بدھ، 7 فروری، 2018

نماز استخارہ کے احکام ومسائل

0 comments


کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے آدمی اندیشوں کا شکار رہتا ہے، وہ کامیابی سے ہم کنار ہوگا یا اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا، اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں جس سے وہ اس کے بارے میں یقینی طور پر معلومات حاصل کرسکے۔ اس کے باوجود مستقبل میں جھانکنے کی چاہت اسے مختلف طریقے آزمانے پر مجبور کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے لوگ مختلف طریقے آزماتے آرہے ہیں ان میںسے دو طریقے کافی مشہور ہیں جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں رائج ہیں۔ ایک فال نکالنا دوسرا کاہنوں کے پاس جانا، اسلام نے ان دونوں سے منع کردیا اور ایسے موقع پر جب کوئی فیصلہ کرنا ہو یا کسی کام کو کرنے کا ارادہ ہو تو استخارہ (خیر طلبی) کی نماز کی طرف رہنمائی کی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
کان رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یعلمنا الاستخارۃ فی الأمور کما یعلمنا السورۃ من القراٰن، یقول: إذا ہم أحدکم بالأمر فلیرکع رکعتین من غیر الفریضۃ ثم لیقل: اللہم إنی أستخیرک بعلمک و أستقدرک بقدرتک و أسئلک من فضلک العظیم فإنک تقدر و لا أقدر و تعلم و لا أعلم و أنت علام الغیوب، اللہم إن کنت تعلم أن ہذا الأمر خیر لی فی دینی و معاشی و عاقبۃ أمری -أو قال: عاجل أمری و اٰجلہ- فاقدرہ لی و یسرہ لی ثم بارک لی فیہ و إن کنت تعلم أن ہذا الأمر شر لی فی دینی و معاشی و عابقۃ أمری - أو قال: فی عاجل أمری و اٰجلہ- فاصرفہ عنی و اصرفنی عنہ و اقدر لی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ۔ قال: و یسمی حاجتہ۔
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورۃ سکھاتے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھو: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے طاقت مانگتا ہوں۔ اور تیرے فضل کا طلب گار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے میں کچھ نہیں جانتا، تو پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کے لیے استخارہ کیا جارہا ہے) میرے دین، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے- یا آپ نے یہ فرمایا: میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ خیر ہے- تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین و دنیا اور کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے- یاآپ نے فرمایا: میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے برا ہے- تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے پھیر دے۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کردے۔ آپ نے کہا کہ پھر اس کام کا نام لے (جس کے لیے استخارہ کر رہا ہے)‘‘

تخریج:

اس حدیث کو امام بخاری (رقم ۱۱۶۶، ۶۳۸۲، ۷۳۹۰) امام ترمذی (رقم ۴۸۰) ابودائود (رقم ۳۶۸) امام ابن ماجہ (۱۳۷۹) نسائی کتاب النکاح (رقم ۳۲۵۳) امام احمد (۳؍۲۴۴ رقم الحدیث ۱۴۷۶، ۱۴۷۶۱) نیز امام حاکم نے المستدرک (۱؍۳۲۰) میں بروایت عبدالرحمن بن أبی الموال عن محمد بن المنکدر عن جابر بن عبداللہ بیان کیا ہے، الفاظ بخاری کے ہیں۔

درجۂ حدیث:

حدیث صحیح ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اسے حسن صحیح غریب کہا ہے اورکہا ہے کہ اس حدیث کو عبدالرحمن کے علاوہ ہم نہیں پاتے۔
ابن عدی نے عبدالرحمن بن ابی الموال کا تذکرہ الکامل فی ضعفاء الرجال (۴؍۳۰۷ رقم الترجمۃ ۱۱۳۴) میں کیا ہے اور ان کے تعلق سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے:
سألت أحمد بن حنبل عن عبدالرحمن بن أبی الموال، قال: عبدالرحمن لا بأس بہ، قال: کان محبوسا فی المطبق حین ہزم ہٰؤلائ، یروی حدیثا لإبن المنکدر عن جابر عن النبی  صلی اللہ علیہ وسلم   فی الاستخارہ لیس یرویہ أحد غیرہ و ہو منکر، قلت: ہو منکر؟ قال: نعم، لیس یرویہ غیرہ، لا بأس بہ، و أہل المدینۃ إذا کان حدیث غلط یقولون: ابن المنکدر عن جابر و أہل البصرۃ یقولون: ثابت عن أنس، یحملون علیہما۔
’’ابن عدی کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمن بن ابی الموال کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا: ان میں کوئی حرج نہیں(لا بأٔس بہ)  جب ان لوگوں کو شکست ہوئی تو انھیں مطبق میں قید کردیا گیا۔ یہ ابن المنکدر کی بروایت جابر ایک مرفوع حدیث استخارہ کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں جسے  ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں بیان کیا۔ وہ حدیث منکر ہے، میں نے کہا: وہ منکر ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، وہ منکر ہے، اسے ان کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے۔ان میں کوئی قباحت نہیں، اہل مدینہ جب کوئی غلط حدیث ہوتی ہے تو کہتے ہیں: ابن المنکدر عن جابر بصرہ والے کہتے ہیں: ثابت عن أنس ، وہ انھیں دونوں پر محمول کرتے ہیں۔‘‘ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایسا وہ لوگ مذاق کے طور پر کہا کرتے تھے، خاص طور پر ان دونوں کا نام لینے کی وجہ ان کی شہرت اور کثرت سے وارد روایات ہیں ورنہ ثابت اور عبدالرحمن دونوں ثقہ ہیں۔ دیکھیں: الفتح۱۱؍۱۵۳)
جہاں تک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا اس حدیث کو منکر کہنا ہے تو اس کی انھوں نے کوئی وجہ نہیں بیان کی ہے سوائے اس کے کہ عبدالرحمن اس کی روایت میں اکیلے ہیں اور خود احمد بن حنبل نے انھیں ’’لابأس بہ‘‘ کہا ہے۔ ان کے علاوہ ابن معین نے ’’صالح‘‘ ترمذی اور نسائی نے ’’ثقۃ‘‘ اور ابوزرعہ نے ’’لا بأس بہ صدوق‘‘ کہا ہے۔ (دیکھیں: تہذیب التہذیب ۲؍۵۵۸)
احمد بن حنبل کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں منکر عام محدثین کی اصطلاح سے مختلف ہے۔ راوی اگر روایت کرنے میں جملہ احباب سے منفرد ہو تو وہ امام احمدرحمہ اللہ کے یہاں منکر ہے، لہٰذا یہ ان پر جرح نہیں ہے۔
(دیکھیں: الجرح و التعدیل لدکتور اقبال احمد ص۲۳۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حدیث صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے تین مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ جابر بن عبداللہ کے علاوہ اس کی روایت ابن مسعود، ابوایوب، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کی ہے، لیکن نماز کاتذکرہ جابر بن عبداللہ کی مذکورہ حدیث اور ابوایوب کی حدیث جسے طبرانی نے بیان کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے، کے علاوہ کسی اور روایت میں نہیں ہے، فرق یہ ہے کہ ابوایوب کی روایت میں مطلق نماز کا ذکر ہے رکعات کی تعیین نہیں جب کہ جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں دو رکعتوں کی تعیین ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری ۱۱؍۱۵۳)
پرانے زمانے میں کسی کام کو کرنے سے پہلے اس تعلق سے تذبذب کو دور کرنے کے لیے دو طریقے رائج تھے:

۱۔ فال نکالنا:

اس کا طریقہ یہ ہوتاتھاکہ وہ تین قسم کے تیر رکھتے تھے ایک پر لکھا ہوتا تھا ’’کرو‘‘ دوسرے پر ’’نہ کرو‘‘ اور تیسرا خالی ہوتا۔ اگر ’’کرو‘‘ والا تیر نکلتا تو اس کام کو کرتے جس کے لیے انھوں نے فال نکالا ہے۔ ’’نہ کرو‘‘ والا تیر نکلنے پر اسے نہیں کرتے اور خالی والا نکلتا تو پھر سے فال نکالتے۔ قرآن نے اس طریقہ کو ’’فِسق‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور اس کو حرام کی فہرست میں شمار کیا ہے:
وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ (المائدۃ:۳)
’’(اور یہ بھی حرام ہے کہ) تم تیروں کے ذریعہ فال نکال کر قسمت کا حال معلوم کرو یہ سب بدترین گناہ ہیں۔‘‘

۲۔ کاہنو ں سے رجوع:

جس طرح آج کل غیر مسلم کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے پنڈت کے پاس جاکر معلوم کرتے ہیں کہ یہ کام شُبھ رہے گا یا نہیں، اسی طرح پہلے زمانے میں لوگ کاہنوں کے پاس جاکر ان سے معلوم کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا:
من أتی کاہنا أو عرافا فصدقہ بما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد (صحیح الجامع رقم ۵۹۳۹)
’’جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور جو کچھ وہ بیان کرے اس کو سچ مان لے تو اس نے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت کو جھٹلا دیا۔‘‘
افسوس کہ یہ طریقے اب بھی بعض کم علم مسلمانوں میں رائج ہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بچیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نعم البدل استخارہ کی شکل میں دیا ہے اس کو اپنائیں۔
استخارہ کا مطلب ہوتا ہے خیر طلب کرنا، استخارہ کے ذریعہ بندہ معاملہ کو اللہ کے علم اور قدرت پر چھوڑ دیتا ہے، وہ اللہ پر توکل کرکے رضا بالقضا اور ثابت قدمی کی دعا کرتاہے کہ معاملہ میری خواہش کے خلاف ہی کیو ںنہ ہو میرا دل اس پر راضی ہوجائے۔

استخارہ کا طریقہ:

کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے آدمی کو چاہئے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے جس طرح عام نماز ادا کی جاتی ہے۔ سلام پھیرنے کے بعد مذکورہ بالا دعا کو پڑھے اس کے آخر میں اپنی ضرورت ذکر کرے۔ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ جس پر دل مطمئن کردے اس کو انجام دے۔
معاملہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا استخارہ کرنا مستحب ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جس معاملہ کو ہم چھوٹا سمجھتے ہیں وہ کسی بڑے معاملہ کی شکل اختیار کرلے۔ یاد رہے کہ استخارہ ان چیزوں کے بارے میں نہیں ہے جو شریعت میں حرام ہیں، مثلاً شراب کی تجارت کے لیے استخارہ، اس لیے کہ یہ تو ہرحال میں منع ہے، اسی طرح جو چیزیں فرائض میں داخل ہیں ان میں بھی استخارہ نہیں، مثلاً نماز کے لیے استخارہ، اس لیے کہ یہ تو ہمیں ہر حال میں ادا کرنی ہے۔

استخارہ کا غیر اسلامی طریقہ:

ٹیلی ویژن کی بڑھتی مقبولیت سے ہمارا اسلامی معاشرہ بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، جہاں عریاں چینلوں کی بہتات ہوئی ہے وہیں کچھ چینل اسلام کے نام سے بھی کھل گئے ہیں۔ افسوس کہ ان میں اکثر اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کے نام پر غیر اسلامی افکار پھیلا رہے ہیں۔ ایک نام نہاد اسلامی چینل پر استخارہ کا پروگرام پیش کیا جاتا ہے جس میں ناظرین پروگرام میں شامل عالم سے اپنے مسائل کے بارے میں استخارہ کی درخواست کرتے ہیں اور وہ انھیں بتاتا ہے کہ تم فلاں کام کرو فلاں کام نہ کرو۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پروگرام کافی مقبول ہو رہا ہے، لوگ مختلف ممالک سے فون کرکے استخارہ کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ طریقہ سراسر غیر اسلامی ہے، غیرمسلموں کی نقالی اور پرانے زمانے کی کہانت سے مشابہ ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ معاملہ پیش ہو وہ خود استخارہ کرے، ہاں، دوسروں سے مشورہ ضرور طلب کرسکتا ہے بلکہ اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ (دیکھیں: اٰل عمران: ۱۵۹)

خواب کا انتظار:

استخارہ کے تعلق سے عوام میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ استخارہ کے فوراً بعد سو جایا جائے، خواب میں صحیح معاملے کی نشان دہی کی جائے گی، خواب نظر نہ آئے تو سمجھا جاتا ہے کہ استخارہ کامیاب نہیں رہا، یہ کم علمی کی دلیل ہے، استخارہ کی حدیث میں اس کا ہلکا بھی اشارہ نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ استخارہ کی دعا میں بندہ اپنی عاجزی اور کم علمی کا اظہار کرکے اللہ سے درخواست کرتاہے کہ صحیح معاملے کی طرف اس کی رہنمائی کرے، چنانچہ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ اس کا دل جس پر مطمئن کردے اسے انجام دے۔ خواب کا انتظار کرنا فضول ہے۔ یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ استخارہ کے بعد دل کسی ایک معاملہ پر مکمل طور پر جم جائے، لہٰذا اگر یہ نوبت آئے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ استخارہ کامیاب نہیں رہا۔

خلاصۂ کلام:

اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، خوشی کا موقع ہو یا غم کا، یہاں تک کہ کسی کام کا ارادہ کرناہو تو اس کے بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرکے اس سے رہنمائی طلب کرنی چاہئے، اس کے لیے استخارہ مشروع قرار دیا گیا ہے،  لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنے ہر اہم کام کو شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خیر کی توفیق دے۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔