بدھ، 7 فروری، 2018

کن حالات میں بھیک مانگنا جائز ہے؟

0 comments

بھیک مانگنے کاحق کسے حاصل ہے؟


اسلامی تعلیمات سے جس کو واقفیت نہ ہو وہ مسلمانوں میں بھیک مانگنے والوں کی کثرت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانے پر مجبور ہوگا کہ اسلام دھرم ہی اس لعنت کی وجہ ہے۔ حالانکہ اسلام نے گداگری کو روکنے کے لیے جس قسم کی ہدایات دی ہیں وہ شاید ہی کسی دوسرے مذہب میں ملے ۔ہم ذیل میں اس سلسلے میں وارد دلائل کو پیش کررہے ہیں کسی بھی منصف انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
عن قبیصۃ بن المخارق رضی اللہ عنہ قال: تحملت حمالۃ فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أسألہ فیہا، فقال: أقم حتی تأتینا الصدقۃ فنأمر لک بہا، ثم قال: یا قبیصۃ! إن المسألۃ لا تحل إلا لأحد ثلاثۃ: رجل تحمل حمالۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیبہا ثم یمسک، و رجل أصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواما من عیش، أو قال: سدادا من عیش، و رجل أصابتہ فاقۃ حتی یقول ثلاثۃ من ذوی الحجی من قومہ لقد أصابت فلانا فاقۃ، فحلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواماً من عیش، أو قال: سدادا من عیش۔ فما سواہن من المسألۃ یا قبیصۃ! سحت، یأکلہا صاحبہا سحتاً۔
’’قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کا تاوان اپنے ذمہ لے لیا، اسی تعلق سے میں مدد کی خاطر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: انتظار کرو جب ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے گا تو ہم اس میں سے تمھیں دینے کا حکم دے دیں گے، پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے قبیصہ! تین قسم کے لوگوں کے علاوہ کسی اور کے لیے مانگنا جائز نہیں۔ پہلا آدمی وہ ہے جو کسی دوسرے کا تاوان اپنے ذمہ لے لے تو اس کے لیے اس وقت تک مانگنا جائز ہوگا جب تک کہ مطلوبہ رقم نہ پاجائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کا مال کسی ناگہانی حادثہ میں تباہ ہوگیا ہو، ایسے شخص کے لیے اس وقت تک مانگنا جائز ہے جب تک کہ گزر بسر کے لائق مال نہ ملے یا آپ نے فرمایا: بقدر کفاف نہ ملے۔ تیسرا شخص وہ ہے جسے فاقہ کی نوبت آگئی ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عاقل یہ کہنے لگیں کہ فلاں کا فاقہ ہو رہا ہے تو ایسے شخص کے لیے مانگنا جائز ہوگا جب تک کہ اسے گزر بسر کے لائق مال نہیں مل جاتا یا آپ نے فرمایا: بقدر کفاف۔  قبیصہ! ان تین قسم کے لوگوں کے علاوہ کا بھیک مانگنا حرام ہے اور اگر کوئی ان کے علاوہ بھیک مانگتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے۔‘‘
اس حدیث کی تخریج امام مسلم نے اپنی صحیح (۱۰۴۴) میں، امام ابودائود نے سنن ابی دائود (۱۶۴۰) میں اور امام نسائی نے اپنی سنن (۵؍۹۶،۹۷) میں کی ہے۔
مذکورہ حدیث خاندانی اور موروثی گداگری کا دروازہ مکمل طور پر بند کردیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین قسم کے لوگوں کو مانگنے کی اجازت دی ہے وہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے جیسے ہی وہ ضرورت پوری ہوجائے فوراً ان کے لیے مانگنا اسی طرح حرام ہوجاتا ہے جس طرح اس سے پہلے حرام تھا۔ اگر ان تینوں قسم کے لوگوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ واقعی وہ اس قا بل ہیں کہ ان کی مدد کی جائے بلکہ خود اس قسم کے افراد اس بات کے مستحق ہیں کہ اپنا مسئلہ دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ کسی غیر کا تاوان اگر کوئی شخص رحم دلی کے جذبہ سے سرشار ہو کر اپنے ذمہ لیتا ہے تو دوسرے مسلمانوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کا تعاون کریں۔ تاکہ دوسروں کو اس سے تحریک ملے اور تاوان اپنے ذمہ لینے والے کی حوصلہ افزائی ہو۔اسی طرح وہ آدمی جس کی برسوں کی جمع پونجی کسی ناگہانی آفت مثلاً سیلاب، آگ یا فسادات کی نذر ہوگئی ہو اور وہ اس قابل نہ رہا ہو کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت کرسکے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خود آگے بڑھ کر اس کی مدد کریں اور اگر وہ ضرورت محسوس کرے تو خود لوگوں سے مدد کی درخواست کرسکتا ہے۔ تیسرا آدمی جو کہ فاقہ کشی کر رہا ہے اس کے لیے بھی مانگنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے مگر یہ اس صورت میں کہ اس کے محلہ والے یا کم از کم تین عاقل یہ کہنے لگیں کہ فلاں کی مالی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ وہ فاقہ کر رہا ہے اور اس کے پاس  کھانے کو کچھ نہیں ہے۔
معاشرہ میں جو لوگ بھی بھیک مانگتے ہوں لوگوں کو چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کو اپناتے ہوئے انھیں یہ بات ضرور بتا دیں کہ بھیک مانگنا صرف اِن قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے۔ اگر مانگنے والے اس قابل ہوں کہ کماکر کھا سکتے ہوں تو ان پر یہ بات واضح کردیں کہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’لا تحل الصدقۃ لغنی و لا لذی مرۃ سوی‘‘ (۱)
’’غنی اور طاقت ور کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ ‘‘
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس دو صحابی آئے اور مدد کے طالب ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انھیں موٹا تگڑا دیکھ کر کہا کہ یہ مال تم جیسوں کے لیے نہیں ہے اس کے باوجود اگر تم کہو تو دے دوں۔ (۲) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ’’الید العلیا خیر من الید السفلی‘‘ (۳) (اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے۔) کہہ کر یہ مسلمہ اصول بیان کردیا کہ مانگنے والا ہمیشہ پست رہے گا۔
ایسا ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر کچھ اس قسم کے حالات پیدا ہوں جن سے مجبور ہو کر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر آدمی مجبور ہوجائے۔ مگر یہ ایک اضطراری حالت ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بھیک مانگنے کو پیشہ بنا لیا جائے اور نسل درنسل یہ سلسلہ جاری رہے۔اللہ ہم مسلمانوں کو گداگری کی لعنت سے بچائے۔

حوالے:

۱۔            سنن ترمذی رقم ۶۴۷،  امام ترمذی نیکہا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ سنن أبی داؤد رقم ۱۶۳۴۔ علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔
۲۔           دیکھیں: سنن أبی داؤد،  رقم ۱۶۳۳ علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔
۳۔           صحیح بخاری رقم ۱۴۲۷، مسلم رقم ۱۰۳۳

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔