بدھ، 7 فروری، 2018

وضوء کے بعد آسمان کی طرف دیکھنا یا انگلی سے اشارہ کرنا

0 comments


وضو کے بعد آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دعا پڑھنا اور شہادت کی انگلی سے أشہد أن لا إلہ إلا اللہ و أشہد أن محمداً عبدہٗ و رسولہٗ کہتے ہوئے اشارہ کرنا ایک عام سی بات ہے۔ عام طور پر لوگ اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ لوگ عوام میں رائج ان امور کے بارے میں دریافت کرتے ہیں جن کو دین سمجھ کر کیا جاتا ہے۔
جہاں تک بات ہے وضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھنے کی تو اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حدیث بیان کی جاتی ہے:
’’من توضأ فأحسن الوضوء ثم رفع بصرہ إلی السماء أو قال نظرہ إلی السماء فقال أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہٗ لا شریک لہ و أشہد أن محمداً عبدہٗ و رسولہٗ فتحت لہ أبواب الجنۃ یدخل من أیھن شائ‘‘
’’جو شخص وضوء کرے اور اس کے بعد اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر ’’أشہد أن لا إلہ …‘‘پڑھے تو اس کے لئے جنت کے دروازے کھل جائیںگے ان میں سے جس سے بھی چاہے داخل ہو‘‘۔

تخریج حدیث:

اس حدیث کو امام دارمی نے اپنی سنن میں کتاب الطہارۃ، باب القول بعد الوضوء رقم ۷۱۶ اور ابو دائود نے اپنی سنن کتاب الطہارۃ، باب ما یقول الرجل إذا توضأ۔ رقم ۱۷۰ میں بیان کیا ہے۔

درجۂ حدیث:

حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابو  دائوداور دارمی نے اس حدیث کو بسندحیوۃ بن شریح عن أبی عقیل عن ابن عمہ عن عقبۃ بن عامر الجہنی مرفوعاً بیان کیا ہے۔ اس کی سند میں ’’ابن عمہ‘‘ مجہول ہیں جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل میں کہا ہے کہ اضافہ (ثم رفع بصرہ إلی السمائ) منکر ہے اس لئے کہ اس میں ابن عم ابو عقیل مجہول ہیں۔ صحیح الجامع (رقم ۶۱۶۴) میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد مذکورہ حصہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔
جہاں تک حدیث میں وضو کی فضیلت کا سوال ہے تو صحیح مسلم کی روایت میں یہ فضیلت ثابت ہے:
 ’’مامنکم من أحد یتوضأ فیبلغ أو فیسبغ الوضوء ثم یقول أشہد أن لا إلہ …إلا فتحت لہ أبواب الجنۃ یدخل من أیھا شائ‘‘(صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب الذکر المستحب بعد الوضوء  رقم ۲۳۴)
’’جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے پھر یہ دعا پڑھے ’’أشہد أن لا… ‘‘تو اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیںگے، جس دروازے سے بھی چاہے داخل ہو۔‘‘
لہٰذا حدیث میں وارد اس فضیلت کے ثابت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ البانی نے اس حدیث کو ضعیف الجامع (رقم ۶۱۶۴) اور صحیح الجامع (رقم ۵۵۳۷) دونوں جگہ پر درج کیا ہے۔ صحیح الجامع میں اس ٹکڑے کے ثابت نہ ہونے کی وضاحت قوسین میں کر دی ہے۔

وضو کے بعد انگلی سے اشارہ کرنا:

گزشتہ سطور میں ان احادیث کو بیان کیا گیا جو وضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر دعا پڑھنے کے سلسلے میں وارد ہیں ساتھ ہی ان کی اسنادی حالت بھی بیان کر دی گئی۔ ان ضعیف احادیث میں بھی انگلی سے اشارہ کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے میں کسی ایسی حدیث کو نہیں پا سکا جس میں وضو کے بعد تشہد کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ذکرہو۔ لہٰذا یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بات عوام میں کہاں سے آئی اور خاص طور پر یہ بات کہ اشارہ صرف اس وقت کیا جائے جب ’’أشہد أن لا إلہ إلا اللہ‘‘ پڑھا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کی حدیث پر قیاس کرکے کیاجا رہا ہو۔ مگر اس میں بھی پریشانی  یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے والی احادیث میں بھی یہ تعیین نہیں ہے کہ اشارہ صرف شہادتین کے وقت کیا جائے۔  اگر چہ بعض لوگوں نے اشارہ کو صرف شہادتین کے لئے خاص مانا ہے مگر احادیث میں جس کا تذکرہ ملتا ہے وہ وہی ہے جس کو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔
اس قیاس میں قباحت یہ ہے کہ وضو کا معاملہ عبادت سے تعلق رکھتا ہے اور عبادات میں قیاس جائز نہیں ہے۔ جو چیز جس طرح سے شریعت میں بیان ہوئی ہے اسی کے مطابق اس پر عمل کرنا ہوگا۔

خلاصۂ کلام:

مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے نظر آسمان کی طرف کرنا یا انگلیوں سے اشارہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی طرف سے کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو شریعت کا حصہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت میں اپنی طرف سے کوئی بات کہنے سے بچائے۔ آمین۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔