بدھ، 7 فروری، 2018

کھیت و باغات کو کرایہ پر دینا

0 comments

 

کھیت اور باغ کو کرایہ پر دینے کی شرعی حیثیت کے بارے میں عام ظور پر لوگ سوال کرتے رہتے ہیں ایسے ہی ایک صاحب کے سوال کے جواب میں اس کی مختصر تفصیل لکھی جارہی ہے۔
جہاں تک کھیت کو کرایہ پر دینے کی بات ہے تو یہ جائز ہے، رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں:
حدثنی عمای أنہم کانوا یکرون الأرض علی عہد النبی ﷺ بما ینبت علی الأربعاء أو شیء یستثنیہ صاحب الأرض فنہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلک، قلت لرافع: فکیف ہی بالدینار و الدرہم فقال: لیس بہا بأس بالدینار والدرہم و قال اللیث وکان الذی نہی عن ذلک مالو نظر فیہ ذووالفہم بالحلال و الحرام لم یجیزوہ لما فیہ من المخاطرۃ۔(صحیح بخاری کتاب المزارعۃ باب کراء الأرض بالذہب و الفضۃ)
’’مجھ سے میرے دو چچائوں نے بتایا کہ ہم نبی ﷺ کے عہد میں نہر کے کنارے والی پیداوار کے بدلے میں یا صاحب زمین جس حصہ کو بھی خاص کرلیتا اس حصہ کی پیداوار کے بدلے میں زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ تو اللہ کے رسول نے اس سے منع فرمایا۔ میں نے رافع سے کہا کہ اگر یہ دینارو درہم (نقد رقم) کے عوض دیا جائے تو کیسا ہے؟ تو رافع نے کہا : دینار ودرہم کے بدلے میں دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیث کہتے ہیں کہ گویا جس چیز سے منع کیا گیا وہ ایسی چیز تھی کہ اگر حلال و حرام کی معرفت رکھنے والا اس پر غور کرتا تو اس کے اندر ایک دوسرے کے لئے دھوکہ ہونے کی وجہ سے جائز نہ قرار دیتا۔
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ:
۱۔ زمین کو کرائے پر دینے سے روکنے والی احادیث اس حالت کے لئے ہیں جب زمین کے عوض میں کسی خاص حصہ کی پیداوار کو  زمین کا مالک اپنے لئے خاص کر لے۔
۲۔ اگر کوئی شخص روپیہ پیسہ دے کر یعنی نقد رقم دے کر کرایہ پر زمین لے کر کھیتی کر رہاہے تو یہ جائز ہے۔ مگر یہ صورت اس وقت کی ہے جب فصل بونے سے پہلے کھیت کو کرائے پر دیا جائے ورنہ فصل بونے کے بعد اگر معاملہ ہوتا ہے تو اس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک کہ بالیاں زرد نہ ہوجائیں گویا کہ اس صورت میں اس کا وہی حکم ہوگا جو آئندہ سطور میں باغ کو کرایہ پر دینے کے بارے میںبیان کیا جارہا ہے۔

باغ کو کرایہ پر دینا:

(ب) جہاں تک رہی بات باغ کو کرایہ پر دینے کی تو جب تک اس کے پھل اس قابل نہ ہوجائیں کہ کسی بھی صورت میں استعمال میں آسکیں، انہیں کرائے پر نہیں دیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے کہ بدو صلاح سے پہلے پھلوں کو بیچا جائے۔
عن ابن عمرأن النبی ﷺ نہی عن بیع الثمر حتی یبدو صلاحہ (مسلم کتاب البیوع باب النھی عن بیع الثمار قبل بدو صلاحہا)
ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کہ پھلوں کو بدو صلاح سے پہلے بیچا جائے۔
بدو صلاح کا مطلب یہ ہوتا کہ پھل اس قابل ہوجائے کہ اس کو استعمال میں لایا جا سکے، مکمل طور پر پک جانا مراد نہیں ہے۔ لہٰذا آم کے درخت پر اگر کیری آگئی ہے جس کو کھایا جا سکتا ہو تو اس کو بیچا جا سکتا ہے۔
باغ کو کرایہ پر دینے کی ممانعت اس سے بھی سمجھ میں آتی ہے کہ آپ ﷺ نے بیع سنین سے منع فرمایا ہے۔ بیع سنین یہ ہے کہ کسی باغ کے پھل کو کئی سالوں کے لئے بیچ دیا جائے۔ چونکہ اس صورت میں بیچی گئی چیز سامنے موجود نہیں ہوتی ہے بلکہ اس چیز کا وجود ہی نہیں ہوتا ہے لہٰذا یہ مجہول چیز کی خریدو فروخت ہوئی جو ناجائز ہے۔
سید سابق اپنی کتاب فقہ السنہ میں اجارہ (کرایہ ) کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں :
الإجارۃ مشتقۃ من الأجر وھو العوض ومنہ سمی الثواب أجراً وفی الشرع عقد علی المنافع بعوض فلا یصح استئجار الشجر من أجل الانتفاع با لثمر لان الشجر لیس منفعۃ ولا استئجار النقدین ولا الطعام للاکل ولاالمکیل ولا الموزون لأنہ لا ینتفع بھا إلا باستھلاک أعیانھا وکذلک لا یصح استئجار البقرۃ أوشاۃ أو ناقۃ لحلب لبنھا لأن الإجارۃ تملک المنافع وفی ھذہ الحال تملک اللبن وھو عین والعقد یرد علی المنفعۃ لا للعین.(فقہ السنۃ لسید سابق ۳؍۱۹۸)
’’اجارہ اجر سے مشتق ہے جس کا معنیٰ عوض ہے اسی وجہ سے ثواب کو اجر کہا جا تا ہے ۔ شریعت میں کرایہ کہتے ہیں کسی عوض کے بدلہ منفعت پر معاملہ کرنا لہذا درخت کو کرایہ پر نہیںلیا جا سکتا کیونکہ فائدہ پھل سے اٹھایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ  ہے کہ درخت منفعت نہیں ہے اسی طرح سونے چاندی اور کھانے کا سامان نیز ناپ تول کیے جانے والے سامان بھی کرایہ پر نہیں لئے جا سکتے اس وجہ سے کہ ان کے اصل کے ختم ہوئے بغیر فائدہ نہیں اٹھا یا جا سکتا، اسی طرح گائے بکری اور اونٹنی کو دودھ کے لئے کرایہ پر نہیں لیا جا سکتا اس لئے کہ کرایہ کے ذریعہ منفعت یعنی فائدہ کا مالک ہوا جاتا ہے اور مذکورہ صورتوں میں آدمی دودھ کا مالک ہو تا ہے جو کہ عین یعنی اصل چیز ہے ۔ اور معاملہ کسی چیز سے حاصل ہونے والے فائدہ پر ہوا تھا نہ کہ اصل چیز پر ‘‘۔
دراصل باغ کو کرایہ پر دینا اس کے پھل کو بیچنا ہی ہے۔ کرایہ پر لینے والا اس کے پھل ہی کی وجہ سے اس کو لیتا ہے لہٰذا اگر کرایہ پر لینے کے بعد اس میں پھل ہی نہ آئے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔
عہد رسالت میں مساقاۃ کا طریقہ رائج تھا اس کی صورت یہ ہوا کرتی تھی کہ کوئی شخص باغ کو اس شرط پر لے لیتا تھا کہ اس کی دیکھ بھال کروں گا اور پیداوار میں دونوں شریک ہوںگے۔ یہ حصہ آدھا، تہائی یا چوتھائی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے خیبر کے باغات کے بارے میں یہودیوں سے اسی پر معاملہ کیا تھا۔
(دیکھیں : صحیح بخاری کتاب المضارعۃ باب إذا قال رب الأرض أقرک ما أقرک اللہ )
موجودہ زمانہ میں باغبانی کا شعبہ بھی کافی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ باغ میں پھل آنے سے پہلے سے لے کر پھل کے پک جانے تک پیڑوں پر مختلف قسم کی دوائوں کا چھڑکائو کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک پیشہ ور شخص ہی کر سکتا ہے اس وجہ سے باغ مالکان موسم آنے سے پہلے ہی باغ کے پھل کو کسی کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ اس مشکل کا ایک آسان حل یہ ہے کہ باغ کو ایک متعینہ رقم لے کر دینے کے بجائے اس کی پیداوار پر معاملہ کیا جائے۔ پیداوار کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں معاہدہ کے مطابق دونوں فریق اپنے درمیان تقسیم کرلیں۔
اگر ایک متعینہ رقم لے کر ہی دینا ہے تو کم از کم اس وقت تک انتظار کرلیا جائے کہ کم از کم کچھ پھل کھانے یا استعمال کے قابل ہو جائیں ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کچھ درختوں پر ہی پھل آئے ہیں تب بھی سارے درختوں کے پھل کو بیچا جا سکتا ہے۔
(دیکھیں فتاوی ابن تیمیہ ۲۹؍۴۸۹)
بعض فقہاء نے پھلوں کی وقت سے پہلے خرید و فروخت کو بیعِ سلم پر قیاس کیا ہے، بیع سلم میں دراصل ہوتا یہ ہے کہ رقم پہلے لے لی جاتی ہے مگر مال بعد میں دیا جاتا ہے، مگر اس صورت میں معاملہ کرتے وقت اس مال کا مارکیٹ میں موجود ہونا ضروری ہے اور  اس شرط کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تو جس مال کی خرید ہوئی ہے اس کی مقدار اور وہ وقت جب وہ خریدار کے حوالے کیا جائے گا اس کی تعیین ضروری ہے۔ جب ہم مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ پھلوں کی خرید وفروخت کے معاملہ کو بیع سلم پر تولتے ہیں تو پاتے ہیں کہ یہاں پر پھل خریدو فروخت کے وقت موجود نہیں ہے نہ ہی اس کی مقدار اور وقت کی تعیین کا کوئی نام و نشان ہے۔ لہٰذا اس کو بیع سلم نہیں کہا جا سکتا۔
اگر اس خرید وفروخت کو کسی قدیم خریدو فروخت کی شکل پر قیاس کیا جائے تو وہ بیع سنین ہوگی۔ جس کی ممانعت حدیث میں وارد ہے:
نھی رسول اللہ عن بیع السنین وفی روایۃ ابن ابی شیبہ عن بیع الثمر سنین (صحیح مسلم (۱۰۱–۱۵۳۶) کتاب البیوع باب نھی عن بیع المحاقلۃ و المزابنۃ …)
یعنی اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے بیع سنین سے منع فرمایا، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ کئی سال تک کے پھل کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے ۔

خلاصۂ کلام:

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے :۔
۱۔ رقم اور مدت کی تعیین کے ساتھ زمین کو کرایہ پر دیاجا سکتا ہے۔
۲۔ باغ کو کرایہ پر دینا دراصل اس کے پھل کو بیچنا ہے۔ا گر استعمال کے لائق ہونے کے بعد خرید وفروخت کی جائے تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔
۳۔ باغ کی پیداوار پر اگر معاملہ کیا جائے جسے مساقات کا نام دیا جاتا ہے تو یہ جائز ہے۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔