بدھ، 7 فروری، 2018

شیر خوار بچوں کی تربیت

0 comments


چھوٹے بچے گھر کی رونق ہوتے  ہیں ان کی کلکاری ماں باپ کو دنیا جہان کے غم بھلا دیتی ہے۔ باپ کو چونکہ بچوں سے اتنا قریب نہیں رہنا ہوتا ہے اس وجہ ان کو بچوں کے پیشاب پاخانہ کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا ماں کی بنسبت کم کرنا پڑتا ہے۔ ماں کو ان کی پرورش نگہداشت، کرنی ہوتی ہے۔ صبح شام ان کے ساتھ رہنا ہوتاہے اس وجہ سے ان کے باربار کپڑوں میں پیشاب پاخانہ کرنے کی وجہ سے ماں کے نماز اور تلاوت کلام پاک کا معمول متاثر ہوتا ہے۔
شریعت نے اس معاملہ میں عورتوں کو سہولت دی ہے کہ اگر بچہ صرف ماں کے دودھ پر گذر بسر کر رہا ہے تو لڑکے کے پیشاب پر صرف چھینٹا مار لینا کافی ہوگا۔ اس کو دھلنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اگر دودھ پیتی بچی ہے تو اس کے پیشاب کرنے پر کپڑے کے اس حصہ کو دھل لیا جائے جہاں اس نے پیشاب کیا ہے۔ اس طرح آپ کو بار بارکپڑے بدلنے کی  ضرورت نہیں۔ آپ اسی کپڑے میں نماز باقاعدگی کے ساتھ ادا کر سکتی ہیں۔
ہاں، جب بچے دودھ کے ساتھ کھانا بھی کھانے لگیں یا ان کی خوراک دودھ کے علاوہ دوسری غذائی اجناس ہوجائیں تو ایسی صورت میں آپ کو لڑکی اور لڑکے دونوں کے پیشاب کو دھلنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ نماز اور تلاوت قرآن کے لئے پاک ہو سکتی ہیں۔
عام طور پر خواتین چھوٹے بچوں کے پیشاب اور پاخانہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں۔ اور چھوٹے شیر خوار بچوں کی وجہ سے نماز سے اپنے آپ کو معذور بتاتی ہیں۔مگر ایسی خواتین کو معلوم ہونا چاہیے کہ نماز اس موقع پر معاف نہیں ہے اگر کسی وجہ سے کپڑے یا بدن پر بچہ پیشاب کردے تو یہ ان کی ذمہ داری بن جاتی ہے جتنا جلد ہوسکے پاک ہوکر نماز کی قضا کرلیں۔
عقلمندی کی بات یہ ہے کہ  آپ کچھ ایسے طریقے اپنائیں کہ اس قسم کی نوبت ہی نہ آنے پائے ۔ہونہار اور عقلمند عورتوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دھیرے دھیرے عادت کا پابند بنادیتی ہیں ان کے بچے وقت پر پیشاب اور پاخانہ کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں نماز پڑھنے میںکسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔
آپ کہیں گی کہ چھوٹے بچوں کو کس طرح عادت ڈلوالی جائے؟ تو میں کہوں گا کہ ہاں، یہ ممکن ہے۔ عادت تو لوگ اپنے جانوروں کی ڈلوا دیتے ہیں ، ان کے جانورپیشاب پاخانہ کے وقت باہر یا اس کے لیے مخصوص کی گئی جگہ پر چلے جاتے ہیں۔ بچے تو انسان ہیں وہ تو اور بھی آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔بس ضرورت ہے حکمت ودانائی کی۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ عادت بنالیں کہ بچوں کو ُسلاتے وقت اور بیدار ہونے کے بعد فوراً بعد ضرور پیشاب کرائیں۔ بچے بیدار ہونے کے بعد عموماًپیشاب پاخانہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اگر اس وقت آپ نے خود پہل کردی تو ٹھیک ورنہ وہ کپڑے ہی میں یہ کاروائی انجام دے دیں گے ۔رات میں ایک مرتبہ انہیں جگا کر پیشاب کرالیا کریںتو بستر پر پیشاب پاخانہ کرنے کے امکان کم ہوجائیںگے۔ دن کے وقت بھی تھوڑے تھوڑے وقفہ سے یہی کریں۔ ان شاء اللہ وہ خود اس بات کے عادی ہوجائیںگے۔ اور ضرورت کے وقت وہ اپنی حرکات سے آپ کو بتادیںگے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت پر نماز پڑھنے اور طہارت و پاکی کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔