میں آگئے اور درخت کا پھل کھا لیا۔

اگر آدم وحوا کے واقعہ میں کسی کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے تو وہ آدم ہیں نہ کہ حوا:

مذکورہ بالا آیات قرآنیہ میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اکثر جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا ہے اور اگر کسی جگہ واحد کا صیغہ استعمال بھی ہوا ہے تو وہ مذکر کا صیغہ ہے:
وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰیo (طہ: ۱۲۱) 
’’آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گئے۔‘‘
وَ لَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًاo (طہ :۱۱۵)
’’اور ہم نے پہلے آدم سے عہدلیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں کوئی عزم نہیں پایا۔‘‘
مذکورہ بالا آیتوں میں ’’معصیت‘‘ اور نسیان‘‘ کی نسبت اکیلے آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے اس لیے اگر اس واقعہ میں کوئی ایک فرد دوسرے کے مقابل میں زیادہ خطاوار ہو سکتاہے یا اسے زیادہ قصور وار ٹھہرایا جاسکتاہے تووہ بلاشبہ حوا کی ذات نہیں ہوسکتی بلکہ وہ آدم علیہ السلام کی ذات ہوگی۔ 

مرد برادری کی ہوشیاری:

یہ بات انتہائی تعجب کی ہے کہمذکورہ آیات کو دلیل بناکر کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے کہ آدم علیہ السلام نے پہلے شجر ممنوعہ کا پھل کھایا پھر حوا سے کھانے کو کہا اور چوں کہ مرد گھر کا نگراں ہوتا ہے اس لیے چار وناچار حوا کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانا پڑا اور اس کے نتیجے میں پوری مرد برادری کویہ طعنہ دیاجاتا کہ وہ عورت ذات کو اپنے ماتحت رکھ کر اپنی مرضی اس پر تھوپتا ہے۔ اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ مرد برادری نے عورتوں کے استحصال کے لیے نئے نئے بہانے تلاش کئے ہیں اور اگر کبھی ضرورت پڑی ہے تو اس کے لیے آسمانی کتابوں میں تحریف سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ چنانچہ اس تعلق سے تورات میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ اسی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ ’’ترجمان القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فی الحقیقت سب سے بڑا کید تو مرد ہی کا کید ہے جو پہلے اسے اپنے کام جوئیوں کا آلہ بناتا ہے اور جب وہ بن جاتی ہے تو خود پاک بنتا اور ساری ناپاکیوں کا بوجھ اس معصوم کے سر ڈال دیتا ہے۔
دنیا میں کوئی عورت بری نہ ہوتی اگر مرد اسے برا بننے پرمجبور نہ کرتا۔ عورت کی برائی کتنی ہی سخت اور مکروہ صورت میں نمایاں ہوتی ہو، لیکن اگر جستجو کرو گے تو تہ میں ہمیشہ مرد ہی کا ہاتھ دکھائی دے گا اور اگر اس کا ہاتھ نظر نہ آئے تو ان برائیوں کا ہاتھ ضرور نظر آئے گا جو کسی نہ کسی شکل میں اس کی پیدا کی ہوتی ہیں۔‘‘ (۱)

چند بے سر وپا روایات:

قرآن مجید کی ان واضح آیات کے باوجود آدم اور حوا علیہما السلام سے متعلق بے شمار آثار و روایات تفسیر کی کتابوں میں آگئی ہیں جو قرآنی الفاظ سے ٹکراتی ہیں۔ ذیل میں چند احادیث کو بیان کیا جارہاہے:
’’سعید بن جبیر رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ جب آدم علیہ السلام نے درخت کا پھل کھا لیا تو ان سے پوچھا گیا کہ تم نے اس درخت کا پھل کیوں کھایا جس سے تمہیں روکا گیاتھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے حوا نے اسے کھانے کو کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا اس کے بدلہ میں انھیں یہ سزا دی جاتی ہے کہ وہ مشقت کے ساتھ حاملہ ہوں گی اور مشقت کے ساتھ جنم دیں گی۔ حوا نے اس وقت آہ و فغاں کی تو کہا گیا کہ تم پر اور تمہاری اولاد پر آہ و فغاں مقدر کردی گئی ہے۔‘‘ (۲)
اسی کی مانند ایک اور روایت ہے جسے حاکم نے روایت کیا ہے اور اس صحیح بھی کہا ہے (۳) اور بیہقی نے ’’شعب الإیمان‘‘ میں درج کیا ہے:
’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آدم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے ابھارا کہ اس درخت کا پھل کھائو جس سے میں نے منع کیا تھا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار! حوا نے اسے میرے لیے خوشنما بنا دیا تھا۔‘‘ (۴)
اس طرح کے اوربھی بہت سے آثار ہیں جو تفسیر کی کتابوںمیں درج ہیں، ان میں شیطان کے جنت میں داخل ہونے کی کیفیت مذکور ہے، شاید ہی کوئی تفسیر کی کتاب ہو جو ان آثار سے خالی ہو جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں داخل ہوا اور وہاں جاکر آدم و حوا کو بہکایا۔ یہ سبھی اسرائیلی روایات ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ (۵) 

آدم وحوا کے واقعہ سے متعلق محققین علماء کی آرائ:

اب ہم ذیل میں مولانا آزاد ،مولانا مودودی ،مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی اور دوسرے محقق علماء  کی آراء پیش کرتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میںمذکورہ رائے قائم کرنے میں اکیلا ہوں یا یہ صرف میرے ذہن کی اپج ہے۔
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی قصص القرآن میں ان واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
’’سوال:توارۃ و انجیل (بائبل) میں اس قصہ سے متعلق جو واقعات مذکور ہیں مثلاًسانپ اور طائوس کا قصہ یا اس قسم کی اور باتیں جو قرآن عزیز اور صحیح روایاتِ حدیثی میں نہیں پائی جاتیں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟
ج: یہ سب اسرائیلیات کہلاتی ہیں اور بے اصل ہیں، ان کی پشت پر نہ علم یقین اور علم صحیح (وحی الٰہی) کی سند ہے اور نہ عقل و تاریخ کی شہادت، اس لیے من گھڑت اور بے سروپا باتیں ہیں۔‘‘ (۶)
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی بے سروپا اسرائیلی روایات کو تفسیر کی کتابوں میں درج کرنے کی مضرت کو واضح کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
’’بعض مفسرین بھی ایسی روایات کے نقل میں سہل نگاری برتتے ہیں، جس سے بہت بڑا نقصان یہ پیدا ہوتاہے کہ عوام نہیں بلکہ خواص بھی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان روایات کو اسلامی روایات میں دخل ہے اور یہ بھی صحیح روایات کی طرح صحیح اور قابلِ قبول ہیں،اس لیے از بس ضروری ہے کہ تردید کے ارادہ سے علاوہ تفسیر قرآن میں ہرگز ان کو جگہ نہ دی جائے اور نہ صرف کتب تفسیر و حدیث بلکہ کتب سیرت کو بھی ان سے پاک رکھا جائے۔‘‘ (۷)
ابن جریر طبری رحمہ اللہ اس واقعہ سے متعلق اقوال صحابہ وتابعین کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ابلیس کے آدم و حوا کو بہکانے کی کیفیت کے سلسلے میں ہم نے صحابہ و تابعین کے جوآثار نقل کئے ہیں ان میں ہمارے نزدیک حق سے قریب بات وہ ہے جو کتاب اللہ کے موافق ہو۔‘‘ (۸)
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب اللہ کے موافق بات یہی ہے کہ مذکورہ معاملہ میں کسی ایک فرد کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ آدم علیہ السلام کے قصہ سے متعلق آثار کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اس تعلق سے سلف سے بہت زیادہ آثار مروی ہیں ان میں سے اکثر اسرائیلیات ہیں جو صرف اس لیے نقل کردیئے گئے ہیں تاکہ ان میں غور کیا جائے، ان میں سے اکثر کے احوال تو اللہ ہی بہتر جانتاہے، کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا جھوٹ ہونا قطعی طور پر ظاہر ہو اس طور پر کہ ہمارے پاس جو کتاب یعنی قرآن مجید موجود ہے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے، قرآن مجید میں جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ ہمیں پرانے زمانے کے واقعات کی جستجو سے بے نیاز کردیتے ہیں۔ اس لیے کہ گزشتہ کتابوں میں جو واقعات مذکور ہیں وہ تحریف اور کمی و بیشی سے خالی نہیں اور بہت ساری چیزیں تو گڑھ لی گئی ہیں، ان کے پاس پختہ کار حفاظ نہیں تھے جو غلو پسندوں کی تحریف اور باطل پرستوں کے انحراف کے اصلاح کرتے جس طرح کہ اس امت میں علما اور ائمہ ہوئے۔‘‘ (۹)
ابن کثیر رحمہ اللہ دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’(آدم علیہ السلام کے قصہ سے متعلق اقوال) کی نسبت ان صحابہ کی طرف سدی کی تفسیر میں مشہور ہے۔ اس کے اندر بہت زیادہ اسرائیلیات ہیں غالباً اس کے بعض حصے مدرج ہیں جو صحابۂ کرام کے کلام میں سے نہیں، یہ بات بھی ممکن ہے کہ انھوں نے انھیں قدیم کتابوں سے حاصل کیا ہو۔‘‘ (۱۰)
یہ قرآن مجید کا عورت ذات پر بہت بڑا احسان ہے کہ جس بے بنیاد بات کی نسبت اس کی طرف کرکے اسے ہدف ملامت بنایا جاتا تھا قرآن نے بڑے ہی سیدھے سادھے انداز میں اسے اس الزام سے بری کردیا۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں بیان کرتے ہیں:
’’عام طور پر یہ جو مشہور ہوگیا ہے کہ شیطان نے پہلے حوا کو دام فریب میں گرفتار کیا اور پھر انھیں حضرت آدم کو پھانسنے کے لیے آلۂ کار بنایا قرآن اس کی تردید کرتا ہے، اس کا بیان یہ ہے کہ شیطان نے دونوں کو دھوکہ دیا اور دونوں اس سے دھوکہ کھاگئے۔ بظاہر یہ بہت چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن جن لوگوں کو معلوم ہے کہ حوا کے متعلق اس مشہور روایت نے دنیا میں عورت کے اخلاقی، قانونی اور معاشرتی مرتبے کو گرانے میں کتنا زبردست حصہ لیا ہے وہی قرآن کے اس بیان کی حقیقی قدر و قیمت سمجھ سکتے ہیں۔‘‘ (۱۱)
مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ میں اس واقعہ کے بارے میںلکھتے ہیں:
’’تورات میں ہے کہ شجر ممنوعہ کے پھل کھانے کی ترغیب آدم کو حوا نے دی تھی اس لیے نافرمانی کا پہلا قدم جو انسان نے اٹھایا وہ عورت کا تھا۔ اسی بنا پر یہودیوں اور عیسائیوں میں یہ اعتقاد پیدا ہوگیا کہ عورت کی خلقت میں مرد سے زیادہ برائی اور نافرمانی ہے اور وہی مرد کو سیدھی راہ سے بھٹکانے والی ہے، لیکن قرآن نے اس قصے کی کہیں بھی تصدیق نہیں کی، بلکہ ہر جگہ اس معاملہ کو آدم اور حوا دونوں کی طرف منسوب کیا، انھیں جو حکم دیا گیا تھا وہ بھی یکساں طور پر دونوں کے لیے تھا: ’’وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور لغزش بھی ہوئی تو ایک ہی طرح پر دونوں سے ہوئی ’’فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ‘‘ شیطان نے دونوں کے قدم ڈگمگا دئیے اور دونوں کے نکلنے کا باعث ہوا، یعنی جو لغزش ہوئی اس میں یکساں طور پر دونوں کا حصہ تھا، یہ بات نہ تھی کہ کسی ایک پر دوسرے سے زیادہ ذمہ داری ہو۔‘‘ (۱۲)
مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس قسم کے سبھی اقوال جن میں حوا علیہا السلام کو زیادہ قصور وار ٹھہرایا گیا ہے، اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہیں، قرآن ان کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیلی روایات کی قسمیں:

اسرائیلی روایات سے مراد وہ روایات ہیں جو اہل کتاب (یہودی وعیسائی ) سے سن کر یا ان کی کتابیںپڑھ کر ہمارے محدثین یا مفسرین نے اپنی کتابوں میں درج کردیا ہے۔
 اسرائیلی روایات کی تین قسمیں علماء کرام نے کی ہیں:
۱۔ قرآن مجید کے موافق ۔
۲۔ قرآن مجید کے مخالف ۔
۳۔ اس بارے میں قرآن خاموش ہو یعنی نہ موافق ہو اور نہ مخالف میں۔ (۱۳)
پہلی اور آخری قسم کو بیان کیا جاسکتا ہے مگر دوسری قسم کی روایات کو بیان کرنا جائز نہیں۔ اگر انھیں بیان ہی کرنا ہو تو ان کی کمزوری کو واضح کردیا جائے تاکہ کوئی شخص قرآنی نصوص کے مخالف اسرائیلی روایات سے دھوکہ نہ کھائے۔ 
آدم علیہ السلام کے قصے میں جو اسرائیلی روایتیں ہمارے یہاں گردش کر رہی ہیں ان میں سے اکثر تیسری قسم سے ہیں اس لیے ان سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
 دراصل ہمارے یہاں کچھ ’’دانشور ‘‘قسم کے لوگ ہیں جو قرآن مجید میں وارد ہر قصہ کو اسرائیلی روایات کی چھلنی میں چھانتے ہیں اور اپنی دانست میں قرآنی قصوں میں جو کمی ہوتی ہے اسے ان اسرائیلی روایات سے پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس روش اور اس کے برے اثرات سے محفوظ رکھے۔ آمین

یوسف علیہ السلام کے قصہ سے استدلال:


عورتوں کے مکر و فریب میں ماہر ہونے پر یوسف علیہ السلام کے قصہ سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، سورۂ یوسف میں ہے کہ عزیز مصر کی بیوی جب یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈالتی ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتی ہے تو یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیتی ہے۔ یوسف علیہ السلام اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں، ایک تیسرا شخص یہ فیصلہ سناتاہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیص دیکھی جائے اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف علیہ السلام سچے ہیں اور اگر آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچی ہے۔ قمیص دیکھی گئی تو یوسف علیہ السلام کی بات سچی نکلی، اس موقع پر عزیز اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌo (یوسف:۲۸)
’’یہ سب تمہارا فریب ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کے مکربہت بڑے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ ہے قرآن مجید کی وہ آیت جس سے یہ بے جا استدلال کیا جاتا ہے کہ مکر و فریب عورتو ںکا خاصہ ہے اور اس مسئلہ میں یہ قرآن کا مسلمہ اصول ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس آیت میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے وہ اس وقت اور اس شہر کی عورتوں کی نسبت سے ہے نہ کہ پوری دنیا کی عورتوں کے تعلق سے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ عزیز کا قول ہے۔واقعات و قصص بیان کرتے ہوئے قرآن بہت سارے لوگوں کے اقوال اور مکالمے بیان کرتا ہے۔کوئی ضروری نہیں کہ اسے قرآن کا حتمی فیصلہ مان لیا جائے۔
افسوس کہ ہمارے بہت سے مفسرین نے اسے قرآن کا مسلمہ اصول تسلیم کرلیا اور یہ مان لیا کہ قرآن کی رو سے پوری عورت ذات مکار ہوتی ہے، یہی نہیں بلکہ اس کا مکر بعض وجوہ سے شیطان سے بھی بڑھا ہوا ہے کیوں کہ شیطان کے مکر کے بارے میں کہا گیا ہے:
اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا (النسائ:۷۶)
’’بے شک شیطان کا مکر کمزور ہے۔‘‘
 جب کہ عورت کے مکر کے بارے میں کہا گیا ہے:
اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌo (یوسف:۲۸)
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تم لوگوں کے مکربہت بڑے ہوتے ہیں۔‘‘
علامہ قرطبی نے اس مضمون کی ایک حدیث بھی اپنی تفسیر میں درج کی ہے:
قال مقاتل عن یحیی بن کثیر عن أبی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ إن کید النساء أعظم من کید الشیطان لأن اللہ تعالی یقول: إن کید الشیطان کان ضعیفا و قال: ان کیدکن عظیم۔ (۱۴)
’’مقاتل، یحییٰ سے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کا مکر شیطان کے مکر سے بڑھ کر ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان کا مکر کمزور ہے اور (عورتوں کے بارے میں) کہتا ہے: بے شک تم لوگوں کا مکر بڑا ہے۔‘‘
جہاں تک اس حدیث کی صحت کا تعلق ہے تو یہ انتہائی درجہ کی ضعیف ہے۔ اس کے راوی مقاتل بن سلیمان ہیں جن کے بارے میں سیوطی رحمہ اللہ نے خلیلی کی کتاب ’’الارشاد‘‘ کے حوالے سے لکھاہے: ’’مقاتل بن سلیمان کی تفسیر کی بابت اتنا ہی کہا جاسکتاہے کہ علماء نے مقاتل کو فی نفسہ ضعیف قرار دیا ہے ورنہ یوں تو انھوں نے بڑے بڑے تابعی اماموں کو پایا ہے۔ (۱۵)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’تقریب التہذیب‘‘ میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
کذبوہ و ہجروہ و رمی بالتجسیم
’’محدثین نے انھیں کذّاب گردانا ہے اور ان کی حدیثوں کو ترک کردیا ہے اور ان پر تجسیم (اللہ تعالیٰ کے لئے بندوں جیسا جسم رکھنے کا عقیدہ رکھنا)کا عقیدہ رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔‘‘ (۱۶)
معلوم ہوا کہ یہ روایت حد درجہ ضعیف ہے، اس سے کسی بھی صورت میں عورت ذات کی اخلاقی پستی پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر یہ عزیز کا قول ہے اور قرآن کا مسلمہ اصول نہیں ہے تو پھر قرآن نے اس کو مطلق طور پر بیان کرکے کیوں چھوڑ دیا، اس کی تردید کیوں نہیں کی؟
دراصل یہ شبہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ عزیزکا قول جس موقع و محل کے مناسبت سے بیان ہوا اس سے کاٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ عزیزکا یہ قول اس وقت کے مصری ماحول میں عورتو ںکی اخلاقی پستی کی وضاحت کرتاہے۔ یہ بیان صرف اس وقت کے لیے اور وہاں کی عورتوں کے بارے میں تھا۔ جہاں تک اس وقت کے مصری معاشرہ کے اونچے گھرانے کی عورتوں کی اخلاقی پستی کا سوال ہے تو اس کے لیے قرآن نے جو تصویر کھینچی ہے وہی کافی ہے۔
آخر یہ بے حیائی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ عزیزکی بیوی اپنی سہیلیوں کی دعوت لیتی ہے انھیں یہ دکھانے کے لیے کہ وہ کس خوب رو نوجوان سے محبت کرتی ہے۔اور پھر حد یہ کہ وہ سہیلیاں بجائے اس کے کہ عزیز کی بیوی کو کچھ کہتیں اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کرتیں الٹا یوسف علیہ السلام کوہی برائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بوائے فرینڈ (Boy Friend)سے دوستوں کی ملاقات کرانے کا موجودہ کلچر کوئی نیا نہیں ہے۔
ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں اپنی تفصیلی نوٹ میں لکھتے ہیں:
’’کیا ممکن ہے کہ جس قرآن نے مردوں اور عورتوں کی اخلاقی مساوات اس درجہ ملحوظ رکھی ہو، اسی قرآن کا یہ فیصلہ ہو کہ عورتوں کی جنس مردوں کے مقابلے میں زیادہ بداخلاق ہے اور مرد بڑے پاک باز ہوتے ہیں مگر بدبخت عورتیں نفس پرست اور مکار ہیں؟ تفسیر قرآن کی تاریخ کی یہ کیسی بوالعجبی ہے کہ ایک مصری بت پرست کے قول کو اللہ کا فرمان سمجھ لیا گیا اور اس سے اس طرح استدلال کیا جارہا ہے گویا عورتوں کی جنسی پستی و بداخلاقی کے لیے کتاب اللہ کا قطعی فیصلہ موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر پاک بازی و عصمت کے لحاظ سے دونوں جنسوں میں تفریق ہی کرنی ہو تو ہر طرح کی نفس پرستیوں اور مکاریوں کی حیوانیت مرد کے حصے میں آئے گی اور ہر طرح کی پاکیوں اور عفتوں کی فرشتگی عورت کے لیے ثابت ہوگی۔ یہ مرد ہی ہے جس کی حیوانیت پر عورت کی فرشتگی شاق گزرتی ہے، وہ چاہتا ہے اسے بھی اپنی ہی طرح کا حیوان بنا دے، اس لیے اپنے ’’کید عظیم‘‘ کے سارے فتنے کام میں لاتا ہے اور برائیوں کی ایک ایک راہ سے اسے آشنا کرکے چھوڑتا ہے، پھر جب وہ اس کے پیچھے قدم اٹھا دیتی ہے تو اس سے گردن موڑ لیتاہے اور کہنے لگتا ہے: ’’اس کا کید تو سب سے بڑا کید اور اس کی برائی تو سب سے بڑی برائی ہے۔‘‘ (۱۷)
خاتمہ:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سورۂ یوسف کی مذکورہ آیت اور آدم وحوا کے قصہ سے عورتوں کی اخلاقی پستی اور مکر و فریب کا آلۂ کار ہونے پر جو استدلال کیا جاتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں، قرآن مجید اور صحیح احادیث میں کہیں بھی کوئی ایسی بات مذکور نہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ عورت ذات مردوں سے زیادہ دغاباز ہوتی ہے اور مکر و فریب اس کا خاصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے صحیح فہم سے نوازے۔ آمین

حوالے:


۱۔ ترجمان القرآن ۲؍ ۷۷۹-۷۸۰
۲۔ تفسیر ابن جریر سورۂ طہ آیت ۱۲۰-۱۲۱
۳۔ جہاں تک حاکم کی تصحیح کا سوال ہے توحاکم اس معاملہ میں تساہل سے کام لینے میں مشہور ہیں، وہ اپنی کتاب المستدرک میں بہت ساری احادیث جمع کردیتے ہیں جو ان کے گمان کے مطابق بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق ہوتی ہیں، حالاں کہ وہ صحت کی شرائط پر پوری نہیں اترتیں۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں: ’’ولیتہ لم یصنف المستدرک فإنہ غض من فضائلہ بسوء تصرفہ۔ کاش کہ انھوں نے مستدرک نہ لکھی ہوتی اس لیے کہ اس میں ان کے بے جا تصرف نے ان کے مرتبہ کو گرا دیا۔‘‘ (تفصیل کے لیے دیکھیں تذکرۃ الحفاظ للامام الذہبی ۳؍۱۰۳۹)
۴۔ تفسیر ابن کثیر ۱؍۲۰۷
۵۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ابن جریر طبری ۱؍۵۲۵ تا ۵۲۸ اور الجامع لأحکام القرآن للقرطبی ۱؍۳۱۲-۳۱۹ ط: دارا لکاتب العربی
۶۔ قصص القرآن مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ۲؍۵۰
۷۔ حوالۂ سابق
۸۔ تفسیر ابن جریر طبری ۱؍۵۳۱
۹۔ بحوالہ ابن جریر طبری بتحقیق محمود محمد شاکر ۱؍۵۰۵
۱۰۔ تفسیر ابن کثیر ۱؍۷۷-۷۸
۱۱۔ تفہیم القرآن ۲ ؍۱۶
۱۲۔ ترجمان القرآن ۲ ؍۸۸۰-۸۸۱
۱۳۔ تفصیل کے لیے دیکھیں مقدمہ تفسیر ابن کثیر ص۵
۱۴۔ تفسیر قرطبی ۱؍۱۷۵
۱۵۔ الاتقان فی علوم القرآن ۲؍۱۸۹
۱۶۔ تقریب التہذیب 
۱۵۔ ترجمان القرآن۲؍۷۷۸-۷۷۹   
34

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔