بدھ، 7 فروری، 2018

ایمان باللہ اور عقیدۂ آخرت بدعنوانی کا واحد علاج

0 comments


سی سی ٹی وی  اور خفیہ کیمروں کی ایجاد نے قرآن مجید کی بہت سی باتوں پر مہر لگادی ہے۔قرآن کا دعوی ہے کہ انسان جو بھی اعمال انجام دے رہا ہے اس کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے جو قیامت کے دن بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔  ان ایجادات سے پہلے بہت سے لوگ اس کی صداقت پر شبہہ کررہے تھے۔ لیکن اب یہ ایک ایسی بات ہوگئی ہے کہ اس کو کوئی جھٹلانے کی حماقت نہیں کرسکتا۔آئے دن خفیہ کیمروں کی بدولت جرائم کا پردہ فاش ہورہا ہے، عدالتیں ان کو ثبوت مان کر فیصلہ سنارہی ہیں۔ ان کیمروں کی بدولت آئے دن ٹی وی پر اسٹنگ آپریشن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 
ویسے تو ہندوستان میں کھوجی صحافت کی تاریخ قریب سو سال پرانی ہے۔ جیسے جیسے نئے آلات ایجاد ہوتے گئے اس میں ترقی ہوتی رہی۔ خاص طور سے خفیہ کیمروں کی ایجاد نے تو کھوجی صحافت کو کمال تک پہنچا دیا۔ اب تو اسٹنگ آپریشن ایک عام بات ہوگئی ہیں۔
اسٹنگ آپریشنوں کی شدت نے ایک موضوع چھیڑ دیا ہے کہ میڈیا کی حدود کیا ہیں اور وہ کس حد تک لوگوں کی زندگی میں دخل اندازی کرسکتی ہے؟ یہ سوال بھی اٹھا کہ اسٹنگ آپریشن جس میں چارہ ڈال کر شکار کرنے کی بات ہوتی ہے اخلاقی طور پر کس حد تک درست ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹنگ آپریشن کے طریقۂ کار میں چند قابل اعتراض چیزیں ہیں مگر ملک کے بدعنوان رشوت خور نیتائوں اور افسروں کا پردہ فاش کرنے اور دوسرے نیتائوں اور افسروں کو متنبہ کرنے کے لیے کہ رشوت لیتے وقت تم بھی ٹی وی اسکرین پر آجائو گے، اسٹنگ آپریشن ہونا چاہئے اس سے سیاسی رہنمائوں اور نوکر شاہوں میں رشوت خوری کی شرح کم ہوگی، لیکن کیا اسٹنگ آپریشن رشوت اور بدعنوانی کا مستقل علاج ہے؟ شاید ہی کوئی اس بات سے متفق ہو کہ یہ اس کا مستقل علاج ہے۔ اس لیے کہ اس کا دائرۂ کار بہت محدود ہے ہر جگہ اور ہر وقت میڈیا کا خفیہ کیمرہ چلتا رہے یہ کوئی ضروری نہیں ہے۔ اس کی زد میں صرف چند ہی افراد آتے ہیں بقیہ بدعنوان اور رشوت خور افراد اپنے بچے رہنے پر خوشیاں مناتے ہیں۔
جہاں تک ملکی قوانین کا تعلق ہے تو یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انسانوں کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون جرائم کی روک تھام کے لیے ناکافی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا اطلاق جسموں پر ہوتا ہے دلوں پر نہیں۔ یہ اس کی سب سے بڑی خامی ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت نافذہ نہیں ہے جو انسانوں کو مجبور کرے کہ وہ ہر حال میں قانون کی پاسداری کریں۔ ایک آدمی قانون کا لحاظ اسی صورت میں کرتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ قانون کے نگہبان کی نظر اس پر ہے۔ یہ عام  مشاہدہ ہے کہ ڈرائیور گاڑی کی رفتار ٹریفک پولیس کو دیکھ کر کنٹرول کرتاہے۔ ٹریفک پولیس کے نظر سے اوجھل ہوتے ہی گاڑی کی رفتار پھر ویسے ہی ہوجاتی ہے جیسے کہ پہلے تھی۔ معلوم ہوا کہ بدعنوانی کا علاج انسانی قوانین میں نہیں ہے۔
لہٰذا اس کے حل کے لیے ضروری ہے کہ قانون بھی ہم اسی ذات سے لیں جس نے ہم سب کو پیدا کیا، وہی انسانی ضروریات اور نفسیات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ انسانی نفسیات کا مکمل ادراک انسان کے بس سے باہر ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اس میدان میں اپنی ہار کو تسلیم کرکے الٰہی قانون کو آگے بڑھائے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے صرف روکھے سوکھے قو انین ہی نہیں بنائے بلکہ کچھ ایسے ضابطے بھی بیان کردیئے ہیں کہ آدمی جہاں کہیں بھی رہے اپنے آپ کو قانون سے باہر نہ محسوس کرے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار اپنی صفت علم اور قدرت کو اس لیے دہراتاہے کہ آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ وہ کہیں بھی، دن کے اجالے میں کوئی جرم کرے یا رات کے اندھیرے میں، علی الاعلان برائی کا ارتکاب کرے یا بند کمرے میں دوسروں سے چھپ کر، وہ اللہ کی نگاہ سے ایک لمحہ کے لیے بھی اوجھل نہیں ہے، اللہ اس کی تمام حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی تمام گفتگو کو سن رہا ہے۔ دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں تک کو وہ جان رہا ہے۔
اسلام یہ عقیدہ بھی اپنے ماننے والوں کے دلوں میں بٹھاتا ہے کہ یہ دنیاوی زندگی ہی آخری زندگی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بھی ایک زندگی ہوگی، جس میں موت نہیں ہے، وہاں پر سبھی لوگوں کو دنیا میں کئے ہوئے سبھی عملوں کا حساب دینا ہے۔ اسلام عقیدۂ آخرت پر اس قدر زور دیتا ہے کہ اسے تمام اعمال خیر کا محرک قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ وَ اِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّاعَلَی الْخٰشِعِیْنَo الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَ اَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo (البقرۃ:۴۵-۴۶ )
’’یعنی صلوٰۃ اور صبر کے ذریعہ سے مدد چاہو بے شک صلوٰۃ بہت مشکل کام ہے، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخرکار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اوراسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ اچھے کاموں پر ابھارنے والی چیز آخرت کی جواب دہی ہے ۔ آدمی کے اندر اگر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اس کی پیدائش کا ایک مقصد ہے تو وہ یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہے گا بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرے گا۔
تمام بداعمالیوں کا سبب بھی اللہ تعالیٰ اسی عقیدہ آخرت کے انکار کو قرار دیتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:
فَمَا لَہُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَo کَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌo فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍo بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃًo کَلَّا بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَo (المدثر:۴۹-۵۲)
’’آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں گویا کہ یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں، بلکہ ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں۔ ہرگز نہیں، بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔‘‘
ایک اور جگہ اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰـکِبُوْنَo (المؤمنون :۷۴)
’’یعنی جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ جس طرح اچھے اعمال پر ابھارنے والی چیز عقیدۂ آخرت ہے اسی طرح اس عقیدۂ آخرت کا انکار تمام برائیو ںکی جڑ ہے۔ دنیا کے اندر اصلاحی انقلاب اللہ پر ایمان اور آخرت کی جواب دہی کے خوف کے بغیر نہیں آسکتا۔ جب تک یہ احساس دلوں میں جاگزیں نہ ہو کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہماری یہ حرکت اور آواز کیمرے میں قید ہور ہی ہے او ریہ ریکارڈ عدالت کے روبرو بطور ثبوت پیش کیا جائے گا، دنیا سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوسکتی، لوگوں میں احساس ذمہ داری نہیں آسکتی۔
ٹی وی چینلوں کے خفیہ کیمرے ہر جگہ نہیں چلتے، قانون نافذ کرنے والوں کی نظر ہر جگہ اور ہر وقت نہیں رہتی،و رنہ رشوت خوری اور بدعنوانی تو اس سے کہیں زیادہ ہے جو اخباروں اور چینلوں میں ہم دیکھتے اور سنتے ہیں۔ مگر وہ کیمرے جسے دے کر اللہ نے دو فرشتوں کو ہمارے کندھوںپر بٹھا دیا ہے وہ ہر وقت چلتے رہتے ہیں۔ اندھیرے اور اجالے کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ وہ تمام اچھے برے مناظر کو قید کرکے قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں رکھ دیں گے۔ اس وقت جو حالت ہوگی اس کا نقشہ اللہ نے یوں کھینچا ہے:
وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰـوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰہَا وَ وَجَدُوْا مَاعَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًاo (الکہف:۴۹)
’’اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم نامۂ اعمال کے مشتملات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے، ہائے ہماری بدنصیبی یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے ہر چھوٹے بڑے عمل کو جمع کر رکھا ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کرے گا۔‘‘
کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم ایمان باللہ اور عقیدۂ آخرت کی اہمیت کو سمجھیں؟  

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔