بدھ، 7 فروری، 2018

دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا

0 comments


ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے سلسلے میں بے شمار احادیث و آثار وارد ہیں، خواہ نماز کے بعد دعا کرنا ہو یا کسی اور موقع پر دعا کرنا ہو ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ (۱) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ابھارا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ کو شرم آتی ہے کہ بندہ ہاتھ اٹھائے اور اسے خالی ہاتھ لوٹا دے۔ (۲) لہٰذا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہاتھ کو چہرے پر پھیر کر دعا ختم کی جائے یا چہرے پر ہاتھ پھیرا ہی نہ جائے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا کیسا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ایک بات ہم سبھی لوگوں کے لیے واضح ہونی چاہئے کہ شریعت اسلامیہ کے حقیقت میں دو مصدر ہیں قرآن مجید اور صحیح احادیث، جو ان دونوں سے ثابت نہ ہو وہ شریعت یا دین کاحصہ نہیں ہوسکتا خواہ اس پر کسی کا بھی عمل رہا ہو۔ اس بنیادی اصول کو سامنے رکھ کر جب ہم مذکورہ بالا مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کو دعا کے بعد چہرے پر ملنے کے سلسلے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا رفع یدیہ فی الدعاء لم یحطہما حتی یمسح بہما وجہہ۔ (۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تو انھیں بغیر چہرے پر پھیرے واپس نہیں کرتے تھے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ اس حدیث کو ہم حماد بن عیسی کے علاوہ نہیں پاتے اور وہ اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
جہاں تک حماد بن عیسیٰ کی بات ہے تو وہ ضعیف ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التقریب میں کہا ہے۔ ائمۂ جرح و تعدیل نے ان پر سخت قسم کی جرح کی ہے، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان جیسے راوی کی حدیث حددرجہ ضعیف ہوگی، ان کی حدیث صحیح تو بڑی بات حسن بھی نہیں ہوسکتی۔ حاکم رحمہ اللہ اگرچہ تساہل سے کام لیتے ہیں مگر اس کے باوجود المستدرک (۱؍۵۳۶) میں انھوں نے اس کی تخریج کرنے کے بعد اس کو صحیح نہیں قرار دیا ہے بلکہ خاموشی اختیار کی ہے۔ ذہبی نے بھی ان کی پیروی میں ایسا ہی کیا ہے۔ (الإرواء ۲؍۱۷۸) ابوزرعہ کہتے ہیں: ’’یہ منکر حدیث ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کی کوئی اصل ہی نہ ہو۔‘‘ (الضعیفۃ ۲؍۱۴۳)
اس حدیث کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں وہ سبھی احادیث بھی حد درجہ ضعیف ہیں اس لیے انھیں شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ ذیل میں ان احادیث کو پیش کیا جارہا ہے:
۱۔            سنن أبی دائود میں وارد مرفوع حدیث:
فإذا فرغتم فامسحوا بہا وجوہکم۔ (۴)
’’ جب تم دعا سے فارغ ہو تو ہاتھ کو اپنے چہرے پر پھیر لیا کرو۔‘‘
امام ابودائود رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:
’’یہ حدیث ایک سے زائد سندوں سے محمد بن کعب کے طریق سے آئی ہوئی ہے مگر سبھی سندیں بے اصل ہیں۔ یہ طریق (جو میں نے ذکر کیا ہے) ان میں سب سے عمدہ ہے مگر یہ بھی ضعیف ہے۔‘‘
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس کی علت وہ آدمی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ ابن ماجہ وغیرہ نے اس کا نام صالح بن حسان لکھاہے… وہ حد درجہ ضعیف ہے۔ اس بنیاد پر یہ زیادتی منکر ہے، اب تک ہم اس کی شاہد نہیں پا سکے ہیں۔ یہی وجہ ہوگی کہ عز بن عبدالسلام نے کہا ہے: ’’لایمسح وجہہ إلا جاہل‘‘ چہرے پرجاہل ہی ہاتھ پھیرتا ہے۔‘‘ (الضعیفۃ ۲؍۱۴۶)
۲۔           سائب بن یزید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:
أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا دعا- فرفع یدیہ- مسح و جہہ بیدیہ۔ (۵)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تھے تو ہاتھ اٹھاتے اور ہاتھ کو چہرے پرپھیرتے۔‘‘
سنن أبی دائود کی اس حدیث کے اندر دو علتیں ہیں جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہیں:
(۱) حفص بن ہاشم مجہول ہیں۔  (التقریب رقم ۱۴۳۴)
(۲) ابن لہیعہ ضعیف ہیں۔ (دیکھیں: المیزان رقم ۴۵۳۵)
لہٰذا یہ حدیث بھی لائق اعتبار نہیں ہو سکتی۔

ایک شبہ کا ازالہ:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ضعیف حدیث سے استحباب ثابت ہوتا ہے لہٰذا ایسے امور جو ضعیف حدیث سے ثابت ہوتے ہیں انھیں مستحب امور میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
مگر اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ حرام اور فرض کی طرح مستحب بھی ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور نہ کرنے والے کو کوئی گناہ نہیں ملے گا، یہی فرق ہے فرض و واجب اور مستحب میں کہ فرض وواجب میں ترک کرنے والے کو گناہ ملے گا اور یہ مستحب میں نہیں ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ اس کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کو ہے کہ کسی کام کو ثواب والا کام قرار دے یا گناہ والا، ایک عام آدمی کے اختیار سے یہ بات باہر ہے کہ وہ ایسا کرے، جب کسی مسئلہ میں کوئی صحیح اور لائق اعتبار حدیث ہمارے پاس نہ ہو تو ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ اس پر عمل کریں اور اس سے ثواب کی امید رکھیں لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

خلاصۂ کلام:

دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنے کے بارے میں وارد احادیث اور ان کی حالت اوپر بیان کی جاچکی ہے، ان تمام احادیث کا مجموعہ بھی اس قابل نہیں ہوتا ہے کہ وہ ’’حسن‘‘ کے درجہ تک پہنچ سکے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم دعا کے وقت ہاتھ تواٹھائیں اس لیے کہ اس سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں مگر اس کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنے سے پرہیز کریں۔ بہت ممکن ہے کہ شروع میں یہ کچھ عجیب سالگے اس لیے کہ ہم ایسا ہی کرتے آئے ہیں مگر کچھ دنوں تک اگر اس پر توجہ دی جائے تو آسانی کے ساتھ اس عادت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین

حواشی:

۱۔            ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے ثبوت میں اس قدر احادیث وارد ہیں کہ محدثین نے اس کو متواتر معنوی میں شمار کیا ہے۔ حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی ایک کتاب ’’فض الوعاء فی أحادیث رفع الیدین فی الدعائ‘‘ میں ان احادیث کو جمع کر دیا ہے، جن میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب محمد شکور المیادینی کی تحقیق کے ساتھ اردن سے شائع ہو چکی ہے۔
   عام طور پر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بارے میں لوگوں میں غلط فہمی پائی جاتی ہے، مگر اس باب میں وارد سبھی احادیث ضعیف نہیں ہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ طبرانی کی ایک حدیث جس کو ہیثمی نے مجمع الزوائد (۱۰؍۱۶۹) میں بیان کیا ہے اس کی سند صحیح ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’عبداللہ بن زبیر نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ہاتھ بلند کئے ہوئے ہے، اپنی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی وہ دعا کر رہا ہے، جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘
   اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔
۲۔           صحیح سنن أبی داؤد  حدیث نمبر ۱۴۸۸، سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ۳۸۶۵
۳۔           سنن الترمذی فی الدعوات باب ما جاء رفع الأیدی عند الدعاء حدیث نمبر ۳۶۱۰
۴۔           ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۱۴۸۵
۵۔           ضعیف سنن أبی داؤد حدیث نمبر ۱۴۹۲، مسند أحمد ۴؍۲۲۱

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔