بدھ، 7 فروری، 2018

قرآن و حدیث کے درس میں حیض و نفاس والی عورتوں کی شمولیت مسائل و طریقہ کار

0 comments

 

قرآن مجید کے درس و تدریس کے سلسلہ میں یہ مسئلہ اکثر پیش آتا ہے کہ بعض عارضی لواحق کی وجہ سے درس و تدریس میں رکاوٹ پیدا ہوجایا کرتی ہے۔ مردوں کے ساتھ جو مسائل ہوتے ہیں اس سے کہیں زیادہ عورتوں کے ساتھ یہ پریشانی ہوتی ہے ان کے لئے حیض و نفاس کا عارضہ ہوا کرتا ہے ان ایام میں ان کو نماز اور روزہ کی ممانعت ہے اسی کو نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے ’’نقصان دین‘‘ سے تعبیر کیاہے۔
اس مسئلہ پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم ان امور پر غور کرتے ہیں:
۱۔ حالت حیض و نفاس میں قرآن مجید کی تلاوت۔
۲۔حالت حیض و نفاس میں قرآن مجید کو چھونا۔
 اسی کے ساتھ چند چیزیں اور بھی ہیں جو اسی سے متعلق ہیں:
   ۳۔ کیا کیسٹوں اور سی ڈیوں کا بھی وہی حکم ہوگا جو مصحف (قرآن) کا ہے اگر اس کے اندر قرآن مجیدکی تلاوت یا قرآن کی عربی عبارت ہو۔
   ۴۔کیا ترجمہ قرآن کا بھی وہی حکم ہوگا جو قرآن کی عربی عبارت کا ہے؟
   ۵۔کیا قرآن مجید کی تلاوت سننے کا بھی وہی حکم ہوگا جو تلاوت کرنے کا ہے؟
   ۶۔ حیض اور نفاس کے حکم میں فرق کیا جائے گا یا نہیں؟
   ۷۔ کیا احادیث رسول کے لئے بھی طہارۃ ضروری ہے؟
   ۸۔ کیا تلاوت کلام پاک یا اسے چھونے کے لئے وضو ضروری ہے؟
مذکورہ بالا سوالوں کا جواب دینے سے پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ’’حدث‘‘ (ناپاکی)دو طرح کے ہوتے ہیں:
 (۱) حدث اصغر:   وہ حدث جو صرف وضوسے دور ہوجائے جیسے قضاء حاجت۔
(۲) حدث اکبر:  جو بغیر غسل کے دور نہ ہو مثلا جنابت، حیض اور نفاس۔
جب طہارۃ (پاکی)کی بات کی جاتی ہے تو اس میں حدث اصغر اور اکبر دونوں سے پاکی کی بات شامل ہوتی ہے۔ البتہ کچھ جگہوں پر صرف حدث اکبر کی طہارت ہی کافی ہوتی ہے مثال کے طورپر مسجد میں داخل ہونے کے لئے باوضو ہونا ضروری نہیں مگر جنابت یا حالت حیض میں مسجد میں نہیں داخل ہوا جا سکتا ہے۔

حالت حیض ونفاس میں قرآن مجید کی تلاوت:

جو لوگ حیض و نفاس کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کو ممنوع قرار دیتے ہیں وہ مندرجہ ذیل حدیثیں بطور دلیل پیش کرتے ہیں:
(۱) عن علی قال، کان النبی ﷺ یخرج من الخلائ، فیقرئنا القرآن، و یأکل معنا اللحم، و لم یکن یحجبہ عن القرآن شئی لیس الجنابۃ۔
(سنن أبی داود کتاب الطہارۃ باب الجنب یقرأ القرآن رقم ۲۲۹، سنن ابن ماجۃ رقم ۵۹۴، امام ترمذی نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا: ’’یقرئناالقرآن علی کل حال مالم یکن جنبا‘‘ً یعنی سوائے جنابت کی حالت کے آپ ہمیں ہر حالت میں قرآن پڑھاتے تھے، پھر کہا ہے: حدیث حسن صحیح۔ صححہ الحاکم رقم ۵۴۱)
’’علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ بیت الخلاء سے نکلتے اور ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے، آپ کو قرآن کی تلاوت سے جنابت کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں روکتی تھی۔‘‘
حالت حیض و نفاس جنابت کی حالت سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا ان حالتوں میں بدرجۂ اولیٰ تلاوت کلام پاک سے رک جانا چاہئے۔
(۲) عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شیئا من القرآن۔
(سنن ترمذی کتاب الحیض باب ماجاء فی الجنب و الحائض أنہما لا یقرآن القرآن ( رقم ۹۸)
ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حائضہ عورت اور جنبی قرآن بالکل نہ پڑھے۔
مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس کی سند میں اسماعیل بن عباس ہیں ان کی روایت حجازیوں سے ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت انہی میں سے ہے۔ حافظہ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مذکورہ روایت مرفوعا تمام طرق سے ضعیف ہے۔
(دیکھیں مرعاۃ المفاتیح ۲؍۱۵۵)
علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ مرعاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں:
حدیث اگر چہ ضعیف ہے مگر اس کی متابعت کرنے والی حدیثیں ہیں۔ لہذا اس سے ضعف کی بھرپائی ہوجاتی ہے ان متابعات کے ذریعہ یہ حدیث جمہور کے لئے حجت بن جاتی ہے۔
(دیکھیں مرعاۃ المفاتیح ۲؍۱۵۵)
(۳)  اس مسئلہ کی سب سے صحیح حدیث وہ ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی اپنی صحیح میں بیان کیا ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
عن عائشۃ أنہا قالت کان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم یتکیء فی حجری و أناحائض فیقرأ القرآن
(صحیح بخاری کتاب الحیض باب قراء ۃ الرجل فی حجر امرأتہ و ھی حائض،صحیح مسلم کتاب الحیض باب جواز غسل الحائض رأس زوجہا۔۔۔۔رقم (۳۰۱ (۱۵))
’’عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں ٹیک لگائے ہوئے ہوتے اور قرآن مجید کی تلاوت فرمارہے ہوتے تھے۔ حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوا کرتی تھی۔‘‘
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ابن دقیق العید نے کہا ہے کہ یہ فعل اشارہ ہے اس جانب کہ حائضہ عورت قرآن کی تلاوت نہیں کرے گی اس لئے کہ اگر اس کے لئے تلاوت جائز ہوتی تو حائضہ کی گود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا گمان نہیں ہوتا اور اس کے جواز کے لئے اس عمل سے استدلال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔
(فتح الباری ۱؍۳۱۹ ط؍ احیاء التراث العربی)
بہر حال مذکورہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حائضہ عورت تلاوت کلام پاک نہیں کرے گی اس لئے کہ اگر حائضہ عورت کے لئے یہ جائز ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو اس انداز میں بیان نہ کرتیں۔
جمہور فقہاء اور محدثین کی وہی رائے ہے جواوپر بیان کی گئی ہے۔ البتہ اس مسئلہ میں امام داوٗد ظاہری رحمہ اللہ نے اختلاف کیا ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اہل ظاہر کا مذہب نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ جنبی کے لئے قرآن کی تلاوت کرنا اور مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے۔ یہی مذہب داوٗد ظاہری اور ان کے اصحاب اورابن حزم کا ہے۔ یہ قول بعض سلف سے بھی منقول ہے۔ ‘‘
ان لوگوں کا مذہب ان چیزوں کے بارے میں جن میں طہارت واجب ہے۔ ابن حزم نے جو ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف نماز کے لئے واجب ہے اور یہ کم از کم دو رکعت والی نماز ہے یا وتر کی ایک رکعت والی نماز یا خوف کی نماز یا نماز جنازہ ہے۔ ان کے نزدیک طہارت سجدہ سہو کے لئے واجب نہیں۔نیز جنبی محدِث اور حائضہ کے لئے قرآن کی تلاوت جائز ہے۔ اس طرح سجدہ تلاوت اورقرآن کو چھونا بھی ان کے نزدیک جائز ہے۔ اس لئے کہ یہ خیر کے کام ہیں لہٰذا جو شخص ان کی ممانعت کا دعویٰ کرتا ہے اس پر دلیل واجب ہے۔
(فتاوی ابن تیمیۃ ۲۱؍۲۶۹)
اس کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ابن حزم اور اہل ظاہر کے اس قول کی تردید دلائل کے ساتھ کی ہے۔ اور جو حدیثیں بیان کی گئی ہیں وہ اس کے رد کے لئے کافی ہیں۔
لہٰذا اس مسئلہ میں راجح بات یہی ہے کہ حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت نہیں کی جا سکتی۔
حالت حیض و نفاس میں قرآن کو چھونا:
اب دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حائضہ اور نفساء عورتیں قرآن مجید چھو سکتی ہیں ؟ اس سلسلے میں وارد نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کے لئے قرآن مجید کا چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا وہ خط جس کو آپ نے عمر وبن حزم کے نام لکھا تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی:
عن عبد اللہ بن محمد بن عمرو بن  حزم : إن فی الکتاب الذی کتبہ رسول اللہ لعمرو بن حزم أن لایمس القرآن إلا طاہر۔
(موطا امام مالک ،دارقطنی، مستدرک حاکم، صحیح بن حبان)
علامہ مبارکپوری نے مرعاۃ میںامام ابن عبدالبر کا قول اس حدیث کے تعلق سے نقل کیا ہے:
لا خلاف عن مالک فی إرسال ہذا الحدیث وقد روی مسنداً من وجہ صالح، وہو کتاب مشہور عند أہل السیر ومعروف عند أہل العلم معرفۃ یستغنی بہا فی شہرتہا عن الإسناد لأنہ أشبہ المتواتر في مجیئہ لتلقی الناس لہ بالقبول۔
(مرعاۃ المفاتیح ۲؍۱۵۹)
عبد اللہ بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو خط عمرو بن حزم کے نام لکھا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن مجید کو طہارۃ کی حالت میں ہی چھوا جائے۔
علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ مرعاۃ میں کہتے ہیں:
’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ طاہر شخص کے علاوہ کسی کے لئے بھی قرآن چھونا جائز نہیں لیکن طہارۃ کا لفظ مشترک ہے حدث اصغر اور اکبر دونوں طرح کے حدث سے پاکی کے لئے۔ اور اس شخص پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جس کے بدن پر کوئی نجاست نہ لگی ہو۔ اور یہ ضروری ہے کہ قرینہ کی بنیاد پر کسی ایک پر اس کو محمول کیا جائے گا۔ اس بات پر اجماع ہے کہ جس کو حدث اکبر لاحق ہو اس کے لئے قرآن کا چھونا جائز نہیں ہے۔ اس مسئلہ میں داوٗد ظاہری نے اختلاف کیا ہے۔                                                   (مرعاۃ المفاتیح ۲؍۱۵۸-۱۵۹)
قرآن مجید کو چھونے کی ممانعت کی جو دوسری دلیل دی جاتی ہے وہ قرآن مجید کی مشہور آیت ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لا یمسہ إلا المطہرون۔
’’اس قرآن مجید کو صرف پاکباز ہی چھوتے ہیں۔‘‘
قرآن کی مذکورہ آیت کے بارے میں مفسرین کی رائیں مختلف ہیں ایک گروہ کہتا ہے کہ اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ لوح محفوظ میں اس قرآن کو ملائکہ مقربین ہی ہاتھ لگاتے ہیں یعنی قرآن کی عظمت کا بیان ہے۔ اس قول کی روشنی میں اس آیت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے جس کی بنیاد پر غیر طاہر لوگوں کو قرآن مجید چھونے سے روکا جائے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میںبنی آدم کو بغیر طہارت کے قرآن مجید چھونے سے منع کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ’’ہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع وہ قرآن ہوگا جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر چہ جملہ میں حکم کے بجائے خبر کا لہجہ اپنایا گیا ہے مگر یہ حکم کے درجہ میں ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پہلی تاویل مانی جائے تب بھی غیر طاہر کے لئے قرآن مجید چھونے کی ممانعت اس آیت سے ثابت ہوتی ہے وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قرآن مجید کی صفت یہ بیان کی ہے کہ یہ قرآن لوح محفوظ میں نہایت باعزت انداز میں رکھا ہے اسے صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، لوگوں کے ہاتھوں میں جو قرآن ہے یہ وہی ہے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے لہٰذا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہم بھی اسی طریقہ کو اپنائیں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ جنبی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قرآن کو نہیں چھو سکتا اس پر چاروں ائمہ کا اتفاق ہے۔
(فتاوی ابن تیمیہ ۲۱؍۲۷۰)
آگے چل کر ایک جگہ مسئلہ مذکور میں اسی قول کو راجح قرار دیتے ہیں۔
                                       (دیکھیں فتاوی ۲۱؍۲۷۰)

اگر قرآن مجید چھوئے بغیر چارہ نہ ہو توـ؟

اگر جنبی کو یا حائضہ یا نفساء کو قرآن مجید اٹھانے کی ضرورت ہی پڑجائے تو کیا کریں، اس سلسلہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے کہ وہ قرآن مجید کو جزدان کے فیتہ سے پکڑ کر اٹھا لیا کرتی تھیں۔
(دیکھیںصحیح بخاری مع الفتح ۱؍۳۱۹، کتاب الحیض باب قرا ء ۃ الرجل فی حجر امرأتہ وہی حائض)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ کسی کپڑے یا کسی اور چیز کے سہارے قرآن مجید کو اٹھا یا جائے ہاتھ نہ لگایا جائے۔
(دیکھیں فتاوی ابن تیمیہ ۲۱؍۲۶۷)
اس سلسلہ میں صحیح بات یہی ہے کہ کسی چیز کے سہارے سے آدمی جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں قرآن مجید پکڑ سکتا ہے۔
جن کیسٹوں اور سی ڈیوں میں قرآن مجید کی تلاوت یا عبارت ہو اس کا حکم:
نئے زمانہ میں نئی ایجادات کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قرآن مجید یا حدیث الیکٹرانک ڈاٹا میں تبدیل کرکے سی ڈی یا کیسٹ میں محفوظ کر دیا جائے۔ لیکن سی ڈیوں کا حکم وہ نہیں ہوگا جو اس قرآن مجید کاہے جو کہ کتابی شکل میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان الکٹرانک آلات پر قرآن کا اطلاق اس طور پر نہیں ہوتا کہ یہ قرآن مجید ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس سے آواز یا حروف اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتے جب تک کہ اسے کسی آلہ کے ذریعہ جوڑا نہ جائے۔ لہٰذا وہ حروف کی شکل میں موجود نہیں ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کا حکم قرآن مجید کا نہیں ہوگا۔ انہیںغیر پاکی کی حالت میں بھی چھوا جا سکتا ہے۔ ہاں! عام طور پر اس قسم کی سی ڈیوں پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوئی ہوتی ہیں لہٰذا اس کی وجہ سے ان کی بے حرمتی سے بچنا چاہئے۔

ترجمۂ قرآن کا حکم:

قرآن مجید کا ترجمہ عام محققین کے نزدیک ممکن نہیں ہمارے ہاتھوں میں جو ترجمہ ہوتا ہے وہ قرآن مجید کے معانی کا ترجمہ ہوتا ہے لہٰذا اس پر قرآن مجید کا اطلاق نہیں ہوگا۔ وہ قرآن مجید کا فہم ہے لہٰذا اس کو پڑھنے اور چھونے کے لئے پاک و صاف ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہاں ،یہ ضرور یاد رہے کہ یہ بات اس صورت میں ہوگی جب صرف اور صرف ترجمہ ہی ہو ورنہ عام طور پر ہمارے یہاں موجود تراجم میں قرآن کی عربی عبارت بھی شامل ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کو چھونا غیر پاکی کے عالم میں اسی طرح ناجائز ہوگا جس طرح صرف عربی قرآن کو چھونا جائز نہیں۔

قرآن مجید سننے کا حکم:

قرآن مجید پڑھنا ہی نہیں ثواب کا کام ہے بلکہ قرآن مجید سننا بھی ایک نیکی ہے خود نبی کریم ﷺ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابۂ کرام سے قرآن مجید پڑھوا کر سنا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے پہلے گذر چکی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حالت حیض میں ہوا کرتی تھیں اور آپ ﷺ ان کی گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ ضروری سی بات ہے کہ قرآن مجید عائشہ رضی اللہ عنہا سنتی تھیں۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت حیض و نفاس میں قرآن مجید کو سنا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔
اگر ناپاکی کے عالم میں قرآن مجید سننے کی ممانعت کر دی جاتی تو یہ ایک ایسی بات ہوتی جس سے لوگ ناحق مشقت میں پڑتے اس لئے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ ہو جہاں کوئی شخص قرآن پڑھ رہاہے تو لا محالہ اس کی آواز کان تک آئے گی۔ آنکھ تو بند کی جا سکتی ہے مگر کان بند کرکے کوئی شخص نہیں رہ سکتا۔

کیا حیض و نفاس کے حکم میں فرق کیا جائے گاـ؟

حیض اور نفاس دونوں حالتوں میں نماز و روزہ اور قرآن مجید کی تلاوت سے روکا گیا ہے لہٰذا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ حیض کی مدت چونکہ کم ہوتی ہے عام طورپر ایک ہفتہ کے اندر میں عورت فارغ ہوجاتی ہے مگر چونکہ نفاس کی مدت لمبی ہوتی ہے پورے چالیس دن تک کی مدت تک عورت کو قرآن مجید پڑھنے سے رکنے کی صورت میں ممکن ہے کہ قرآن مجید بھولنے کا خطرہ ہو اس وجہ سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ بعض علماء نے ایسی صورت میں اگر عورت کوقرآن بھولنے کا خطرہ ہو تو نفاس کی حالت میں تھوڑا بہت قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد اس پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے ۔
                           (دیکھیں فتاوی ابن تیمیہ ۲۱؍۶۳۶)
میرے نزدیک اس مسئلہ میں راجح جمہور ہی کا قول معلوم ہوتا ہے کہ حائضہ کی طرح نفساء بھی کسی بھی حالت میں قرآن نہیں پڑھ سکتی کیونکہ مذکورہ نصوص میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ نیز نفاس کی مدت کی طوالت کے باوجود جب وہ روزہ و نماز جیسے اہم بنیادی رکن کو شرعا ادا نہیں کر سکتی تو محض تعلیمی ضرورت کی وجہ سے کیونکر اس کو قرآن پڑھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اصل معاملہ تو قرآن مجید کی عظمت و تقدس کا ہے۔

احادیث رسول کے لئے طہارت:

محدثین کرام کا دستور تھا کہ وہ حدیث کی مجلس میں نہایت اہتمام کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ اس اہتمام میں وضوء بھی شامل ہوا کرتا تھا۔ مگر کیا یہ وضوء احادیث پڑھتے وقت ضروری ہے۔ اسی طرح کیا حائضہ عورت حدیث پڑھ سکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث پڑھنے کے لئے باوضوء ہونا ضروری نہیں ہے چونکہ اس طرح کی کوئی حدیث موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حدیث رسول پڑھنے کے لئے طہارت ضروری ہے اس وجہ سے حائضہ عورتوں کو حدیث پڑھنے سے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ حدیث رسول کے احترام میں اگر کوئی شخص پاک وصاف ہو کر حدیث پڑھے تو یہ مستحب ہے اس وجہ سے کہ یہ احترام حدیث ہی کا نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کا احترام ہے۔

تلاوت کلام پاک کے لئے وضوء:

اس سے پہلے جو بھی باتیں ہوئیں وہ حدث اکبر کے بارے میں ہوئیں، کیا بغیر وضوء کے کوئی شخص قرآن پڑھ سکتا ہے، چھو سکتا ہے؟ یہ مسئلہ اس وجہ سے اہم ہے کہ درس و تدریس سے وابستہ افراد اور قرآن مجید کی تجارت اور طباعت سے وابستہ افراد کے لئے اگر یہ قید لگائی جائے تو ان افراد کو اس سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سلسلہ میں محدثین کرام کی رائیں مختلف ہیں۔ ابن عباس، شعبی، ضحاک اس جانب گئے ہیں کہ بغیر وضوء قرآن کو چھوا جا سکتا ہے۔ اور صاحب مرعاۃ نے قاسم کا قول نقل کیا ہے کہ اکثر فقہاء عدم جواز کی طرف گئے ہیں۔ علامہ مبارکپوری نے قرآن کی تعظیم کا خیال کرتے ہوئے اکثر محدثین کی رائے کو راجح قرار دیا ہے۔(دیکھیں مرعاۃ ۲؍۱۵۹)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی مس مصحف کے بارے میں یہی بات راجح قرار دی ہے کہ بغیر وضو کے جائز نہیں ہے ، انہوں نے ’’لایمس القرآن الا طاہر‘‘ میں طاہر کے لفظ کو حدث اصغر اور اکبر دونوں کے لئے عام مانا ہے۔ (دیکھیں فتاوی ۲۱؍۲۸۲)
اس سلسلے میںعلامہ ابن تیمیہ اور علامہ مبارکپوری رحمہمااللہ ہی کی بات دلائل کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہے۔
جہاں تک تلاوت کی بات ہے تواس کے لئے باوضو ہونا ضروری نہیں ہے۔اس کی دلیل سنن ترمذی کی وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے:
یقرء نا القرآن علی کل حال مالم یکن جنبا۔(ترمذی)
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کے علاوہ ہرحالت میں ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید پڑھنے کے لئے بھی وضو ضروری نہیں ہے۔

 مذکورہ دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس قسم کی عورتوں کو یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ:

٭  کیسٹوں سے درس لینے کی صورت میں طہارت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
٭  حدیث کا درس لینے میں طہارت شرط نہیں ہے۔
٭  قرآن مجید سننے میں طہارت شرط نہیں ہے۔
لہٰذا اس صورت میں پڑھانے والی عورتوں کے ساتھ اگر یہ مسئلہ ہو تو جتنے دنوں تک یہ پریشانی ہوبجائے قرآن کے حدیث کا درس شروع کر دیں جیسا کہ سوالنامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ درس قرآن اور حدیث دونوں پر مشتمل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی نیز چونکہ عورتوں کو یہ عوارض بیک وقت لاحق نہیں ہوتے لہٰذا درس قرآن کا سلسلہ بھی اجتماعی تعاون سے بغیر کسی محظور شرعی کے مسلسل جاری رکھا جا سکتا ہے۔
اگر درس میں شامل عورتوں کے ساتھ یہ معاملہ ہو تو وہ قرآن مجید کے درس کے وقت صرف سننے پر اکتفا کریں۔ اس لئے کہ سننے کے لئے طہارت کوئی ضروری نہیں۔ ان کے لئے یہی حکم اللہ کے رسول ﷺ نے عیدگاہ میں جانے کی صورت میں بھی بیان کیا ہے کہ وہ صرف دعا میں شامل ہوںگی، خطبہ سنیں گی، نماز سے دور رہیں گی۔
اس طرح ان شاء اللہ بغیر تسلسل ٹوٹے درس مسلسل چلتا رہے گا۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔